कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فلسطین سے عالمی نظام تک: نئی مملکتوں کا تصور، اسرائیلی توسیع پسندی، مزاحمتی قوتیں اور ایک نئے ورلڈ آرڈر کی تشکیل

From Palestine to the Global Order: The Concept of New States, Israeli Expansionism, Resistance Forces, and the Formation of a New World Order

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

دنیا اس وقت محض ایک علاقائی جنگ یا چند ملکوں کے باہمی تنازعے کے دور سے نہیں گزر رہی، بلکہ بین الاقوامی سیاست، عالمی طاقت کے توازن، سفارتی ترجیحات اور تہذیبی بیانیوں کی ایک ایسی فیصلہ کن کشمکش کا سامنا کر رہی ہے، جس کے اثرات آنے والے کئی عشروں تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ اس کشمکش کا مرکزی میدان بن چکا ہے، لیکن اس کے ارتعاشات اب یورپ، امریکہ اور عالمی سیاست کے دیگر مراکز تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ، جو طویل عرصے تک عرب اسرائیل تنازعے یا مشرقِ وسطیٰ کے ایک علاقائی بحران کے طور پر دیکھا جاتا رہا، اب عالمی ضمیر، بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور عالمی طاقتوں کی اخلاقی ساکھ کا امتحان بن چکا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں رہا کہ فلسطینیوں کو ایک آزاد ریاست ملنی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ عالمی نظام اپنے ہی وضع کردہ اصولوں، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی منشور پر عمل کرنے کی صلاحیت اور اخلاقی جرأت رکھتا ہے؟
یورپ میں فلسطین کے حق میں بلند ہونے والی آوازوں نے ایک نئی سیاسی صورتِ حال کو جنم دیا ہے۔ مختلف یورپی ممالک میں عوامی احتجاج، طلبہ تحریکوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، پارلیمانی مباحث اور بعض حکومتی حلقوں کی جانب سے اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید نے اس تصور کو کمزور کیا ہے کہ مغربی دنیا اسرائیل کے معاملے میں ہمیشہ یکساں سیاسی موقف اختیار کیے رکھے گی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ یورپ کوئی یکساں سیاسی اکائی نہیں؛ وہاں حکومتوں، پارلیمانوں، عوامی رائے اور عدالتی اداروں کے مابین فلسطین کے مسئلے پر نمایاں اختلافات موجود ہیں۔ اسپین، آئرلینڈ اور ناروے جیسے ممالک کی جانب سے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے اقدامات نے اس سفارتی بحث کو نئی جہت دی، جب کہ بعض دیگر ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اپنی روایتی سیاسی و تزویراتی وابستگی برقرار رکھی۔ اس صورتِ حال میں یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والی ہر حکومت لازماً کسی منظم بین الاقوامی محاذ کا ہدف بن چکی ہے، البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر آزادانہ اور اصولی موقف اختیار کرنے والی حکومتوں کو سفارتی دباؤ، سیاسی اختلافات اور داخلی و خارجی تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تمام صورتِ حال کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ اب محض اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان سرزمین، خودمختاری اور حقِ حکمرانی کا تنازعہ نہیں رہا، بلکہ اس نے مغربی دنیا کے اندر بھی نظریاتی اور سیاسی تقسیم کو نمایاں کردیا ہے۔ ایک طرف انسانی حقوق، حقِ خودارادیت، شہری آزادیوں اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے دعوے ہیں، تو دوسری طرف اسرائیل کی سلامتی، مغربی تزویراتی مفادات اور علاقائی طاقت کے توازن کے نام پر اختیار کیے جانے والے مختلف سیاسی و عسکری اقدامات ہیں۔ یہی تضاد مغربی دنیا کے اخلاقی بیانیے کو آزمائش میں ڈال رہا ہے۔ اگر کسی معاملے میں انسانی حقوق کا اصول عالمی سطح پر نافذ العمل ہے تو اس کا اطلاق جغرافیے، مذہب، نسل اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہونا چاہیے۔ انسانی جان کی حرمت کسی ایک قوم کے لیے مخصوص نہیں ہوسکتی، اور نہ ہی کسی ریاست کی سلامتی کا تصور دوسری قوم کے بنیادی حقوق کی نفی کا جواز فراہم کرسکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں صورتِ حال اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ یہاں سچ اور جھوٹ، حق و باطل، مزاحمت اور دہشت گردی، سلامتی اور جارحیت جیسے تصورات کی جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جارہی، بلکہ ذرائع ابلاغ، سفارتی اداروں، سوشل میڈیا، عالمی دانش گاہوں اور بین الاقوامی رائے عامہ کے مراکز میں بھی جاری ہے۔ اطلاعات کی اس جنگ میں حقیقت کو مختلف زاویوں سے پیش کرنے، واقعات کے انتخابی بیان، اصطلاحات کے سیاسی استعمال اور عوامی جذبات کو مخصوص سمت میں موڑنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ کبھی کسی فوجی کارروائی کو دفاع کا نام دیا جاتا ہے اور کبھی کسی انسانی المیے کو محض اعداد و شمار میں سمیٹ دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً اصل انسانی حقیقت، یعنی بے گناہ شہریوں کی ہلاکت، بچوں کی محرومی، خواتین کی بے بسی، گھروں کی تباہی اور بنیادی انسانی سہولتوں کی بربادی، سیاسی نعروں کے شور میں پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ یہ ابلاغی جنگ دراصل اس امر کا تعین کرنے کی کوشش ہے کہ تاریخ کے صفحات میں کس کو جارح، کس کو مظلوم، کس کو مزاحمت کار اور کس کو امن کا علم بردار لکھا جائے گا۔
یہاں ایک بنیادی امتیاز کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ کسی قوم کے حقِ خودارادیت اور آزادی کی حمایت کو ہر مسلح کارروائی کی غیر مشروط تائید نہیں سمجھا جاسکتا، جس طرح کسی ریاست کے دفاع کے حق کو شہری آبادی کے خلاف غیر متناسب طاقت کے استعمال کا لائسنس قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بین الاقوامی انسانی قانون ہر فریق پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ شہریوں کا تحفّظ، اجتماعی سزا سے اجتناب، جنگی قیدیوں کے حقوق اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی ایسے اصول ہیں جنہیں کسی سیاسی یا عسکری مصلحت کی نذر نہیں کیا جاسکتا۔ فلسطین کے مسئلے پر ایک سنجیدہ اور اصولی موقف اسی وقت معتبر ہوگا جب وہ مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنے کے ساتھ انسانی جان کے احترام کو بھی اپنا بنیادی معیار بنائے گا۔
اسرائیل کی علاقائی حکمتِ عملی اور اس کے بعض سیاسی و عسکری حلقوں کے توسیع پسندانہ تصورات نے بھی مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے بارے میں شدید خدشات پیدا کیے ہیں۔ دریائے اردن سے بحیرۂ روم تک کے علاقے، مقبوضہ فلسطینی علاقوں، مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم کی سیاسی حیثیت کے ساتھ ساتھ خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی کوششیں اس وسیع تر بحث کا حصّہ ہیں۔ اسی تناظر میں گریٹر اسرائیل (Greater Israel) کا تصور بھی سیاسی مباحث میں بار بار سامنے آتا ہے۔ تاہم اس تصور کے مختلف تاریخی، مذہبی اور سیاسی مفاہیم ہیں؛ اس لیے اسے کسی ایک متفقہ اور باضابطہ سرکاری منصوبے کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اسرائیلی سیاست کے توسیع پسندانہ رجحانات اور علاقائی عزائم کے تناظر میں سمجھنا زیادہ علمی رویہ ہوگا۔ اصل تشویش یہ ہے کہ اگر طاقت کے ذریعے سرحدوں، آبادیوں اور سیاسی حقائق کو تبدیل کرنے کا رجحان معمول بن گیا تو مشرقِ وسطیٰ کا موجودہ جغرافیائی اور سیاسی نقشہ شدید عدمِ استحکام سے دوچار ہوسکتا ہے۔
اس تناظر میں اوسلو معاہدے اور ابراہام معاہدوں کی معنویت کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ 1993ء کے اوسلو معاہدے نے اسرائیل اور فلسطینی قیادت کے درمیان مذاکرات اور دو ریاستی حل کی امید پیدا کی تھی، لیکن کئی دہائیوں کے بعد بھی فلسطینی ریاست کا قیام، مقبوضہ علاقوں کی حیثیت، اسرائیلی آبادکاری، یروشلم کا مستقبل اور فلسطینی خودمختاری جیسے بنیادی مسائل حل طلب ہیں۔ دوسری طرف 2020ء میں شروع ہونے والے ابراہام معاہدوں نے اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی اور معمول پر لانے کا راستہ کھولا۔ ان معاہدوں کے حامیوں نے انہیں علاقائی تعاون اور اقتصادی ترقی کے نئے امکانات سے تعبیر کیا، لیکن ناقدین کے نزدیک فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کو بنیادی شرط بنائے بغیر علاقائی معمول سازی پائیدار امن کی ضمانت فراہم نہیں کرسکتی۔ آج کی صورتِ حال نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا ہے کہ کیا محض سفارتی تعلقات، تجارتی معاہدے اور سلامتی کے انتظامات خطے میں حقیقی امن قائم کرسکتے ہیں، جب کہ فلسطینی عوام کے بنیادی سیاسی حقوق بدستور غیر یقینی کا شکار ہوں؟
یوں محسوس ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اب ایک ایسا غیر تحریری سیاسی اصول رائج کرنے کی کوشش ہورہی ہے جس کی روح یہ ہے کہ علاقائی استحکام کے لیے طاقت ور قوتوں کی ترجیحات کو تسلیم کیا جائے، اختلافی آوازوں کو محدود رکھا جائے اور مزاحمت کے تمام سیاسی و عسکری مظاہر کو یکساں طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ لیکن کسی بھی خطے میں پائیدار امن محض اطاعت، دباؤ یا عسکری برتری کے ذریعے قائم نہیں کیا جاسکتا۔ اگر امن کی بنیاد انصاف، مساوی حقوق، سیاسی خودمختاری اور باہمی احترام پر نہ ہو تو وہ زیادہ سے زیادہ ایک عارضی جنگ بندی یا طاقت کے زیرِ سایہ قائم ہونے والا سکوت ہوسکتا ہے۔ ایسا سکوت جس کے اندر مستقبل کے تصادم کے اسباب بدستور موجود رہتے ہیں۔
اسی پس منظر میں سعودی عرب، پاکستان اور ایران کے تعلقات غیر معمولی اہمیت اختیار کرجاتے ہیں۔ یہ تینوں ممالک اپنی جغرافیائی حیثیت، آبادی، سیاسی اثر و رسوخ، مذہبی و تہذیبی اہمیت اور علاقائی روابط کے اعتبار سے مسلم دنیا کے اہم ستون ہیں۔ ان کے درمیان تاریخی اختلافات، سلامتی سے متعلق خدشات اور خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں فرق اپنی جگہ موجود ہے، لیکن اگر یہ ممالک باہمی اعتماد، سفارتی تعاون اور مشترکہ علاقائی مفادات کی بنیاد پر ایک مؤثر مکالمے کا آغاز کریں تو مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے سیاسی منظرنامے پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان 2023ء میں چین کی ثالثی سے بحال ہونے والے سفارتی تعلقات اس بات کی مثال ہیں کہ شدید اختلافات کے باوجود مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔
اگر سعودی عرب، پاکستان اور ایران کسی نئے سہ فریقی علاقائی مکالمے یا مشترکہ سفارتی لائحۂ عمل کے ذریعے فلسطین کے مسئلے، علاقائی سلامتی، مسلم دنیا کے باہمی تنازعات اور بیرونی مداخلت جیسے امور پر ہم آہنگی پیدا کرلیں تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔ اس سلسلے میں مکّہ مکرّمہ کو مرکز بناکر کسی وسیع تر اسلامی سفارتی مفاہمت کا تصور بھی ایک قابلِ غور تجویز ہے، اگرچہ اسے کسی موجودہ یا طے شدہ معاہدے کے بجائے مستقبل کے ممکنہ سیاسی و سفارتی اقدام کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اس طرح کی مفاہمت کا مقصد کسی نئے عسکری بلاک کی تشکیل نہیں، بلکہ اختلافات کے خاتمے، علاقائی خودمختاری کے تحفّظ، فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی وضع کرنا ہونا چاہیے۔ مسلم دنیا کی اصل قوت اسلحے کی تعداد سے زیادہ اس کی سیاسی بصیرت، اقتصادی خودکفالت، سفارتی یکجہتی اور داخلی استحکام میں پوشیدہ ہے۔
دوسری جانب مزاحمتی قوتوں کا مستقبل بھی ایک اہم سوال ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں مختلف مزاحمتی تحریکیں اپنے اپنے تاریخی، سیاسی اور علاقائی پس منظر میں وجود میں آئی ہیں۔ ان کی قوت، مقبولیت، عسکری صلاحیت اور سیاسی اثرات یکساں نہیں، لیکن ان سب کو محض طاقت کے ذریعے ختم کردینے کے تصور میں ایک بنیادی مسئلہ موجود ہے: کسی سیاسی تحریک کی عسکری تنظیم کو کمزور کرنا اور اس تحریک کو جنم دینے والے سیاسی، سماجی اور تاریخی اسباب کو ختم کرنا دو الگ معاملات ہیں۔ جب تک قبضے، محرومی، سیاسی بے اختیاری، معاشی ناانصافی اور قومی خودمختاری کے مسائل حل نہیں ہوں گے، تب تک مزاحمت کے اسباب بھی کسی نہ کسی صورت باقی رہیں گے۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ محض عسکری قوت کے ذریعے کسی قوم کے سیاسی شعور اور آزادی کی خواہش کو مستقل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم مزاحمت کی کوئی بھی صورت شہریوں کے خلاف تشدّد یا بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کا جواز نہیں بن سکتی۔
اس پوری کشمکش کا ایک اہم پہلو ابلاغی اور اطلاعاتی محاذ ہے۔ جدید جنگیں اب صرف ٹینکوں، میزائلوں، فضائی حملوں اور زمینی افواج کے ذریعے نہیں لڑی جاتیں، بلکہ مصنوعی ذہانت، سائبر صلاحیتوں، سیٹلائٹ نگرانی، ڈیجیٹل پروپیگنڈے، معلوماتی نفسیات اور عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی میدانِ جنگ کو وسعت دی جاتی ہے۔ جو فریق عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے، وہ سفارتی میدان میں بھی اپنی پوزیشن مضبوط کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج فلسطین کے حق میں اٹھنے والی آوازوں، انسانی حقوق کی مہمات، طلبہ احتجاجوں اور آزاد صحافت کی اہمیت محض جذباتی ردعمل تک محدود نہیں، بلکہ یہ عالمی سیاسی بیانیے کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ اس کے باوجود معلومات کے اس سیلاب میں غیر مصدقہ خبروں، مصنوعی تصاویر، گمراہ کن ویڈیوز اور منظم پروپیگنڈے سے بچنا بھی ناگزیر ہے۔ حق کی حمایت کا تقاضا ہے کہ حقائق کی تحقیق اور دیانت دارانہ ابلاغ کو بنیادی اہمیت دی جائے۔
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ممکنہ علاقائی جنگ کا دائرہ صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہ سکتا۔ یورپ اس کے سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور سماجی اثرات سے براہِ راست متاثر ہوسکتا ہے۔ توانائی کی منڈیوں میں عدمِ استحکام، تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت کے راستوں میں رکاوٹ، بحیرۂ احمر اور خلیج کے بحری راستوں کو لاحق خطرات، مہاجرین کی نئی لہریں اور یورپی ممالک کے داخلی سیاسی اختلافات ایسے عوامل ہیں جو کسی بڑے تصادم کی صورت میں عالمی معیشت اور بین الاقوامی سیاست کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ آنے والی کشمکش کا ایک محاذ عسکری اور دوسرا محاذ سیاسی، اقتصادی اور ابلاغی ہوگا۔ جنگ کا پھیلاؤ ناگزیر نہیں، لیکن اس کے امکانات کو نظرانداز کرنا بھی دانش مندی نہیں۔
مغربی دنیا کے لیے بھی یہ ایک غیر معمولی تاریخی لمحہ ہے۔ امریکہ اور یورپ کے اندر فلسطین کے مسئلے پر عوامی رائے، سیاسی قیادت اور خارجہ پالیسی کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ روایتی بیانیے کو اب پہلے جیسی غیر متنازع قبولیت حاصل نہیں رہی۔ نئی نسل کے طلبہ، دانش وروں، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور شہری تنظیموں نے فلسطین کے مسئلے کو عالمی سیاسی گفتگو کا ایک مرکزی موضوع بنا دیا ہے۔ یہ صورتِ حال مغربی جمہوریتوں کے لیے بھی ایک امتحان ہے کہ آیا وہ اختلافِ رائے، آزادانہ اظہار اور انسانی حقوق کے اپنے دعووں کو عملی طور پر برداشت کرسکتی ہیں یا نہیں۔ کسی حکومت کی خارجہ پالیسی سے اختلاف کرنے والے شہریوں کو محض اس بنیاد پر مشکوک قرار دینا کہ وہ فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں، جمہوری اقدار کے بنیادی تصور سے مطابقت نہیں رکھتا۔
جہاں تک نئے عالمی نظام (New World Order) کا تعلق ہے، تو اس کی تشکیل کا عمل پہلے ہی مختلف صورتوں میں جاری ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں چین کے اقتصادی و سفارتی عروج، روس کے بڑھتے ہوئے تزویراتی کردار، برکس (BRICS) کی توسیع، عالمی جنوب (Global South) کی نئی صف بندی، علاقائی اتحادوں اور کثیر قطبی عالمی نظام کے تصور نے بین الاقوامی سیاست کو نئی جہت دی ہے۔ مغربی دنیا کی اقتصادی، عسکری اور تکنیکی برتری بدستور نمایاں ہے، لیکن اب عالمی فیصلہ سازی پر اس کی اجارہ داری کو مختلف سطحوں پر چیلنج کیا جارہا ہے۔ یوکرین کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کا بحران، عالمی تجارتی مسابقت اور ٹیکنالوجی کی سیاست نے اس تبدیلی کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ تاہم یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ مغرب کا دور مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے یا اس کی شکست یقینی ہے۔ زیادہ حقیقت پسندانہ تجزیہ یہ ہے کہ دنیا یک قطبی غلبے سے بتدریج ایک زیادہ پیچیدہ اور ممکنہ طور پر کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں مختلف طاقتیں اپنے اپنے مفادات اور اثر و رسوخ کے لیے سرگرم ہیں۔
نئے عالمی نظام کی اس تشکیل میں سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ کیا عالمی سیاست طاقت کے پرانے اصولوں پر قائم رہے گی یا انصاف، خودمختاری، مساوی مواقع اور بین الاقوامی قانون کو حقیقی اہمیت دی جائے گی؟ اگر نئی دنیا بھی محض طاقت ور ریاستوں کے مفادات، جغرافیائی توسیع، اقتصادی اجارہ داری اور کمزور اقوام کے استحصال پر استوار ہوئی تو اس میں پرانے عالمی نظام سے کوئی بنیادی فرق نہیں ہوگا۔ نئے نقشے اور نئی مملکتیں تشکیل دینے سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ قوموں کو اپنی سیاسی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہوگا یا نہیں۔ فلسطین کا مستقبل اسی بنیادی اصول سے وابستہ ہے۔ کسی بھی نئے علاقائی انتظام یا امن منصوبے کی اخلاقی و سیاسی ساکھ اسی وقت قائم ہوسکتی ہے جب فلسطینی عوام کی آزادانہ سیاسی مرضی، بنیادی حقوق اور خودمختاری کو اس کا مرکزی جزو بنایا جائے۔
اس مرحلے پر مسلم دنیا کے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جذباتی نعروں اور وقتی ردعمل سے آگے بڑھ کر طویل المدتی حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ سیاسی اتحاد، علمی خودمختاری، اقتصادی تعاون، جدید ٹیکنالوجی میں پیش رفت، دفاعی صلاحیت، مضبوط ادارے اور مؤثر سفارت کاری کسی بھی قوم کی حقیقی قوت کے بنیادی عناصر ہیں۔ صرف بیانات سے عالمی سیاست میں مقام حاصل نہیں ہوتا، اور نہ ہی محض عسکری قوت سے دیرپا امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ مسلم ممالک کو اپنے داخلی اختلافات، فرقہ وارانہ کشیدگی، سیاسی عدم استحکام اور باہمی بداعتمادی پر قابو پانا ہوگا۔ فلسطین کے مسئلے کو بھی کسی ایک ملک، جماعت یا مسلک کی ترجیح بنانے کے بجائے پوری انسانیت کے مشترکہ ضمیر اور مسلم دنیا کی اجتماعی ذمّہ داری کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
گزشتہ چند برسوں کے واقعات نے دنیا کے سامنے کئی ایسے حقائق آشکار کیے ہیں جنہیں پہلے نظرانداز کرنا آسان تھا۔ غزہ کی تباہی، فلسطینی شہریوں کی بے پناہ قربانیاں، عالمی سطح پر ہونے والے احتجاج، بین الاقوامی عدالتوں میں اسرائیلی اقدامات سے متعلق قانونی کارروائیاں اور مختلف ممالک میں عوامی رائے کی تبدیلی نے فلسطین کے مسئلے کو ایک نئی عالمی معنویت عطا کی ہے۔ ان واقعات نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ طاقت اور اخلاقی جواز ہمیشہ ایک دوسرے کے مترادف نہیں ہوتے۔ کوئی ریاست عسکری اعتبار سے کتنی ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، اگر اس کے اقدامات عالمی ضمیر اور بین الاقوامی قانون کے سوالات سے دوچار ہوں تو اس کی سیاسی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف مظلوم قوموں کی قربانیاں اور ان کے حقوق کی جدوجہد تاریخ میں ایک دیرپا سوال بن کر زندہ رہتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مشرق و مغرب دونوں اپنے اپنے سیاسی تصورات، ترجیحات اور خارجہ پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ مغرب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی امن کا تصور کسی ایک ریاست کی سلامتی کو دوسری قوم کی دائمی محرومی پر ترجیح دے کر قائم نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ کی حکومتوں کو بھی یہ ادراک کرنا ہوگا کہ علاقائی استحکام کا راستہ باہمی تصادم، پراکسی جنگوں اور بیرونی طاقتوں پر غیر ضروری انحصار سے نہیں، بلکہ سیاسی مفاہمت، اقتصادی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے اصولوں سے ہوکر گزرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا ایک نئے تاریخی موڑ پر کھڑی ہے۔ پرانے سیاسی تصورات اپنی افادیت کھو رہے ہیں، روایتی اتحادوں کی حدود واضح ہورہی ہیں اور عالمی طاقت کے مراکز نئے انداز میں تشکیل پارہے ہیں۔ لیکن اس تبدیلی کا انجام کیا ہوگا، یہ ابھی طے نہیں ہوا۔ یہ ایک نئے منصفانہ عالمی نظام کی بنیاد بھی بن سکتی ہے اور طاقت کی نئی اجارہ داریوں کا پیش خیمہ بھی۔ فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ عالمی قیادتیں طاقت کے استعمال کو کس حد تک قانون اور اخلاقی اصولوں کا پابند بناتی ہیں، اور کمزور اقوام کو اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا کتنا حق دیتی ہیں۔
فلسطین اس نئے عالمی نظام کا محض ایک مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے اخلاقی وجود کا امتحان ہے۔ اگر فلسطینی عوام کو انصاف، آزادی اور خودمختاری میسر نہیں آتی تو دنیا کے امن، جمہوریت اور انسانی حقوق کے تمام بلند بانگ دعوے اپنی معنویت کھوتے رہیں گے۔ تاریخ کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہوگا کہ کس کے پاس کتنی فوج، کتنے میزائل اور کتنی اقتصادی قوت تھی، بلکہ اس بنیاد پر بھی ہوگا کہ کس نے مظلوم کے حق میں آواز بلند کی، کس نے طاقت کو قانون کا پابند بنایا اور کس نے انسانی وقار کو سیاسی مفادات پر ترجیح دی۔ اب وقت محض حالات کا تماشائی بننے کا نہیں، بلکہ ان کا درست ادراک کرنے، حقائق کی تحقیق کرنے، سیاسی بصیرت پیدا کرنے اور آنے والے امکانات کے لیے خود کو تیار کرنے کا ہے۔ دشمن اور دوست کی پہچان صرف نعروں سے نہیں، بلکہ پالیسیوں، اقدامات اور اصولی موقف سے ہونی چاہیے۔ دنیا بدل رہی ہے؛ لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ نیا عالمی نقشہ کون بنائے گا، بلکہ یہ ہے کہ اس نئے نقشے میں انصاف، آزادی اور انسانی حرمت کے لیے کتنی جگہ باقی رکھی جائے گی۔ یہی سوال آنے والی تاریخ کا سب سے بڑا سوال ہوگا۔ "فلسطین محض ایک مظلوم خطے کا نام نہیں، بلکہ یہ نئے عالمی نظام کے اخلاقی وجود، بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور انسانی ضمیر کی بیداری کا سب سے بڑا امتحان ہے”۔
🗓 (27.10.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے