कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسلام ہماری زندگیوں سے کہاں کھو گیا؟

تحریر:محمد عادل ارریاوی

ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر سوچیے جس دین نے ہمیں زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھایا اندھیروں میں روشنی دکھائی، حق و باطل میں تمیز کرنا سکھایا، والدین کے حقوق سے لے کر پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک تک ہر معاملے میں ہماری رہنمائی کی، کیا ہم نے کبھی اس دین کی تعلیمات کو سمجھنے اور اپنی زندگی میں اتارنے کی کوشش کی؟۔
آج ہم اسلام کے نام پر فخر تو کرتے ہیں، لیکن ہمارے کردار و عمل میں اس کی تعلیمات کی جھلک کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ زبان پر سچائی کے دعوے ہیں، مگر معاملات میں دیانت داری کا فقدان عبادات کا اہتمام ہے، مگر حقوق العباد سے غفلت دین سے محبت کا اظہار ہے، مگر اس کے احکام پر عمل کرنے میں کوتاہی۔ آخر کب تک ہم اپنی عملی کمزوریوں سے اسلام کی خوب صورت تعلیمات کو ڈھانپتے رہیں گے؟ یاد رکھیے اسلام کی عظمت صرف ہمارے لفظی نعروں سے نہیں، بلکہ ہمارے کردار سے نمایاں ہوگی۔ تقاضا اس بات کا ہے کہ ہم اسلام کو صرف اپنا تعارف ہی نہیں، بلکہ اپنی زندگی کا عملی دستور بنائیں۔
اسلام اخلاص کے ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ جب مدائین فتح ہوا تو جنگ ختم ہونے کے بعد امیر لشکر کے پاس ایک مسلمان فوجی آیا جس کے جسم پر بہت ہی معمولی کپڑے تھے، حیثیت بھی معمولی نظر آرہی تھی اور اس نے کپڑوں کے اندر کوئی چیز چھپائی ہوئی تھی اس نے آکر سعد بن ابی وقاص کو وہ چیز دی، جب کپڑا ہٹایا گیا، تو وہ مدائن کے بادشاہ کا تاج تھا ، جنگ کے اندر بادشاہ مارا گیا تھا اور اس فوجی نے اس کے تاج کو اپنے پاس سنبھال لیا تھا بادشاہ کا تاج اتنا قیمتی تھا، اس میں اتنے قیمتی ہیرے اور موتی بھی لگے ہوئے تھے کہ اگر ایک ہیرہ بھی بیچا جاتا تو اس فوجی کی پوری زندگی سکون اور آسانی کے ساتھ گزرجاتی اور کسی کو پتہ بھی نہیں تھا کہ یہ تاج کس کے پاس ہے مگر اس کے دل میں اخلاص تھا، خوف خدا تھا کہ یہ ایک امانت ہے، تو اس نے جا کر وہ تاج امیر لشکر کو دیا کہ یہ امانت ہے میں آپ کو دینے کے لیے آیا ہوں ، تو امیر لشکر اس نوجوان کے اخلاص پر حیران ہوا، اس نے نوجوان سے نام پوچھا کہ بتاؤ تمہارا نام کیا ہے؟ تو جیسے ہی نام پوچھا تو اس نوجوان نے اپنا رخ پھیر کر امیر کی طرف پیٹھ کر دی، چہرہ دوسری طرف کر کے یہ الفاظ کہے کہ جس پروردگار کو راضی کرنے کے لیے یہ عمل میں نے کیا ہے وہ میرا نام بھی جانتا ہے اور میرے باپ کا نام بھی جانتا ہے۔
اسلامی طریقہ زندگی کو اپنا ئیں کیونکہ یہ سونا ہے ۔ کفر اپنی طاقت کے ڈنڈے کی زور پر پیتل کو بھی سونا ثابت کرنا چاہتا ہے وہ حیاء کو بُرائی اور بے حیائی کو اچھائی ایثار کو برا اور خود غرضی کو اچھائی سے بیان کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ ہم اللہ رب العزت کے شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں مسلمانوں کے گھروں میں پیدا کیا ہے ۔ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا صَلَّى اللَّهُ عَلِيْهِ وَسَلَّمَ
(سنن ابی داؤ دحدیث نمبر 1529)۔
اسلام علم و دلیل کا حامی ہے اسلام نے تحصیل علم پر زور دیا ہے ۔ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ (ابن ماجه ) علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور ( عورت ) پر فرض ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا علماء کی سیاہی شہداء کے خون سے زیادہ قیمتی ہے۔
اسلام نے جاہلیت کے دور میں اقوام عالم کوعلم سیکھایا۔ جنگ بدر میں پڑھے لکھے کفار کی آزادی کیلئے ایک شرط یہ بھی لگادی کہ جو قیدی 10 مسلمانوں کو لکھنا سیکھائے گا وہ آزاد ہوگا، اس سے علم کی اہمیت کا اندازہ لگانا آسان ہے۔ دینی مدارس اور اسلامی جامعات سے امن و سلامتی کا پیغام نشر کیا جاتا ہے ، سماج اور معاشرہ کے سدھار کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، مدارس میں بتایا جاتا ہے کہ حقیقی مسلمان وہی ہے جس کی ایذا رسانیوں سے دوسرے مسلمان محفوظ و مامون ہوں ۔ یہاں پڑوسیوں کے حقوق کی نگہداشت کی ہدایات دی جاتی ہیں، پوری انسانیت کو ایک کنبہ بتلایا جاتا ہے، سب کے حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دی جاتی ہے نسلی تفاخر اور خاندانی برتری کا بہت مسمار کیا جاتا ہے توڑ دیا جاتا ہے، ملک و ملت کی اصلاح و فلاح کی ترکیبیں بتلائی جاتی ہیں۔ نتیجتاً مدارس کی انہی خصوصیات کی بنا پر مغربی معاشرہ اپنے خود ساختہ اصولوں سے پریشان ہو کر اسلام کے دامن رحمت میں جگہ تلاش کرتا ہے اور بامراد ہوتا ہے۔
تاریخ اس پر گواہ ہے کہ جس ماحول اور معاشرہ میں اسلامی تعلیمات پر عمل کیا گیا اور رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ حدود کے اندر ہی رہ کر زندگی گزارنے کی کوشش کی گئی ، وہ ماحول اور معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بنا رہا، اس معاشرے کے ہر ہر فرد کو ذہنی سکون مل رہا ہے۔ اسلام کی تمام حدود ( جرائم کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات) کا اگر مطالعہ کیا جائے تو ہر ایک سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان سزاؤں کا مقصود صرف سزا یافتہ مجرم کی ہی اصلاح نہیں ہے بلکہ اس کی روشنی میں اسلام کی یہ روح میں بھی شامل ہے کہ وہ سزا یافتہ آدمی کو معاشرے کے لئے ایک عبرت کا نشانہ بنائے تا کہ دوسرے افراد ایسی غلطیوں سے پر ہیز کریں۔ یہ اسلامی اصول فطرت کے عین مطابق ہے اس لئے اگر ان کی بہتر انداز سے تشریح کی جائے تو انسانی طبیعتیں خود بخود اس کی طرف مائل ہوتی ہیں۔ اسلام کی تمام تعلیمات کا یہی انداز ہے کہ انسانی ضرورتوں اور انسانی نفسیات کی رعایت اس میں بھری ہوئی ہے۔ لیکن اسلام دشمن طاقتیں اسلامی تعلیمات کو انسانیت کش اور ماحول و معاشرہ کی ترقی میں رکاوٹ کا نام دیتی ہیں، اور وہ اپنے کفر پیتل کو سونا پیش کرتے ہیں اور ہمارے سونے کو پیتل پیش کرتے ہیں۔ نظر اٹھا کر دیکھا جائے تو آج پوری دنیا میں یہی نظر آئے گا کہ مسلمانوں کی عملی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر غیر اسلامی قومیں اسلام کی شکل کو ہرممکن طریقے سے بگاڑنے میں لگی ہوئی ہیں۔
اسلام صرف رسومات کا ایک طریقہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسا نظام زندگی ہے جو انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں بہترین رہنمائی کرتا ہے۔ البتہ مذہب اسلام اپنے تمام احکامات میں اپنے ماننے والوں سے مکمل خود سپردگی اور کامل اتباع چاہتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ ربّ العزت نے ارشاد فرمایا یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ. (سورۃ بقرہ، آیت: 208)
ترجمہ اے ایمان والو اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ اور یہ صرف تعلیم نہیں ہے بلکہ محسن انسانیت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کر کے پوری دنیا کے لئے صاف نمونہ پیش کیا ہے ۔ ہم سب لوگ اس بات کی کوشش کریں کہ کسی بھی حال میں اپنا اسلامی تشخص اور اپنا دینی امتیاز نہیں چھوڑیں گے۔
جو کچھ زمین اور آسمانوں میں ہے سب کو اپنی طرف سے تمہارے کام پر لگا دیا چنانچہ کا ئنات کی ہر چیز شب و روز خدمت انسان میں لگی ہوئی ہے ۔ اس موقع پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ جب دنیا کی ہر چیز انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے تو انسان کو کس لئے پیدا کیا گیا ہے؟ آخر اس کا مقصد کیا ہے؟ سوال کا جواب اللہ رب العزت نے انتہائی واضح انداز میں فرمایا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالانْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ؛ (ترجمہ) کہ میں نے جن اور انسان اس لئے پیدا کئے کہ وہ میری عبادت کریں ۔ اے اہل عقل سنئیے اللہ ربّ العزت نے عبادت کا عنصر روز اول ہی سے انسان کی طبعیت میں رکھ دیا ہے تا کہ وہ طبعی طور پر عبادت کی طرف مائل رہے۔ انسان بحیثیت مسلمان ہونے کے یہ تسلیم کرتا ہے کہ تمام کائنات پر خدا کی حکومت ہے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے اللہ ربّ العزت کی حکومت کے قوانین مقرر ہوتے ہیں ، اور قیامت کے دن کے تصور سے انسان میں حکم خدا ماننے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح ایک صحیح اجتماعی نظام قائم ہوتا ہے۔
اسلام کی مذہبی عبادت بہت آسان ہے، اسلام نے ہر حکم انسانی طاقت کے مطابق مقرر کیا ہے اسلام نے سائنس کی تعلیم پر بہت زور دیا ہے۔ قرآن کریم میں جابجا انسان کو دنیا کی سیر و سیاحت کائنات کی تغیر اور کار خانہ قدرت کے راز ہائے سربستہ معلوم کرنے کی تعلیم و ترغیب دی گئی ہے۔ اسلام میں اجتماعیت کو بھی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کہ معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو، قومی اتحاد کو نقصان نہ پہنچے نیک مقاصد کی تکمیل کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ اسلام نے ہر شخص کو اپنے دائرہ عمل میں رہتے ہوئے اپنی طاقت کے مطابق لوگوں کی خدمت کا ذمہ دار قرار دیا ہے ، اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک چرواہے کی مانند ( ذمہ دار ) ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں باز پرس ہوگی۔
آج ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل کی بنیادی وجہ اسلامی تعلیمات سے دوری اور اخلاقی اقدار کی کمزوری ہے۔ جھوٹ، دھوکا، خود غرضی، حسد، بددیانتی اور حقوق تلفی نے انسانی رشتوں کی خوب صورتی کو متاثر کیا ہے۔ اگر ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کریں، اپنے معاملات کو درست کریں اور دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، تو معاشرے میں محبت، اعتماد، ہمدردی اور امن کی فضا قائم ہوسکتی ہے۔
لیکن افسوس صد افسوس کہ آج ہم میں سے بہت سے لوگ اسلام کی عظمت کے تذکرے تو بڑے شوق سے کرتے ہیں، مگر اپنی عملی زندگی کا جائزہ لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا اسلام کی خوبیوں کو تسلیم کرے، لیکن کیا ہم خود اپنی زندگیوں میں ان خوبیوں کو نمایاں کرتے ہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ مسلمانوں کو دیانت دار، بااخلاق اور امن پسند سمجھیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمارا کردار بھی ان صفات کا آئینہ دار ہو۔ صرف نام دعوے اور جذبات کسی دین کی حقیقی تعلیمات کی ترجمانی نہیں کرسکتے اس کے لیے عمل کی گواہی ضروری ہے۔
اللہ رب العزت ہمیں اسلام کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے