कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حرصِ بے پایاں

از قلم.شیخ محمود علی لیکچرر 8055402819

مایا، انسانی خواہشات اور گوتم بدھ کا فلسفۂ حیات:
انسانی زندگی بظاہر ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے، لیکن اگر اس جدوجہد کی تہہ میں اتر کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی بیشتر سرگرمیاں کسی نہ کسی خواہش کی تکمیل کے لیے وقف ہیں۔ جسم کو جنسی تسکین درکار ہے، ذہن کو کامیابی کی طلب ہے، دل محبت کا متلاشی ہے، روح امن و سکون کی آرزو مند ہے، زندگی کسی بامعنی مقصد کی تلاش میں سرگرداں ہے، پیٹ بھوک کی شدت محسوس کرتا ہے، آنکھیں نیند کی طالب ہیں اور انا (Ego) دوسروں سے توثیق، تعریف اور اعترافِ عظمت چاہتی ہے۔ گویا انسان کا وجود مختلف ضرورتوں، آرزوؤں اور تمناؤں کا مجموعہ ہے، جو اسے ایک لمحے کے لیے بھی مکمل طور پر مطمئن نہیں رہنے دیتا۔
انسان کی زندگی کا المیہ یہ نہیں کہ وہ خواہشات رکھتا ہے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ وہ اکثر اپنی خواہشات کو اپنی خوشی اور کامیابی کا واحد معیار بنا لیتا ہے۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری جنم لے لیتی ہے؛ ایک منزل حاصل ہوتی ہے تو اس سے آگے کوئی نئی منزل دکھائی دینے لگتی ہے۔ یوں انسان حصول کی ایک ایسی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے جس کی کوئی آخری حد متعین نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ شاید اگلی کامیابی، زیادہ دولت، بلند مرتبہ، کسی کی محبت یا معاشرتی اعتراف اسے مکمل سکون عطا کر دے گا، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ منزل تک پہنچنے کے بعد بھی دل میں ایک نئی کمی کا احساس باقی رہتا ہے۔
مایا حقیقت اور فریب کے درمیان:
مشرقی فلسفے میں دنیا کو مایا سے تعبیر کرنے کا ایک اہم مفہوم یہ ہے کہ انسان جس دنیاوی حقیقت کو مستقل، دائمی اور حتمی سمجھ بیٹھتا ہے، وہ دراصل تغیر، فنا اور عدمِ ثبات کے اصولوں کے تابع ہے۔ دولت، شہرت، حسن، اقتدار، تعلقات اور سماجی مرتبہ، سب وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں۔ جس چیز کو انسان اپنی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ سمجھتا ہے، وہ کبھی اس کے ہاتھ سے نکل سکتی ہے اور جس کامیابی پر اسے ناز ہوتا ہے، وہ بھی وقت کی گرد میں گم ہو سکتی ہے۔
یہاں مایا کا تصور محض دنیا کو بے معنی قرار دینے کے لیے نہیں، بلکہ انسان کو اس کے فریب سے آگاہ کرنے کے لیے اہم ہے۔ مسئلہ دنیا میں رہنا نہیں، بلکہ دنیا کی عارضی چیزوں کو دائمی خوشی کا سرچشمہ سمجھ لینا ہے۔ انسان جب اپنی تمام تر مسرتوں کو بیرونی حالات، دوسروں کی رائے اور مادی کامیابیوں سے وابستہ کر لیتا ہے تو اس کا داخلی سکون بھی انہی چیزوں کے رحم و کرم پر آ جاتا ہے۔
یہاں ایک فلسفیانہ فرق سمجھنا ضروری ہے: مایا کا تصور بالخصوص ہندو فلسفیانہ روایت میں نمایاں ہے، جب کہ بدھ مت دنیا کی بے ثباتی، خواہش اور وابستگی کے تجزیے پر زور دیتا ہے۔ دونوں تصورات میں بعض معنوی مماثلتیں ضرور ہیں، لیکن انہیں مکمل طور پر ایک ہی نظریہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
گوتم بدھ: خواہش سے آزادی کا راستہ:
گوتم بدھ کا فلسفۂ حیات انسان کو خواہشات کے اسباب، ان کی گرفت اور ذہنی آزادی پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
گوتم بدھ کی تعلیمات کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انسانی زندگی میں دکھ اور بے اطمینانی کا ایک اہم سبب خواہش، لگاؤ اور چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق مستقل رکھنے کی کوشش ہے۔ بدھ مت کے مطابق زندگی میں دکھ کا وجود ایک حقیقت ہے؛ اس دکھ کے اسباب کو سمجھا جا سکتا ہے؛ اس سے نجات کا امکان موجود ہے؛ اور اس نجات کے لیے ایک عملی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
اس تعلیم کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی تمام فطری ضروریات سے انکار کر دے، نہ ہی یہ کہ وہ زندگی کی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کر لے۔ اصل دعوت یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو پہچانے، ان کی نوعیت کو سمجھے اور ان کا غلام بننے کے بجائے ان پر شعوری اختیار حاصل کرے۔
بھوک لگنا ایک فطری ضرورت ہے، لیکن لذت کی بے انتہا طلب ایک الگ معاملہ ہے۔ محبت کی خواہش انسانی فطرت کا حصہ ہے، لیکن کسی دوسرے انسان کو اپنی ملکیت سمجھ لینا دکھ کا سبب بن سکتا ہے۔ کامیابی کی کوشش زندگی کو بامقصد بنا سکتی ہے، لیکن ہر حال میں دوسروں سے آگے نکلنے کی ضد انسان کو حسد، اضطراب اور احساسِ کمتری میں مبتلا کر سکتی ہے۔ اسی طرح عزت کی خواہش فطری ہے، مگر ہر وقت دوسروں سے تعریف اور توثیق طلب کرنا انسان کو اپنی ذات سے دور کر دیتا ہے۔
بدھ مت کی تعلیم ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ خواہش کا وجود اور خواہش کی غلامی دو مختلف کیفیات ہیں۔ پہلی انسانی زندگی کا حصہ ہے، جب کہ دوسری ذہنی بے سکونی کا سبب بن سکتی ہے۔
انا کی بھوک اور اعتراف کی طلب:
انسان کے اندر موجود انا ایک دلچسپ نفسیاتی قوت ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ لوگ اسے اہم سمجھیں، اس کی تعریف کریں، اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کریں اور اسے دوسروں سے ممتاز تسلیم کریں۔ بسا اوقات انسان کی تمام تر کامیابیوں کے باوجود اس کے اندر ایک خلا باقی رہتا ہے، کیونکہ اسے اپنے وجود کی قدر کا احساس دوسروں کی رائے سے وابستہ ہو جاتا ہے۔
وہ ایک تعریف سے خوش ہوتا ہے اور ایک تنقیدی جملے سے ٹوٹ جاتا ہے۔ کسی کی پذیرائی اسے بلندی پر پہنچا دیتی ہے، جب کہ کسی کی بے اعتنائی اسے اپنی ذات کے بارے میں شکوک میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اس طرح وہ اپنی خوشی کی کنجی دوسروں کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ اگر انسان کی خود قدری کا انحصار دوسروں کی توثیق پر ہو تو کیا وہ کبھی حقیقی معنوں میں آزاد ہو سکتا ہے؟
ذہنی پختگی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی غلطیوں کو تسلیم کرے، اپنی خوبیوں کو پہچانے، تنقید سے سیکھے اور تعریف سے خوش بھی ہو، لیکن اپنی پوری شناخت کو ان دونوں کے تابع نہ کرے۔ دوسروں کی رائے اہم ہو سکتی ہے، مگر وہ ہماری ذات کی مکمل اور آخری حقیقت نہیں ہوتی۔
محبت، مقصد اور روحانی سکون:
انسان صرف جسمانی ضروریات کا مجموعہ نہیں۔ اسے محبت، تعلق، احترام، وابستگی اور زندگی میں کسی مقصد کا احساس بھی درکار ہوتا ہے۔ لیکن ان ضرورتوں کی تکمیل کا طریقہ اس کی ذہنی کیفیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
اگر محبت کا مطلب کسی کو اپنے مطابق ڈھالنا ہو تو محبت رفتہ رفتہ اختیار اور تصرف کی خواہش میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اگر مقصدِ زندگی صرف دولت اور شہرت کا حصول ہو تو کامیابی کے باوجود بے معنویت کا احساس باقی رہ سکتا ہے۔ اور اگر سکون کا مطلب زندگی کی ہر مشکل سے نجات ہو تو انسان معمولی پریشانیوں سے بھی شکست کھانے لگتا ہے۔
حقیقی سکون شاید مشکلات کے مکمل خاتمے میں نہیں، بلکہ ان کے درمیان متوازن رہنے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہے۔ انسان جب اپنی خواہشات، جذبات اور حدود کو سمجھنے لگتا ہے تو اس کے لیے زندگی کی خوشیوں سے لطف اندوز ہونا اور اس کے دکھوں کو برداشت کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
زندگی کا مقصد بھی ہمیشہ کسی عظیم کارنامے یا غیر معمولی کامیابی میں نہیں ملتا۔ کبھی یہ علم کی روشنی پھیلانے، کسی پریشان انسان کی مدد کرنے، اپنے خاندان کی دیکھ بھال کرنے، معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے یا اپنے تجربات کو دوسروں کے لیے مفید بنانے میں بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔
تجزیہ خواہشات کے درمیان آزادی:
انسان کی زندگی خواہشات سے خالی نہیں ہو سکتی، اور نہ ہی ہر خواہش بذاتِ خود بری ہے۔ بھوک انسان کو غذا کی طرف، علم کی طلب اسے جستجو کی طرف، محبت اسے تعلق کی طرف اور مقصد کی تلاش اسے عمل کی طرف لے جاتی ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب خواہش ضرورت سے بڑھ کر جنون بن جائے، محبت وابستگی کی قید میں بدل جائے، کامیابی انا کی تسکین کا ذریعہ بن جائے اور زندگی کا ہر لمحہ کسی آئندہ حصول کے انتظار میں گزرنے لگے۔
گوتم بدھ کی تعلیمات سے اخذ ہونے والا ایک اہم سبق یہ ہے کہ انسان اپنے دکھ کو سمجھنے کے لیے پہلے اپنی خواہشات، لگاؤ اور ذہنی ردِعمل کا مشاہدہ کرے۔ اسے یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر خیال کے پیچھے بھاگنا ضروری نہیں، ہر خواہش پوری کرنا لازم نہیں اور ہر تنقید کو اپنی ذات کا فیصلہ سمجھ لینا دانش مندی نہیں۔
شاید زندگی کی اصل دانائی یہی ہے کہ انسان دنیا میں رہے، اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، محبت کرے، کامیابی کے لیے محنت کرے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش بھی کرے، لیکن ان سب کے باوجود اپنے باطن کو خواہشات کا قیدی نہ بننے دے۔
سکون ہر خواہش کی تکمیل کا نام نہیں، بلکہ خواہشات کے ہجوم میں اپنے باطن کا توازن برقرار رکھنے کا ہنر ہے۔
اور شاید حقیقی آزادی اسی لمحے شروع ہوتی ہے جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ زندگی سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہر چیز کا مالک بننا ضروری نہیں، ہر شخص کی توثیق حاصل کرنا لازم نہیں اور ہر خواہش کو حقیقت میں بدلنا بھی ناگزیر نہیں۔ بعض اوقات زندگی کو بہتر طور پر جینے کے لیے کچھ حاصل کرنے سے زیادہ، کچھ خواہشات کی گرفت سے آزاد ہونا ضروری ہوتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے