कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کتاب: منٹو پونا میں۔۔۔۔۔مصنف: نذیر فتح پوری

مبصرہ: شبانہ رضوان عرب ۔پونے

اردو ادب میں سعادت حسن منٹو ایک ایسے تخلیق کار ہیں جنہیں کسی تعارف یا سابقے کی ضرورت نہیں۔ ان کا نام خود اپنی شناخت، اپنی اہمیت اور اپنی ادبی عظمت کا استعارہ ہے۔ ان کی شخصیت اور فن پر بے شمار کتابیں، مضامین اور تحقیقی مقالات تحریر کیے جا چکے ہیں، مگر اس کے باوجود منٹو کی ذات اور فکر آج بھی نئے زاویوں سے دریافت کیے جانے کی متقاضی ہے۔ نذیر فتح پوری کی کتاب "منٹو پونا میں” اسی سلسلے کی ایک منفرد، تحقیقی اور اہم کاوش ہے، جس میں منٹو کی زندگی کے ایک نسبتاً کم زیرِ بحث رہنے والے دور اور شہرِ پونا سے ان کی وابستگی کو نہایت سنجیدگی، محنت اور تحقیق کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کتاب کا بنیادی امتیاز یہ ہے کہ مصنف نے منٹو کو صرف ایک عظیم افسانہ نگار یا فلمی مکالمہ نویس کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ ان کی شخصیت کے ان گوشوں کو بھی سامنے لانے کی کوشش کی ہے جو عام قارئین کی نگاہوں سے اوجھل رہے ہیں۔ منٹو کی ادبی عظمت کا اعتراف تو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے، لیکن ان کی فکری تشکیل میں مختلف شہروں، بالخصوص پونا کے اثرات پر بہت کم توجہ دی گئی۔ نذیر فتح پوری نے اسی خلا کو پُر کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
کتاب کا آغاز منٹو کی شخصیت کے ایک متوازن تعارف سے ہوتا ہے۔ مصنف اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ منٹو کے بارے میں ہمیشہ دو انتہائیں قائم رہیں۔ ایک طبقہ انہیں صرف بے مثال ادیب، انسان دوست اور معاشرے کا سچا ترجمان قرار دیتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ ان کے افسانوں کو محض فحاشی اور اشتعال انگیزی کے زاویے سے دیکھتا ہے۔ نذیر فتح پوری ان دونوں رویوں سے ہٹ کر منٹو کو ایک مکمل انسان کے طور پر پیش کرتے ہیں؛ ایسا انسان جس میں خوبیاں بھی ہیں، کمزوریاں بھی، حساسیت بھی ہے، تلخی بھی، محبت بھی اور بغاوت بھی۔ یہی متوازن نقطۂ نظر کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہے۔
مصنف نے واضح کیا ہے کہ منٹو کی اصل قوت ان کی حقیقت نگاری تھی۔ انہوں نے معاشرے کے ان ناسوروں کو بے نقاب کیا جن پر دوسرے اہلِ قلم خاموش رہے۔ ان کی تحریروں میں عورت محض جسم نہیں بلکہ ایک مکمل انسان ہے۔ مذہب، سیاست، طبقاتی تقسیم، فسادات، منافقت اور انسانی نفسیات جیسے موضوعات کو منٹو نے جس بے باکی اور فنی مہارت سے پیش کیا، وہ اردو ادب میں اپنی مثال آپ ہے۔ کتاب یہ احساس دلاتی ہے کہ منٹو کی تحریروں کا مقصد سنسنی پیدا کرنا نہیں بلکہ معاشرے کو اس کا اصل چہرہ دکھانا تھا۔
کتاب کا سب سے اہم اور منفرد پہلو پونا سے متعلق تحقیق ہے۔ نذیر فتح پوری نے محض تاریخی معلومات نقل نہیں کیں بلکہ عملی طور پر پونا جا کر ان مقامات، ماحول اور یادگاروں کی تلاش کی جن کا تعلق منٹو سے تھا۔ اس جستجو نے کتاب کو ایک تحقیقی دستاویز کی حیثیت عطا کر دی ہے۔ مصنف نے یہ ثابت کیا ہے کہ پونا صرف منٹو کی عارضی قیام گاہ نہیں تھا بلکہ ان کے تخلیقی شعور کی تشکیل میں اس شہر کا نمایاں کردار تھا۔ فلمی دنیا، وہاں کا سماجی ماحول، مختلف کردار، رہن سہن اور تہذیبی رنگ سب منٹو کے افسانوں میں کسی نہ کسی صورت محفوظ ہیں۔
کتاب میں منٹو کے طویل افسانے "ممی” کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ مصنف کے نزدیک یہ افسانہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ پونا کے معاشرتی اور ثقافتی ماحول کا زندہ مرقع ہے۔ اس کے ذریعے اس دور کے پونا کی گلیاں، بازار، فلمی اسٹوڈیوز، سماجی رویے اور انسانی کردار پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ مصنف نے اس افسانے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے یہ باور کرایا ہے کہ اگر کوئی شخص منٹو کے پونا کو سمجھنا چاہتا ہے تو اسے "ممی” ضرور پڑھنی چاہیے۔
کتاب میں شامل مضامین بھی اپنی انفرادیت رکھتے ہیں۔ "میں اور منٹو”، "منٹو پونا میں”، "منٹو ایک سایہ دار درخت”، "دخترانِ منٹو سے ملاقات”، "سوگندھی اور جانکی میں پونا کا ذکر”، "منٹو، ٹائپ رائٹر اور پونا”، "منٹو سیمینار دہلی میں شرکت” اور دیگر تحریریں صرف معلومات فراہم نہیں کرتیں بلکہ قاری کو منٹو کے قریب لے جاتی ہیں۔ ان مضامین کے ذریعے ایک طرف منٹو کی شخصیت کے مختلف پہلو روشن ہوتے ہیں اور دوسری طرف مصنف کی ذاتی وابستگی، تحقیقی محنت اور ادبی ذوق بھی نمایاں ہوتا ہے۔
کتاب کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں مختلف ناقدین اور اہلِ علم کی آراء بھی شامل کی گئی ہیں۔ سہیل احمد خان، پروفیسر جابر حسین اور دیگر اہلِ قلم کے اقتباسات کتاب کی علمی حیثیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ ان آراء سے یہ حقیقت مزید واضح ہوتی ہے کہ منٹو کو وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں سمجھا گیا۔ جن تحریروں پر کبھی اعتراضات کیے گئے، آج وہی نصابِ تعلیم کا حصہ ہیں اور عالمی سطح پر ان کی ادبی حیثیت مسلمہ ہے۔
مصنف نے منٹو کی فلمی زندگی اور ادبی زندگی کے باہمی تعلق کو بھی نہایت دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلمی دنیا میں کام کرتے ہوئے بھی منٹو کا تخلیقی شعور کبھی متاثر نہیں ہوا بلکہ فلمی تجربات نے ان کے افسانوں کو مزید حقیقت پسندانہ اور جاندار بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانیوں کے کردار مصنوعی نہیں بلکہ زندہ انسان محسوس ہوتے ہیں۔
کتاب میں ایک جگہ مصنف اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہیں کہ جب پونا میں منٹو پر بننے والی فلم کے حوالے سے گفتگو ہوئی تو بہت سے غیر اردو قارئین کی منٹو سے گہری واقفیت دیکھ کر انہیں خوشگوار حیرت ہوئی۔ اس واقعے کے ذریعے مصنف نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ منٹو کسی ایک زبان یا قوم کے ادیب نہیں بلکہ عالمی ادب کے نمائندہ تخلیق کار ہیں، جن کی فکر زبانوں اور سرحدوں سے بلند ہو چکی ہے۔
نذیر فتح پوری کی زبان علمی ہونے کے باوجود رواں، شستہ اور دل نشین ہے۔ انہوں نے غیر ضروری لفظی آرائش سے گریز کرتے ہوئے سادہ مگر مؤثر اسلوب اختیار کیا ہے۔ جہاں تاریخی حوالہ درکار ہے وہاں تحقیق کی مضبوطی نظر آتی ہے، اور جہاں ذاتی مشاہدہ بیان کیا گیا ہے وہاں خلوص اور جذبات کی سچائی قاری کو متاثر کرتی ہے۔ یہی امتزاج کتاب کو خشک تحقیقی مقالہ بننے سے بچاتا ہے۔
اگر تنقیدی زاویے سے دیکھا جائے تو کتاب کا موضوع محدود ہے، کیونکہ اس کا مرکز صرف منٹو اور پونا کا تعلق ہے، مگر مصنف نے اسی محدود دائرے کو اس قدر وسعت دے دی ہے کہ یہ کتاب منٹو شناسی کا ایک اہم حوالہ بن جاتی ہے۔ بعض مقامات پر اگر مزید تاریخی دستاویزات یا تصویری شواہد شامل ہوتے تو کتاب کی تحقیقی افادیت اور بڑھ سکتی تھی، تاہم موجودہ صورت میں بھی یہ ایک قابلِ قدر علمی سرمایہ ہے۔
مجموعی طور پر "منٹو پونا میں” صرف ایک ادبی کتاب نہیں بلکہ تحقیق، جستجو، مشاہدے اور ادبی محبت کا حسین امتزاج ہے۔ یہ کتاب منٹو کی شخصیت کے ان پہلوؤں کو سامنے لاتی ہے جو عمومی طور پر نظروں سے اوجھل رہے ہیں۔ نذیر فتح پوری نے ثابت کیا ہے کہ منٹو کو سمجھنے کے لیے صرف ان کے افسانے پڑھ لینا کافی نہیں، بلکہ ان شہروں، لوگوں، ماحول اور تجربات کو بھی جاننا ضروری ہے جنہوں نے ان کے فن کو جلا بخشی۔
یہ کتاب منٹو کے چاہنے والوں، محققین، طلبہ اور اردو ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے نہایت اہم اور مفید مطالعہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ یہ منٹو کی شخصیت کو نہ تقدیس کے مبالغے میں چھپاتی ہے اور نہ تنقید کی شدت میں گم کرتی ہے، بلکہ انہیں ایک حساس، باغی، حقیقت پسند اور عہد ساز انسان کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہی اعتدال، تحقیقی دیانت اور منفرد زاویۂ نظر اس کتاب کو منٹو شناسی کے معتبر حوالوں میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے