कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بند دروازے، کھلی راہیں — یقینِ کامل، رضا بالقضا اور امیدِ نو

Closed Doors, Open Paths — Unwavering Faith, Contentment with Divine Decree, and Renewed Hope

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

کبھی کبھی زندگی کے کچھ دروازے اچانک بند ہو جاتے ہیں تو انسان کا دل ٹوٹ جاتا ہے، اس کی امیدیں بکھرنے لگتی ہیں اور وہ اپنے مستقبل کے بارے میں طرح طرح کے اندیشوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جس راستے کو اس نے اپنی منزل تک پہنچنے کا واحد ذریعہ سمجھ رکھا ہوتا ہے، جب وہی راستہ اس کے سامنے مسدود ہو جاتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کی تمام رونقیں ماند پڑ گئی ہوں، دعاؤں کے اثرات معدوم ہو گئے ہوں اور اس کی تمام تر کوششیں بے معنی ہو کر رہ گئی ہوں۔ مگر انسان اکثر اس حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے کہ زندگی کے تمام راستے اس کی اپنی خواہشات کے تابع نہیں ہوتے، بلکہ اس کائنات کا ایک نظام ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت، مشیت اور علمِ کامل کے تحت رواں دواں ہے۔ جس ربّ کے حکم سے کسی راستے پر رکاوٹ آتی ہے، اسی کے اختیار میں یہ بھی ہے کہ وہ کسی ایسے راستے کو کھول دے جس کا انسان نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔ اس لیے کسی دروازے کا بند ہو جانا زندگی کا اختتام نہیں، بلکہ ممکن ہے کہ وہ کسی نئے باب کے آغاز کا پیش خیمہ ہو۔
انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنی خواہشات سے محبت کرتا ہے، اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیتے دیکھنا چاہتا ہے اور اپنی محنت کے مطابق نتائج کا متمنی رہتا ہے۔ وہ جس چیز کو دل سے چاہتا ہے، اسے اپنی خوشی، کامیابی اور آسودگی کی ضمانت سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ ہر محبوب شے ہمارے حق میں بہتر نہیں ہوتی اور ہر ناپسندیدہ صورتِ حال لازماً ہمارے لیے نقصان دہ نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انسان جس چیز کے حصول کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہا ہوتا ہے، اسی چیز میں اس کے لیے کوئی ایسی آزمائش، پریشانی یا نقصان پوشیدہ ہوتا ہے جس کا اسے شعور نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، جس محرومی کو وہ اپنی بدقسمتی سمجھ رہا ہوتا ہے، ممکن ہے وہ اسے کسی بڑے نقصان سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ بن جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی علم کی محدودیت اور حکمتِ الٰہی کی وسعت کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔ انسان صرف حال کے منظر کو دیکھتا ہے، جب کہ اللّٰہ تعالیٰ کا علم ماضی، حال اور مستقبل سب کو محیط ہے۔
قرآنِ مجید اسی حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کرتا ہے: "ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو، حالاں کہ وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو، حالاں کہ وہ تمہارے لیے بری ہو؛ اور اللّٰہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے” (سورۃ البقرۃ: 216)۔ یہ آیتِ مبارکہ انسانی زندگی کے ان تمام مراحل میں امید اور بصیرت کا چراغ روشن کرتی ہے جہاں خواہشات اور حقائق ایک دوسرے سے متصادم ہو جاتے ہیں۔ اس کا پیغام یہ نہیں کہ انسان اپنی خواہشات ترک کر دے، کوشش کرنا چھوڑ دے یا ہر ناکامی کے سامنے بے عملی اختیار کر لے؛ بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی کوششوں کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت پر بھی اعتماد رکھے۔ اپنی منزل کے لیے محنت کرے، اسباب اختیار کرے، دعا کا دامن تھامے، لیکن نتائج کو اپنی محدود سمجھ کا پابند نہ بنائے۔ کیونکہ بسا اوقات انسان کی نگاہ میں جو ناکامی ہوتی ہے، وقت گزرنے کے بعد وہی اس کی فکری پختگی، کردار کی تعمیر اور زندگی کے کسی بڑے مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
زندگی میں محرومی کا تجربہ یقیناً آسان نہیں ہوتا۔ کسی عزیز تعلق کا ٹوٹ جانا، کسی محبوب شخص کا زندگی سے دور ہو جانا، کسی ملازمت یا کاروبار میں ناکامی، کسی تعلیمی یا عملی مقصد کا پورا نہ ہونا، برسوں کی محنت کے باوجود مطلوبہ نتیجہ نہ ملنا یا کسی دعا کے اثرات کا فوری طور پر ظاہر نہ ہونا، یہ سب انسان کے دل پر گہرے نقوش چھوڑ سکتے ہیں۔ بعض محرومیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے بعد انسان بظاہر مسکراتا رہتا ہے، مگر اس کے اندر ایک خاموش کرب مسلسل سانس لیتا رہتا ہے۔ وہ لوگوں کے سامنے اپنے حوصلے کا اظہار کرتا ہے، مگر تنہائی میں اپنے فیصلوں، اپنی قسمت اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوالات کرنے لگتا ہے۔ ایسے لمحات میں اسے یہ سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ دکھ محسوس کرنا کمزور ایمان کی علامت نہیں، آنکھوں میں آنسو آ جانا بے صبری کا لازمی ثبوت نہیں اور کسی نقصان پر دل کا غمگین ہونا اللّٰہ تعالیٰ کی رضا سے انحراف نہیں۔ انسانی دل جذبات رکھتا ہے، محبت کرتا ہے، امیدیں باندھتا ہے اور ٹوٹنے پر درد بھی محسوس کرتا ہے۔ اصل کمال یہ نہیں کہ انسان کو کبھی دکھ نہ پہنچے، بلکہ یہ ہے کہ دکھ کے باوجود اس کا تعلق اپنے ربّ سے منقطع نہ ہو، اس کی امید مایوسی میں تبدیل نہ ہو اور اس کی محرومی اسے اپنی ذات، اپنے کردار اور اپنے خالق سے بدظن نہ کر دے۔
ہمیں یہ حقیقت بھی سمجھنی چاہیے کہ ہر محرومی سزا نہیں ہوتی، ہر ناکامی رسوائی نہیں ہوتی اور ہر تاخیر محروم رہ جانے کا اعلان نہیں ہوتی۔ زندگی کے بعض تجربات انسان کو وہ بصیرت عطا کرتے ہیں جو محض آسائشوں میں رہ کر حاصل نہیں ہوتی۔ کچھ راستے ہماری قوتِ برداشت کو آزماتے ہیں، کچھ تعلقات ہمیں اپنی قدر و قیمت پہچاننا سکھاتے ہیں اور کچھ ناکامیاں ہماری ترجیحات کی اصلاح کر دیتی ہیں۔ کبھی کسی منزل تک نہ پہنچ پانا انسان کو اپنی صلاحیتوں کا ازسرِنو جائزہ لینے پر آمادہ کرتا ہے، کبھی کسی شخص سے دوری اسے تعلقات کی حقیقت سمجھاتی ہے اور کبھی کسی منصوبے کی ناکامی اسے ایک بہتر حکمتِ عملی اختیار کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر واقعے کی حکمت فوراً سمجھ میں آ جائے؛ بعض سوالات کے جواب وقت کے ساتھ سامنے آتے ہیں اور بعض معاملات کی پوری حقیقت شاید انسان پر کبھی آشکار ہی نہ ہو۔ لیکن مومن کا اعتماد اس بات پر قائم رہتا ہے کہ وہ اپنی محدود معلومات کی بنیاد پر اللّٰہ تعالیٰ کے فیصلوں کی مکمل معنویت متعین نہیں کر سکتا۔
یہاں ایک اہم فرق ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے: اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت پر یقین رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر تکلیف کو لازماً کسی خاص پوشیدہ فائدے سے منسوب کر دے، یا کسی نقصان کی وجہ جانے بغیر اس کے بارے میں قطعی دعویٰ کرنے لگے۔ ہم ہر واقعے کی حقیقی حکمت نہیں جانتے۔ ہمیں صرف اتنا معلوم ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا علم کامل ہے، جب کہ ہمارا علم محدود؛ اس لیے ہماری ذمّہ داری یہ ہے کہ ہم جائز اسباب اختیار کریں، اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں، حالات کی اصلاح کی کوشش کریں اور جہاں اختیار ختم ہو جائے وہاں صبر، دعا اور توکل کا راستہ اپنائیں۔ اگر کسی دروازے کا بند ہونا ہماری اپنی کوتاہی، غلط فیصلے یا غفلت کا نتیجہ ہو تو حکمتِ الٰہی پر اعتماد ہمیں اپنی ذمّہ داری سے بری نہیں کرتا، بلکہ ہمیں اپنی اصلاح کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ حقیقی توکل یہ نہیں کہ انسان کوشش چھوڑ دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذمّہ داری پوری کرنے کے بعد نتائج کو اللّٰہ تعالیٰ کے سپرد کر دے۔
زندگی کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ انسان اکثر ایک ہی دروازے کے سامنے کھڑا رہ کر اپنی پوری زندگی کی خوشیوں کا فیصلہ اسی دروازے سے وابستہ کر لیتا ہے۔ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اگر یہی راستہ نہ کھلا، یہی شخص نہ ملا، یہی موقع ہاتھ نہ آیا یا یہی خواب پورا نہ ہوا تو اب کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ وہ اپنی نگاہوں کو ایک ہی سمت میں محدود کر لیتا ہے اور اس کے نتیجے میں زندگی کے دوسرے امکانات اس کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ حالاں کہ زندگی کی وسعت کسی ایک موقع، ایک تعلق، ایک عہدے، ایک منزل یا ایک خواہش سے کہیں زیادہ ہے۔ ممکن ہے جس راستے کو انسان اپنی کامیابی کا واحد ذریعہ سمجھ رہا ہو، وہ اس کی صلاحیتوں کے لیے موزوں ہی نہ ہو۔ ممکن ہے ایک بند دروازہ اسے ایسی سمت میں متوجہ کر دے جہاں اس کی صلاحیتیں زیادہ بہتر طور پر بروئے کار آئیں، اس کے کردار کو زیادہ وسعت ملے اور اس کی زندگی دوسروں کے لیے زیادہ مفید ثابت ہو۔ اس لیے جب کوئی راستہ بند ہو جائے تو کچھ دیر ٹھہر کر اپنے دل کو سنبھالنا چاہیے، اپنے تجربات کا جائزہ لینا چاہیے اور پھر نئے امکانات کی طرف نگاہ اٹھانی چاہیے۔ ممکن ہے منزل وہی نہ ہو جس کا خواب دیکھا تھا، مگر زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے ایک نیا راستہ ضرور تلاش کیا جا سکتا ہے۔
دعا کے معاملے میں بھی یہی حکمت کارفرما ہے۔ کبھی انسان کسی چیز کے لیے برسوں دعا کرتا ہے، راتوں کو اٹھ کر اپنے ربّ کے حضور دستِ سوال دراز کرتا ہے، اپنی آرزوؤں کو آنسوؤں میں ڈھال کر پیش کرتا ہے، مگر مطلوبہ نتیجہ اس کی توقع کے مطابق سامنے نہیں آتا۔ ایسے میں اس کے دل میں سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا اس کی دعائیں سنی نہیں جا رہیں؟ کیا اس کی فریاد اپنے ربّ تک نہیں پہنچ رہی؟ حقیقت یہ ہے کہ دعا محض اپنی خواہش پوری کروانے کا نام نہیں، بلکہ اپنے ربّ سے تعلق مضبوط کرنے، اپنی محتاجی کا اعتراف کرنے اور اپنی امیدوں کو اس ذات سے وابستہ کرنے کا عمل بھی ہے جو ہماری ظاہری اور باطنی حالت سے پوری طرح واقف ہے۔ دعا کی قبولیت کی صورتیں اور اوقات ہمیشہ ہماری توقعات کے مطابق نہیں ہوتے، اس لیے تاخیر کو بے اعتنائی اور عدمِ حصول کو لازماً محرومی کی قطعی دلیل نہیں سمجھنا چاہیے۔ بندے کا کام اخلاص کے ساتھ دعا کرنا، جائز کوشش جاری رکھنا اور اپنے ربّ سے حسنِ ظن قائم رکھنا ہے۔ اسے یقین رکھنا چاہیے کہ اللّٰہ تعالیٰ سے کیا گیا کوئی اخلاص بھرا رجوع بے معنی نہیں، اگرچہ اس کے نتائج کی پوری حقیقت بندے پر فوراً واضح نہ ہو۔
قرآنِ مجید میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی اپنے بیٹوں کو نصیحت نقل ہوئی ہے: "اللّٰہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو؛ بے شک اللّٰہ کی رحمت سے کافر لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں” (سورۃ یوسف: 87)۔ یہ پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مایوسی کے اندھیروں میں بھی امید کا چراغ بجھنے نہیں دینا چاہیے۔ امید کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خواہش لازماً پوری ہو گی، بلکہ امید یہ ہے کہ خواہش پوری نہ ہونے کے باوجود زندگی کے امکانات ختم نہیں ہوتے، آزمائش کے باوجود اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے تعلق باقی رہتا ہے اور حالات کی سختی کے باوجود انسان اپنے لیے اصلاح، بہتری اور نئے آغاز کے راستے تلاش کر سکتا ہے۔ کبھی ہمیں اپنی مطلوبہ چیز مل جاتی ہے اور کبھی اس کے بغیر جینا سیکھنا پڑتا ہے؛ کبھی ہماری کوششیں کامیابی سے ہم کنار ہوتی ہیں اور کبھی ہمیں اپنی حکمتِ عملی بدلنی پڑتی ہے۔ دونوں صورتوں میں زندگی آگے بڑھتی ہے، بشرطیکہ انسان اپنے دل کو مایوسی کے حوالے نہ کر دے۔
یاد رکھیے! بعض اوقات زندگی کا بند دروازہ ہمیں اپنی ذات کے اندر جھانکنے کا موقع دیتا ہے۔ ہم دوسروں سے بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں، اپنی خوشیوں کو کسی ایک شخص یا صورتِ حال کے ساتھ مشروط کر لیتے ہیں اور پھر جب وہ توقع پوری نہیں ہوتی تو خود کو بے سہارا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی داخلی قوت کو پہچانیں، اپنی عزّتِ نفس کی حفاظت کریں، تعلقات میں اعتدال پیدا کریں اور اپنی زندگی کے مقصد کو محض دنیاوی کامیابیوں تک محدود نہ رکھیں۔ جو چیز ہمارے اختیار میں نہیں، اس کے لیے خود کو مسلسل ملامت کرتے رہنا ہمیں اندر سے کمزور کرتا ہے؛ جب کہ جو چیز ہمارے اختیار میں ہے، اس کی اصلاح کے لیے قدم اٹھانا ہمیں دوبارہ زندگی سے جوڑتا ہے۔ ماضی کے دروازے پر دستک دیتے رہنا اگر حال کے امکانات کو ضائع کر رہا ہو تو ہمیں اپنے دل کو سمجھانا چاہیے کہ بعض فیصلوں کو قبول کرنا، بعض راستوں سے واپس آنا اور بعض خواہشات سے دست بردار ہو جانا بھی زندگی کی پختگی کا حصّہ ہے۔
البتہ صبر اور رضا کا مطلب ظلم، ناانصافی یا نقصان دہ حالات کے سامنے بے عملی اختیار کرنا بھی نہیں۔ اگر کوئی دروازہ کسی انسانی ناانصافی، استحصال یا غلط رویے کی وجہ سے بند ہوا ہے تو انسان کو حق کے لیے آواز اٹھانے، مناسب تدبیر اختیار کرنے اور اپنی حالت بہتر بنانے کا پورا حق حاصل ہے۔ توکل کے ساتھ تدبیر، صبر کے ساتھ جدوجہد اور رضا کے ساتھ اصلاح کی کوشش ہی زندگی کا متوازن راستہ ہے۔ مومن نہ حالات کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہو جاتا ہے اور نہ اپنی خواہشات کو تقدیر کا نام دے کر ہر حقیقت سے انکار کرتا ہے؛ وہ حقیقت کو تسلیم کرتا ہے، اپنے اختیار کو پہچانتا ہے اور پھر اللّٰہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔
زندگی کے ہر بند دروازے کے سامنے ماتم کرنا ضروری نہیں، بعض دروازوں سے خاموشی کے ساتھ واپس آ جانا بھی دانش مندی ہے۔ ہر کھوئی ہوئی چیز کے پیچھے بھاگنا لازم نہیں، بعض اوقات اسے اللّٰہ تعالیٰ کے سپرد کر کے اپنے حال کو سنوارنا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ ہر ناکامی کو اپنی شخصیت کا فیصلہ سمجھ لینا درست نہیں، کیونکہ ایک کوشش کا ناکام ہو جانا انسان کی پوری زندگی کی ناکامی نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہر محرومی کو اپنی قسمت کی آخری لکیر سمجھ لینا بھی درست نہیں، کیونکہ انسان کا مستقبل ابھی ان امکانات سے بھرا ہو سکتا ہے جن کا اسے فی الحال علم نہیں۔ جو گزر گیا، اس سے سبق حاصل کیجیے؛ جو ہاتھ میں ہے، اس کی قدر کیجیے؛ جو ممکن ہے، اس کے لیے کوشش کیجیے؛ اور جو آپ کے اختیار سے باہر ہے، اس کے بارے میں اپنے دل کو بے جا اضطراب میں مبتلا کرنے کے بجائے اللّٰہ تعالیٰ پر اعتماد رکھیے۔
آخرکار زندگی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ ہر بند دروازہ مایوسی کی علامت نہیں اور ہر محرومی زندگی کی شکست نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انسان کو اپنی پسندیدہ منزل سے ہٹ کر ایک ایسے سفر پر چلنا پڑتا ہے جس کی ابتدا اسے ناگوار محسوس ہوتی ہے، مگر اسی سفر میں وہ اپنے اندر نئی صلاحیتیں دریافت کرتا، اپنے ایمان کو مضبوط بناتا اور زندگی کے حقائق کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے لگتا ہے۔ ہمیں یہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے کہ ہر محرومی کے پیچھے لازماً کوئی ایسی دنیاوی نعمت پوشیدہ ہے جو ایک دن ضرور ہمارے سامنے آ جائے گی؛ البتہ یہ یقین ضرور رکھنا چاہیے کہ کسی چیز کا نہ ملنا ہماری زندگی کی تمام معنویت کو ختم نہیں کر دیتا، اور اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے امید وابستہ رکھنے کے لیے حالات کا ہماری مرضی کے مطابق ہونا ضروری نہیں۔
لہٰذا جب زندگی کا کوئی دروازہ بند ہو جائے، جب برسوں کا خواب ادھورا رہ جائے، جب دعاؤں کے باوجود مطلوبہ نتیجہ سامنے نہ آئے یا جب کوئی راستہ ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود مسدود دکھائی دے تو اپنے دل کو یہ سمجھائیے کہ میرا علم محدود ہے، مگر میرے ربّ کا علم کامل ہے؛ میری نگاہ ایک راستے تک پہنچتی ہے، مگر اس کی حکمت میری نگاہ کی وسعت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ میں کوشش جاری رکھوں گا، اپنی غلطیوں کی اصلاح کروں گا، نئے امکانات تلاش کروں گا اور اپنے ربّ سے امید کا رشتہ قائم رکھوں گا۔ کیونکہ زندگی کسی ایک بند دروازے کا نام نہیں، بلکہ ان گنت امکانات، تجربات اور نئے آغاز کا سفر ہے۔ جس ربّ پر بھروسا کرتے ہوئے ہم بند دروازوں کے سامنے صبر کرنا سیکھتے ہیں، اسی ربّ کی رحمت سے امید وابستہ رکھتے ہوئے ہم نئے راستوں کی تلاش بھی جاری رکھتے ہیں۔ یہی یقین انسان کو ٹوٹ کر بکھر جانے سے بچاتا ہے، یہی رضا اسے بے جا شکوے سے محفوظ رکھتی ہے اور یہی امید اسے اندھیروں میں بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔
🗓 (25.10.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے