कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

برکس، مسلم دنیا اور بدلتا ہوا عالمی معاشی نظام

BRICS, the Muslim World, and the Evolving Global Economic Order

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

دنیا اس وقت ایک ایسے عالمی تغیر کے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں طاقت کے پرانے مراکز اپنی جگہ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر دوسری طرف دنیا کے ابھرتے ہوئے ممالک اپنے لیے ایک نئے اور زیادہ متوازن عالمی نظام کی تلاش میں ہیں۔ BRICS اسی بدلتی ہوئی عالمی حقیقت کی ایک اہم علامت ہے۔ جو گروپ کبھی برازیل، روس، بھارت اور چین کی معاشی صلاحیتوں کے تناظر میں ایک اصطلاح کے طور پر سامنے آیا تھا، وہ وقت کے ساتھ ایک باقاعدہ سیاسی و معاشی تعاون کے پلیٹ فارم میں تبدیل ہوگیا۔ جنوبی افریقہ کی شمولیت کے بعد اس کی وسعت بڑھی اور حالیہ توسیع نے اسے مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلا دیا۔
آج BRICS میں مسلم دنیا کے کئی اہم ممالک بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، مصر اور دیگر ممالک کی موجودگی اسے مسلم دنیا کے لیے بھی ایک اہم معاشی و سفارتی امکان بناتی ہے۔ تاہم اس امکان کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے محض رکنیت کافی نہیں؛ ضرورت مشترکہ وژن، باہمی اعتماد، مؤثر انتظام، طویل المدتی منصوبہ بندی اور اپنے وسائل پر حقیقی اختیار کی ہے۔
الحمدللّٰہ! مسلم دنیا کو اللّٰہ تعالیٰ نے بے شمار قدرتی، انسانی اور جغرافیائی وسائل عطا کیے ہیں۔ خلیج کے وسیع تیل و گیس کے ذخائر ہوں، افریقہ کی معدنی دولت ہو، سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں کے ذخائر ہوں، ایشیا کے وسیع انسانی وسائل ہوں یا مسلم ممالک کی جغرافیائی اہمیت—یہ سب مل کر ایک ایسی معاشی قوت تشکیل دے سکتے ہیں جس کا عالمی سیاست اور معیشت میں فیصلہ کن کردار ہو۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ان وسائل کا مالک کون ہے، ان کی قدر افزائی کون کرتا ہے، ان سے پیدا ہونے والی دولت کہاں جاتی ہے اور ان کے ذریعے مستقبل کی معیشت کون تعمیر کرتا ہے؟
افریقہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ براعظمِ افریقہ معدنیات، توانائی، زرعی زمین اور نوجوان انسانی آبادی کے اعتبار سے بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔ لیکن خام مال کی برآمد اور تیار مصنوعات کی درآمد پر قائم معاشی ڈھانچہ اکثر افریقی ممالک کو قدرِ افزائی کے عالمی سلسلے میں کمزور مقام پر رکھتا ہے۔ نتیجتاً دولت موجود ہونے کے باوجود خوش حالی ہر جگہ دکھائی نہیں دیتی۔ یہی سوال مسلم دنیا سے بھی کیا جانا چاہیے: کیا ہم اپنے وسائل کو محض خام مال کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کرتے رہیں گے یا ان وسائل کو علم، صنعت، ٹیکنالوجی اور انسانی ترقی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کریں گے؟
مسئلہ وسائل کا نہیں، Management کا ہے۔ ہمیں ایک تلخ حقیقت کا اعتراف کرنا ہوگا کہ قدرتی دولت خود بخود قومی طاقت میں تبدیل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے اچھی حکمرانی، شفاف ادارے، جدید ٹیکنالوجی، تعلیم، تحقیق، صنعتی منصوبہ بندی اور ماہر انسانی سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ اگر کسی ملک کے پاس تیل ہے مگر اسے پٹرولیم کیمیکل، جدید صنعت، توانائی کی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ قدر رکھنے والی مصنوعات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں، تو وہ اپنی اصل معاشی قوت کا ایک بڑا حصہ دوسروں کے حوالے کر دیتا ہے۔
اگر کسی ملک کے پاس سونا اور دیگر معدنیات ہیں مگر وہ معدنیات کی تلاش، نکاسی، پروسیسنگ اور عالمی مارکیٹ کی قیمت سازی میں خود فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرتا، تو محض زیرِ زمین دولت اسے طاقتور نہیں بنا سکتی۔ وسائل طاقت کا امکان ہیں؛ انہیں طاقت میں تبدیل کرنے کے لیے بصیرت، نظم و نسق اور خود اعتمادی ضروری ہے۔ یہاں BRICS کی اہمیت سامنے آتی ہے۔BRICS کو مغرب کے خلاف محض ایک سیاسی محاذ سمجھنا اس کی پوری حقیقت کو سمجھنے کے مترادف نہیں ہوگا۔ اس کے اندر ایک اہم پہلو یہ ہے کہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک عالمی مالیاتی، تجارتی اور سیاسی اداروں میں زیادہ مؤثر نمائندگی چاہتے ہیں۔ خود BRICS کے سرکاری تعارف میں عالمی اداروں میں زیادہ منصفانہ نمائندگی، معاشی تعاون، پائیدار ترقی اور گلوبل ساؤتھ کے کردار کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
اس کا New Development Bank بھی اسی تصور کی ایک عملی مثال ہے، جس کا بنیادی مقصد ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتوں میں بنیادی ڈھانچے اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنا ہے۔ اگر مسلم ممالک اس وسیع تر پلیٹ فارم کو محض سفارتی تصویروں، اجلاسوں اور مشترکہ بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے تجارت، توانائی، خوراک، ٹیکنالوجی، تعلیم، دفاعی صنعت، مالیاتی نظام اور انفراسٹرکچر میں حقیقی تعاون کے لیے استعمال کریں تو صورتِ حال بہت مختلف ہوسکتی ہے۔
یہاں ایک اور بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: دنیا کی تجارت اور مالیاتی نظام میں ڈالر کی مرکزی حیثیت آخر کب تک برقرار رہے گی؟ یہ بات درست ہے کہ ڈالر آج بھی عالمی مالیاتی نظام کا سب سے اہم ستون ہے، اور اسے یک دم ختم کردینا نہ آسان ہے اور نہ ہی BRICS کا فوری ہدف ایسا سمجھنا درست ہوگا۔ تاہم مختلف ممالک کی جانب سے مقامی کرنسیوں میں تجارت، متبادل ادائیگی کے نظام اور مالیاتی تعاون کے امکانات پر بڑھتی ہوئی توجہ اس بات کی علامت ضرور ہے کہ عالمی معیشت میں تنوع کی خواہش پیدا ہو رہی ہے۔ 2026 کے BRICS اجلاس میں بھی مقامی کرنسیوں میں تجارت اور سرحد پار ادائیگی کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ یہ تبدیلی محض مالیاتی نہیں؛ اس کے پیچھے ایک بڑا جغرافیائی و معاشی سوال موجود ہے، کیا دنیا ایک ایسے عالمی مالیاتی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں ایک ہی کرنسی، ایک ہی مالیاتی مرکز اور چند طاقتور اداروں پر انحصار کم ہو؟
خلیجی ممالک کے حوالے سے یہ سوال اور بھی دلچسپ ہوجاتا ہے۔ 1970ء کی دہائی کے بعد عالمی مالیاتی نظام میں ایک ایسا ڈھانچہ مضبوط ہوا جس میں تیل کی تجارت، ڈالر اور امریکی مالیاتی نظام ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑ گئے۔ خلیجی تیل برآمد کرنے والے ممالک نے ڈالر کے نظام میں اہم کردار ادا کیا، جب کہ ان کے تیل سے حاصل ہونے والے ڈالر کے ذخائر عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ گردش کرتے رہے۔ لیکن دنیا ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔
آج ایشیا مشرقِ وسطیٰ کے تیل کا ایک نہایت اہم خریدار بن چکا ہے، خصوصاً چین کی اہمیت نمایاں ہوئی ہے۔ اسی لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کے لیے BRICS سے قربت صرف نظریاتی یا سیاسی معاملہ نہیں بلکہ اپنے معاشی اور جغرافیائی مفادات کو مختلف سمتوں میں متوازن کرنے کی حکمتِ عملی بھی ہوسکتی ہے۔ لہٰذا یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ جب عالمی معیشت کا مرکز ایک نئی سمت میں منتقل ہو رہا ہو، جب ایشیا کی معاشی اہمیت بڑھ رہی ہو اور جب گلوبل ساؤتھ اپنے لیے زیادہ مؤثر آواز کا مطالبہ کررہا ہو، تو کیا مسلم ممالک کو بھی اپنی معاشی حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور نہیں کرنا چاہیے؟
تاہم یہاں ایک بنیادی احتیاط ضروری ہے۔ صرف امریکہ سے دوری اختیار کرنا یا ڈالر کے متبادل کی بات کرنا خود کفالت نہیں۔ اگر ہم ایک طاقت کے معاشی انحصار سے نکل کر دوسری طاقت کے انحصار میں چلے جائیں تو مسئلہ حل نہیں ہوگا؛ صرف انحصار کا مرکز تبدیل ہوگا۔ مسلم دنیا کو اس سے کہیں آگے سوچنا ہوگا۔ ہمیں ایسی معاشی شراکت داری درکار ہے جس میں خام مال کے بجائے تیار مصنوعات برآمد ہوں؛ قدرتی وسائل کے ساتھ ٹیکنالوجی اور تحقیق بھی ہماری اپنی ہو؛ مسلم ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھے؛ مشترکہ انرجی گرڈ اور فوڈ سیکیورٹی کے منصوبے بنیں؛ نوجوانوں کے لیے علم، ہنر اور روزگار کے مشترکہ پروگرام شروع ہوں؛ اسلامی دنیا کی جامعات، تحقیقی مراکز اور صنعتی ادارے ایک دوسرے سے مربوط ہوں؛ اور سب سے بڑھ کر شفاف، جواب دہ اور مؤثر انتظامی نظام قائم ہو۔
ہمیں یہ شکوہ کرنے سے آگے بڑھنا ہوگا کہ دنیا ہماری دولت سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ عالمی سیاست میں کوئی بھی طاقت محض اس لیے کسی ملک کے وسائل سے فائدہ نہیں اٹھاتی کہ وہ اس کی دولت پسند کرتی ہے؛ وہ اس لیے فائدہ اٹھاتی ہے کہ اسے ایسا کرنے کا معاشی، سیاسی یا تکنیکی موقع میسر ہوتا ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ دوسرے ہمارے وسائل سے فائدہ کیوں اٹھا رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے ہم خود اپنے وسائل سے بھرپور فائدہ کیوں نہیں اٹھا رہے؟ یہ سوال زیادہ سخت ہے، مگر شاید زیادہ مفید بھی۔
برکس کی بڑھتی ہوئی اہمیت ہمیں یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم دنیا کو محض طاقتور اور کمزور ممالک کے درمیان تقسیم ہونے کے بجائے شراکت، باہمی مفاد اور منصفانہ عالمی نظم کی طرف لے جانے کی کوشش کریں۔ BRICS آج تقریباً نصف عالمی آبادی اور عالمی معیشت کے ایک بڑے حصّے کو اپنے دائرے میں رکھتا ہے؛ اس لیے اس کا کردار صرف چند ممالک کی معاشی شراکت داری تک محدود نہیں رہا۔ لیکن اس قوت کا حقیقی فائدہ اسی وقت ہوگا جب یہ طاقت نئے استحصال کا ذریعہ نہیں بلکہ نئے تعاون کا وسیلہ بنے۔
مسلم ممالک کو بھی اسی زاویے سے آگے بڑھنا چاہیے۔ انہیں نہ کسی طاقت کے اندھے حلیف بننے کی ضرورت ہے اور نہ کسی دوسری طاقت کے اندھے مخالف بننے کی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے قومی و اجتماعی مفادات، اپنی تہذیبی شناخت، اپنی معاشی خود مختاری اور اپنے انسانی وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے متوازن اور باوقار خارجہ و معاشی پالیسی تشکیل دی جائے۔ آخرکار قوموں کی تقدیر صرف قدرتی وسائل نہیں بدلتے؛ وسائل کو علم، نظم، دیانت، ٹیکنالوجی اور اجتماعی بصیرت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔
مسلم دنیا کے پاس وسائل بھی ہیں، افرادی قوت بھی، جغرافیائی اہمیت بھی اور ایک عظیم تہذیبی ورثہ بھی۔ اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ یہ تمام قوتیں منتشر امکانات کے بجائے ایک مربوط معاشی حکمتِ عملی میں تبدیل ہوں۔ شاید آنے والے برسوں کا سب سے اہم سوال یہی ہوگا، کیا مسلم دنیا دوسروں کے بنائے ہوئے عالمی معاشی نظام میں محض ایک اہم صارف اور خام مال فراہم کرنے والی قوت بن کر رہے گی، یا اپنے وسائل، اپنی صلاحیت اور اپنی اجتماعی قوت کے ذریعے عالمی نظام کی تشکیل میں بھی مؤثر کردار ادا کرے گی؟ وقت کا فیصلہ آنے والے کل میں ہوگا؛ مگر اس فیصلے کی بنیاد آج ہماری بصیرت، ہماری ترجیحات اور ہمارے فیصلے رکھ رہے ہیں۔
مسلم دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں، احساسِ ذمّہ داری، اجتماعی بصیرت اور مؤثر حکمتِ عملی کی کمی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے وسائل کو دوسروں کی خوش حالی کا ذریعہ بننے کے بجائے اپنی علمی، صنعتی اور معاشی خود مختاری کی بنیاد بنائیں۔ اسلام ہمیں محض ماضی پر فخر کرنا نہیں، بلکہ حال کی تعمیر اور مستقبل کی قیادت کا حوصلہ دیتا ہے۔ اگر ایمان ہماری قوتِ فکر، اخوت ہماری اجتماعی قوت، علم ہماری ٹیکنالوجی اور امانت و عدل ہماری معاشی پالیسی بن جائیں، تو بدلتا ہوا عالمی نظام ہمارے لیے محض ایک چیلنج نہیں رہے گا؛ یہ اُمّتِ مسلمہ کے لیے اپنی کھوئی ہوئی معاشی خود اعتمادی اور عالمی وقار کی بازیافت کا ایک تاریخی موقع بھی بن سکتا ہے۔
🗓 (14.09.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے