कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہم مصنوعی ذہانت کے غلام تو نہیں بن رہے ہیں

تحریر:عظیم اللہ خان عمرکھیڑ
9403457181

ہم جس زمانے میں سانسیں لے رہے ہیں یہ دور ترقی ہے ،ترقی کہاں تک پہنچ گئ اس کا ثبوت اے آئی ،چاٹ جی پی ٹی وغیرہ ہے، یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جس کے اندر پوری دنیا سماگئ ہے ،آپ اس سے کوئی بھی معلومات لیجیے فوراً وہ آپ کو معلومات دےدیگا، آپ کو کوئی مضمون لکھنا ہو ،آپ کو کوئی درخواست لکھنی ہو ،چاٹ جی پی ٹی فوراً آپ کو لکھ کر دےدیگا، کسی ٹاپک پر آپ کو تقریر تیار کرنی ہو آپ ٹاپک بتادیں چاٹ جی پی ٹی آپ کو اس ٹاپک پر تقریر تیار کرکے دےدیگا، یہی نہیں آپ کو کوئی کیس تیار کرنا ہو وہ بھی چاٹ جی پی ٹی آپ کو تیار کرکے دےدیگا، جنرل نالج کی کوئی معلومات ہو یا کوئی قرآن کی آیت یا حدیث پوچھنا ہو یا کسی شخصیت کے بارے میں معلومات لینا ہو وہ سب کچھ آپ کو یہاں مل جائے گا، ہے نہ کتنی اسانیاں، اب سب کچھ کتنا آسان ہوچکا ہے، اور اس سے آج ہر کوئی فاعدے اٹھارہا ہے اور اٹھانا بھی چاہیے،لیکن ایک بہت اہم بات یہ کہ اس کا اتنا ہی استعمال کیا جانا چاہیے جتنے کی ضرورت ہے بلاضرورت ہم اگر چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے بھی چاٹ جی پی ٹی وغیرہ کا استعمال کرنے لگیں گے تو ہم اس کے غلام بن جائیں گے، اور آج یہ ہوتا نظر آ رہا ہے، آج ہم ہر کام اسی سے لے رہے ہیں، جو ہمیں معلوم ہے وہ بھی ہم چاٹ جی پی ٹی سے پوچھ رہے ہیں ،یعنی ہم دن بدن دماغ کا کم سے کم استعمال کررہے ہیں، جس کی وجہ سے ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے کیونکہ ہم دماغ پر کوئی زور ہی نہیں ڈال رہے ہیں سب کچھ جب بنا بنایا مل رہا ہے تو کیوں ہم اپنا دماغ کھپائے، کئی لوگ آج اس کا شکار ہوچکے ہیں ،کسی کو کوئی مضمون لکھنا ہو کسی کو کوئی تقریر تیار کرنی ہو تو وہ چاٹ جی پی ٹی سے اپنے لئے مضمون اور تقریر تیار کرا رہے ہیں ، دھیرے دھیرے یہ ہونے لگا ہے کہ ہم اپنے دماغ کا استعمال کئے بغیر چاٹ جی پی ٹی پر منحصر ہونے لگے ہیں ، ہم خود سوچیں کہ کیا یہ غلط نہیں ہورہا ہے، ہماری اپنی سوچ ہمارے خیالات اس کے تو کوئی معنی ہی نہیں بچے ،جو چاٹ جی پی ٹی دے رہا ہے ہم اسے ہی بیان کررہے ہیں ، جو چاٹ جی پی ٹی دکھا رہا ہے وہی لکھ رہے ہیں ، یعنی بول تو ہم رہے ہیں لیکن خیالات مصنوعی دماغ کے ہیں،لہذا اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کسی اور کی زبان بولنے لگ گئے ہیں،ٹھیک ہے وہ بات صحیح بھی بتارہا ہوگا تو وہ ہمارے خیالات تو معلوم نہیں کرسکتا ضروری نہیں کہ ہم جو سوچ رہے ہیں ویسے ہی چاٹ جی پی ٹی بھی سوچ رہا ہو، لہذا ضروری ہے کہ اس کو اپنی حد میں رکھا جائے اس کا اتنا ہی استعمال کیا جائے جتنا واقعی ضروری ہے، اگر واقعی ہم ہر چیز کے لئے چاٹ جی پی ٹی وغیرہ کا استعمال کرنے لگیں گے تو ہماری اپنی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی، ہمارے دماغوں کو زنگ لگ جائے گا، ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ماند پڑ جائیں گی، ہمارے اندر کی تخلیقی صلاحیتیں ختم ہو جائے گی، بھلے ہی اس سے ہمیں ہر طرح کی معلومات ملتی ہوں لیکن اس کا حد سے زیادہ استعمال ہمیں دماغی طور پر ناکارہ بنادیگا ہم دھیرے دھیرے اپنے دماغ کا استعمال کرنا بند کردیں گے اور اس طرح ہم چاٹ جی پی ٹی کی غلامی میں چلے جائیں گے، اور پھر وہ جو چاہے گا ہمیں دکھلائے گا ،وہ جو بتائے گا اسے ہی ہم سچ سمجھیں گے، ہم کہیں کچھ بولیں گے بھی تو زبان ہماری ہوگی خیالات چاٹ جی پی ٹی کے ہوں گے، ہم کچھ لکھیں گے بھی تو قلم ہماری ہوگی لیکن الفاظ چاٹ جی پی ٹی کے ہونگے،دھیرے دھیرے ہم اپنے دماغ کا استعمال کرنا بند کردیں گے، ہمارے اپنے خیالات ہماری اپنی سوچ دفن ہو چکی ہوگی، پھر اس کے بعد اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ چاٹ جی پی ٹی وغیرہ پر غلط معلومات ڈالنا شروع کردی جائے، قرآن کی آیات کے غلط ترجمہ اور غلط احادیث ڈال دی جائیں، اور اس وقت تک ہم اس کے اتنے عادی ہوچکے ہونگے کہ اس کی ہر بات کو سچ سمجھنے لگیں گے ،اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان سب کا استعمال کم سے کم کریں، جہاں ضروری ہے وہیں کریں، اس سے فاعدہ ضرور اٹھائیں لیکن اپنے دماغ کا استعمال بھی بند نہ کریں.

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے