कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خیموں میں سحری، ملبے کے بیچ افطار کی حوصلہ مند جدوجہد

تحریر:سید شاہ واصف حسن واعظی
رابطہ نمبر:9235555776

مسلمانوں کے لیے روحانی تجدید، باہمی ہمدردی اور اجتماعی خوشی کا پیغام لے کر آتا ہے، مگر اس سال غزہ میں یہ مقدس مہینہ ایک ایسے پس منظر میں داخل ہوا ہے جہاں زندگی کی بنیادی تعریف ہی بدل چکی ہے۔ دو برس سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی شدید جنگ، وسیع پیمانے پر تباہی، انسانی جانوں کا ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کی بربادی نے اس خطے کو ایک غیر معمولی انسانی بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں رمضان کی آمد محض ایک مذہبی موقع نہیں بلکہ صبر، بقا اور امید کا امتحان بن گئی ہے۔
غزہ کی مجموعی آبادی تقریباً اکیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ بین الاقوامی امدادی اداروں کے مطابق حالیہ جنگی مرحلے میں آبادی کی ایک بڑی اکثریت کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ امور انسانی ہمدردی (OCHA) کی رپورٹس میں بارہا اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ لاکھوں افراد اندرونی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں اور سینکڑوں عارضی پناہ گاہوں، اسکولوں، مساجد اور خیمہ بستیوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ خیمے عارضی ہیں، مگر ان میں بسنے والوں کی مشکلات مستقل نوعیت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ نہ مناسب نکاسی آب کا نظام ہے، نہ صاف پانی کی فراہمی، نہ بجلی کی تسلسل کے ساتھ دستیابی، اور نہ ہی صحت کی مکمل سہولتیں۔
جنگ کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق حالیہ جنگی کارروائیوں میں دسیوں ہزار فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی بتائی جاتی ہے۔ اگرچہ مختلف ذرائع اعداد و شمار کی تصدیق کے عمل میں مصروف ہیں، مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر عدد کے پیچھے ایک مکمل خاندان کی کہانی، ایک معاشی سہارا، ایک خواب اور ایک زندگی موجود تھی۔ ہسپتالوں پر دباؤ، طبی عملے کی کمی اور ادویات کی قلت نے اس سانحے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
رمضان کی آمد کے ساتھ بازاروں میں محدود سرگرمی ضرور دیکھنے میں آئی، مگر وہ روایتی رونق مفقود ہے جو کبھی غزہ کے محلوں اور گلیوں کی پہچان تھی۔ ماضی میں افطار سے قبل بازاروں میں بچوں کی چہکار، مٹھائیوں اور روایتی کھانوں کی خوشبو، اور گھروں میں اجتماعی تیاریوں کا منظر عام تھا۔ اس بار حالات مختلف ہیں۔ بے روزگاری کی شرح غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔ صنعتیں تباہ ہو چکی ہیں، زرعی زمینوں کو نقصان پہنچا ہے، اور تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی اور امدادی اداروں کے تخمینوں کے مطابق مقامی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ ایسے میں خاندانوں کے لیے سادہ افطار کا بندوبست بھی ایک چیلنج بن گیا ہے۔
خوراک کی فراہمی ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادار خوراک (WFP) اور دیگر تنظیموں نے متعدد بار خبردار کیا ہے کہ غزہ میں غذائی عدم تحفظ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ آٹے، چاول، دالوں اور دیگر بنیادی اشیائے خور و نوش کی قلت اور قیمتوں میں اضافے نے عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے۔ کئی خاندان امدادی پیکجوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ طویل قطاریں، محدود راشن اور غیر یقینی رسد کے باعث شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر پریشانی کا سامنا ہے۔ رمضان جیسے مقدس مہینے میں جب سخاوت اور اشتراک کی روایت عام ہوتی ہے، یہاں اکثر لوگ اس انتظار میں ہیں کہ آج کے افطار کے لیے کچھ دستیاب ہو جائے۔
جنگ بندی کے باوجود فضا مکمل طور پر پرسکون نہیں۔ وقفے وقفے سے کشیدگی کی اطلاعات، فضائی نگرانی اور غیر یقینی سیاسی صورتحال نے خوف کو مکمل طور پر ختم نہیں ہونے دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی طویل تنازع کے بعد سماجی اور نفسیاتی اثرات فوری طور پر ختم نہیں ہوتے۔ بچوں میں ڈراؤنے خواب، تعلیمی خلل، اور نفسیاتی دباؤ عام ہو چکا ہے۔ بہت سے اسکول تباہ یا عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، جس کے باعث تعلیم کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔ رمضان کے دوران جب عام طور پر مذہبی اور اخلاقی تعلیم کو فروغ دیا جاتا ہے، وہاں بنیادی تعلیمی ڈھانچہ ہی بکھرا ہوا ہے۔
موسمی حالات نے بھی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ بارش اور سردی کے باعث خیمہ بستیوں میں پانی جمع ہو جانا معمول بن چکا ہے۔ نکاسی آب کے ناقص انتظام کے باعث بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ عالمی ادار صحت (WHO) نے متعدد رپورٹس میں خبردار کیا ہے کہ صاف پانی اور صفائی کی سہولتوں کی کمی وبائی امراض کو جنم دے سکتی ہے۔ بچوں اور بزرگوں میں سانس کی بیماریوں، جلدی امراض اور معدے کی شکایات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ طبی سامان کی کمی اور ایندھن کی قلت کے باعث ہسپتالوں کو اپنے آپریشن محدود کرنے پڑے ہیں۔
ان تمام مشکلات کے باوجود غزہ کے عوام میں ایک قابلِ ذکر پہلو ان کی روحانی استقامت ہے۔ رمضان کے دوران مساجد، خواہ وہ جزوی طور پر تباہ ہی کیوں نہ ہوں، عبادت گزاروں سے خالی نہیں رہتیں۔ لوگ ملبے کے درمیان صفیں بچھا کر نماز ادا کرتے ہیں۔ افطار کے وقت اجتماعی دعائیں کی جاتی ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود خاندان ایک دوسرے کے ساتھ کھانا بانٹتے ہیں۔ مقامی کمیونٹیز نے چھوٹے پیمانے پر اجتماعی دسترخوان قائم کیے ہیں جہاں جو کچھ دستیاب ہو، وہ سب میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ عمل صرف مذہبی فریضہ نہیں بلکہ سماجی یکجہتی کی علامت بھی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی غزہ کی صورتحال پر توجہ مرکوز ہے۔ اقوام متحدہ، ریڈ کراس، اور متعدد غیر سرکاری تنظیمیں انسانی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم رسد کے راستوں میں رکاوٹیں، سکیورٹی خدشات اور سیاسی پیچیدگیاں امدادی عمل کو محدود کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وقتی امداد کے ساتھ ساتھ طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے، جس میں تعمیر نو، صحت و تعلیم کے شعبوں کی بحالی، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے کی از سر نو تعمیر شامل ہو۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق غزہ کی تعمیر نو کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ رہائشی عمارتوں، اسپتالوں، اسکولوں، سڑکوں اور بجلی کے نظام کی بحالی کے بغیر پائیدار استحکام ممکن نہیں۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگار ہے، جو کسی بھی معاشرے کے مستقبل کے لیے تشویش کا باعث ہو سکتی ہے۔ اگر انہیں تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم نہ کیے گئے تو سماجی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ رمضان جیسے مہینے میں جب اصلاحِ نفس اور معاشرتی بہتری کا پیغام عام کیا جاتا ہے، یہ ضرورت اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ پالیسی سازی میں انسانی وقار کو مرکزی حیثیت دی جائے۔
غزہ کا یہ رمضان بلاشبہ آزمائشوں سے بھرپور ہے، مگر اسی کے ساتھ یہ انسانی حوصلے کی ایک زندہ مثال بھی ہے۔ ملبے کے درمیان جلتا ہوا ایک چراغ، خیمے میں بیٹھا ہوا خاندان جو افطار کے وقت ہاتھ اٹھا کر دعا مانگ رہا ہے، اور بچے جو محدود وسائل کے باوجود کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں — یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ امید مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ مذہبی طور پر رمضان صبر، شکرگزاری اور باہمی ہمدردی کا مہینہ ہے، اور شاید یہی اوصاف آج غزہ کے عوام کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
مستقبل کا راستہ آسان نہیں، مگر عالمی برادری، علاقائی قوتوں اور مقامی قیادت کے لیے یہ ایک امتحان ہے کہ وہ اس بحران کو محض خبروں کی سرخی نہ بننے دیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ایک پائیدار حل کی طرف بڑھیں۔ انسانی جان کا تحفظ، شہریوں کی بحالی، بچوں کے مستقبل کا تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت ایسے نکات ہیں جن پر سنجیدہ پیش رفت ناگزیر ہے۔ اگر جنگ بندی کو دیرپا امن میں تبدیل کیا جا سکے، تعمیر نو کا عمل شفاف اور منظم انداز میں آگے بڑھے، اور انسانی امداد بلا رکاوٹ جاری رہے تو امید کی یہ کرن مضبوط ہو سکتی ہے۔
غزہ میں اس سال کا رمضان ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آزمائش چاہے کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو، ایمان، صبر اور اجتماعی ہمدردی انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتی۔ یہ رمضان شاید خوشیوں سے زیادہ آنسوؤں کا مہینہ ہو، مگر انہی آنسوؤں کے درمیان امید کے بیج بھی بوئے جا رہے ہیں۔ اگر عالمی ضمیر بیدار رہے اور عملی اقدامات کیے جائیں تو بعید نہیں کہ آنے والے برسوں میں غزہ کا رمضان پھر سے امن، تعمیر اور مسکراہٹوں کا پیغام لے کر آئے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے