कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کیوں؟ کیا؟ اور کیسے؟

از: ظفر ہاشمی ندوی
سابق فیملی کونسلر دبئی کورٹ
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف، پربھنی

آج میں تمام انسانوں سے مختلف عام سوالات کرنا چاہتا ہوں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ اے انسانو! تم کھانا کیوں کھاتے ہو؟ اس سوال پر ہر شخص مجھے انتہائی بیوقوف سمجھے گا بلکہ ہو سکتا ہے کہ مجھے پاگل قرار دے۔ بہرحال ہر انسان کا جواب ہوگا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ انسان ہیں، بھوک لگتی ہے اس لیے کھاتے ہیں اور زندہ رہنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ اب یہ جواب تو سارے جانور بھی دیں گے، پھر انسان اور جانور میں فرق کیا رہا؟
لیکن یہ جواب کسی مسلمان کے لائق نہیں ہے بلکہ غلط جواب ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ مسلمان کا جواب ہوگا: میں اس لیے کھاتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ سورۂ الاعراف آیت نمبر 31 میں ارشاد ہے: کلوا واشربوا ولا تسرفوا إنه لا یحب المسرفین۔ کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ نہ کرو، وہ حد سے زیادہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔ پہلے اور دوسرے جواب میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہ یہ ہے کہ پہلے جواب کا مطلب ہے ہر انسان آزاد ہے، جو اس کے جی میں آئے کر سکتا ہے، مگر دوسرے جواب کا مطلب ہے کہ میں مسلمان ہوں اور مسلمان ایسے شخص کو کہتے ہیں جس نے اپنے آپ کو اپنے پیدا کرنے والے کے حوالے کر دیا ہے۔ جیسے جنگ میں کوئی فوجی ہاتھ اٹھا کر اپنے آپ کو دشمن کے حوالے کر دیتا ہے۔ اب یہ قیدی جیل میں اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کرتا ہے اور نہ کر سکتا ہے۔ اسے جو کھانا بھی دیا جاتا ہے وہی اسے کھانا پڑتا ہے۔ کسی چیز میں اس کی مرضی اور آزادی کا دخل نہیں ہوتا ہے۔ اسی طرح اس دنیا میں ہر کلمہ پڑھنے والے نے کلمہ پڑھ کر اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کر دیا ہے یعنی مسلم بن گیا ہے۔ اب اس کا ہر عمل وہی ہوگا جو اللہ چاہے گا۔ یہ جواب مسلمانوں کو جانوروں کی صف سے نکال کر انسان بنا دیتا ہے کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند ہے نہ کہ جانور۔ سورۂ انعام آیت نمبر 162 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! کہہ دو میری نماز اور میری ساری عبادتیں اور میرا جینا اور مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔)
اس حقیقت کی روشنی میں باقی سارے سوالات جیسے پانی کیوں پیتے ہو، کپڑے کیوں پہنتے ہو، غرض ہمارا ہنسنا رونا، خوشی و غم منانا، دوستی و دشمنی کا ہونا، نکاح و طلاق کا ہونا، ملازمت یا تجارت، صحت و بیماری یعنی ہماری زندگی کا ہر عمل اللہ کے حکم کی وجہ سے ہے نہ کہ اپنی مرضی سے۔ صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الدنیا سجن المؤمن و جنة الکافر۔ یہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔ مطلب یہ ہے کہ کافر اس دنیا میں من مانی زندگی گزارے گا مگر آخرت میں ہمیشہ کے لیے جہنم میں جلے گا، جب کہ مسلمان دنیا کچھ تکلیف کے ساتھ گزارے گا لیکن آخرت میں ہمیشہ کے لیے ایسی نعمتیں کھائے گا اور ایسی شاہانہ زندگی گزارے گا جس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہاں وہ نعمتیں ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے بلکہ کوئی انسان ان نعمتوں کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔
اپنے آپ سے سوال کیجیے، میں کس قسم کا مسلمان ہوں؟ کلمۂ طیبہ پڑھ کر ہر کام اللہ کی مرضی کے مطابق کرتا ہوں یا میرا اسلام بس زبانی ہے، باقی میں ہر کام اپنی مرضی اور دنیا والوں کے چال چلن کو دیکھ کر کرتا ہوں؟
اب دوسرا سوال ہے کہ آپ کیا کیا کرتے ہو؟ یعنی کیا کھاتے ہو اور کیا پیتے ہو؟ ہر خوشی اور ہر غم کس طرح مناتے ہو؟ آپ کس چیز کی تجارت کرتے ہو؟ کیا ملازمت اور نوکری ایمانداری کے ساتھ کرتے ہو وغیرہ وغیرہ۔ ان سب باتوں کا جواب بھی مسلمان کا الگ ہوگا اور کافر کا الگ۔ غیر مسلم کہے گا میں حلال حرام نہیں جانتا، جو جی چاہتا ہے کھاتا پیتا ہوں۔ اپنی دنیوی حیثیت کے مطابق خوشی و غم مناتا ہوں۔ مجھے کمانے سے غرض ہے، حلال ہو یا حرام، مجھے بس دولت چاہیے۔ مگر مسلمان کہے گا: اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیز کھاتا اور پیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے دائرے میں رہ کر نوکری یا تجارت کرتا ہوں۔ سود سے مجھے نفرت ہے۔ میں ہر معاملے میں قرآن و حدیث کا حکم تلاش کرتا ہوں۔ میری ہر خوشی، میرا ہر غم اللہ کے حکم کو دیکھ کر ہوتا ہے نہ کہ زمانے کے فیشن اور لوگوں کی نقالی کرکے۔
مجھے اپنے آپ سے اور آپ میں سے ہر ایک کو اپنے آپ سے سوال کرنا ہے، میں کس قسم کا مسلمان ہوں؟ صرف زبانی مسلمان یا حقیقی مسلمان؟ کڑوی حقیقت یہ ہے کہ ہم سب صرف نام کے مسلمان ہیں ورنہ عمل میں ہماری زندگی اور کافر کی زندگی میں کوئی فرق باقی نہیں رہا ہے۔ اور اس کے باوجود ہم مفت کی جنت میں جانے اور جہنم سے بچ جانے کی تمنا بھی رکھتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے