कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایک کہانی مخنث (خواجہ سرا) کی زبانی

محمد عادل ارریاوی

آج میں سیمانچل ایکسپریس میں اپنے مخصوص نشست پر بیٹھا کچھ لکھنے میں مشغول تھا اچانک چار مخنث لامذکر ولامؤنث (خواجہ سرا) میرے قریب آئے اور نہایت سادگی سے کہنے لگے۔ باہر بہت گرمی ہے ذرا اے سی میں بیٹھ کر ٹھنڈا ہو جائیں۔
یہ کہہ کر وہ میرے سامنے والی نشست پر بیٹھ گئے۔ وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ انہوں نے نہ تو کوئی نامناسب حرکت کی اور نہ ہی کسی قسم کی بدتمیزی کا مظاہرہ کیا۔ کچھ دیر بعد انہوں نے پانی تلاش کیا تو میں نے اپنی بوتل ان کے سامنے پیش کر دی۔ سب نے شکریہ کے ساتھ پانی پیا۔
پھر گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا آپ کہاں کے رہنے والے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا میں ارریہ کا رہنے والا ہوں اور اپنے مدرسے جا رہا ہوں۔
گفتگو کے دوران میں نے انہیں آم بھی پیش کیا لیکن انہوں نے بڑی شائستگی سے انکار کرتے ہوئے کہا ہم ناشتہ کر چکے ہیں آپ تکلیف نہ کریں۔
اس کے بعد میں نے ان سے ان کے بارے میں دریافت کیا۔ کسی نے بتایا کہ وہ ممبئی سے ہے کوئی نیپال سے کوئی مہاراشٹر سے اور کوئی دہلی سے تعلق رکھتی تھی۔
میں نے پوچھا آپ لوگ کیا کام کرتی ہیں؟
جواب ملا
مانگ کر کھانا اور زندگی گزارنا ہی ہمارا پیشہ اور ہماری زندگی ہے۔
میں نے پھر پوچھا آپ کہاں رہتی ہیں؟
کہنے لگیں
جہاں جگہ مل جائے کرایے پر کمرہ لے لیتے ہیں۔ اپنا کمانا اپنا کھانا اور اسی طرح زندگی گزرتی ہے۔
میں نے سوال کیا کیا آپ لوگ اپنے گھروں کو نہیں جاتیں؟
یہ سن کر ایک خاتون نما مخنث نے نہایت افسردہ لہجے میں کہا نہیں بہت کم صرف اس وقت جانا ہوتا ہے جب گھر میں کوئی فوت ہو جائے یا کوئی بڑا حادثہ پیش آ جائے۔
پھر میں نے پوچھا
آپ کب سے اس زندگی میں ہیں؟
اس کے جواب میں اس نے اپنی زندگی کا ایک دردناک باب سنایا جب میری پیدائش ہوئی تو میرے والدین کو معلوم ہوا کہ میں عام بچوں جیسی نہیں ہوں۔ خاندان اور معاشرے کے لوگوں نے مجھے بوجھ اور عیب سمجھنا شروع کر دیا۔ جیسے جیسے میں بڑی ہوئی لوگوں کی نفرت اور حقارت بھی بڑھتی گئی۔ آخرکار ایک وقت ایسا آیا کہ میں گھر سے نکل گئی اور پھر یہی زندگی اختیار کر لی۔
اس کی باتیں سن کر میرا دل بھر آیا میں سوچنے لگا کہ یہ بھی تو اللہ ربّ العزت کی مخلوق ہیں انسان ہیں ہمارے ہی معاشرے کا حصہ ہیں۔ آخر کیوں انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے؟ کیوں ان سے نفرت کی جاتی ہے؟
بلاشبہ ان میں بھی اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں جس طرح ہر طبقے میں ہوتے ہیں۔ کسی ایک کی غلطی کی سزا پوری جماعت کو دینا انصاف نہیں۔ میرے ذاتی تجربے میں آج تک کسی مخنث نے مجھ سے زبردستی پیسے طلب نہیں کیے۔
گفتگو کے دوران انہوں نے ایک اور بات کہی جو میرے لیے باعثِ حیرت تھی۔ کہنے لگیں ہم داڑھی اور ٹوپی والوں کی عزت کرتے ہیں ان سے عموماً کچھ نہیں مانگتے۔
یہ بات سن کر مجھے اپنے مشاہدات یاد آئے کیونکہ میں نے بھی اکثر یہی دیکھا ہے۔
اس مختصر ملاقات نے مجھے یہ سمجھ آیا کہ انسانوں کو ان کی ظاہری حالت کمزوری یا مجبوری کی بنیاد پر نہیں بلکہ انسان ہونے کے ناطے عزت دینی چاہیے۔ ہر شخص اپنے سینے میں ایک درد بھری داستان لیے پھرتا ہے جسے ہم بسا اوقات دیکھ نہیں پاتے۔
اللہ رب العزت تمام انسانوں پر اپنا فضل و کرم فرمائے ان کی مشکلات آسان کرے اور ہمیں ہر ایک کے ساتھ حسنِ سلوک اور ہمدردی کا معاملہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے