कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یکساں شہری قانون ضرورت، امکانات اور ہندوستانی معاشرے کے سوالات

آئینی مساوات، مذہبی آزادی، خواتین کے حقوق اور بدلتے قانونی منظرنامے کا غیر جانب دار جائزہ

تحریر:شیخ عامر شیخ امان اللہ
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبۂ اردو بیڑ،مہاراشٹر

ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں زبان، مذہب، تہذیب، رسم و رواج اور معاشرتی روایتوں کا غیر معمولی تنوع پایا جاتا ہے۔ یہی تنوع ہندوستانی معاشرے کی خوب صورتی بھی ہے اور قانون سازی کے لیے ایک پیچیدہ سوال بھی۔ آزادی کے بعد ملک نے ایک ایسا آئینی نظام اختیار کیا جس میں ہر شہری کو بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی، مذہبی آزادی کو تسلیم کیا گیا اور ساتھ ہی ریاست کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی کہ وہ سماجی انصاف اور مساوات کی سمت میں قانون سازی کرے۔اسی آئینی پس منظر میں یکساں شہری قانون یا Uniform Civil Code (UCC) کا تصور سامنے آتا ہے۔ آئین ہند کے آرٹیکل 44 میں ریاست سے یہ توقع کی گئی ہے کہ وہ شہریوں کے لیے یکساں شہری قانون کے قیام کی کوشش کرے۔ تاہم یہ شق بنیادی حقوق کے باب میں نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں میں شامل ہے۔(UCCUttarakhand) گزشتہ چند برسوں میں یکساں شہری قانون محض آئینی بحث کا موضوع نہیں رہا بلکہ ہندوستان کی عملی سیاست، سماجی اصلاح، خواتین کے حقوق، مذہبی آزادی، خاندانی قوانین اور عدالتی مباحث کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ اتراکھنڈ میں اس کا عملی نفاذ، گجرات اور آسام میں قانون سازی کی پیش رفت اور مغربی بنگال میں مجوزہ قانون پر عوامی مشاورت نے اس بحث کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔7 ستمبر 2026 تک صورتِ حال یہ ہے کہ اتراکھنڈ میں UCC نافذ ہو چکا ہے اور اس میں 2025 اور 2026 کے دوران متعدد ترامیم اور انتظامی تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ (UCC Uttarakhand)گجرات نے 2026 میں UCC بل منظور کیا، جبکہ آسام بھی اسی سمت میں آگے بڑھا۔ مغربی بنگال میں مجوزہ قانون کے مسودے پر عوامی رائے حاصل کرنے کا عمل جاری ہے۔ ایسے میں بنیادی سوال یہ نہیں رہ جاتا کہ ’’UCC آئے گا یا نہیں؟‘‘ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر آئے گا تو اس کی نوعیت کیا ہوگی، اس کا دائرۂ کار کہاں تک ہوگا، مذہبی آزادی کے ساتھ اس کا توازن کیسے قائم ہوگا اور کیا قانون کی یکسانیت واقعی سماجی انصاف کی ضمانت بن سکے گی؟یکساں شہری قانون آخر ہے کیا؟عام زبان میں یکساں شہری قانون سے مراد ایسا قانونی نظام ہے جس کے تحت شہریوں کے بعض اہم نجی اور خاندانی معاملات کے لیے مذہب کی بنیاد پر الگ الگ قوانین کے بجائے ایک مشترکہ شہری قانونی فریم ورک ہو۔عام طور پر اس بحث میں جن معاملات کا ذکر ہوتا ہے، ان میںشادی ,طلاق ,نان و نفقہ,وراثت,جائیداد کی تقسیم,گود لینے کے معاملات,سرپرستی,بعض صورتوں میں لِو اِن ریلیشن شپ, شادی کی رجسٹریشنجیسے موضوعات شامل ہیں۔لیکن یہاں ایک بنیادی غلط فہمی کو دور کرنا ضروری ہے۔ UCC کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مذاہب کے عقائد، عبادات، مذہبی رسومات اور روحانی روایات کو ایک جیسا بنا دیا جائے۔ شہری قانون بنیادی طور پر ان معاملات سے متعلق ہوتا ہے جن کے قانونی اثرات افراد کے حقوق اور ذمہ داریوں پر پڑتے ہیں۔مثلاً کسی شخص کا نماز پڑھنا، مندر جانا، گرجا گھر میں عبادت کرنا، گردوارے میں حاضری دینا یا کسی مذہبی تہوار کو منانا مذہبی آزادی کے دائرے سے تعلق رکھتا ہے۔ دوسری طرف شادی کی قانونی حیثیت، طلاق کے بعد حقوق، بچوں کی سرپرستی یا وراثت میں قانونی حق جیسے معاملات ریاستی قانون کے دائرے میں بھی آتے ہیں۔اسی فرق کو سمجھے بغیر UCC کی بحث اکثر جذباتی نعرے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔آرٹیکل 44 کی حقیقتآئین سازوں نے یکساں شہری قانون کا ذکر اچانک نہیں کیا تھا۔ ہندوستانی آئین میں آرٹیکل 44 موجود ہے اور اس میں ریاست کے لیے یہ رہنما اصول رکھا گیا کہ شہریوں کے لیے یکساں شہری قانون کی کوشش کی جائے۔لیکن اس شق کی قانونی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ بنیادی حق نہیں ہے کہ کوئی شہری براہ راست عدالت میں جا کر صرف آرٹیکل 44 کی بنیاد پر UCC نافذ کرنے کا حکم حاصل کر لے۔ یہ Directive Principles of State Policy کا حصہ ہے، یعنی ریاستی پالیسی کے لیے ایک آئینی سمت متعین کرتا ہے۔اسی لیے UCC پر بحث کرتے وقت ایک طرف آئین کا آرٹیکل 44 سامنے رکھا جاتا ہے تو دوسری طرف مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق سے متعلق دفعات بھی اہم ہو جاتی ہیں۔یہی ہندوستانی آئین کی خوب صورتی ہے کہ وہ صرف اکثریت کی خواہش کو قانون نہیں بناتا بلکہ فرد کے حقوق، مذہبی آزادی، مساوات اور سماجی انصاف کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہندوستان میں الگ الگ شخصی قوانین کی روایت کیوں بنی؟ہندوستانی معاشرے میں صدیوں سے مختلف مذہبی اور سماجی برادریاں اپنی مخصوص خاندانی روایات کے مطابق زندگی گزارتی رہی ہیں۔ برطانوی دور میں بھی بہت سے خاندانی معاملات میں مذہبی قوانین اور روایات کو اہمیت دی گئی۔آزادی کے بعد ہندوستان نے کئی شعبوں میں جدید اور مشترکہ قوانین بنائے۔ لیکن شادی، طلاق، وراثت اور بعض دوسرے خاندانی معاملات میں مختلف مذہبی برادریوں سے متعلق الگ قانونی روایتیں برقرار رہیں۔ہندو برادری کے لیے وقت کے ساتھ Hindu Marriage Act، Hindu Succession Act اور دیگر قوانین وجود میں آئے۔ مسلمانوں کے لیے مسلم پرسنل لا کے مختلف پہلوؤں کو قانونی اور عدالتی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ عیسائیوں، پارسیوں اور دیگر برادریوں کے لیے بھی مخصوص قوانین موجود رہے۔یہ نظام ایک طرف مذہبی اور ثقافتی تنوع کا احترام کرتا ہے، لیکن دوسری طرف اس پر یہ سوال بھی اٹھتا رہا ہے کہ کیا ایک ہی ملک میں ایک جیسے شہری معاملات کے لیے مختلف قانونی اصول مساوات کے آئینی تصور سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں؟یہی وہ بنیادی سوال ہے جس نے UCC کی بحث کو زندہ رکھا ہے۔ UCC کے حامیوں کی دلیل کیا ہے؟یکساں شہری قانون کے حامی کئی اہم دلائل پیش کرتے ہیں۔ان کا پہلا استدلال یہ ہے کہ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہونے چاہئیں۔ اگر دو شہری ایک ہی ملک میں رہتے ہیں اور ان کے درمیان شادی، طلاق یا وراثت کا معاملہ ہو تو ان کے حقوق کا تعین صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر مختلف نہیں ہونا چاہیے۔دوسرا استدلال خواتین کے حقوق سے متعلق ہے۔حامیوں کا کہنا ہے کہ بعض روایتی قوانین یا معاشرتی طریقوں کے نتیجے میں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کمزور قانونی حیثیت حاصل ہو سکتی ہے۔ اس لیے ایسا قانون ہونا چاہیے جو عورت کو شادی، طلاق، نان و نفقہ، بچوں کی سرپرستی اور وراثت کے معاملات میں واضح اور مساوی حقوق فراہم کرے۔تیسری دلیل قانونی سادگی کی ہے۔ایک عام شہری کے لیے یہ جاننا آسان ہونا چاہیے کہ شادی کیسے رجسٹر ہوگی، طلاق کے قانونی اثرات کیا ہوں گے، وراثت میں کس کا حق کتنا ہے اور بچوں کی قانونی سرپرستی کس طرح طے ہوگی۔اگر مختلف مذہبی گروہوں کے لیے الگ الگ قوانین اور قانونی طریقۂ کار ہوں تو عام شہری کے لیے قانونی نظام پیچیدہ ہو سکتا ہے۔لیکن مخالفین کے خدشات بھی حقیقی ہیں UCC کی مخالفت کرنے والوں کو صرف ’’قانون مخالف‘‘ قرار دینا بھی درست رویہ نہیں ہوگا۔ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی ملک میں مختلف برادریوں کے خدشات کو سمجھنا جمہوری عمل کا حصہ ہے۔بعض اقلیتی تنظیموں اور مذہبی اداروں کا خدشہ ہے کہ یکساں قانون کے نام پر اکثریتی معاشرتی روایت کو پورے ملک پر نافذ کرنے کی کوشش نہ ہو۔دوسرا اہم سوال مذہبی آزادی کا ہے۔اگر کسی مذہب کے ماننے والوں کے خاندانی معاملات میں ریاست بہت زیادہ مداخلت کرے تو یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ مذہبی آزادی اور شہری قانون کے درمیان حد کہاں قائم کی جائے؟تیسرا خدشہ قبائلی اور مقامی روایات کا ہے۔ ہندوستان کے مختلف قبائلی علاقوں میں شادی، وراثت اور زمین کے استعمال سے متعلق مخصوص روایات موجود ہیں۔ اس لیے ’’یکسانیت‘‘ کا مطلب ہر جگہ ایک ہی ضابطہ نافذ کرنا نہیں ہو سکتا۔اسی وجہ سے مختلف ریاستوں میں مجوزہ قوانین میں بعض قبائلی گروہوں کو مستثنیٰ رکھنے کی بات سامنے آئی ہے۔خواتین کے حقوق: UCC کی بحث کا سب سے اہم پہلواگر UCC کو واقعی سماجی اصلاح کے آلے کے طور پر دیکھنا ہے تو خواتین کے حقوق کو اس بحث کا مرکز بنانا ہوگا۔شادی صرف دو افراد کا مذہبی یا سماجی تعلق نہیں بلکہ ایک قانونی رشتہ بھی ہے۔ اس رشتے میں دونوں فریقوں کے حقوق اور ذمہ داریاں واضح ہونا ضروری ہیں۔طلاق کی صورت میں عورت کے معاشی تحفظ کا سوال اہم ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد ماں اور باپ دونوں کی قانونی ذمہ داریاں بھی واضح ہونی چاہئیں۔ وراثت میں بیٹی اور بیٹے کے حقوق کا سوال بھی سماجی انصاف سے جڑا ہوا ہے۔یہاں یہ بھی ضروری ہے کہ خواتین کے حقوق کی بحث کسی ایک مذہب تک محدود نہ کی جائے۔ اگر UCC کا مقصد مساوات ہے تو اس کا معیار تمام شہریوں کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔یعنی سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’’کس مذہب کی عورت کو کیا ملے گا؟‘‘ بلکہ بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ ہندوستانی قانون ایک شہری کی حیثیت سے عورت کو کیا تحفظ دیتا ہے؟وراثت: سب سے حساس معاملہ CUC کے سلسلے میں وراثت کا مسئلہ سب سے پیچیدہ موضوعات میں سے ایک ہے۔ہندوستان میں جائیداد کی تقسیم مختلف مذہبی قوانین، وصیت، خاندانی روایات اور ریاستی قوانین سے متاثر ہوتی رہی ہے۔ بعض معاشرتی نظاموں میں بیٹے اور بیٹی کے حقوق کے بارے میں الگ اصول پائے جاتے ہیں۔یکساں شہری قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جدید جمہوری ریاست میں وراثت کے قانون کو صنفی مساوات کے اصول کے مطابق ہونا چاہیے۔لیکن اس کے مقابلے میں مذہبی برادریاں یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ وراثت کے مذہبی اصول ان کے مذہبی نظام کا حصہ ہیں، اس لیے ریاست کو ان میں مداخلت سے قبل انتہائی احتیاط کرنی چاہیے۔اس مسئلے کا حل شاید نعرے میں نہیں بلکہ سنجیدہ قانونی مکالمے میں ہے۔ریاست کو یہ دیکھنا ہوگا کہ مذہبی آزادی کے احترام کے ساتھ شہری کے بنیادی حقوق کس طرح محفوظ کیے جاسکتے ہیں۔اتراکھنڈ: عملی تجربہUCCکی قومی بحث میں اتراکھنڈ کو اس لیے خاص اہمیت حاصل ہے کہ یہاں یکساں شہری قانون کو عملی طور پر نافذ کیا گیا۔ریاستی حکومت کے UCC پورٹل اور سرکاری احکامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانون کے نفاذ کے بعد 2025 اور 2026 میں متعدد قواعد، ترامیم اور انتظامی ہدایات جاری کی گئیں۔(UCC Uttarakhand)یہ تجربہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اب UCC صرف نظریاتی بحث نہیں رہا بلکہ ایک ریاست میں انتظامی سطح پر اس کے عملی نتائج دیکھے جا سکتے ہیں۔شادیوں کی رجسٹریشن، شہری ریکارڈ، لِو اِن تعلقات سے متعلق قانونی کارروائی اور دیگر معاملات میں ڈیجیٹل طریقۂ کار استعمال کیا جا رہا ہے۔لیکن کسی بھی قانون کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ کتنے فارم بھرے گئے یا کتنی رجسٹریشن ہوئی۔ اصل امتحان یہ ہے کہکیا عام شہری کے حقوق بہتر ہوئے؟کیا خواتین کو زیادہ قانونی تحفظ ملا؟کیا خاندانی تنازعات میں کمی آئی؟
کیا قانونی کارروائی آسان ہوئی؟اور کیا مختلف مذہبی برادریوں کو یہ احساس ہوا کہ قانون ان کے خلاف نہیں بلکہ ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے؟یہ سوال آنے والے برسوں میں زیادہ اہم ہوں گے۔اتراکھنڈ میں نیا نکاح نامہ ایک تازہ پیش رفت7 ستمبر 2026 کو اتراکھنڈ سے UCC سے متعلق ایک نئی اور قابلِ ذکر پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اتراکھنڈ وقف بورڈ ایک ایسے نئے نکاح نامے پر کام کر رہا ہے جسے ریاست کے UCC کے قانونی ماحول کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں بورڈ کی آئندہ مشاورت بھی طے ہے۔(The Times of India)رپورٹس کے مطابق مجوزہ نکاح نامے میں شادی کی قانونی جواب دہی، نکاح پڑھانے والے رجسٹرڈ افراد، ازدواجی حقوق اور بعض ایسے نکات کو شامل کرنے کی بات ہے جو UCC کے تحت نافذ قانونی اصولوں سے متعلق ہیں۔(The Economic Times)یہ پیش رفت اس اعتبار سے اہم ہے کہ UCC کے نفاذ کے بعد مذہبی اداروں کو بھی نئے قانونی ماحول کے ساتھ اپنے انتظامی طریقۂ کار کو ہم آہنگ کرنے کا سوال درپیش ہے۔البتہ اس معاملے پر مسلم پرسنل لا سے متعلق حلقوں کی مخالفت بھی سامنے آئی ہے۔(The Times of India)یہی صورتِ حال بتاتی ہے کہ UCC صرف اسمبلی میں قانون پاس کرنے کا نام نہیں۔ اس کے اثرات مذہبی اداروں، خاندانوں، نکاح رجسٹریشن، سماجی تنظیموں اور عام شہریوں تک پہنچتے ہیں۔گجرات کی طرف بڑھتا قدمگجرات نے بھی 2026 میں یکساں شہری قانون کی سمت میں اہم پیش رفت کی۔ ریاستی اسمبلی نے UCC Bill, 2026 منظور کیا۔گجرات کا تجربہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اب UCC کی بحث صرف ایک ریاست تک محدود نہیں رہی۔تاہم قانونی اعتبار سے کسی بل کے پاس ہونے اور اس کے مکمل طور پر نافذ ہونے میں فرق ہوتا ہے۔ قانون میں نفاذ کی تاریخ اور متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن کی اہمیت ہوتی ہے۔ اس لیے صحافتی رپورٹنگ میں ’’بل منظور ہوگیا‘‘ اور ’’قانون نافذ ہوگیا‘‘ کو ایک ہی معنی میں استعمال کرنا درست نہیں ہوگا۔یہ فرق عام قاری کو بھی سمجھنا چاہیے۔آسام: تیسری بڑی ریاستمئی 2026 میں آسام اسمبلی نے Uniform Civil Code Bill, 2026 منظور کیا، جس کے بعد آسام اس سمت میں قانون سازی کرنے والی تیسری ریاست بن گئی۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق قانون میں شادی، طلاق، وراثت اور لِو اِن تعلقات جیسے معاملات شامل ہیں، جبکہ بعض قبائلی گروہوں کو آئینی اور روایتی تحفظات کے پیش نظر دائرۂ کار سے باہر رکھنے کی بات سامنے آئی۔(YouTube)آسام کا تجربہ ایک اہم سوال اٹھاتا ہے:اگر UCC واقعی ’’یکساں‘‘ ہے تو بعض برادریوں کو اس سے مستثنیٰ کیوں رکھا جائے؟اس کا جواب یہ ہے کہ ہندوستان کا آئین خود مختلف علاقوں اور قبائلی معاشروں کے لیے خصوصی انتظامات اور تحفظات فراہم کرتا ہے۔ اس لیے قانونی یکسانیت بھی آئینی ڈھانچے کے اندر رہ کر ہی قائم کی جاسکتی ہے۔یہ بات مستقبل کی قومی UCC بحث میں بنیادی اہمیت رکھے گی۔مغربی بنگال: مشاورت کا مرحلہمغربی بنگال میں UCC پر بحث ابھی ایک مختلف مرحلے میں ہے۔ ریاست میں مجوزہ قانون کے مسودے کا جائزہ لینے اور اس پر رائے حاصل کرنے کا عمل جاری ہے۔7ستمبر 2026 کی تازہ رپورٹ کے مطابق مجوزہ UCC کمیٹی ریاست کے مختلف حصوں میں عوامی سماعتیں منعقد کرنے اور شہریوں، تنظیموں اور متعلقہ فریقوں سے تجاویز حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ (The Times of India)یہ طریقۂ کار اہم ہے۔قانون جتنا حساس ہو، عوامی مشاورت اتنی ہی ضروری ہوتی ہے۔اگر UCC کو صرف سیاسی نعرے کے طور پر پیش کیا جائے گا تو معاشرے میں خوف اور مخالفت پیدا ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر قانون بنانے سے پہلے مختلف مذہبی، سماجی، خواتین، قانونی، قبائلی اور شہری گروہوں کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جائے تو قانون کی قبولیت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔کیا UCC صرف مسلمانوں سے متعلق ہے؟ہندوستانی سیاسی گفتگو میں کبھی کبھی ایسا تاثر پیدا ہوتا ہے کہ UCC بنیادی طور پر مسلمانوں کے پرسنل لا کو ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔یہ تصور مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔UCC کا تصور اصولی طور پر تمام شہریوں کے لیے ایک مشترکہ شہری قانونی نظام کی بات کرتا ہے۔ اگر قانون صرف ایک مذہب کے خاندانی معاملات کو تبدیل کرے اور دوسرے مذاہب کے لیے موجودہ قوانین کو جوں کا توں رکھے تو اسے حقیقی معنوں میں یکساں شہری قانون کہنا مشکل ہوگا۔اس لیے UCC کی سنجیدہ بحث میں ہندو، مسلم، عیسائی، سکھ، پارسی، قبائلی اور دیگر تمام شہری گروہوں کے حقوق کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔مسلم پرسنل لا اور آئینی سوالمسلم پرسنل لا کے حوالے سے UCC کی بحث سب سے زیادہ حساس رہی ہے۔مسلم برادری کے ایک بڑے طبقے کے نزدیک نکاح، طلاق، وراثت اور خاندانی معاملات میں اسلامی اصول مذہبی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ اس لیے ان میں ریاستی مداخلت کے حوالے سے تشویش فطری ہے۔دوسری طرف ریاست اور UCC کے حامی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب کسی خاندانی معاملے کا براہ راست قانونی اور شہری اثر ہو تو کیا صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر الگ قانون برقرار رہنا چاہیے؟یہاں ایک متوازن راستہ تلاش کرنا ضروری ہے۔مذہبی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر معاشرتی روایت لازماً ریاستی قانون سے بالاتر ہوجائے۔ اسی طرح آئینی مساوات کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ریاست شہریوں کی تمام مذہبی اور ثقافتی شناختوں کو ختم کردے۔ہندوستانی آئین کی اصل روح شاید اسی توازن میں ہے۔طلاق کا مسئلہطلاق کا معاملہ UCC کی بحث میں بار بار سامنے آتا ہے کیونکہ یہ براہ راست شوہر، بیوی اور بچوں کے مستقبل سے متعلق ہوتا ہے۔ایک جدید قانونی نظام میں طلاق کا طریقۂ کار واضح ہونا چاہیے۔ عورت اور مرد دونوں کو مناسب قانونی تحفظ ملنا چاہیے اور بچوں کے حقوق کو ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔کسی بھی مذہب کے خاندانی قانون کا جائزہ لیتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کمزور فریق کو قانونی تحفظ کس حد تک حاصل ہے۔اس نقطۂ نظر سے UCC کی بحث کو مذہبی مقابلہ بنانے کے بجائے خاندانی انصاف کی بحث بنانا زیادہ مفید ہوگا۔لِو اِن ریلیشن شپ: نیا قانونی سوالجدید ہندوستانی معاشرے میں شادی کے علاوہ لِو اِن تعلقات کا مسئلہ بھی قانونی مباحث کا حصہ بن چکا ہے۔ UCC سے متعلق بعض ریاستی قوانین میں ایسے تعلقات کی رجسٹریشن اور قانونی اطلاع کا تصور سامنے آیا ہے۔یہ معاملہ اس لیے پیچیدہ ہے کہ یہاں فرد کی ذاتی آزادی، رازداری، سماجی اقدار، خواتین کا تحفظ اور بچوں کے حقوق سب ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ریاست اگر لِو اِن تعلقات کو قانونی دائرے میں لاتی ہے تو اسے یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ قانون افراد کی نجی زندگی میں غیر ضروری مداخلت کا ذریعہ نہ بنے۔شادی کی رجسٹریشن کیوں ضروری ہے؟شادی کی لازمی یا آسان رجسٹریشن کے حق میں ایک مضبوط دلیل موجود ہے۔اگر شادی کا سرکاری ریکارڈ موجود ہو تو عورت کو اپنے ازدواجی حقوق ثابت کرنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔ بچوں کی قانونی حیثیت، وراثت، طلاق اور جائیداد کے معاملات میں بھی دستاویزات اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ہندوستان میں بہت سے خاندانی تنازعات صرف اس لیے پیچیدہ ہوجاتے ہیں کہ متعلقہ واقعات کا سرکاری ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔اس لیے UCC ہو یا نہ ہو، شادیوں کی آسان، سستی اور قابلِ اعتماد رجسٹریشن ایک مثبت اصلاح ہوسکتی ہے۔کیا قانون بدلنے سے معاشرہ بھی بدل جاتا ہے؟یہ ایک بنیادی سوال ہے۔صرف قانون بنا دینے سے معاشرتی رویے فوراً نہیں بدلتے۔اگر کسی قانون میں بیٹی کو برابر کا حق دے دیا جائے لیکن خاندان اسے جائیداد دینے پر تیار نہ ہو تو قانون موجود ہونے کے باوجود عملی انصاف حاصل نہیں ہوگا۔اگر قانون عورت کو تحفظ دے لیکن پولیس، عدالت اور انتظامیہ تک اس کی رسائی مشکل ہو تو قانونی حق کاغذ تک محدود رہ جائے گا۔اگر شادی کی رجسٹریشن لازمی ہو لیکن دیہی علاقوں میں شہریوں کو طریقۂ کار کا علم نہ ہو تو قانون کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔اس لیے UCC کے ساتھ قانونی بیداری، سستی قانونی امداد، آسان رجسٹریشن، ڈیجیٹل سہولت اور حساس انتظامیہ بھی ضروری ہے۔ UCC اور عدلیہہندوستان کی سپریم کورٹ نے مختلف مقدمات میں یکساں شہری قانون، شخصی قوانین اور آئینی حقوق کے درمیان تعلق پر متعدد مواقع پر گفتگو کی ہے۔عدالتوں کے سامنے بنیادی سوال ہمیشہ یہ رہا ہے کہ شخصی قانون اور آئینی اصولوں کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عدالت قانون بنانے والی پارلیمنٹ یا اسمبلی نہیں ہے۔ عدالت موجودہ قانون اور آئین کی تشریح کرتی ہے۔ UCC کا جامع قانون بنانا بنیادی طور پر قانون ساز اداروں اور جمہوری عمل کا معاملہ ہے۔اسی لیے UCC کے مستقبل کا فیصلہ صرف عدالتوں کے ذریعے نہیں بلکہ قانون ساز اداروں، عوامی مشاورت اور آئینی اصولوں کے باہمی تعامل سے ہوگا۔یکساں قانون اور یکساں سماج میں فرقیہاں ایک اہم فلسفیانہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔قانون یکساں ہوسکتا ہے، معاشرہ نہیں۔ہندوستان میں مختلف لوگ مختلف زبانیں بولتے ہیں، مختلف لباس پہنتے ہیں، مختلف کھانے کھاتے ہیں اور مختلف مذہبی تہوار مناتے ہیں۔ یہ تنوع ختم کرنا نہ ممکن ہے اور نہ ضروری۔ریاست کا کام ہر شخص کو ایک جیسا انسان بنانا نہیں بلکہ ہر شخص کو قانون کے سامنے مساوی تحفظ دینا ہے۔اسی لیے UCC کی کامیابی کا معیار یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’’سب لوگ ایک جیسے ہوگئے‘‘ بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ:کیا سب شہریوں کو یکساں قانونی عزت، تحفظ اور انصاف حاصل ہوا؟کیا UCC قومی اتحاد پیدا کرسکتا ہے؟حامیوں کا خیال ہے کہ مشترکہ شہری قانون قومی اتحاد کو مضبوط کرسکتا ہے۔ان کے مطابق جب شہریوں کے بنیادی خاندانی حقوق مذہبی شناخت کے بجائے مشترکہ شہری قانون کے تحت ہوں گے تو قومی سطح پر قانونی یکسانیت بڑھے گی۔لیکن اس کے برعکس یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر قانون سازی میں مذہبی یا ثقافتی حساسیت کو نظر انداز کیا گیا تو معاشرتی فاصلے بڑھ سکتے ہیں۔اس لیے قومی اتحاد کے لیے صرف مشترکہ قانون کافی نہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ شہری یہ محسوس کریں کہ قانون ان پر مسلط نہیں کیا گیا بلکہ ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔ UCC اور سیاستUCC ہندوستان میں قانونی مسئلے کے ساتھ سیاسی مسئلہ بھی بن چکا ہے۔مختلف سیاسی جماعتیں اس موضوع کو اپنے اپنے نظریاتی اور انتخابی نقطۂ نظر سے دیکھتی ہیں۔ کچھ اسے آئینی وعدے کی تکمیل قرار دیتی ہیں، جبکہ کچھ سیاسی اور سماجی حلقے اسے مذہبی آزادی کے لیے چیلنج سمجھتے ہیں۔یہاں میڈیا اور سیاسی قیادت دونوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔اگر UCC پر بحث صرف انتخابی تقریروں اور نعروں تک محدود رہی تو اصل قانونی سوال پسِ پشت چلے جائیں گے۔عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ مجوزہ قانون میں شادی کے بارے میں کیا ہوگا، طلاق کے بارے میں کیا ہوگا، وراثت کے کیا اصول ہوں گے، خواتین کے حقوق کیسے محفوظ ہوں گے اور قبائلی روایات کا کیا ہوگا۔ UCC کے نفاذ میں سب سے بڑا چیلنج: عوامی اعتمادکسی بھی بڑے قانون کی کامیابی کے لیے عوامی اعتماد ضروری ہوتا ہے۔اگر کسی برادری کو یہ احساس ہو کہ قانون اس کی شناخت کے خلاف ہے تو مزاحمت پیدا ہوگی۔اگر خواتین کو محسوس ہو کہ قانون صرف کاغذ پر ہے تو اعتماد پیدا نہیں ہوگا۔اگر قبائلی علاقوں کو خدشہ ہو کہ ان کی صدیوں پرانی زمین اور خاندانی روایات متاثر ہوں گی تو وہ قانون پر سوال اٹھائیں گے۔اس لیے UCC کی کامیابی کے لیے حکومت کو صرف قانون پاس کرنے کے بجائے اعتماد سازی کا عمل بھی چلانا ہوگا۔کیا پورے ہندوستان میں ایک ہی UCC ہونا چاہیے؟یہ سوال آنے والے دنوں میں سب سے اہم ہوگا۔فی الحال ریاستی سطح پر جو ماڈل سامنے آ رہے ہیں، ان میں مکمل یکسانیت نہیں ہے۔ اتراکھنڈ، گجرات اور آسام کے قانونی تجربات میں دائرۂ کار اور استثنیٰ کے حوالے سے فرق ہوسکتا ہے۔اس سے ایک ممکنہ راستہ سامنے آتا ہے کہ ہندوستان میں UCC کی طرف پیش قدمی مرحلہ وار ہو۔پہلے مشترکہ اصول طے کیے جائیں:شادی کی رجسٹریشن,کم از کم عمر,ازدواجی حقوق,طلاق کا منصفانہ طریقہ,بچوں کے بہترین مفاد کا اصول,خواتین کے قانونی حقوق,وراثت میں بنیادی مساوات,قانونی دستاویزات کی شفافیتاس کے بعد مختلف علاقوں کی آئینی اور ثقافتی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے تفصیلی قانون سازی کی جاسکتی ہے۔قبائلی حقوق کا سوالUCC کی بحث میں قبائلی معاشروں کو نظر انداز کرنا خطرناک ہوگا۔ہندوستان کے کئی قبائلی علاقوں میں خاندانی اور زمین سے متعلق روایات مقامی سماجی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ اگر ان پر اچانک کوئی بیرونی قانونی نظام نافذ کیا جائے تو سماجی کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔اسی لیے آسام سمیت بعض UCC تجاویز میں Scheduled Tribes کو مخصوص استثنیٰ دینے کی بات سامنے آئی ہے۔(Drishti IAS)اس سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ یکساں شہری قانون بھی آئین سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ UCC اور آئینی سیکولرازمسیکولرازم کا مطلب مذہب کو ختم کرنا نہیں ہے۔ہندوستانی تناظر میں سیکولرازم کا بنیادی تصور یہ ہے کہ ریاست تمام مذاہب کے شہریوں کے ساتھ مساوی برتاؤ کرے۔ UCC کی کامیابی بھی اسی وقت ممکن ہے جب قانون مذہب دشمن نظر نہ آئے۔ریاست اگر شادی، طلاق یا وراثت کے معاملات میں قانونی اصول بناتی ہے تو اسے واضح کرنا ہوگا کہ مقصد کسی مذہب کو کمزور کرنا نہیں بلکہ شہری حقوق کو منظم کرنا ہے۔یہ فرق سیاسی طور پر بھی اہم ہے اور قانونی طور پر بھی۔ UCC اور اقلیتوں کا اعتماداقلیتوں کے اعتماد کے بغیر UCC کی قومی سطح پر قبولیت مشکل ہوگی۔اس لیے حکومتوں کو چاہیے کہ وہ مذہبی رہنماؤں، مسلم پرسنل لا کے ماہرین، عیسائی اور سکھ اداروں، خواتین تنظیموں، قانونی ماہرین، قبائلی نمائندوں اور سول سوسائٹی سے کھلی مشاورت کریں۔مغربی بنگال میں عوامی سماعتوں کا جو طریقۂ کار سامنے آیا ہے، وہ اس اعتبار سے قابلِ توجہ ہے کہ اس میں شہریوں اور تنظیموں سے تجاویز لینے کی بات کی گئی ہے۔(The Times of India)قانون کی مضبوطی صرف اسمبلی میں اکثریت سے نہیں بلکہ معاشرے میں اس کی قبولیت سے بھی ہوتی ہے۔ UCC کے حامیوں کے لیے بھی ایک اہم سوالUCC کے حامیوں کو بھی یہ وضاحت کرنی ہوگی کہ یکساں قانون کا مطلب کیا ہے۔اگر مقصد صرف مختلف مذہبی قوانین کو ختم کرنا ہے تو یہ ناکافی تصور ہوگا۔لیکن اگر مقصد ایسا شہری قانون بنانا ہے جومرد اور عورت کو برابر سمجھے،بچے کے مفاد کو ترجیح دے،شادی کو قانونی تحفظ دے،طلاق میں انصاف قائم کرے،وراثت میں شفافیت لائے،اور ہر شہری کو عدالت تک آسان رسائی فراہم کرے،تو UCC کو ایک جامع سماجی اصلاح کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔مخالفین کے لیے بھی ایک اہم سوالاسی طرح UCC کے مخالفین کو بھی یہ وضاحت کرنی ہوگی کہ شخصی قوانین میں اگر کوئی ایسی روایت ہو جو کسی شہری، خصوصاً عورت یا بچے کے بنیادی حقوق سے متصادم ہو تو اصلاح کا راستہ کیا ہوگا؟صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’یہ ہماری روایت ہے‘‘۔روایتیں بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہیں۔ ہندوستانی معاشرے میں بہت سی ایسی روایات رہی ہیں جو بعد میں ختم ہوئیں یا تبدیل کی گئیں۔لہٰذا مذہبی آزادی کے ساتھ انسانی وقار اور آئینی مساوات کو بھی برابر اہمیت دینی ہوگی۔کیا UCC سے خاندانی تنازعات کم ہوں گے؟یہ دعویٰ احتیاط سے کرنا چاہیے۔ایک مشترکہ قانون قانونی پیچیدگی کم کرسکتا ہے، لیکن خاندانی تنازعات صرف قانون کی مختلف نوعیت کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتے۔گھریلو تشدد، جہیز، جائیداد کا جھگڑا، طلاق، بچوں کی کفالت اور خاندانی دشمنی جیسے مسائل کے پیچھے سماجی، معاشی اور نفسیاتی عوامل بھی ہوتے ہیں۔اس لیے UCC کے ساتھ خواتین کے لیے قانونی امداد، خاندانی عدالتوں کی مضبوطی، تیز انصاف اور معاشرتی بیداری ضروری ہوگی۔ڈیجیٹل دور اور UCCآج کے ہندوستان میں شہری خدمات تیزی سے ڈیجیٹل ہورہی ہیں۔شادی کی رجسٹریشن، پیدائش و وفات کا ریکارڈ، جائیداد کے دستاویزات اور دیگر شہری خدمات آن لائن ہونے سے UCC کے نفاذ کو انتظامی سہولت مل سکتی ہے۔لیکن ڈیجیٹل نظام کے ساتھ رازداری کا مسئلہ بھی جڑا ہے۔شادی، طلاق، لِو اِن تعلقات اور خاندانی معلومات انتہائی ذاتی نوعیت کا ڈیٹا ہوسکتا ہے۔ حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایسے ڈیٹا کا غیر ضروری استعمال نہ ہو اور شہریوں کی پرائیویسی محفوظ رہے۔دیہی ہندوستان کو نظر انداز نہ کیا جائے UCC کے نفاذ کا زیادہ تر مباحثہ بڑے شہروں میں ہوتا ہے، لیکن ہندوستان کی بڑی آبادی اب بھی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔دیہی علاقوں میں قانونی دستاویزات، آن لائن رجسٹریشن اور عدالتی طریقۂ کار سے متعلق آگاہی محدود ہوسکتی ہے۔اگر UCC نافذ ہوتا ہے تو حکومت کو گاؤں کی سطح تک قانونی بیداری کے پروگرام چلانے ہوں گے۔پنچایت، قانونی امداد مراکز، Common Service Centres اور مقامی زبان میں معلومات اس عمل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔زبان کا مسئلہہندوستانی قانون اکثر انگریزی کی پیچیدہ زبان میں لکھا جاتا ہے۔اگر عام شہری اپنے حقوق سمجھ ہی نہ سکے تو قانون کی یکسانیت بے معنی ہوجاتی ہے۔اس لیے UCC سے متعلق قوانین اور قواعد کو صرف انگریزی میں نہیں بلکہ ہندوستان کی بڑی زبانوں میں آسان اور واضح انداز میں دستیاب کرایا جانا چاہیے۔اردو میں بھی اس کی مستند اور آسان قانونی تشریح عوام تک پہنچانا ضروری ہوگا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں اردو پڑھنے اور سمجھنے والے شہری بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ UCC اور نوجوان نسلنوجوان ہندوستانی نسل کے لیے شادی، کیریئر، تعلیم اور خاندانی زندگی کے تصورات تیزی سے بدل رہے ہیں۔بین المذاہب شادی، بین الریاستی شادی، لِو اِن تعلقات، مشترکہ خاندان سے نیوکلیئر فیملی کی طرف منتقلی اور خواتین کی بڑھتی معاشی خودمختاری نے خاندانی قانون کو نئے سوالات کے سامنے کھڑا کردیا ہے۔ UCC کو اگر مستقبل کی قانون سازی سمجھا جائے تو اسے صرف ماضی کے خاندانی نظام کو سامنے رکھ کر نہیں بلکہ مستقبل کے ہندوستان کو سامنے رکھ کر بنانا ہوگا۔سب سے بڑا سوال: یکسانیت یا انصاف؟یہ پوری بحث کا مرکزی سوال ہے۔کیا ہندوستان کو صرف یکساں قانون چاہیے یا منصفانہ قانون؟دونوں میں فرق ہے۔ایک قانون سب پر یکساں لاگو ہوسکتا ہے، لیکن اگر وہ کمزور طبقے کو مناسب تحفظ نہ دے تو وہ انصاف فراہم نہیں کرے گا۔اسی طرح اگر قانون مختلف حالات کے مطابق مناسب تحفظ دیتا ہے تو بعض معاملات میں یکسانیت کے بجائے مساوی انصاف زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔اس لیے UCC کا مقصد صرف Uniformity نہیں بلکہ Justice with Equality ہونا چاہیے۔مستقبل کا راستہ کیا ہوسکتا ہے؟ہندوستان میں UCC پر بحث اب واپس نہیں جانے والی۔اتراکھنڈ کا عملی تجربہ، گجرات اور آسام کی قانون سازی اور مغربی بنگال میں جاری مشاورت اس بات کی علامت ہیں کہ آنے والے برسوں میں یہ موضوع مزید اہم ہوگا۔ (UCC Uttarakhand)لیکن قومی سطح پر UCC کے لیے چند اصول بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔قانون آئین کے مطابق ہو۔, مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے۔,خواتین کے حقوق کو مرکزی حیثیت دی جائے۔,بچوں کے مفاد کو اولین ترجیح دی جائے۔, قبائلی اور آئینی تحفظات کا خیال رکھا جائے۔, قانون بنانے سے پہلے وسیع عوامی مشاورت کی جائے۔,قانون کی زبان آسان اور عام فہم ہو۔, قانون کے نفاذ کے لیے انتظامی اور عدالتی ڈھانچہ مضبوط کیا جائے۔ ,شہریوں کی نجی معلومات اور رازداری کا تحفظ کیا جائے۔ UCC کو سیاسی تنازع کے بجائے آئینی اور سماجی اصلاح کے طور پر پیش کیا جائے۔نتیجہ: ہندوستان کو ایسا قانون چاہیے جس میں انصاف سب کے لیے ہویکساں شہری قانون ہندوستان کے لیے محض ایک قانونی اصطلاح نہیں بلکہ آئینی، سماجی اور سیاسی سوال بن چکا ہے۔اس بحث میں ایک طرف آئین کا آرٹیکل 44 ہے جو یکساں شہری قانون کی سمت میں ریاست کو رہنمائی دیتا ہے، دوسری طرف مذہبی آزادی اور ثقافتی تنوع ہے۔ ایک طرف خواتین کے مساوی حقوق کا مطالبہ ہے، دوسری طرف مختلف برادریوں کی مذہبی اور معاشرتی شناخت کے تحفظ کا سوال ہے۔ان دونوں کو ایک دوسرے کا دشمن سمجھنا مسئلے کو مزید پیچیدہ کرے گا۔اصل ضرورت ایک ایسے قانونی نظام کی ہے جو نہ کسی مذہب کا دشمن ہو، نہ کسی مذہب کا طرف دار؛ نہ عورت کے حق کو مذہب کے نام پر کم کرے، نہ مذہبی آزادی کو مساوات کے نام پر غیر ضروری طور پر محدود کرے۔ UCC کی اصل کامیابی تب ہوگی جب ایک غریب عورت، ایک دیہی شہری، ایک اقلیتی خاندان، ایک قبائلی فرد، ایک نوجوان جوڑا اور ایک عام شہری عدالت اور حکومت کے سامنے یہ محسوس کرے کہ قانون اس کے ساتھ برابر کا سلوک کرتا ہے۔اتراکھنڈ میں جاری عملی تجربات، گجرات اور آسام کی قانون سازی اور مغربی بنگال میں عوامی مشاورت اس بحث کو ایک نئے مرحلے میں لے جا رہے ہیں۔ اتراکھنڈ میں آج بھی UCC سے متعلق قواعد میں ترمیم اور انتظامی اقدامات جاری ہیں، جبکہ حالیہ دنوں میں وہاں وقف بورڈ کی جانب سے نکاح نامے کو UCC کے قانونی ماحول سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس قانون کے اثرات صرف سرکاری دفاتر تک محدود نہیں بلکہ مذہبی اور سماجی اداروں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔(UCC Uttarakhand)اب ضرورت اس بات کی ہے کہ UCC کے حامی اور مخالف دونوں جذباتی نعروں سے آگے بڑھیں۔حامی یہ ثابت کریں کہ ان کا مقصد واقعی مساوات اور انصاف ہے۔مخالفین یہ بتائیں کہ مذہبی آزادی کے ساتھ کمزور شہریوں کے حقوق کی حفاظت کیسے ہوگی۔حکومتیں قانون بنانے سے پہلے زیادہ سے زیادہ مشاورت کریں۔اور عوام کو بھی چاہیے کہ وہ UCC کو صرف مذہبی چشمے سے نہ دیکھیں بلکہ شہری حقوق، خواتین کے تحفظ، خاندانی انصاف، آئینی مساوات اور مستقبل کے ہندوستان کے تناظر میں دیکھیں۔آخرکار کسی بھی قانون کی عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ کتنا سخت یا کتنا یکساں ہے، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ کتنا منصفانہ، شفاف اور انسان دوست ہے۔ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک میں شاید یہی اصول سب سے زیادہ اہم ہےقانون سب کے لیے ایک ہو، مگر انصاف کسی کے لیے کم نہ ہو۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے