कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مصنوعی ذہانت اور اسلامی احکام

از قلم محمد سفیان سہیل

اس کرۂ ارض میں کاشانۂ قدرت کا انمول تحفہ انسان ہے۔ کائنات کی ساری اشیاء اس کی خدمت کے لیے بنائی گئی ہیں، تاکہ وہ مظاہرِ قدرت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے رب کی اطاعت بہ حسن و خوبی انجام دے سکے۔ لیکن موجودہ دور کی برق رفتار ترقی نے اشرف المخلوقات کو مصنوعات کا تابع بنا دیا ہے۔ اب تو پانی سر سے اوپر چڑھ گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے انسان کو اپنا اسیر بنا لیا ہے اور اس کی سوچنے اور سمجھنے کی فطری طاقت کو سلب کرنے لگی ہے۔ خواہ نیا تعلیم یافتہ طبقہ ہو یا دینی مدارس کا طبقہ، سب اس کے بھنور میں پھنس چکے ہیں۔
ایسی صورتِ حال میں ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت کے تئیں اسلامی احکام کیا ہیں؟ اس موضوع کا مطالعہ بے حد ضروری ہے۔
اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر تدبر و تفکر کی دعوت دی ہے۔ چنانچہ ارشادِ مبارک ہے:
كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ
📖 البقرة: 219
ترجمہ: اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم غور و فکر کر سکو۔
محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی راہِ حق کے متلاشیوں کو غور و فکر کی تعلیم دی ہے۔ آپ کا پاکیزہ ارشاد ہے:
تَفَكَّرُوا فِي خَلْقِ اللَّهِ، وَلَا تَتَفَكَّرُوا فِي اللَّهِ۔
(الجامع الصغير في أحاديث البشير النذير، رقم الحدیث: ٣٣٤٩)
اسلام نے عقل کی بڑی اہمیت بیان کی ہے؛ اسی لیے قرآنِ کریم میں جا بجا عقل سے کام لینے کی دعوت دی گئی ہے۔ مصنوعی ذہانت جہاں معلومات فراہم کرتی ہے، وہیں وہ صحیح اور غلط کے درمیان خود فیصلہ کرنے کی حقیقی صلاحیت نہیں رکھتی۔ چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:
أَفَلَا تَعْقِلُونَ
📖 البقرة: 44
اسلام کا ایک اہم حکم یہ ہے کہ غیر معتبر ذرائع سے حاصل ہونے والی باتوں کی تحقیق کی جائے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ
📖 الحجرات: 6
کیا اے آئی سے دینی معلومات حاصل کرتے وقت اس حکم کی رعایت کی جاتی ہے؟
غور و فکر کا مقام تو یہ ہے کہ منصبِ افتاء و قضاء کس قدر اہم اور عظیم ذمہ داری ہے کہ خود اللہ رب العزت نے اپنی ذات کی طرف افتاء کی نسبت فرمائی ہے:
قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ
📖 النساء: 127
اس اہم منصب کے حاملین نے بھی بعض اوقات حدِ اعتدال کو نظر انداز کرتے ہوئے اے آئی سے استفادہ کرنا شروع کر دیا ہے، حالاں کہ فتویٰ دینے اور شرعی مسائل کے حل کے لیے مستند عالم یا معتبر کتاب سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
بہرحال، اگر انسان ہر بات، خواہ ہدایت کے تعلق سے ہو یا عمومی معلومات کے تعلق سے، اے آئی سے سوال کرے گا تو حکمِ خداوندی پر کب عمل کرے گا؟ اور حصولِ علم، خواہ دنیوی ہو یا اخروی، بغیر کسی صاحبِ علم شخصیت کی رہنمائی کے مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکتا؛ کیونکہ مصنوعی ذہانت اسے علمی باتیں تو بتلا دے گی، لیکن کردار سازی نہیں کر سکتی۔ اے آئی کا کثرت سے استعمال دماغی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
اسی طرح مصنوعی ذہانت کا بے جا استعمال ضیاعِ وقت کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ انسان بسا اوقات ضروری کاموں کو چھوڑ کر غیر ضروری سوالات، گفتگو اور مختلف مشاغل میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتا ہے، حالاں کہ وقت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور انسان کو اس کی قدر کرنی چاہیے۔
یہی وجہ ہے کہ نیویارک میں آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے اے آئی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
عصری تعلیم یافتہ طبقے اور طالبانِ علومِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی تعلیم کا محور اساتذہ اور کتابوں کو بنانا چاہیے۔
اسلام مصنوعی ذہانت کی مخالفت نہیں کرتا، بلکہ قرآنی تعلیمات اور فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر شاہد ہیں مصنوعی ذہانت اور اسلامی احکام
اس کرۂ ارض میں کاشانۂ قدرت کا انمول تحفہ انسان ہے۔ کائنات کی ساری اشیاء اس کی خدمت کے لیے بنائی گئی ہیں، تاکہ وہ مظاہرِ قدرت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے رب کی اطاعت بہ حسن و خوبی انجام دے سکے۔ لیکن موجودہ دور کی برق رفتار ترقی نے اشرف المخلوقات کو مصنوعات کا تابع بنا دیا ہے۔ اب تو پانی سر سے اوپر چڑھ گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے انسان کو اپنا اسیر بنا لیا ہے اور اس کی سوچنے اور سمجھنے کی فطری طاقت کو سلب کرنے لگی ہے۔ خواہ نیا تعلیم یافتہ طبقہ ہو یا دینی مدارس کا طبقہ، سب اس کے بھنور میں پھنس چکے ہیں۔
ایسی صورتِ حال میں ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت کے تئیں اسلامی احکام کیا ہیں؟ اس موضوع کا مطالعہ بے حد ضروری ہے۔
اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر تدبر و تفکر کی دعوت دی ہے۔ چنانچہ ارشادِ مبارک ہے:
كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ
📖 البقرة: 219
ترجمہ: اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم غور و فکر کر سکو۔
محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی راہِ حق کے متلاشیوں کو غور و فکر کی تعلیم دی ہے۔ آپ کا پاکیزہ ارشاد ہے:
تَفَكَّرُوا فِي خَلْقِ اللَّهِ، وَلَا تَتَفَكَّرُوا فِي اللَّهِ۔
(الجامع الصغير في أحاديث البشير النذير، رقم الحدیث: ٣٣٤٩)
اسلام نے عقل کی بڑی اہمیت بیان کی ہے؛ اسی لیے قرآنِ کریم میں جا بجا عقل سے کام لینے کی دعوت دی گئی ہے۔ مصنوعی ذہانت جہاں معلومات فراہم کرتی ہے، وہیں وہ صحیح اور غلط کے درمیان خود فیصلہ کرنے کی حقیقی صلاحیت نہیں رکھتی۔ چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:
أَفَلَا تَعْقِلُونَ
📖 البقرة: 44
اسلام کا ایک اہم حکم یہ ہے کہ غیر معتبر ذرائع سے حاصل ہونے والی باتوں کی تحقیق کی جائے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ
📖 الحجرات: 6
کیا اے آئی سے دینی معلومات حاصل کرتے وقت اس حکم کی رعایت کی جاتی ہے؟
غور و فکر کا مقام تو یہ ہے کہ منصبِ افتاء و قضاء کس قدر اہم اور عظیم ذمہ داری ہے کہ خود اللہ رب العزت نے اپنی ذات کی طرف افتاء کی نسبت فرمائی ہے:
قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ
📖 النساء: 127
اس اہم منصب کے حاملین نے بھی بعض اوقات حدِ اعتدال کو نظر انداز کرتے ہوئے اے آئی سے استفادہ کرنا شروع کر دیا ہے، حالاں کہ فتویٰ دینے اور شرعی مسائل کے حل کے لیے مستند عالم یا معتبر کتاب سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
بہرحال، اگر انسان ہر بات، خواہ ہدایت کے تعلق سے ہو یا عمومی معلومات کے تعلق سے، اے آئی سے سوال کرے گا تو حکمِ خداوندی پر کب عمل کرے گا؟ اور حصولِ علم، خواہ دنیوی ہو یا اخروی، بغیر کسی صاحبِ علم شخصیت کی رہنمائی کے مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکتا؛ کیونکہ مصنوعی ذہانت اسے علمی باتیں تو بتلا دے گی، لیکن کردار سازی نہیں کر سکتی۔ اے آئی کا کثرت سے استعمال دماغی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
اسی طرح مصنوعی ذہانت کا بے جا استعمال ضیاعِ وقت کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ انسان بسا اوقات ضروری کاموں کو چھوڑ کر غیر ضروری سوالات، گفتگو اور مختلف مشاغل میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتا ہے، حالاں کہ وقت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور انسان کو اس کی قدر کرنی چاہیے۔
یہی وجہ ہے کہ نیویارک میں آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے اے آئی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
عصری تعلیم یافتہ طبقے اور طالبانِ علومِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی تعلیم کا محور اساتذہ اور کتابوں کو بنانا چاہیے۔
اسلام مصنوعی ذہانت کی مخالفت نہیں کرتا، بلکہ
اسلام علم اور ٹیکنالوجی کے حصول کی بھر پور حوصلہ افزائی کرتا ہے؛ کیونکہ یہ انسانی ترقی اور اللہ کی نعمتوں کی دریافت کا ذریعہ ہے۔ قرآن مجید میں انسان کو علم الہی کا امین قرار دیا گیا اور اس کو کائنات کے اسرار ورموز سمجھنے کی دعوت دی گئی ہے، جیسا کہ فرمایا:
وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء كُلَّهَا (البقره: 31)
"اور اللہ نے آدم کو تمام اسماء کی تعلیم دی”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان کو علم اور تخلیقی صلاحیتوں کی دولت عطا کی گئی ہے، جو اسے دیگر مخلوقات پر فوقیت دیتی ہے۔
قُلِ انظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ“ (يونس: 101)
"کہہ دو کہ دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے۔”
یہ آیت واضح طور پر تحقیق اور غور و فکر کی ترغیب دیتی ہے، جو سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کا بنیادی اصول ہے۔
إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (الروم: 24)
”ان چیزوں میں عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔“
یہ آیت اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ انسانی ترقی کا انحصار اس کی عقل کے مؤثر اور تعمیری استعمال پر ہے۔
انسانی عقل اسی استعمال سے ٹیکنا لوجی جیسے میدانوں میں ترقی ممکن ہوئی ہے اور مصنوعی ذہانت اسی عقل کی ایک شاخ ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا:
العقل رسول في الإنسان (نهج البلاغه، خطبه 184)
”عقل انسان کے اندر اللہ کا پیغام رساں ہے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ ، فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا (جامع ترمذی: 687)
”دانائی مومن کی گم شدہ چیز ہے، جہاں کہیں بھی وہ اسے پائے ، وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔“
کھجور کے درختوں کی بارآوری کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی ﷺ نے فرمایا:
انْتُمْ أَعْلَمُ بِأُمُورِ دُنْيَاكُمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2363)
”تم اپنے دنیاوی معاملات کو بہتر جانتے ہو؟“
یہ احادیث دنیاوی معاملات ، جیسا کہ زراعت، تجارت ، یا ٹیکنالوجی ، میں انسانی عقل اور یا تجربے کے استعمال کی اجازت دیتی ہیں۔ جو دنیاوی ترقی اور انسانی فلاح کے لیے ضروری ہے۔ مزید یہ کہ قرآن مجید میں جنگی قوت کے حصول کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا:
وَاعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ (الانفال: 60)
”اور ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک تمہاری استطاعت ہو، قوت تیار رکھو۔“
یہ قوت ہر زمانے کی موثر ٹیکنالوجی کو شامل کرتی ہے، خواہ وہ دفاعی ہو یا معاشی ، طبی ہو یا صنعتی ۔ اسی طرح اسلامی تاریخ میں مسلمانوں نے علم و ٹیکنالوجی میں پیش قدمی کرتے ہوئے دنیا کو اہم ایجادات فراہم کیں، جسے الجبرا، طب اور فلکیات۔ اسلام کا یہ تصور نہ صرف ٹیکنالوجی کے حصول کو جائز ؛ بلکہ دینی فریضہ قرار دیتا ہے؛ تا کہ امت مسلمہ مضبوط ہو اور دنیا میں عدل، امن اور ترقی کے قیام میں اپنا کردار ادا کرے۔
( اقتباس مولانا راشد وحید قاسمی)
مصنوعی ذہانت کو اپنا خادم بنائیے، اپنا حاکم نہیں؛ اسے معاون بنائیے، اپنا قائم مقام نہیں؛ اور اس سے فائدہ اٹھائیے، مگر اپنی عقل، فکر اور بصیرت کو اس کے حوالے نہ کیجیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عقلِ سلیم کی دولت سے مالا مال فرمائے، حالات کا صحیح تجزیہ کرنے کی صلاحیت عطا فرمائے اور ہمیں اپنی فطری صلاحیتوں سے مستفید ہونے کی توفیق مرحمت فرمائیں
آمین یارب العالمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے