कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وہ جنگل، وہ راتیں اور وہ استاد…!

تحریر:الناصر عبدالصمد مومن
صدر مدرس
شاہین ہائی اسکول کراڈ

کچھ یادیں وقت کے ساتھ دھندلی نہیں ہوتیں،
بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اور بھی گہری ہوجاتی ہیں۔

کچھ چہرے زندگی کی بھیڑ میں کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں،
مگر ان کی دی ہوئی سوچ، ان کی تربیت اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات ہمیشہ دل میں زندہ رہتے ہیں۔

ایسی ہی ایک یاد ہے نومبر 1989 کی۔۔۔
جب ہم دسویں جماعت کے طالب علم تھے۔

آج کئی دہائیاں گزر چکی ہیں،
مگر جب بھی اس سفر کو یاد کرتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کل ہی کی بات ہو۔

اس وقت ہمارے *صدرِ مدرس، محترم اقبال مومن سر* ، ایک ایسی شخصیت تھے جو روایتی انداز میں اسکول چلانے کے قائل نہیں تھے۔ ان کی سوچ ہمیشہ نئی تھی، جذبہ ہمیشہ نیا تھا اور بچوں کو کتاب کی چار دیواری سے باہر نکال کر زندگی، فطرت اور دنیا کو قریب سے دکھانے کا جنون ان کے اندر تھا۔

وہ صرف یہ نہیں چاہتے تھے کہ ہم کتاب میں جنگل پڑھیں۔۔۔
وہ چاہتے تھے کہ ہم جنگل کو دیکھیں، محسوس کریں، اس کی آواز سنیں اور اس سے سیکھیں۔

*اور پھر اقبال ستار صاحب , محکمہ جنگلات کے افسر کے رہنمائی میں ایک حیرت انگیز تجربہ*
پھر ایک دن اعلان ہوا کہ ہم چاندولی ابھیارنیہ کے جنگلات میں تین روزہ تعلیمی سفر پر جائیں گے۔

ہمارے لیے تو یہ اعلان ہی کسی خواب سے کم نہ تھا!

دسویں جماعت کے پانچ طلبہ، کندھوں پر سامان، دل میں بے پناہ جوش اور آنکھوں میں ایک نئی دنیا دیکھنے کی خواہش۔۔۔
ہم جنگل کی طرف روانہ ہوگئے۔

جنگل میں داخل ہوتے ہی ایک نئی دنیا سامنے تھی

وہاں پہنچ کر ایسا محسوس ہوا جیسے کتاب کا ایک پورا باب ہمارے سامنے زندہ ہوگیا ہو۔

اونچے اونچے درخت۔۔۔
گھنی جھاڑیاں۔۔۔
پرندوں کی آوازیں۔۔۔
ہوا کی سرسراہٹ۔۔۔
دور سے آتی پانی کی آواز۔۔۔
اور ہر طرف پھیلی ہوئی قدرت کی خاموشی۔

ہمیں مختلف جنگلی درختوں کے بارے میں بتایا گیا۔
ان کی پہچان، ان کے طبی فوائد، ان سے حاصل ہونے والی ادویاتی خصوصیات اور قدرتی نظام میں ان کی اہمیت سمجھائی گئی۔

ہم صرف سن نہیں رہے تھے۔۔۔
ہم سیکھ رہے تھے، دیکھ رہے تھے اور محسوس کر رہے تھے۔

پھر قدرت کے وہ مناظر۔۔۔
چاندولی ڈیم، اس کے اطراف کے پہاڑ، آبشاریں، جھرنے اور پانی کی وہ مدھم مگر مسلسل آواز۔۔۔!

آج بھی آنکھیں بند کروں تو وہ منظر سامنے آجاتا ہے۔

مگر اصل کہانی رات کو شروع ہوتی تھی۔۔۔

جنگل میں رات کا اترنا شہر کی رات جیسا نہیں ہوتا۔

اندھیرا آہستہ آہستہ ہر طرف پھیلتا ہے۔
درختوں کے سائے لمبے ہوتے جاتے ہیں۔
ہوا کی آواز بدل جاتی ہے۔
دور کہیں کسی جانور کی آواز سنائی دیتی ہے۔۔۔
اور پھر اچانک احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسے جنگل میں ہیں جہاں انسان نہیں، قدرت کا راج ہے۔

وہ رات آج بھی یاد آتی ہے تو واقعی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

ہم سب ایک بڑی سی شیکوٹی کے گرد گول دائرے میں بیٹھے تھے۔

آگ کے شعلے کبھی بلند ہوتے، کبھی مدھم پڑتے۔۔۔
چنگاریاں آسمان کی طرف اڑتیں۔۔۔
اور گھنے جنگل کے اندھیرے میں ہماری آوازیں گونجتی رہتیں۔

کسی نے لوک گیت چھیڑا۔۔۔
کسی نے شعر سنایا۔۔۔
قہقہے بلند ہوئے۔۔۔
اور پھر ہمارے ساتھی ابوبکر نے قوالی شروع کی:

"چڑھتا سورج دھیرے دھیرے۔۔۔”

جنگل کی خاموشی،
شیکوٹی کی روشنی،
رات کا سناٹا
اور ابوبکر کی خوبصورت آواز۔۔۔!

وہ منظر آج بھی ذہن میں کسی فلم کی طرح چلتا ہے۔

ہم اس وقت نہیں جانتے تھے کہ ہم زندگی کی سب سے قیمتی یادیں جمع کر رہے ہیں۔

ہم سمجھ رہے تھے کہ یہ صرف تین دن کا سفر ہے۔۔۔
مگر حقیقت میں وہ تین دن ہماری پوری زندگی کے لیے یادوں کا خزانہ بن گئے تھے۔

*اور پھر یونس منیر۔۔۔*

اسی سفر میں ہمارا ایک اور ساتھی تھا، یونس منیر۔

اس وقت وہ بھی ہمارے ہی درمیان ایک طالب علم تھا،
مگر شاید قدرت نے اس کے لیے کچھ اور لکھ رکھا تھا۔

آج وہ محکمۂ جنگلات سے وابستہ ہے اور *ریسکیو ٹیم* کے ساتھ کام کرتا ہے۔
*تیندوا ہو یا سانپ،* جنگلی جانور ہو یا کوئی مشکل صورتحال۔۔۔
ان سے نمٹنے کی مہارت اس نے اپنے شوق اور تجربے سے حاصل کی ہے۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ شاید وہ جنگل ہی اس کے مستقبل کا پہلا سبق تھا۔

*اقبال ستار صاحب کا ایک اور حیرت انگیز تجربہ*

محترم اقبال ستار صاحب خود بھی دنیا دیکھنے، نئی چیزیں سیکھنے اور پھر اسے بچوں تک پہنچانے کا شوق رکھتے تھے۔

جاپان کے سفر سے واپسی پر انہوں نے ہمیں اسکول میں جو کچھ دکھایا، وہ بھی آج تک ذہن میں تازہ ہے۔

وہاں کے قدرتی مناظر، سمندر، ڈالفن مچھلی اور جاپان کی دوسری دلچسپ چیزیں۔۔۔
ہماری آنکھوں کے سامنے یوں پیش کی گئیں جیسے ہم خود وہاں پہنچ گئے ہوں۔

تب شاید ہم ان چیزوں کی قدر پوری طرح نہیں سمجھتے تھے۔

آج سمجھ آتا ہے کہ وہ صرف ہمیں تصاویر یا مناظر نہیں دکھا رہے تھے۔۔۔
وہ ہمارے اندر دیکھنے، سوچنے، سوال کرنے اور دنیا کو وسیع نظر سے سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر رہے تھے۔

وہ استاد صرف پڑھاتے نہیں تھے، خواب دکھاتے تھے

آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اقبال ستار صاحب کی اصل خوبی یہی تھی کہ وہ بچوں کو صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں رکھتے تھے۔

وہ کہتے نہیں تھے کہ
"یہ پڑھو، امتحان دو اور آگے بڑھ جاؤ۔”

بلکہ ان کا انداز شاید یہ تھا:

"دنیا بہت بڑی ہے،
اسے دیکھو، اسے سمجھو،
قدرت سے سیکھو،
اور اپنے اندر ایک نئی دنیا پیدا کرو۔”

اسی لیے آج بھی ان کے کئی سال پرانے تجربات ہمارے اندر زندہ ہیں۔

اور سب سے خوبصورت بات۔۔۔

آج بھی ہم بچپن کے وہی دوست—
رفیق، مشتاق، جنید، سہیل، عابد، ریاض، اسماعیل، ابوبکر اور دوسرے ساتھی—

جب کبھی اکٹھے ہوتے ہیں تو باتوں باتوں میں وہی پرانے دن واپس آجاتے ہیں۔

ہم آج بھی کبھی کبھی ہر سال جنگل کے سفر پر نکل جاتے ہیں۔

عمر بدل گئی۔۔۔
زندگی بدل گئی۔۔۔
ذمہ داریاں بدل گئیں۔۔۔
مگر وہ دوستیاں نہیں بدلیں۔

جنگل وہی نہیں رہا،
ہم وہی نہیں رہے،
وہ شیکوٹی بھی شاید کہیں نہیں،
وہ راتیں بھی دوبارہ نہیں آئیں گی،

مگر ہمارے دلوں میں
وہ جنگل آج بھی آباد ہے۔

آخر میں۔۔۔

*آج جب محترم اقبال ستار صاحب کی نظم پڑھتا ہوں:*

"میں ٹیچر تو نہیں،
مگر اسکول چلاتا ہوں میں۔۔۔”

تو دل بے اختیار کہتا ہے:

آپ نے صرف اسکول نہیں چلایا تھا،
آپ نے ہماری سوچ چلائی تھی۔

آپ نے صرف کلاس روم نہیں بنائے،
آپ نے ہماری یادوں میں ایک پوری دنیا بنائی تھی۔

آپ نے ہمیں صرف کتابیں نہیں دیں،
آپ نے ہمیں تجربہ دیا، مشاہدہ دیا، سوال دیا، جستجو دی اور خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا۔

*اقبال ستار صاحب!*
*اقبال مومن سر!*

آپ نے اس وقت ہمیں جنگل دکھایا تھا،
آج احساس ہوتا ہے کہ
آپ دراصل ہمیں زندگی کے راستے دکھا رہے تھے۔

آپ کا وہ جذبہ،
وہ نئی فکر،
وہ نونہالوں کے مستقبل کی فکر،
اور تعلیم کو کتاب سے باہر لے جانے کا وہ انداز—

آج بھی ہمارے دل میں
آپ کے لیے بے حد احترام پیدا کرتا ہے۔

وہ سفر ختم ہوگیا،
وہ زمانہ گزر گیا،
ہم بڑے ہوگئے۔۔۔

مگر سچ تو یہ ہے:

*ہم آج بھی وہی دسویں جماعت کے بچے ہیں،*

*جو شیکوٹی کے گرد بیٹھ کر
اپنے استاد کی باتیں سنتے تھے
اور جنگل کی تاریک رات میں
ستاروں کو دیکھ کر
بڑے بڑے خواب دیکھا کرتے تھے۔۔۔*

اور شاید انہی خوابوں میں
آج ہماری زندگی کی بہت سی حقیقتیں چھپی ہوئی ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے