कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مسلمانان ہند کے تحفظ کے لئے اکیاون رکنی کمیٹی

تحریر:عدیل اختر
91 81081 88098: 9557038250

بسم اللہ تعالیٰ
ملت اسلامیہ ہند کےلئے واقعی درمندی رکھنے والے بزرگ محمد ادیب صاحب کئی سال کی جستجو کے بعد آخر ایک ایسی اجتماعیت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جسے مسلم پرسنل لاء بورڈ اور مسلم مجلس مشاورت جیسے ازکار رفتہ پلیٹ فارموں کا متبادل کہا جاسکتا ہے۔ یہ نیا پلیٹ فارم واقعی بروئے کار آسکے گا یا مسلمانان ہند کےلئے واقعی کارگر ثابت ہوگا اس بارے میں ابھی سے توقعات وابستہ کرلینا اگرچہ ایک خوش فہمی ہوگی اور اسے لاحاصل قرار دینا یا اس کے تئیں ناامیدی ظاہر کرنا بھی ابھی ایک قبل از وقت تبصرہ ہوگا۔ چنانچہ مناسب بات یہ ہے کہ اس پیش رفت کا استقبال کیا جانا چاہئے اور اس کے لئے نیک تمنائیں ظاہر کرنا چاہئیں۔ تاہم سر دست جس اندیشے کا اظہار کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ ملت کا وہ گروہ جو اپنی ایک مضبوط جمیعت رکھتا ہے اور جسے فکری و جذباتی طور سےہندو نواز سمجھا جاتا ہے اور جس کا تاریخی ریکارڈ مسلمانوں کے لئے ایوانان حکومت میں نمائندگی سے زیادہ مسلمانوں میں حکومت و اقتدار کے مفادات کے لئے کام کرنے کا رہا ہے، اس نئی اجتماعیت کو بھی بے اثر کرنے کی کوششیں اسی طرح سے کرے گا جس طرح مسلم پرسنل لاء بورڈ اور مسلم مجلس مشاورت کو غیر موثر بنانے کے لئے کرتا رہا ہے اور جس پر کئی ملی تنظیموں پر پابندی لگوانے میں خفیہ تعاون دینے کاشک کیا جاتا ہے۔لہذا ادیب صاحب اور ان کے خاص مشیروں کو اس طرف سے بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی۔
خود اس اکیاون رکنی کمیٹی کے بڑے اور نمایاں چہروں میں بھی خاصی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کی ملت کے لئے وفاداری کایکارڈ اچھا نہیں ہے، خاص طور سے بعض ایسی سیاسی شخصیات جو خود اپنے سیاسی مفادات کے لئے بی جے پی کے ساتھ معاہدے کرکے اسے تقویت اور اقتدار کے مواقع دے چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے کمزور کردار کے لوگ اس میں موجود ہیں جواپنی سیاسی وابستگی کوملت سے وابستگی پرترجیح دیتے ہیں یا خود کو سیکولر دکھانے کے لئے مورتیوں کے آگے ہاتھ جوڑتے بھی دیکھے گئے ہیں۔ لیکن بہرحال! مسئلہ اب چوں کہ کل مسلمانوں کے وجود کا ہے اس لئے جو بھی اپنی مسلم شناخت کے ساتھ خود کو وابستہ کرتا ہے اسے مسلمانوں کے تحفظ کی اجتماعی کوشش میں شمولیت سے روکا نہیں جاسکتا بلکہ اس سے اگر کچھ فائدہ لیا جاسکتا ہے تو لیا جانا چاہئے۔ اس لئے یہ بات فی الحال نظرانداز کرنا ہی بہتر ہے۔ البتہ جو بات کسی بھی مسلم تنظیم کے لئے اہم بلکہ لازم ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے نظریات اور لائحہ عمل کے لئے اللہ اور رسول اللہ کی رہنمائی کو بنیاد و دلیل بنائے کیوں کہ مسلمان ملت اسلامیہ ہیں اور علامہ اقبال کے بقول قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں۔
آج مسلمانان ہند جس بحران سے دوچار ہیں وہ کوئی اچانک سےپیدا ہوجانے والی صورت حال نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک تاریخی تسلسل ہے۔ یہ کسی ایک خاص سیاسی پارٹی کے اقتدار سے پیدا شدہ خطرہ نہیں ہے بلکہ یہ ملک کے اکثریتی فرقے کے ساتھ مسلمانوں کے تعلق کا ایک دیرینہ سیاسی مسئلہ ہے جو فطری اور متوقع طور سے اب بہت زیادہ شدت اختیار کرگیا ہے اور اس میں بتدریج مزید شدت پیدا ہوتے چلے جانا ایک یقینی امر ہے۔چنانچہ سب سے پہلے اس مسئلہ کی صحیح تشخیص ضروری ہے اور ماضی کے ان معاملات سے عبرت لینا ضروری ہے جو قرآن و سنت کی واضح رہنمائی کے برخلاف کئے گئے اور آج کے حالات جن کا ایک فطری نتیجہ ہیں۔ پچھلی غلطیوں کے تدارک کی صورت اب یہ ہے کہ موجودہ صورت حال کی تاویل کرلی جائے اور قرآن و سنت کی رو سے ان کی تشریح کی جائے۔
ملک کے نظام میں مسلمانوں کی شمولیت یا حصہ داری کی شرعی تشریح وہی ہے جو کبھی بعض بزرگوں نے کی تھی کہ یہ ایک معاہدے کی صورت ہے۔ دوسری قوموں کے ساتھ امن و امان سے رہنے اور اشتراک عمل کے لئے معاہدہ کرنا چوں کہ جائز ہے اور نبیﷺ کے وقت سے اس کی روایت چلی آرہی ہے اس لئے دستور ہند بھی گویا ایک معاہداتی دستاویز ہے۔ اس معاہدے میں اگرچہ باشندگان ہند کے متعدد فرقے اورگروہ شامل ہیں جنہیں کل ملاکر ایک ہندستانی قوم تصور کرلیا گیا ہے لیکن مسلمانوں کے لئے یہ بنیادی طور پرہندو قیادت کے ساتھ معاہدہ امن و ہمسائیگی تھا۔ کیوں کہ ہندو مسلم تعلقات کا سوال ہی برطانوی حکمرانوں کے سامنے ملک چھوڑ نے سے پہلے سب سے بڑا سوال تھا، اسی سوال پر گول میز کانفرنسیں ہوئی تھیں اور اسی مسئلہ کی وجہ سے تقسیم بھی عمل میں آئی تھی۔ تقسیم کی مخالفت کرنے والے قائدین ملت کو اس وقت کے ہندو قائدین نے یہ بھروسہ دلاکر ہی ہندستان میں رہنے پر آمادہ کیاتھا کہ ملک میں سبھی فرقوں کو برابر کی آزادی حاصل ہوگی اور بقا ء و ترقی کے یکساں مواقع سب کو حاصل رہیں گے ، پھر اسی بات کو یقینی بنانے کے لئے دستور ساز اسمبلی میں طویل بحثیں ہوئی تھیں اور مسلم قائدین نے دستور سازی کے عمل میں حصہ لیا تھا۔ اس لحاظ سے موجودہ مملکت ہندستان یہاں کے دو بڑے فرقوں کے درمیان مفاہمت کا نتیجہ ہے۔ رہا درڑوں یا دلتوں کا سوال تو وہ ہندو قوم کے داخلی فرقوں کا آپسی مسئلہ تھا اور ہے۔
لہذا، آج ہندستان میں مسلمانوں کے وجود کی فکر کرنے والی کسی اجتماعی تنظیم کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ مسائل کو تاریخی تناظر میں دیکھے۔ ۵۱ رکنی کمیٹی نے مسلمانوں کے ساتھ ہور ہے ظلم و ستم پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا ارادہ کیا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لیکن اس وائٹ پیپر میں صرف حالیہ چند برسوں کے واقعات کا احاطہ کرنا کافی نہیں ہوگا اور سیاسی منطق کے لحاظ سے بھی یہ درست نہیں ہوگا۔ تشکیل مملکت سے لے کر اب تک کے تقریباً ۸۰ سال میں مسلمانوں کو جو تجربات ہوئے ہیں ان سب کا احاطہ ہونا چاہئے۔ دستور کو اس کی روح کے ساتھ عملاً نافذ کرنے کی ذمہ داری کو فریق ثانی نے کتنی ایمان داری اور سنجیدگی سے پورا کیا ہے اس کا دو ٹوک تجزیہ ہونا چاہئے۔ پھر اس بات پر غور ہونا چاہئے کہ معاہدے کے اسلامی ضابطوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کے لئے شرعی موقف کیا ہو۔ کیوں کہ کسی بھی قوم و ملت کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے وجود ی مسائل کے لئے دوراندیشی پر مبنی اور طویل مدتی تناظر کے ساتھ لائحہ عمل بنائے۔ محض وقتی طور سے اور ایڈہاک طریقے سے قوموں کے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ یہ قوموں کے مزید زوال کا سبب بنتے رہتے ہیں۔
ہندستان کے موجودہ سیاسی ماحول میں دو رجحانوں کا ٹکراؤ ظاہر ہونے لگا ہے۔ ایک رجحان ہندوؤں کی مذہبی و سماجی قیادت کا ہے جو ہندو دھارمک آستھاؤں کو ملک کے سیاسی نظام کی بنیاد بنانا چاہتی ہے اور ملک کو ہندو راشٹر بنانے کے عزم پر کاربند ہے۔دوسرا رجحان ملک کو ایک سیکولر اسٹیٹ بنائے رکھنے اور موجودہ دستورکو عملاً نافذ کرنے کا ہے۔ اس رجحان کے حامل تمام غیر ہندوفرقے اور ہندو سماج کے پست، مظلوم اورمحروم طبقات کے قائدین ہیں جو برہمن واد کے مخالف ہیں۔ عام ہندو سماج کے وہ لوگ بھی اس رجحان کے ساتھ ہیں جو ذہنی طور سے لبرل اور سیکولر ہیں اور ایک روادار سیاسی و سماجی ماحول کو پسند کرتے ہیں، یا نظریاتی طور سے سیکولر سیاسی پارٹیاں ہندو راشٹر کی مخالفت کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس کشمکش میں مسلمانوں کی اجتماعی قیادت کو اپنے لئے ایک جرآت مندانہ اور قائدانہ رول تلاش کرنا چاہئے۔ اس بات پر غور ہونا چاہئے کہ پورے ملک کو ہندوراشٹر بننے سے بچانے کی کوشش کے بجائے ملک کے کسی مخصوص اور محدود حصے میں ہندو راشٹر قائم کرنے کی پیش کش کیوں نہ کی جائے تا کہ باقی ماندہ ہندستان غیر ہندوتوادی فرقوں اور گروہوں پر مشتمل ایک مشترک اور سیکولر جمھویہ کے طورپر محفوظ ہوجائے جس میں ہندوتوا کے لئے کوئی جگہ نہ ہو۔
صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے