कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حجاب: لباسِ تقویٰ، شناختِ مسلم اور آزادیِ انتخاب

Hijab: The Garment of Piety, Muslim Identity, and Freedom of Choice

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

ستمبر کا مہینہ آتا ہے تو حجاب کا ذکر محض ایک لباس کے تذکرے تک محدود نہیں رہتا؛ یہ ایک ایسے فکری سوال کو زندہ کرتا ہے جس کا تعلق عورت کی عزّت، اس کی مذہبی آزادی، اس کی تہذیبی شناخت اور اس کے اپنے جسم و لباس کے بارے میں اختیار سے ہے۔ حجاب مسلمان عورت کے لیے محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ ایمان، حیا، بندگی، وقار اور اپنے خالق کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی ایک علامت ہے۔
دنیا میں لباس کے بے شمار انداز ہیں۔ ہر تہذیب نے اپنے مزاج، موسم، روایت، مذہب اور سماجی اقدار کے مطابق لباس کے اصول وضع کیے ہیں۔ کوئی مخصوص لباس پہن کر اپنی ثقافتی شناخت ظاہر کرتا ہے، کوئی مذہبی علامت کے ذریعے اپنے عقیدے کا اظہار کرتا ہے اور کوئی اپنے طرزِ لباس کو اپنی انفرادی آزادی کا حصّہ سمجھتا ہے۔ پھر اگر ایک مسلمان عورت اپنے ایمان اور مذہبی شعور کے مطابق حجاب اختیار کرتی ہے تو اس کے اس انتخاب کو آزادی کے دائرے سے باہر کیوں سمجھا جائے؟ یہی سوال حجاب کے پورے مسئلے کا بنیادی سوال ہے۔
حجاب کا اصل مفہوم یہ نہیں کہ عورت کو معاشرے سے کاٹ دیا جائے، اس کی صلاحیتوں کو محدود کردیا جائے یا اسے زندگی کے فعال میدانوں سے دور رکھا جائے۔ اسلام نے عورت کو علم، کردار، معاشرت، خاندان، دعوت، خدمت اور اجتماعی زندگی میں ایک باوقار مقام عطا کیا ہے۔ حجاب اس کردار کی نفی نہیں کرتا؛ بلکہ اس کے ظاہری اظہار کو حیا اور وقار کے ایک اخلاقی دائرے میں رکھتا ہے۔ قرآنِ مجید نے مومن مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہوں کی حفاظت اور پاک دامنی کی تعلیم دی ہے۔ اس لیے حیا اسلام میں صرف عورت کی ذمّہ داری نہیں؛ حیا ایک ہمہ گیر اخلاقی قدر ہے جس میں مرد اور عورت دونوں شریک ہیں۔ حجاب اسی وسیع تر تصورِ حیا کا ایک ظاہری اظہار ہے۔
حجاب کے عالمی مباحث میں مروہ الشربینیؒ کا نام ایک دردناک مگر یادگار باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ مروہ الشربینی ایک مصری مسلمان خاتون تھیں جو اپنے شوہر کے ساتھ جرمنی میں مقیم تھیں۔ وہ تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور اپنے مذہبی تشخص سے وابستہ خاتون تھیں۔ ان کا جرم صرف اتنا تھا کہ وہ اپنے ایمان کے مطابق حجاب پہنتی تھیں۔ ان کے پڑوس میں رہنے والے ایک شخص نے انہیں حجاب کی وجہ سے توہین آمیز الفاظ کہے اور انہیں "دہشت گرد” قرار دیا۔ مروہ نے اس طرزِ عمل کو خاموشی سے برداشت کرنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کیا۔ وہ عدالت گئیں تاکہ اپنی عزّت اور شہری حق کا تحفّظ حاصل کرسکیں۔ لیکن یکم جولائی 2009ء کو جرمنی کے شہر ڈریسڈن کی عدالت میں پیش آنے والا واقعہ انسانیت کے دامن پر ایک گہرا داغ بن گیا۔ عدالت کی کارروائی کے دوران حملہ آور نے اچانک مروہ پر چاقو سے حملہ کردیا۔
اس نے انہیں بار بار وار کرکے شدید زخمی کردیا اور بالآخر مروہ جانبر نہ ہوسکیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق انہیں 18 مرتبہ چاقو مارا گیا۔ وہ اس وقت تقریباً تین ماہ کی حاملہ تھیں۔ ان کا کم سن بیٹا بھی اس سانحے کے ماحول میں موجود تھا، جب کہ ان کے شوہر نے اپنی اہلیہ کو بچانے کی کوشش کی اور خود بھی شدید زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ صرف ایک عورت کے قتل کی داستان نہیں تھا؛ یہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی بھی تھا کہ تعصب جب قانون، اخلاق اور انسانیت سے بے نیاز ہو جائے تو وہ الفاظ سے بڑھ کر تشدّد کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ مروہ کی شہادت نے دنیا بھر میں مسلمانوں اور انسانی حقوق کے حلقوں کو جھنجھوڑ دیا۔ انہیں "شہیدۂ حجاب” کے نام سے یاد کیا گیا اور ان کی یاد میں 4 ستمبر کو حجاب سے یکجہتی کے عالمی دن کے طور پر منانے کی آواز بلند ہوئی۔
آج حجاب کے بارے میں سب سے زیادہ ضرورت جس بات کو سمجھنے کی ہے، وہ یہ ہے کہ حجاب کو صرف پابندی کے زاویے سے دیکھنا خود ایک فکری تعصب ہے۔ اگر کسی عورت کو لباس کے ایک خاص انداز سے روکنا جبر ہے تو اسے اس لباس سے روکنا بھی جبر ہی ہوگا جسے وہ اپنے مذہبی عقیدے اور ذاتی اطمینان کے مطابق اختیار کرنا چاہتی ہے۔ آزادی کا حقیقی مفہوم یہ نہیں کہ عورت کو صرف وہی لباس پہننے کی اجازت ہو جسے جدید معاشرہ پسند کرتا ہے۔ آزادی کا تقاضا تو یہ ہے کہ عورت کو یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ اپنے جسم، اپنے لباس اور اپنی مذہبی شناخت کے بارے میں باخبر اور رضاکارانہ فیصلہ کرسکے۔ اگر بے حجابی انتخاب ہوسکتی ہے تو حجاب بھی انتخاب ہوسکتا ہے۔ اگر جدید لباس آزادی کی علامت ہوسکتا ہے تو حجاب بھی آزادیِ ضمیر کی علامت ہوسکتا ہے۔ اصل مسئلہ لباس نہیں؛ اصل مسئلہ اختیار ہے۔
ہر قوم اپنی تہذیب کو محض کتابوں میں محفوظ نہیں رکھتی؛ وہ اسے اپنے لباس، زبان، خوراک، تہوار، خاندانی نظام، عبادات اور روزمرہ کے رویوں کے ذریعے زندہ رکھتی ہے۔ مسلمان عورت کا حجاب بھی اسلامی تہذیب کے اسی تسلسل کا حصّہ ہے۔ وہ جب حجاب اوڑھتی ہے تو گویا خاموش زبان میں یہ اعلان کرتی ہے کہ اس کی شناخت صرف بازار، فیشن اور صارفیت سے متعین نہیں ہوتی۔ اس کے وجود کے پیچھے ایک عقیدہ، ایک اخلاقی تصور، ایک تہذیبی حافظہ اور ایک روحانی وابستگی موجود ہے۔ حجاب اس کے لیے دنیا سے فرار نہیں؛ بلکہ دنیا کے ہجوم میں اپنی شناخت محفوظ رکھنے کا ایک طریقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی مسلم خواتین حجاب کو کمزوری نہیں بلکہ اعتماد، وقار اور خود شناسی کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔
حجاب کے ناقدین اکثر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ عورت کو اپنے جسم اور لباس کے بارے میں مکمل آزادی ہونی چاہیے۔ یہ اصول اپنی جگہ درست ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس آزادی کا اطلاق ہر عورت پر یکساں کیوں نہیں ہوتا؟ اگر ایک عورت مختصر لباس کو اپنی آزادی سمجھتی ہے تو اس کا احترام ضروری ہے؛ مگر اگر دوسری عورت اپنے مذہبی شعور کے مطابق حجاب کو اپنی آزادی سمجھتی ہے تو اس کے انتخاب کا احترام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ آزادی کا سب سے خوبصورت امتحان یہی ہے کہ ہم اس انتخاب کا بھی احترام کریں جو ہمیں پسند نہیں۔ اگر ہم واقعی آزاد معاشرے کے قائل ہیں تو ہمیں عورت کے حجاب کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے قبول کرنا ہوگا جتنی اس کے کسی دوسرے ذاتی انتخاب کو۔
جدید دنیا نے عورت کے لیے تعلیم اور روزگار کے بے شمار دروازے کھولے ہیں۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ترقی کا تصور کسی مخصوص لباس، مخصوص ظاہری شکل یا مخصوص تہذیبی سانچے سے وابستہ کردیا جائے۔ کیا ایک حجاب پوش ڈاکٹر کم قابل ڈاکٹر ہے؟ کیا ایک باحجاب استاد کی علمی صلاحیت کم ہوجاتی ہے؟ کیا ایک باحجاب سائنس دان کی تحقیق کی اہمیت کم ہوجاتی ہے؟ کیا ایک باحجاب صحافی کی فکر کم معتبر ہوجاتی ہے؟ یقیناً نہیں۔ انسان کی قابلیت اس کے لباس سے نہیں، اس کے علم، کردار، صلاحیت اور خدمت سے متعین ہونی چاہیے۔ حجاب کسی عورت کے ذہن کو نہیں ڈھانپتا؛ وہ اس کے لباس کا ایک حصّہ ہے۔ اس کے باوجود بعض معاشروں میں ایک باحجاب عورت کو دیکھ کر اس کی قابلیت، ذہانت یا جدید شعور کے بارے میں پہلے ہی سے فیصلے قائم کرلیے جاتے ہیں۔ یہ رویہ بھی اسی تعصب کی ایک شکل ہے جس کے خلاف انسانی حقوق کی زبان بلند کی جاتی ہے۔
حجاب کے بارے میں ایک اور غلط تصور یہ ہے کہ یہ صرف خواتین کا مسئلہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی معاشرت میں حیا کا تصور مرد و عورت دونوں کے لیے ہے۔ مرد کے لیے نگاہ کی حفاظت، عورت کے لیے لباس اور حیا کے تقاضے، گفتگو کے آداب، معاشرتی حدود اور باہمی احترام—یہ سب ایک مکمل اخلاقی نظام کا حصّہ ہیں۔ اس لیے حجاب کو صرف عورت کے لباس تک محدود کر دینا بھی اسلامی تصورِ حیا کو محدود کر دینا ہے۔ اسلام ایک ایسی معاشرت چاہتا ہے جہاں عورت کو محض جسم نہ سمجھا جائے، جہاں اس کی شخصیت کو اس کے ظاہری حسن سے آگے دیکھا جائے، جہاں مرد کی نگاہ بھی ذمّہ دار ہو اور عورت کی عزّت بھی محفوظ ہو۔ یہی حیا کا وسیع تر تصور ہے۔
آج دنیا بھر میں ایسی مسلم خواتین موجود ہیں جو حجاب کے ساتھ تعلیم حاصل کررہی ہیں، طب کے شعبے میں خدمات انجام دے رہی ہیں، جامعات میں تدریس کررہی ہیں، تحقیق کررہی ہیں، صحافت سے وابستہ ہیں، کاروبار کررہی ہیں اور مختلف سماجی و انسانی خدمت کے میدانوں میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔ ان کے لیے حجاب زندگی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ ان کی شناخت کا حصّہ ہے۔ یہ منظر ایک اہم حقیقت سامنے لاتا ہے: حجاب نے عورت کو دنیا سے چھپایا نہیں؛ بہت سی خواتین نے حجاب کے ساتھ دنیا کے سامنے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے۔ یہی حجاب کی وہ تعبیر ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حجاب دیوار نہیں، اگر اسے شعور کے ساتھ اختیار کیا جائے تو وہ شناخت بن سکتا ہے۔ حجاب خاموشی نہیں، وہ اپنے عقیدے کے اظہار کی ایک زبان ہوسکتا ہے۔ حجاب کمزوری نہیں، وہ بعض حالات میں اپنے اصول پر قائم رہنے کا حوصلہ بن سکتا ہے۔
آج مسلمان نوجوان ایک ایسے عالمی ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں جہاں فیشن، اشتہارات، سوشل میڈیا اور صارفیت نے خوب صورتی کے مخصوص پیمانے قائم کردیے ہیں۔ خوب صورتی کو ظاہری جسم، لباس اور نمائش کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں حجاب محض ایک فقہی مسئلہ نہیں رہتا؛ وہ ایک فکری تربیت کا مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔ نوجوان مسلمان لڑکی کو یہ سمجھانا ہوگا کہ اس کی قدر اس کے جسم کی نمائش میں نہیں، اس کی شخصیت، علم، اخلاق، صلاحیت اور کردار میں ہے۔ اسے یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ حجاب محض سر پر کپڑا رکھنے کا نام نہیں؛ حجاب کے ساتھ کردار کا حجاب، نگاہ کا حجاب، گفتگو کا حجاب، رویے کا حجاب اور دل کی پاکیزگی بھی مطلوب ہے۔ کیونکہ اگر لباس حجاب میں ہو مگر کردار بے حجاب ہو تو حجاب کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔
مسلمان معاشرے کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ حجاب کی پوری ذمّہ داری عورت کے کندھوں پر ڈال دینا اسلامی تعلیم کا مکمل تصور نہیں۔ اگر عورت سے حیا کا مطالبہ ہے تو مرد سے بھی نگاہ کی حفاظت کا مطالبہ ہے۔ اگر عورت سے پاکیزہ لباس کی توقع ہے تو مرد سے بھی پاکیزہ کردار مطلوب ہے۔ اگر عورت کو عزت دینے کی تعلیم ہے تو مرد کو بھی اپنی نگاہ، زبان اور رویے کی نگرانی کرنی ہوگی۔ اس لیے حجاب کی تحریک صرف خواتین کی تحریک نہیں ہونی چاہیے؛ یہ پورے معاشرے کی تحریکِ حیا ہونی چاہیے۔
مروہ الشربینیؒ کی داستان کو صرف جذباتی واقعے کے طور پر یاد کرنا کافی نہیں۔ ان کی یاد ہمیں کئی بنیادی سبق دیتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ مذہبی شناخت کے احترام کے بغیر آزادی ادھوری ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قانون کی بالادستی صرف قانون کی کتابوں میں نہیں بلکہ کمزور انسان کے تحفّظ میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ ہمیں سمجھاتی ہے کہ تعصب اگر معمولی مذاق اور نفرت انگیز الفاظ سے شروع ہو تو کبھی کبھی سنگین تشدّد تک پہنچ سکتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ واقعہ ہمیں یہ سوال دیتا ہے: کیا ہم واقعی ایسے معاشرے کی تعمیر چاہتے ہیں جہاں ہر انسان کو اپنے ایمان، ضمیر اور شناخت کے مطابق جینے کا حق حاصل ہو؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو حجاب کے حق کو بھی اسی اصول کے تحت تسلیم کرنا ہوگا۔
حجاب کو اگر صرف کپڑے کی سطح پر دیکھا جائے تو اس کا مفہوم بہت محدود ہو جاتا ہے۔ ایک مومن عورت کے لیے حجاب دراصل ایک خاموش عہد ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ربّ کے حکم کو اپنی خواہش پر ترجیح دے گی۔ کہ وہ اپنی شخصیت کو محض ظاہری حسن تک محدود نہیں ہونے دے گی۔ کہ وہ حیا کو کمزوری نہیں سمجھے گی۔ کہ وہ اپنی مذہبی شناخت پر شرمندہ نہیں ہوگی۔ کہ وہ علم، کردار اور خدمت کے میدان میں آگے بڑھے گی، مگر اپنی اخلاقی اور دینی حدود کو فراموش نہیں کرے گی۔ اور یہ عہد کسی ایک دن کا محتاج نہیں۔ حجاب کا اصل دن وہ دن ہے جب ایک عورت اپنے ربّ کے سامنے کھڑی ہوکر اپنے لباس، اپنی نیت اور اپنے کردار کے بارے میں مطمئن ہو۔
ستمبر ہمیں مروہ الشربینیؒ کی یاد دلاتا ہے، مگر مروہ کی داستان صرف ایک شہادت کی داستان نہیں؛ یہ اختیار، وقار، مذہبی آزادی اور انسانی احترام کی داستان بھی ہے۔ ہمیں حجاب کے دفاع میں نفرت نہیں، دلیل چاہیے۔ شور نہیں، شعور چاہیے۔ دوسروں کی تحقیر نہیں، اپنے کردار کی بلندی چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ حجاب اختیار کرنے والی عورت علم، اخلاق، خدمت اور انسانیت کے میدان میں کسی سے پیچھے نہیں۔ حجاب کا سب سے مؤثر جواب خوب صورت کردار ہے۔
حجاب کا سب سے مضبوط دفاع باشعور مسلمان عورت ہے۔ حجاب کی سب سے روشن دعوت ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں مرد بھی حیا کا پیکر ہو، عورت بھی وقار کی علامت ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو اور ہر انسان کو اپنے جائز مذہبی و شخصی انتخاب کے ساتھ عزت سے جینے کا حق حاصل ہو۔ مروہ الشربینیؒ چلی گئیں، مگر ان کی یاد نے ایک سوال زندہ چھوڑ دیا: کیا ایک عورت کو اپنے رب کی اطاعت کے لیے اپنے لباس کا انتخاب کرنے کا حق ہے؟ اس سوال کا جواب صرف مسلمان عورت کے لیے نہیں، پوری انسانیت کے لیے اہم ہے۔ کیونکہ جس معاشرے میں انسان کو اپنے ضمیر، عقیدے اور شناخت کے مطابق جینے کی آزادی حاصل ہو، وہی معاشرہ حقیقی معنوں میں مہذب کہلانے کا مستحق ہے۔
اور حجاب؟
حجاب محض سر ڈھانپنے کا نام نہیں؛
یہ اس یقین کا نام ہے کہ انسان کی اصل عظمت اس کے ظاہر کی نمائش میں نہیں،
اس کے باطن کی پاکیزگی، کردار کی بلندی اور اپنے ربّ سے وفاداری میں ہے۔
🗓 (06.09.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے