कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بارش، چولہا اور بھٹے

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر

شام کا وقت تھا۔ آسمان پر بادلوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے اور بوندیں بھی وقفے وقفے سے زمین کو بھگو رہی تھیں۔ ایسے میں دروازہ کھلا تو ابا جان ایک بڑا سا تھیلا اٹھائے اندر داخل ہوئے۔ تھیلے میں بھٹے تھے۔ بھٹے دیکھتے ہی گھر میں جیسے ایک چھوٹی سی مجلس منعقد ہوگئی۔ کسی نے کہا، ’’آج تو بھٹے بھون کر کھائیں گے!‘‘ دوسرے نے فوراً مشورہ دیا، ’’گیس پر بھون لیتے ہیں، کام بھی جلدی ہوجائے گا۔‘‘ تیسرے نے اپنی دانائی جھاڑی، ’’گیس کیوں جلانی؟ مائیکروویو میں گرم کرلیتے ہیں۔‘‘ کسی کو خیال آیا کہ دانے الگ کرکے ذرا کڑک دار بنا کر کھائے جائیں، جبکہ ایک صاحب نے اصرار کیا کہ بھٹے ابال کر کھانے میں ہی اصل لطف ہے۔ یوں ایک معمولی سے بھٹے نے گھر میں ایسی بحث چھیڑ دی جیسے قومی اسمبلی میں کوئی نہایت اہم مسئلہ زیرِ غور ہو۔
آخرکار بڑے بھائی نے سب کو خاموش کروا کر ایک ایسا مشورہ پیش کیا جس پر سب کی آنکھیں چمک اٹھیں، ’’اتنے سارے جدید آلات گھر میں موجود ہیں، مگر کیوں نہ آج پرانے زمانے کا مزہ لیا جائے؟ آنگن میں چولہا جلاتے ہیں اور بھٹے کوئلوں پر بھونتے ہیں۔‘‘ یہ تجویز ایسی پسند آئی کہ کسی نے مائیکروویو کی طرف دوبارہ دیکھا تک نہیں۔ حالانکہ گھر میں گیس بھی تھی، اوون بھی، مائیکروویو بھی اور پریسٹیج یعنی انڈکشن بھی، مگر آج ان سب جدید سہولتوں کو یوں نظرانداز کیا گیا جیسے یہ سب گھر میں صرف نمائش کے لیے رکھی گئی ہوں۔
آنگن کے ایک جانب، جہاں سے گھر کا راستہ گزرتا تھا، اینٹیں جمع کرکے چولہے کی بنیاد رکھی گئی۔ بڑے بھائی نے لکڑیاں سنبھالیں اور چھوٹے بھائی کو کوئلے لانے کے مشن پر روانہ کردیا۔ باہر ہلکی ہلکی بارش جاری تھی۔ کچھ دیر بعد وہ بیچارہ کوئلوں کی تھیلی اٹھائے واپس آیا۔ بال مکمل بھیگے نہیں تھے، کپڑے بھی صرف اتنے تر تھے کہ اس کی حالت دیکھ کر ہنسی آئے اور ترس بھی۔ آتے ہی بولا، ’’لو جی! کوئلے بھی آگئے اور میں بھی!‘‘
چولہے میں لکڑیاں سلگائی گئیں، کوئلے ڈالے گئے اور تھوڑی ہی دیر میں انگاروں نے سرخ آنکھیں دکھانا شروع کردیں۔ پھر ابا جان اور امی نے مل کر بھٹے بھوننے کا بیڑا اٹھایا۔ کبھی ابا جان بھٹا گھماتے، کبھی امی دیکھتیں کہ کہیں زیادہ جل نہ جائے۔ دھوئیں کی خوشبو، بارش کی ٹھنڈی پھوار اور بھنے ہوئے بھٹوں کی مہک نے آنگن کا ماحول ہی بدل دیا۔ چند ہی لمحوں میں بھٹے ایسے سنہری اور خوشبودار ہوگئے کہ مائیکروویو، اوون، گیس اور انڈکشن سب اپنی اپنی جگہ بےکار معلوم ہونے لگے۔
آخرکار بھٹے ہماری پلیٹوں میں پہنچے۔ ان پر لیموں نچوڑا گیا، نمک اور مرچ چھڑکی گئی اور ہم تینوں نے مزے سے بانٹ کر کھانا شروع کیا۔ امی بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئیں۔ پہلا نوالہ منہ میں جاتے ہی سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کسی نے کچھ نہ کہا۔ اس وقت الفاظ کی ضرورت بھی نہیں تھی؛ سب نے یک بہ یک الحمد للہ کہا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ، بھٹا خود اپنی تعریف کروا رہا تھا۔ بڑے بھائی نے آخرکار خاموشی توڑتے ہوئے کہا، ’’ماننا پڑے گا، چولہے والے بھٹے کا مزہ ہی الگ ہے۔‘‘ چھوٹا بھائی فوراً بولا، ’’خاص طور پر اُس وقت جب کوئلے کوئی اور لا کر دے!‘‘ سب ہنس پڑے اور بے چارہ چھوٹا بھائی بھی اپنی محنت کا بدلہ قہقہوں کی صورت میں وصول کرکے بیٹھ گیا۔ ایک طرف ہلکی بارش، دوسری طرف دہکتے انگارے، درمیان میں بھنے ہوئے بھٹے اور چاروں طرف اپنوں کی ہنسی اور گفت و شنید اور لمبے لمبے قہقہے۔۔۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے