कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قومی پھوپھا

مزاح نگار : ڈاکٹر محمد عظیم الدین

ہمارے دوست اور معروف شاعر وفا بیودوی، جو شاعری کے رموز کے ساتھ ساتھ خاندانی رشتوں کی نفسیات بھی خوب سمجھتے ہیں، فرماتے ہیں کہ اگر ہمارے خطے پر برطانوی راج اور ہر وقت روٹھنے والے پھوپھاؤں کی افتاد نہ ٹوٹی ہوتی، تو آج ہم اتنے مایوس نہ ہوتے کہ ٹی وی پر بادلوں کے آنے کی خبر سن کر بھی ماتھا پیٹنے لگیں۔ وفا بیودوی کا پختہ یقین ہے کہ بھارتی معاشرے کے مشترکہ خاندانی نظام میں "پھوپھا” کسی عام انسان، خونی رشتے یا عارضی تقریباتی مہمان کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ دراصل احساسِ برتری اور دائمی بدہضمی کا وہ مجسم اور دستوری ادارہ ہے جس کی تشکیل ہی اس بنیادی شرط پر کی گئی ہے کہ دنیا چاہے ادھر کی ادھر ہو جائے، اس نے ہر حال میں منہ پھلا کر ہی بیٹھنا ہے۔
پھوپھا کی تکوینی ساخت میں ربِ کریم نے خفگی کا مادہ کچھ اتنی فیاضی سے ودیعت فرمایا ہے کہ اگر انہیں گلاب جامن کی گرم چاشنی میں ڈبو کر بھی تختِ طاؤس پر بٹھا دیا جائے، تب بھی وہ پیشانی پر بل ڈال کر حلوائی پر یہ مقدمہ دائر کر دیں گے کہ شیرے میں چھوٹی الائچی کے بیج کا رخ قبلے کی جانب کیوں نہ تھا۔ اب ذرا گردشِ دوراں اور حسنِ اتفاق کی ستم ظریفی دیکھیے کہ اگر کسی ایسے ہی پیدائشی ناراض، چیں برجبیں اور انا کے بوجھ تلے دبے بزرگ کو خاندانی دیوان خانے سے نکال کر پورے بھارت کی مسندِ اقتدار پر بٹھا دیا جائے اور درباری منادی کر دیں کہ دہر میں آج سے یہی باکمال ہستی "وشو گرو” ہے، تو پوری ملکی سیاست خاندانی شادی کے اس آخری پہر کا منظر پیش کرنے لگتی ہے جہاں دولہا، دلہن اور براتی سب سہمے ہوئے ایک کونے میں دبکے بیٹھے ہوں اور پنڈال میں صرف پھوپھا جی کی دہاڑ اور ٹھنڈے سالن کے طعنے گونج رہے ہوں۔
ایک شام قبلہ حکیم نباض الدولہ کے مطب میں، جہاں روح اور پیٹ کے تمام عوارض ایک ہی شیشے سے ناپے جاتے ہیں، ہم نے پوچھ ہی لیا کہ حضرت! ان ممدوح کے چہرے پر بارہ مہینے یہ جو غضب کے بادل چھائے رہتے ہیں، اس کے پیچھے کون سا گہرا سیاسی فلسفہ کارفرما ہے؟ حکیم صاحب نے اپنی موٹی عینک کے شیشوں کے پیچھے سے گھورا، ہونٹوں پر ایک معنی خیز تبسم ابھرا اور فرمایا: "قبلہ! سیاسی فلسفہ تو قوم کو بہلانے کا چورن ہے، اصل بیماری اندرونی ریاح اور انا کی بدہضمی ہے۔ جب کسی ایسے شخص کو، جو محلے کے پنچایتی جھگڑے نبٹانے کا اہل نہ ہو، ملک کا کوتوال بنا دیا جائے، تو اسے ہر دم یہی وسوسہ کھائے جاتا ہے کہ رعایا کہیں اس کی اصلیت نہ بھانپ لے۔ نتیجہ یہ کہ وہ سینہ تان کر، آنکھیں نکال کر اور ہر ملاقاتی کو گناہ گار ٹھہرا کر اپنا بھرم قائم رکھتا ہے تاکہ دنیا اسے شیر کی دہاڑ سمجھے؛ حالانکہ حقیقتِ حال محض اتنی ہے کہ مریض ضرورت سے زیادہ وزنی کرسی پر بیٹھ کر پیٹ کے مروڑ کا شکار ہو چکا ہے۔”
اس قبیل کے پھوپھاؤں کا سب سے دل آویز اور محیر العقول تضاد ان کا جغرافیائی رویہ ہے۔ جب تک موصوف دیس کی چاردیواری میں تشریف فرما رہتے ہیں، ان کے چہرۂ مبارک پر وہ مخصوص جھنجھلاہٹ رقصاں رہتی ہے جو اس پرانے منشی کے ماتھے پر دکھائی دیتی ہے جس نے پوری بستی کی پنشن ہڑپ کر لی ہو اور جب حساب مانگا جائے تو وہ الٹا کھاتہ داروں کی سات پشتوں کو بددیانت قرار دے کر حقے کی نے پٹخ دے۔ یہاں ان کے لبوں پر مسرت کا گزر اتنا ہی نایاب ہے جتنا عید کے روز محلے کے حجام کا مفت خط بنانا۔ اپنے ہی ہم وطنوں سے شگفتگی سے پیش آنا ان کے نزدیک شاید دفتری بدعنوانی اور قومی وقار کی توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن حسنِ اتفاق کا کرشمہ دیکھیے کہ یہی پیکرِ جلال جیسے ہی پردیس کی سر زمین پر قدم رنجہ فرماتے ہیں اور جہاز کی آخری سیڑھی اترتے ہیں، ان کی جبینِ نیاز کے تمام بل یوں لمحوں میں رفع دفع ہو جاتے ہیں جیسے سسرال والوں کی گاڑی دیکھ کر روٹھی ہوئی دلہن کا نخرہ۔
دیارِ غیر میں کیمرے کا عدسہ چمکتے ہی ان کا انگ انگ شگفتگی کا مرقع بن جاتا ہے۔ وہ دنیا بھر کے گورے، کالے اور ادھیڑ عمر سربراہانِ مملکت سے یوں لپٹتے ہیں جیسے قحط زدہ دیہاتی پرائی دیگ پر گرتا ہے۔ ان کی باچھیں اس قدر پھیل جاتی ہیں کہ بغل گیر ہوتے وقت غیر ملکی صدر کو یہ خطرہ لاحق ہو جاتا ہے کہ کہیں پھوپھا جی فرطِ محبت میں اس کا کان ہی نہ چبا جائیں۔ اس عالمِ وجد میں وہ جس والہانہ انداز سے کیمرے کے زاویے کی طرف رخ موڑ کر دانت نکالتے ہیں، اسے دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ برسوں بعد کسی گنوار کو سسرال کی جائیداد کا مفت پروانہ ہاتھ آ گیا ہے۔ مگر ستم ظریفی کا کمال یہ ہے کہ جوں ہی ہوائی جہاز کا پہیہ دوبارہ بھارتی رن وے کو چھوتا ہے، وہ تمام شوخی اور دل نوازی پلک جھپکتے میں کافور ہو جاتی ہے اور موصوف ایک بار پھر وہی سنگلاخ تیور لے کر لاؤنج سے برآمد ہوتے ہیں کہ "میرے فریم میں یہ دوسرا شخص میرے برابر کھڑا ہو کر سانس لینے کی جسارت کیسے کر رہا ہے؟”
خاندانی اخلاقیات کا سب سے بڑا تماشا یہ ہے کہ پھوپھا جی خود کو احتساب اور جواب دہی کی سرحدوں سے ماورا تصور کرتے ہیں۔ ان کا ایمان ہے کہ حال کی ہر بربادی دراصل ماضی کی ارواح کا چھوڑا ہوا عذاب ہے۔ شادی کے ہال میں پنکھا شور مچائے تو سارا قصور ان گزرے ہوئے بزرگوں کا ہے جن کی بدولت بجلی کا تار اس گلی تک پہنچا تھا، چٹنی کھٹی ہو جائے تو دوش ان پرانے کسانوں پر جائے گا جنہوں نے آم کا پودا غلط سمت میں لگایا تھا، اور جب بے روزگاری کا طوفان نئی نسل کا گھیراؤ کر لے، تو یہ خود ساختہ مفکرِ اعظم پوڈیم سے دہاڑ کر اعلان فرماتے ہیں کہ ملک کی ساری بدحالی کا سبب 70 سال پرانے رہنما کا چائے میں ضرورت سے زیادہ مٹھاس گھولنا تھا، جس کے ذیابیطسی اثرات آج کی معیشت بھگت رہی ہے۔
ان نادرِ روزگار بزرگ کا علم و شعور اس قدر یک طرفہ ہے کہ یہ وہ فکری عجوبہ ہیں جنہیں آپ روبوٹکس کی نمائش میں لے جائیں یا ماہرینِ فلکیات کی کانفرنس میں چھوڑ آئیں، یہ الیکٹران اور بلیک ہول کے بجائے ڈائس پر گھونسہ مار کر اسی نالے کے شکوے دہرائیں گے کہ 70 سال ادھر خاندانی اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے چچا کی تختی پر جو لال لکیر کھینچی تھی، قوم آج تک اسی منحوس لکیر کی قید کاٹ رہی ہے۔ ان کے فہم کی پٹری اس حد تک زنگ آلود ہو چکی ہے کہ وہاں تاریخ اور حال کا کوئی باہمی تبادلہ ممکن ہی نہیں رہا۔ زمانہ چاہے کسی بھی نئے افق کی سرحدوں کو چھو لے، ان کی سوچ کا قلی ہر پلیٹ فارم پر صرف انہی مردہ بزرگوں کی کھوپڑیوں کا گٹھڑ اتارتا ہے جن پر الزامات کی نئی مہریں چسپاں کی جا سکیں۔
پھوپھا کی طبیعت کا سب سے نمایاں خبط ان کا نشۂ تصویر کشی ہے۔ ان کی خود ساختہ شریعت میں عکاسی محض تشہیر نہیں بلکہ خود پسندی کا وہ چلہ ہے جس میں کسی دوسرے انسان کے چہرے کا نمودار ہونا کفر مانا جاتا ہے۔ محفل چاہے شادی کی ہو یا بجٹ کی، تمام کیمروں کا قبلہ فقط ان کی مسکراہٹ کی جانب رہنا واجب ہے۔ بیچ میں کوئی ناسمجھ ساتھی یا عالمی معزز بھی آ کر کھڑا ہو جائے تو پھوپھا کے ہاتھ کی پھرتی اسے یوں پسِ پردہ دھکیل دیتی ہے جیسے دودھ میں گری مکھی کو نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ مگر جب کسرِ نفسی کا ڈراما رچاتے ہوئے وہی بزرگ ڈائس سے روہانسی آواز میں کہتے ہیں کہ "ہم تو فقیر آدمی ہیں، جھولا اٹھا کر چل دیں گے”، تو وفا بیودوی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر فرماتے ہیں کہ "الٰہی، اس فقیر کی جھولی سے پناہ دینا، کیونکہ اس گٹھڑی کی سلوٹوں میں 400 درجن کیمرے، شاہی طیاروں کا بے پناہ خرچ اور غریبوں کے نوالوں کا خراج نفاست سے سِلا ہوا ہے۔”
لیکن اگر کبھی گلی کا کوئی نڈر اور گستاخ نوجوان، جس کی بصارت پر مصلحت کا چشمہ اور عقل پر آبائی بزرگی کی افیون نہ چڑھی ہو، سرِ دربار اٹھ کر راشن کے کھاتے اور پچھلے قرضوں کا حساب طلب کر لے، تو پھوپھا کے رعب کا قلعہ لمحوں میں ڈھہ کر ایک نم دیدہ مزار کا روپ دھار لیتا ہے۔ وہ جلال جو ابھی چند لمحے پیشتر بجلیاں گرا رہا تھا، چشم زدن میں لاچاری کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ فوراً درباری مدح خوانوں، وظیفہ خوار ڈھولچیوں اور دسترخوان کے چمچوں کا اجلاسِ خاص طلب کیا جاتا ہے، اور پھوپھا جی گلا رندھا کر دہائی دیتے ہیں کہ "اے اہلِ وفا! کیا قیامت ہے کہ اس سفید ریش، زاہدِ شب بیدار اور سچے ولی پر اس نوعمر باغی نے سوال کا تیر برسا دیا ہے!” وفا بیودوی فرماتے ہیں کہ اس نزاکت کے وقت ان کے رخساروں پر آنسوؤں کی ڈھلوان کچھ ایسا منظر باندھتی ہے گویا نیم ترش دہی کی رکابی پر کسی بدمذاق مہمان نے زبردستی عرقِ گلاب الٹ دیا ہو۔ محفل میں دل سوزی اور پشیمانی کا ایسا عارضی سیلاب امڈتا ہے کہ پورا قبیلہ اپنے کٹے ہوئے جیب اور لٹے ہوئے توشے کی فکر بالائے طاق رکھ کر، آنکھیں بند کیے پھوپھا کے دامن کا کونہ چومنے اور اپنے ہی سوال پر توبہ کرنے کے لیے ایک دوسرے پر گرا پڑتا ہے۔
درباری بھانڈ دن رات محلے کی گلیوں میں یہ ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ پھوپھا جی نے رات کو صرف 3 گھنٹے آنکھ جھپکی ہے، اور باقی 21 گھنٹے وہ اس جان لیوا صدمے میں نڈھال رہے کہ حزبِ مخالف کے گستاخ لونڈے نے ان کی شیروانی کے کالر پر انگلی کیوں اٹھائی۔ وہ ہر اس شخص کو خاندان کا غدار، ملحد اور بدنسل قرار دیتے ہیں جو ان کی جھوٹی کھانسی پر سبحان اللہ کہنے سے انکار کر دے۔ وہ یہ تسلیم کرنے کے لیے کسی قیمت پر تیار نہیں ہوتے کہ اب دنیا محض ان کی مصنوعی گھن گرج اور تن کر چلنے والی توند سے مرعوب ہونا چھوڑ چکی ہے۔
ستم ظریفی کی انتہا تو اس وقت دیدنی ہوتی ہے جب موصوف خود منچ پر کھڑے ہو کر سامنے والوں کو "ناراض پھوپھا” کے خطاب سے نوازتے ہیں۔ عربی کا پرانا مقولہ ہے کہ مجنون کو ہر راہگیر پاگل نظر آتا ہے۔ جب انسان اپنی شہادت کی انگلی دوسروں کی طرف اٹھاتا ہے، تو اس کے ہاتھ کی باقی 3 مڑی ہوئی انگلیاں خاموشی سے چیخ رہی ہوتی ہیں کہ بیماری کا اصل مرکز کہاں واقع ہے۔ پھوپھا جی کے نزدیک سارا ملک دراصل ان کے سسرال کا وہ لاوارث احاطہ ہے جس کے تمام شہری بدتمیز سالے اور سست بھانجے ہیں، جن کا واحد مصرف یہ ہے کہ وہ صبح و شام پھوپھا کے ناز نخرے اٹھائیں، ان کے جھوٹ پر تالیاں پیٹیں اور ان کی بدحواسیوں کو الہامی حکمت سمجھ کر سر جھکائے رکھیں۔
الحاصل، تاریخ کے اس موڑ پر پہنچ کر وشو گرو کے اس دائمی ناراض پھوپھا کا وجود اب کسی رعب یا ہیبت کا نہیں بلکہ خالص تفریح اور عبرت کا سامان بن چکا ہے۔ پنڈال کے تماشائی اب تالیاں بجانا بھول کر آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہیں کہ جب مداری کی پٹاری میں سانپ کے بجائے محض چند خشک مینڈک رہ جائیں، تو وہ کٹورا بجانے کے بجائے صرف پرانے بزرگوں کو کوس کر ہی اپنا تماشا قائم رکھ سکتا ہے۔ کسی بستی پر قحط نازل ہو تو بارش کی دعا مانگی جا سکتی ہے، وبا پھیل جائے تو قرنطینہ کام آ جاتا ہے؛ مگر جس قوم کے سر پر ایسا خود پسند، شکمی اور ہمہ وقت خفا رہنے والا پھوپھا مسلط کر دیا جائے جو اپنی ہر ناکامی کو تقدس اور ہر معقول سوال کو اپنی ذات کی توہین قرار دے، وہاں پھر ترقی، دانش اور شعور کے چراغ گل ہو جاتے ہیں، اور پیچھے صرف ایک بدمزاج بوڑھے کی لایعنی بڑبڑاہٹ باقی رہ جاتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے