कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آئینہ خانہ:’معمارِ قوم‘ کی 24 گھنٹے والی عزت اور ہمارے ’ڈیٹا انٹری‘ ماسٹر جی!

از : سید رشید اللہ حسینی ، اطہر کلیم احمد

۵؍ ستمبر کا دن ہمارے ملک کے اساتذہ کے لیے کسی سینڈریلا کی کہانی سے کم نہیں ہوتا۔ صبح ہوتے ہی واٹس ایپ پر ’معمارِ قوم‘ اور ’جلتی ہوئی موم بتی‘ کے تمغے بٹنے لگتے ہیں، بچے پانچ روپے والاپلاسٹک کا گلاب دے کر بورڈ کے امتحان میں گریس مارکس کی امید لگاتے ہیں، اور لیڈرانِ قوم مائیک پکڑ کر ایسے جذباتی بھاشن دیتے ہیں جیسے کل سے تمام ماسٹروں کو لیڈروں جیسی عزت ملنے والی ہو۔ لیکن ۶؍ ستمبر کا سورج نکلتے ہی یہ سارا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔ ہمارا یہ کالم شائع ہونے تک ہمارا ’معمارِ قوم‘ دوبارہ سے ایک عام سرکاری مزدور بن چکا ہوگا، جو کبھی مڈ ڈے میل کے چاولوں میں کیڑے ڈھونڈ رہا ہوتا ہے، کبھی الیکشن کی پرچیاں بانٹ رہا ہوتا ہے، اور کبھی پلس پولیو کے قطرے پلاتے ہوئے محلے کے کتوں سے بچنے کی ترکیبیں سوچ رہا ہوتا ہے۔ جدید تعلیمی پالیسیوں نے تو استاد کی صلاحیتوں کو اتنا نکھار دیا ہے کہ اب حکومت انہیں انسان کم اور بجلی کا ’ایکسٹینشن بورڈ‘ زیادہ سمجھتی ہے، جس میں ہر محکمے کا پلگ باآسانی ٹھونسا جا سکتا ہے۔ آج کل تو اساتذہ کے گلے میں ’ایس آئی آر‘ (SIR) نامی آن لائن ڈیٹا انٹری کا نیا طوق بھی ڈال دیا گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب اسکولوں میں بچے احترام سے ’سر‘ (Sir) کہتے تھے تو ماسٹر جی کا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا تھا۔ اب حکومت نے ان کے ذمے ’ایس آئی آر‘ کا ایسا عذاب اور ایپس کا ایسا بوجھ لاد دیا ہے کہ بازار میں کوئی سبزی والابھی غلطی سے آواز لگا دے ’’سر جی!‘‘ تو ماسٹر صاحب خوف سے کانپ جاتے ہیں کہ شاید محکمہ تعلیم کا کوئی نیا سروے آ گیا ہے۔ استاد اب کلاس روم میں چاک اور ڈسٹر سے زیادہ اسمارٹ فون چلاتا ہے، تاکہ ہر پندرہ منٹ بعد حکومت کی کسی نئی ایپ پر اسکول کے واش روم کے سامنے کھڑے ہو کر جیو ٹیگ (Geo-Tag) سیلفی اپلوڈ کر کے ثابت کر سکے کہ وہ ڈیوٹی پر ہی ہے، کسی ہوٹل پر چائے نہیں پی رہا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے اساتذہ اب پڑھانے والے کم اور ’ڈیٹا انٹری آپریٹر‘ زیادہ بن چکے ہیں۔ وہ بیچارے ساری رات جاگ کر یو ڈائس (U-DISE) کے پورٹل پر بچوں کا آدھار کارڈ لنک کرتے ہیں اور صبح ہسٹری کی کلاس میں کھڑے ہو کر سوچتے ہیں کہ اکبر اعظم کا آدھار کارڈ بنا تھا یا پین کارڈ!
اور رہی سہی کسر آج کل کے ’جین زی‘ (Gen-Z) طلبہ اور ان کے ’کارپوریٹ‘ والدین نے پوری کر دی ہے۔ یہ نئی نسل کلاس میں بیٹھ کر علم نہیں، ’وائبز‘ (Vibes) تلاش کرتی ہے۔ ان کے لیے استاد کوئی قابلِ احترام ہستی نہیں، بلکہ ایک چلتا پھرتا یوٹیوب ویڈیو ہے جسے وہ بدقسمتی سے ’اسکپ‘ (Skip) نہیں کر سکتے۔ اگر استاد تاریخ پڑھاتے ہوئے بتائے کہ بابر نے پانی پت کی جنگ جیتی تھی، تو یہ جین زی طلبہ نہایت معصومیت سے کہتے ہیں، ’’سر! بابر کی وائبز بہت ٹاکسک (Toxic) اور ریڈ فلیگ (Red Flag) لگ رہی ہیں، پلیز اسے کینسل (Cancel) کر دیں!‘‘ اور اگر استاد ۴۰؍ منٹ تک ریاضی کا کوئی مشکل فارمولاسمجھائے، تو فرمائش آتی ہے کہ ’’سر! اسے ۳۰؍ سیکنڈ کی ریل (Reel) بنا کر سمجھائیں، میری اٹینشن اسپین (Attention Span) ختم ہو رہی ہے، اور پلیز بیک گراؤنڈ میں کوئی ٹرینڈنگ میوزک بھی لگا دیں۔‘‘ پہلے زمانے میں استاد کی مار سے بچے سدھر جاتے تھے اور والدین خوشی خوشی آ کر کہتے تھے کہ ’’ماسٹر جی! اس کی ہڈیاں ہماری اور کھال آپ کی۔‘‘ اب تو صورتحال یہ ہے کہ اگر استاد کسی بچے کوبس گھور بھی لے، تو بچہ فوراً اسے ’مینٹل ٹراما‘ (Mental Trauma) کا نام دے کر سوشل میڈیا پر لائیو آ جاتا ہے۔ شام کو ان بچوں کے کارپوریٹ والدین اسکول میں یوں دھاوا بولتے ہیں جیسے ماسٹر جی نے کنزیومر کورٹ کے کسی قانون کی سنگین خلاف ورزی کر دی ہو۔ تعلیم اب ایمیزون کی آن لائن شاپنگ بن چکی ہے اور والدین کسٹمر بن گئے ہیں۔ بچہ اگر امتحان میں فیل ہو جائے تو والدین استاد سے آ کر ایسے الجھتے ہیں جیسے زوماٹو کے ڈیلیوری بوائے پر برستے ہوں، ’’سر جی! ہم نے تو ۹۰؍ پرسنٹ مارکس کا آرڈر دیا تھا، آپ نے یہ ۴۰؍ پرسنٹ والی ناقص سروس کیسے ڈیلیور کر دی؟ ہم آپ کو گوگل پر سنگل اسٹار ریٹنگ دیں گے!‘‘
ہمارا حکومت، سماج اور محکمہ تعلیم سے بس اتنا ہی مطالبہ ہے کہ اگر اساتذہ کو واقعی عزت دینی ہے، تو یومِ اساتذہ پر انہیں ’جلتی ہوئی موم بتی‘ کے خطاب اور پلاسٹک کے پھول دینے کے بجائے، سال میں کم از کم ایک دن کے لیے انہیں کلاس میں صرف اور صرف ’پڑھانے‘ کی اجازت دے دی جائے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب ۵؍ ستمبر کو بچہ استاد کو محبت سے پھول دے گا، تو ماسٹر جی گھبرا کر کہیں گے، ’’بیٹا! یہ پھول مجھے مت دے، اس کی پی ڈی ایف (PDF) بنا کر فوراً سرور پر اپلوڈ کر دے اور ساتھ میں اپنی جیو ٹیگ لوکیشن بھی ڈال دے، ورنہ حکومت سمجھے گی کہ میں نے یومِ اساتذہ منائے بغیر ہی آدھے دن کی چھٹی مار لی ہے!‘‘

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے