कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غزہ میں اسرائیلی دہشت گردی میں مزید 62 فلسطینی شہید،138 زخمی

غزہ:23؍مئی: فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ اسرائیلی قابض فوج نے غزہ کی پٹی میں خاندانوں کے خلاف مزید 6 اجتماعی قتل عام کیے جن میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 62 افراد شہید اور 138 زخمی ہوئے۔ شہدا اور زخمیوں میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔وزارت نے اپنی روزانہ کی اپ ڈیٹ میں بتایا کہ گذشتہ سات اکتوبر سے اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 35,709 فلسطینی شہید اور 79,990 زخمی ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہت سے متاثرین اب بھی ملبے کے نیچے اور سڑکوں پر ہیں، اور ایمبولینس اور شہری دفاع کا عملہ ان تک نہیں پہنچ سکتا۔گزشتہ 7 اکتوبر سے "اسرائیلی” قابض افواج غزہ کی پٹی پر تباہ کن جنگ مسلط کیے ہوئے ہے جس کے نتیجے میں دسیوں ہزار شہری شہید، زخمی اور لاپتہ ہونے کے علاوہ 20 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

حماس نے مزاحمت کو بدنام کرنے لیے نشرکی گئی جعلی ویڈیو مسترد کردی
غزہ:23؍مئی: اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے کہا ہے کہ صیہونی قابض دشمن کی طرف سے 7 اکتوبر کو طوفان الاقصی کے معرکے کے دوران خواتین فوجیوں کی گرفتاری کے بارے میں ایک ویڈیو کلپ نشر کیا گیا ہے جو سراسر جعلی اور من گھڑت ہے۔ اس ویڈیو کا مطلب دنیا بھرمیں تنہا ہوتی صہیونی ریاست کی ساکھ بحال کرتے ہوئے فلسطینی مزاحمت کی شناخت اور ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔حماس کا کہنا ہے کہ دشمن کی طرف سے جاری کی گئی ویڈیو میں کوئی صداقت نہیں اور یہ من گھڑت اورفلسطینی مزاحمت کو بدنام کرنے کے لیے سوچے سمجھے پلان کے تحت تیار کی گئی ہے۔ عملا ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔حماس کے مرکزاطلاعات فلسطین کو دیئے گئیبیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کلپ کو ایک ایسے وقت میں وائرل کیا گیا ہے جب قابض دشمن ہماری بہادر عوام اور مزاحمت کو کچلنے میں ناکام رہا ہیاور وہ اسے بدنام کرنے کے لیے مذموم ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔خیال رہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے ریلیز کی گئی ایک من گھڑت ویڈیو میں اسرائیلی خواتین فوجیوں کو سول لباس میں دکھایا گیا ہے جنہیں کچھ جنجگوئوں نے پکڑ رکھا ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ یہ ویڈیو سات اکتوبر 2023 کی ہے۔ جب حماس نے اسرائیلی بستیوں اور کیمپوں میں گھس ایک ہزار سے زاید اسرائیلیوں کو ہلاک اور سیکڑوں کو جنگی قیدی بنا لیا تھا،اس نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ خواتین فوجیوں پر حملہ کرنے کے قابض فوج کے الزامات اور جھوٹ کی حمایت کرنے کے لیے مناظر اور تصاویر اور کلپس کا انتخاب جان بوجھ کر کیا گیا تھا۔حماس تحریک نے وضاحت کی کہ ان کلپس میں انگریزی ترجمہ میں جان بوجھ کر تحریف اور ہیرا پھیری کی گئی ہے، اور انگریزی ترجمے میں ایسے الفاظ کی من گھڑت ہے جو ویڈیو میں دکھائی دینے والے جنگجوں میں سے کسی نے نہیں بولی، چاہے وہ عربی ہو یا انگریزی ترجمہ۔ ہیرا پھیری سے ثابت ہوتا ہے کہ صیہونی بیانیہ اپنی اصل میں غلط ہے۔
غزہ کے باشندوں کی اکثریت 7 اکتوبر سے زبردستی بے گھرکی گئی: اونروا
غزہ:23؍مئی: اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین اونروا نے کہا ہے کہ غزہ کی 75 فیصد آبادی کو جبری نقل مکانی کا سامنا ہے، جن میں سے ایک بڑی تعداد گذشتہ 7 اکتوبر سے 4 یا 5 مرتبہ بے گھر ہو چکی ہے، جبکہ زمینی حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ کہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 900,000 سے زیادہ لوگ، یا غزہ کی آبادی کا تقریبا 40 فیصد، بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں رفح سے تقریبا 812,000 افراد اور شمالی غزہ میں 100,000 سے زیادہ بے گھر ہوئے ہیں۔ایجنسی نے ایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "غزہ کی 75 فیصد آبادی کو جبری نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سے ایک بڑی تعداد کو 4 یا 5 بار بے گھر کیا گیا”۔انہوں نے مزید کہا کہ "ہزاروں فلسطینی خاندانوں کے لیے اب کوئی جگہ نہیں ہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور بمباری ایک مستقل خطرہ ہے۔ غزہ میں عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو چکی ہیں”۔بدھ کے روز ایک پچھلی پوسٹ میں UNRWA نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع خان یونس میں اس کے ملازمین "صفائی، پانی، فضلہ جمع کرنے اور رہ نمائی فراہم کرکے لوگوں کو مدد فراہم کرتے رہیں”لیکن اس نے وضاحت کی کہ "چیلنجز بہت زیادہ ہیں۔پانی، ایندھن اور صحت کے وسائل کی شدید قلت ہے۔ غزہ میں لوگوں کی حفاظت کے لیے محفوظ اور بلا روک ٹوک امداد کی رسائی کی ضرورت ہے۔اس سے قبل بدھ کو UNRWA نے کہا تھا کہ "ہم طبی صلاحیتوں کی کمی کی وجہ سے ہر روز مریضوں کو کھورہے ہیں”انہوں نے کہا کہ "غزہ میں طبی عملے انتھک محنت کر رہے ہیں، لیکن انہیں وسائل میسر نہیں ہے”۔انہوں نے نشاندہی کی کہ جن مریضوں کو خون کے یونٹ کی ضرورت ہوتی ہے وہ اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اپنے ملازمین اور بے گھر خاندانوں کے عطیات پر انحصار کرتے ہیں۔رفح اور شمالی غزہ سے ہزاروں افراد کو زبردستی بے گھر کرنے کا عمل جاری ہے، جن میں سے بہت سے پہلے بھی متعدد بار بے گھر ہو چکے ہیں۔
حماس پرسات اکتوبرکو جنسی تشدد کے الزامات جھوٹ ہیں
لندن :23؍مئی: خبروںکے مطابق بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے انکشاف کیا یے کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پراسلامی تحریک مزاحمت حماس کے حملے کے دوران مزاحمت کاروں پر جنسی تشدد کا الزام بے بنیاد ہے جس میں کوئی صداقت نہیں،خبروںکے مطابق 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے دوران جنسی حملوں کا دعوی کرنے والے ایک اسرائیلی رضاکار کے حوالے سے کہا کہ اس نے کہانیاں نہیں گھڑتیں، بلکہ اس کی غلط تشریح کی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے بعد میں اسے درست کیا۔اسرائیلی حکومت اور اسرائیلی میڈیا کا دعوی ہے کہ حماس کے جنگجوں نے بچوں کے سر قلم کیے اور عصمت دری جیسی خلاف ورزیاں کیں، تاہم حماس نے ان الزمات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کرمسترد کردیا اور ویڈیو کلپس شائع کیے جن میں اس کے جنگجو بچوں کے ساتھ دوستانہ انداز میں پیش آتے ہیں۔ایک اور ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ القسام بریگیڈ کے مجاہدین نے ایک خاتون اور اس کے دو بچوں کو سرحد پر چھوڑ دیا، جب اس نے انہیں گولہ باری کے دوران حراست میں لے لیا تھا۔حماس کے پولیٹیکل بیورو کے ایک رکن عزت الرشق نے انگریزی میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ”دنیا اسرائیلی بیانیہ کے جھوٹ اوردروغ گوئی کا پتہ لگائے گی جو فلسطینی مزاحمت کے مبینہ مظالم کے بارے میں گمراہ کن معلومات پھیلاتا ہے”۔انہوں نے مزید کہا کہ "اس طرح کے الزامات کبھی ثابت نہیں ہوئے اور نہ ہی ایسے جھوٹے الزامات کی حمایت کے لیے کوئی ثبوت فراہم کیے گئے ہیںخبروںکے مطابق اشارہ کیا کہ مذہبی غیر سرکاری تنظیم "زکا جو 7 اکتوبر کے حملے کے بعد لاشیں اکٹھی کرنے کی ذمہ دار تھی نے کئی ماہ بعد اعتراف کیا کہ حملے کے دوران جنسی حملوں کے واقعات کے حوالے سے میڈیا میں پھیلائی گئی خبریں غلط تھیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ 1995 میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم "زکا رضاکار گرپ ہے جو "غیر فطری” موت کے واقعات سے نمٹنے میں مدد کرتی ہے اور تمام ہنگامی خدمات اور سکیورٹی فورسز کے تعاون سے کام کرتی ہے۔ اس کے زیادہ تر اراکین مذہبی ہیں۔ یہودیوں نے 3 ماہ کے عرصے میں صحافیوں کو بتایا کہ 7 اکتوبر کے حملے کے دوران ایک حاملہ خاتون کے پیٹ کوچاک کرنے اور بچوں کے سر قلم کیے جانے کے بارے میں من گھڑت کہانیاں بنائی گئی تھیں”۔اس نے نشاندہی کی کہ تنظیم نے رضاکار سے کہا کہ وہ صحافیوں کو 7 اکتوبر کے حملے کے بارے میں من گھڑت کہانی سنانا بند کر دے، لیکن اس نے مہینوں بعد تک کوئی جواب نہیں دیا۔خبروںکے مطابق اس کے نتیجے میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے کہا کہ ایجنسی کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ جس میں اس نے تصدیق کی ہے کہ صہیونی ریاست کے الزامات کہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے 7 اکتوبر کو جنسی تشدد کا ارتکاب کیا درست نہیں ہے۔ یہ کہ انہیں جان بوجھ کر گھڑا گیا۔ یہ ان الزامات کو فروغ دینے والوں کے منہ پر ایک نیا طمانچہ ہے جو کہ بے بنیاد ہیں۔ یہ کہ اس کا استعمال مزاحمت کو شیطانی بنانے اور اسرائیلی فوج کے انسانیت سوز رویے پر پردہ ڈالنے کے لیے کیا گیا تھا۔خبروںکے مطابق حماس نے کہا کہ اس رپورٹ نے صہیونی ریاست کے فلسطینی مزاحمت کو بدنام کرنے کے بیانات کی قلعی کھولنے کے لییکافی ہے۔ اس رپورٹ نیصہیونی بیانییکے جھوٹے اور فلسطینی مزاحمتی بیانیے کی صداقت پرمہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سات اکتوبر کے حملے کے موقعے پرفلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیل کے اندر گھس کرجو کارروائی کی اس میں بچوں کے سرقلم کرنے اور ریپ کے الزامات کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے