कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

لباس چھوٹا ہوا تو نظر بھی بے لگام ہوئی

خامہ بکف: فضیل اختر قاسمی بھیروی
( خادم التدریس دارالعلوم رحیمیہ پیلیر آندھراپردیش)

فضائے عصرِ حاضر میں ایک عجب اضطراب، ایک انجانا ہیجان اور ایک خاموش انتشار رچ بس گیا ہے۔ بظاہر زندگی اپنے تمام تر جلووں، تزئین و آرائش اور ظاہری رونقوں کے ساتھ مسکراتی دکھائی دیتی ہے، مگر ذرا سا پردہ اٹھائیے تو معلوم ہوگا کہ اس چمکتی سطح کے نیچے اقدار کا شیرازہ بکھر چکا ہے، حیا کی چادر تار تار ہو رہی ہے اور غیرت کے چراغ یکے بعد دیگرے گل ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ وہ لمحۂ فکریہ ہے جہاں تہذیب اپنی بنیادوں سے سرک رہی ہے اور انسان اپنے ہی بنائے ہوئے فریبِ نظر کا اسیر بنتا جا رہا ہے۔ کبھی یہی لباس انسان کے وقار کا پاسبان، اس کی شخصیت کا محافظ اور اس کی شرافت کا اعلان ہوتا تھا۔ اس کے تار و پود میں متانت اور تہذیبی شعور کی خوشبو بسی ہوتی تھی۔ مگر اب یہی لباس، جسے حجابِ وقار ہونا چاہیے تھا، تدریجاً نمائشِ جسم، کششِ نظر اور ہیجانِ خواہش کا وسیلہ بنتا جا رہا ہے۔ گویا لباس اپنی اصل روح سے خالی ہو کر صرف ایک ظاہری مظہر رہ گیا ہے، جس کا مقصد چھپانا نہیں بلکہ دکھانا بن چکا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ نگاہیں اب معصوم نہیں رہیں، بلکہ وہ ایک ایسے ماحول کی پروردہ بن چکی ہیں جہاں ہر شے خود کو نمایاں کرنے کے درپے ہے۔ جب پردے کی سرحدیں ڈھیلی پڑ جائیں، جب حدود کی لکیر مٹنے لگے اور جب حیا کو فرسودہ خیال سمجھ کر ترک کر دیا جائے تو پھر نظریں بھی اپنی پاکیزگی برقرار نہیں رکھ پاتیں۔ یہ ایک فطری تسلسل ہے۔ جب ظاہر بے قابو ہوتا ہے تو باطن بھی بے مہار ہو جاتا ہے، اور جب لباس مختصر ہو جاتا ہے تو نگاہوں میں بھی ایک بے ساختہ سرکشی جنم لینے لگتی ہے۔
یہ عہدِ حاضر کی پوری اخلاقی تصویر ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں ہم اپنے معاشرے کا بگڑتا ہوا رخ صاف دیکھ سکتے ہیں۔ یہ مضمون اسی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ کو پہچاننے، اپنے طرزِ فکر کا محاسبہ کرنے اور اس بگڑتی ہوئی سمت کو سنبھالنے کی ایک با ادب کوشش ہے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ظاہری ترقی کے فریب میں اپنی روحانی شناخت ہمیشہ کے لیے کھو بیٹھیں۔
جب انسانی فکر کی کشتیاں خواہشات کے طوفان میں ڈولنے لگتی ہیں اور معاشرہ ظاہری چکاچوند میں اپنے باطن کی سمت کھو بیٹھتا ہے، تو شریعتِ مطہرہ اپنے ابدی اور حکیمانہ اصولوں کے ساتھ انسانیت کی رہنمائی کرتی ہے۔ صناعِ لاثانی و منعمِ حقیقی نے انسان کو لباس کی نعمت عطا کرتے ہوئے اس کی اصل غایت نہایت حکیمانہ انداز میں بیان فرمائی: يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ
یہ آیتِ کریمہ اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ لباس کا اولین مقصد ستر پوشی اور زینت ہے، مگر اس سے بڑھ کر جو چیز مطلوب ہے وہ "لباسِ تقویٰ” ہے۔ یعنی وہ باطنی کیفیت جو انسان کے ظاہر کو بھی وقار عطا کرتی ہے۔ جب یہ باطنی لباس مفقود ہو جائے تو ظاہری لباس خواہ کتنا ہی دلکش کیوں نہ ہو، اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔ اسی طرح اہلِ ایمان کو نگاہوں کی حفاظت اور عفت کی پاسداری کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ
اور اہلِ ایمان خواتین کو بھی یہی ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں اور اپنے دامنِ عفت کو محفوظ رکھیں۔ یہ احکام اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ اسلام صرف ظاہری پردے کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ ایک ایسا ماحول قائم کرنا چاہتا ہے جہاں نگاہیں بھی پاک ہوں اور معاشرہ بھی مہذب۔سنتِ نبویؐ میں بھی حیا کو نہایت عظمت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "الحياء شعبة من الإيمان” یعنی حیا ایمان کا ایک بنیادی شعبہ ہے۔ یہ وہ جوہر ہے جو انسان کو بدنگاہی، بدکرداری اور بے راہ روی سے محفوظ رکھتا ہے۔ ایک اور موقع پر فرمایا: "إذا لم تستح فاصنع ما شئت” یہ ایک انتباہ ہے، ایک زوردار تنبیہ کہ جب حیا کا قلعہ منہدم ہو جائے تو پھر انسان ہر حد کو پامال کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ یوں قرآن و سنت کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ انسان کی ظاہری ہیئت، اس کا لباس، اس کی چال ڈھال اور اس کی نگاہ سب ایک مربوط نظام کا حصہ ہیں۔ اگر لباس اپنی حد سے تجاوز کرے گا تو نگاہ بھی قابو میں نہیں رہے گی، اور اگر نگاہ بے مہار ہو جائے تو دل کی پاکیزگی بھی متاثر ہوگی۔ اسی لیے شریعت نے ایک مکمل تہذیب عطا کی ہے۔
انسانی طبیعت کی ساخت کچھ اس طرح رکھی گئی ہے کہ وہ محسوسات سے متاثر ہوتی ہے، مناظر سے مائل ہوتی ہے اور ظواہر سے رغبت اختیار کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ نے جہاں باطن کی اصلاح پر زور دیا ہے، وہیں ظاہر کے ان اسباب کو بھی قابو میں رکھنے کی تلقین کی ہے جو دل و دماغ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ آنکھ دل کا دروازہ ہے؛ جو کچھ نگاہ دیکھتی ہے، وہی آہستہ آہستہ دل کی دنیا میں جگہ بنا لیتا ہے۔
جب معاشرہ ایسے مناظر سے لبریز ہو جائے جہاں لباس اپنی اصل حدوں سے تجاوز کر جائے، جہاں جسم کی ہیئت نمایاں اور اعضا کی ترسیم ابھار دی جائے، تو نگاہ کے لیے خود کو بچا لینا ایک غیر معمولی مجاہدہ بن جاتا ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں فساد کا ایک نہایت مہلک سلسلہ شروع ہوتا ہے: پہلے نظر ٹھہرتی ہے، پھر دل مائل ہوتا ہے، پھر خیال جنم لیتا ہے، اور بالآخر یہ سلسلہ عمل کی سرحدوں کو بھی چھونے لگتا ہے۔ اسی حقیقت کو شریعت نے نہایت حکیمانہ انداز میں ابتدا ہی میں روک دیا۔ نگاہ کو جھکانے کا حکم دے کر اور لباس کو حدود میں رکھنے کی تلقین کرکے۔ کیونکہ اگر ابتدا ہی میں اس دروازے کو بند نہ کیا جائے تو بعد کی منزلیں زیادہ دشوار اور خطرناک ہو جاتی ہیں۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ اس فطری ترتیب کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ لباس کو صرف ذاتی آزادی کا معاملہ سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ اس کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی فضا کو متاثر کرتے ہیں۔ جب ایک فرد اپنے ظاہر کو بے قید کرتا ہے تو وہ درحقیقت دوسروں کی نگاہوں کو بھی آزمائش میں ڈال دیتا ہے، اور یوں ایک فرد کا انتخاب اجتماعی بگاڑ کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ نفسِ انسانی ہمیشہ سہولت کی طرف مائل ہوتا ہے اور خواہشات کے پیچھے چلنے میں اسے لذت محسوس ہوتی ہے۔ اگر اس کے سامنے حدود نہ ہوں، اگر اسے روکنے والی کوئی باطنی قوت نہ ہو تو وہ آہستہ آہستہ اعتدال کی راہ سے ہٹ کر افراط و تفریط کی وادی میں بھٹکنے لگتا ہے۔ مختصر لباس اسی بے مہار نفس کے لیے ایک دعوتِ نظر بن جاتا ہے، اور نگاہ اس دعوت کو قبول کرنے میں دیر نہیں لگاتی۔ یوں لباس اور نظر کے درمیان ایک ایسا تعلق قائم ہو جاتا ہے جو گہرا نفسیاتی اور اخلاقی ربط رکھتا ہے۔ اگر ایک طرف سے بے احتیاطی ہو تو دوسری طرف سے استقامت برقرار رکھنا نہایت دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جسے نظر انداز کرکے ہم ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کر رہے ہیں جہاں خواہشات کی حکمرانی ہے اور حیا کا وجود بتدریج مٹتا جا رہا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس ربط کو سمجھیں، اس کے نتائج کا ادراک کریں اور اس فساد کے سلسلے کو وہیں روک دیں جہاں سے یہ جنم لیتا ہے۔
اگر ہم عصرِ حاضر کے آئینے میں جھانکیں تو ایک نہایت تشویشناک منظر سامنے آتا ہے ایسا منظر جس میں چمک، رنگینی اور آزادی بہت ہے مگر حدود کی پہچان ناپید ہوچکی ہے۔ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید، سوشل میڈیا کی بے لگام ترغیب اور فیشن انڈسٹری کی جارحانہ پیش کش نے ایک ایسا ماحول تشکیل دے دیا ہے جہاں لباس اب تہذیب کی نمائندگی نہیں بلکہ رجحانات کی غلامی کا اعلان بن چکا ہے۔
گھر جو کبھی تربیت کی پہلی درسگاہ اور حیا کی آماجگاہ ہوتا تھا، اب خود اس تغیر کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ والدین، جو نگہبانِ اقدار ہونے چاہیے تھے، بسا اوقات لاشعوری طور پر اسی بے راہ روی کو فروغ دے رہے ہیں۔ بچوں کے لیے لباس کا انتخاب سہولت، رواج اور وقتی خوشی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، نہ کہ دینی بصیرت، اخلاقی وقار اور مستقبل کی تربیت کو پیشِ نظر رکھ کر۔ یوں بچپن کی نرم مٹی میں جو بیج بوئے جاتے ہیں، وہی آگے چل کر عادت، مزاج اور شناخت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
اس ماحول میں پروان چڑھنے والی نسل کے لیے حیا کوئی فطری قدر نہیں رہتی بلکہ ایک اجنبی اصطلاح بن جاتی ہے۔ جب بچپن سے نگاہوں کے سامنے بے پردگی معمول بن جائے، جب لباس کی حدود مٹتی ہوئی دکھائی دیں اور جب معاشرہ اس پر خاموشی اختیار کر لے تو پھر حساسیت ماند پڑ جاتی ہے اور غیرت کا چراغ مدھم ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بے حیائی کو برا نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے "ماڈرن سوچ” کا نام دے کر پیش کیا جاتا ہے۔
اس صورتِ حال کے نتائج نہایت سنگین اور دور رس ہیں۔ معاشرتی بے چینی، اخلاقی انتشار، رشتوں کی کمزوری اور جرائم کی افزائش یہ سب اسی سلسلۂ انحراف کی کڑیاں ہیں۔ جب نگاہوں میں بے احتیاطی در آئے اور دلوں میں خواہشات کا غلبہ ہو جائے تو پھر انسان کی داخلی دنیا میں ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے جسے نہ فیشن پُر کر سکتا ہے اور نہ ہی ظاہری چمک دمک۔
یہ حقیقت تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ موجودہ بحران کسی ایک فرد یا طبقے کا نہیں بلکہ ایک اجتماعی لغزش کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم نے اس رخ کو نہ بدلا تو یہ انحطاط مزید گہرا ہوگا اور آنے والی نسلیں ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھیں گی جہاں حیا کا تصور صرف تاریخ کا ایک باب بن کر رہ جائے گا۔
سب سے پہلا محاذ گھر ہے، جہاں کردار کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور مزاج کی تشکیل ہوتی ہے۔ اگر والدین خود سادگی، وقار اور حیا کا عملی نمونہ بن جائیں تو بچوں کی فطرت اسی سانچے میں ڈھلنے لگتی ہے۔ تربیت ایک مسلسل عملی مظاہرہ ہے؛ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں، نہ کہ صرف وہ جو انہیں بتایا جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ گھر کا ماحول ایسا بنایا جائے جہاں لباس میں اعتدال، گفتار میں شائستگی اور نگاہ میں پاکیزگی خود بخود منتقل ہوتی رہے۔ اسی کے ساتھ تعلیمی اداروں اور دینی مراکز کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ وہاں ایسی فکری بیداری پیدا کی جائے جو نوجوان ذہنوں کو یہ سمجھا سکے کہ حیا کوئی قدامت نہیں بلکہ ایک مہذب اور باوقار زندگی کی ضمانت ہے۔ جب شعور بیدار ہوگا تو انتخاب خود بخود سنورنے لگے گا، اور انسان اپنی آزادی کو حدود کے اندر رہ کر برتنے کا ہنر سیکھ لے گا۔ معاشرے کی سطح پر بھی ایک مثبت فضا قائم کرنا ضروری ہے جہاں بے حیائی باعثِ ندامت سمجھی جائے۔ میڈیا، سوشل پلیٹ فارمز اور عوامی گفتگو میں ایسے رجحانات کی حوصلہ افزائی کی جائے جو انسان کو اس کی اصل شناخت کی طرف لوٹائیں، نہ کہ اسے ظاہری نمائش کی دوڑ میں مزید دھکیل دیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ حیا کسی بیرونی دباؤ کا نام نہیں بلکہ ایک اندرونی کیفیت ہے۔ دل کی وہ روشنی جو انسان کو خود اپنی حدود کا پاسدار بنا دیتی ہے، اور معاشرہ بھی اعتدال کا گہوارہ بن جاتا ہے۔
اگر ہم نے اپنے ظاہر و باطن میں توازن پیدا کر لیا، حیا کو اپنی زندگی کا جزو بنا لیا اور اپنی آئندہ نسلوں کو اس کا امین بنا دیا، تو وہ دن دور نہیں جب یہ بگڑتی ہوئی فضا سنبھلنے لگے گی اور معاشرہ ایک بار پھر اپنی اصل تہذیبی روشنی سے منور ہو جائے گا۔ صناعِ لاثانی و منعمِ حقیقی ہمیں صحیح شعور، درست عمل اور حیا و تقویٰ کی دولت سے مالا مال فرمائے، اور ہماری نسلوں کو اس زوال کے سیلاب سے محفوظ رکھے۔
آمین یا رب العالمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے