कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غزہ کی پیاس اور انسانیت کی تڑپ، نسل کشی کی ایک اور خونچکاں داستان

غزہ:30؍اپریل:نواف الاخرس کے شب و روز کسی کربناک کہانی سے کم نہیں۔ وہ اپنی زندگی کے پہیے کو رواں رکھنے کے لیے اپنے لخت جگر کے ہمراہ ان پلاسٹک کے گیلنوں کا بوجھ اٹھائے اس ویرانے کی طرف چل پڑتا ہے جو اس کے خیمے سے ڈیڑھ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ یہ راستہ بظاہر مختصر ہے مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ ایک نہ ختم ہونے والی اذیت بن چکا ہے۔ جب وہ وہاں پہنچتے ہیں تو ہولناک گرمی میں تپتے ہوئے آسمان تلے ہزاروں بے گھر افراد کا ایک سمندر اپنی باری کے انتظار میں قطار در قطار ایستادہ ہوتا ہے؛ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں قابض دشمن نے ان کے گھروں سے بے دخل کر کے کھلی فضاں میں سسکنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔سات بچوں کا باپ نواف، جو سنہ 2024 کے لگ بھگ رفح سے ہجرت کر کے مواصی کے صحرا میں پہنچا تھا، اپنی اس روزانہ کی کشمکش کو سزائے دوام سے تشبیہ دیتا ہے۔ اپنے خاندان کے حلق میں چند قطرے پانی اتارنے کی خاطر اسے سورج کی تپتی ہوئی شعاعوں کے نیچے پانچ گھنٹے تک اپنی انسانیت کو دا پر لگا کر کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہتا ہے: میرا پورا دن اپنے بیٹے کے ساتھ پانی کی اس قطار میں خاک چھانتے گزر جاتا ہے، لوگ دور دراز کی مسافتیں طے کر کے یہاں پیاس بجھانے آتے ہیں یہ محض پانی نہیں، یہ ہماری روزانہ کی وہ کربناک سزا ہے جو ہمیں صرف زندہ رہنے کے جرم میں دی جا رہی ہے۔نواف بتاتا ہے کہ پانی کا یہ بحران اس وقت ایک ہولناک عفریت بن گیا جب فنڈز کی بندش کا بہانہ بنا کر اس کمپنی کو کام سے روک دیا گیا جو غزہ کے بے گھر باسیوں کے لیے آبِ حیات فراہم کرتی تھی۔ وہ درد بھرے لہجے میں کہتا ہے: پہلے پانی کے ٹینکر ہماری خیمہ بستیوں تک پہنچتے تھے تو کچھ آسودگی محسوس ہوتی تھی، مگر اب کئی ہفتوں سے یہ سلسلہ بھی منقطع کر دیا گیا ہے؛ گویا ہم پر پانی کے دروازے بند کر کے ہمیں ایک ایک قطرے کے لیے ترسا دیا گیا ہے۔ان ہجوم زدہ واٹر پوائنٹس پر جب نواف بمشکل دو چھوٹے گیلن بھر پاتا ہے تو اس کی آنکھوں میں اپنے بچوں کی پیاسی آنکھیں گھوم رہی ہوتی ہیں۔ وہ بے بسی سے کہتا ہے: ایسا لگتا ہے کہ بھوک کے ہولناک شکنجے سے تو بچ نکلے، مگر اب ہمیں پیاس کے ذریعے آہستہ آہستہ مارنے کی سازش رچی جا رہی ہے. ہمارے پاس اب یہی کچھ بچا ہے۔ پانی کی یہ قلیل مقدار بمشکل پینے کی ضروریات کو چھو پاتی ہے، اور پورا خاندان پیاس کے صحرا میں زندگی کے چند دن گزارنے کے لیے ایک ایک بوند کو ترس رہا ہے۔نواف کا دل اس وقت دہل جاتا ہے جب وہ آنے والی گرمیوں کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ کہتا ہے: میں یہاں کی گرمی کی شدت کو بیان کرنے سے قاصر ہوں، خیموں کے اندر ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی تپتی ہوئی کڑھائی میں ہم زندہ جلائے جا رہے ہوں۔ نہ سر پر کوئی چھت ہے اور نہ کوئی ٹھنڈا سایہ، اور پینے کے پانی کی یہ ہولناک قلت تو یقینی طور پر ہمیں ایک ایسی تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے جہاں موت کے سوا کچھ باقی نہیں بچے گا۔
ایک دائمی جنگ
نواف کی یہ داستان غزہ کے ہر گھر کی کہانی ہے، جہاں پانی اب محض ایک ضرورت نہیں بلکہ بقا کی ایک ایسی جنگ بن چکا ہے جو ہر لمحہ لڑی جا رہی ہے۔ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب قابض اسرائیل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فلسطینیوں کے بنیادی ڈھانچے کو نیست و نابود کر رہا ہے۔ ڈاکٹرز ودآٹ بارڈرز کی رپورٹ کا عنوان پانی کو ہتھیار بنانا بذات خود ایک چیخ ہے جو دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے؛ اس رپورٹ نے ان تمام پردوں کو چاک کر دیا ہے جو غاصب صہیونی ریاست کی سفاکیت کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔غزہ کی کھنڈرات میں تبدیل شدہ گلیوں میں پانی کے ٹینکروں کے لیے قطاریں اب زندگی کا ایک تلخ معمول بن چکی ہیں، جہاں سینکڑوں فلسطینی پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر گھنٹوں انتظار کرتے ہیں۔ پانی کی کمی کے باعث وہاں ہونے والی دھکم پیل دراصل ایک قوم کی بے بسی کی چیخیں ہیں۔میدانی حقائق بتاتے ہیں کہ خاندانوں کے خاندان اب دن بھر میں صرف چند لیٹر پانی پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں، جہاں نہانے اور کپڑے دھونے کا تصور بھی مٹ چکا ہے۔ اس گندگی اور محرومی کے باعث جلدی امراض اور وبائیں ایک وبا بن کر پھیل رہی ہیں۔یہ رپورٹ 21 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی اس المناک تصویر کو پیش کرتی ہے جو ایک ایسی نسل کشی کا سامنا کر رہے ہیں جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ رپورٹ کسی عام ادارے کی نہیں، بلکہ ایک ایسی بین الاقوامی تنظیم کی ہے جس نے اپنی آنکھوں سے غزہ کی زمین پر بکھرا ہوا خون اور پیاس کے مارے ہوئے لوگوں کی تڑپ دیکھی ہے۔رپورٹ کا لب لباب یہ ہے کہ غزہ میں یہ پانی کا بحران اتفاقی نہیں، بلکہ گذشتہ تیس ماہ سے جاری اس نسل کشی کا حصہ ہے جس کا مقصد کنوں، پائپ لائنوں اور نکاسی آب کے نظام کو تباہ کر کے انسانی زندگی کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔
پیاس اور نسل کشی کی دستاویز
اس رپورٹ کے اعداد و شمار دل دہلا دینے والے ہیں؛ تقریبا 90 فیصد آبی تنصیبات کو قابض اسرائیل نے ملیامیٹ کر دیا ہے۔ پانی کی قیمتوں میں 500 فیصد اضافہ کر کے ان لوگوں کی رہی سہی کمر توڑ دی گئی ہے جن کے پاس اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کچھ نہیں بچا۔یہ رپورٹ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ خوراک، دوا اور پانی، جو کہ انسان کا بنیادی حق ہیں، انہیں غزہ کے باسیوں کے خلاف ایک غیر اعلانیہ ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے عالمی نظام کے سامنے ہو رہا ہے جو محض خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔
بغیر احتساب کے ظلم کی انتہا
غزہ میونسپلٹی کے مطابق 85 فیصد لوگ صاف پانی سے محروم ہیں اور پانی کی خدمات کا نظام 75 فیصد تک مفلوج ہو چکا ہے۔ قابض اسرائیل نے مکرت نامی واٹر لائن کو بند کر کے لاکھوں انسانوں کے لیے پانی کا رستہ ہی بند کر دیا ہے۔یونیئن آف غزہ میونسپلٹیز کے سربراہ یحیی السراج کا کہنا ہے کہ پانی کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے، مگر ہم صرف 25 سے 30 فیصد ضروریات ہی پوری کر پا رہے ہیں کیونکہ نہ نیٹ ورک کی مرمت ہو سکتی ہے اور نہ ہی کلورین اور ایندھن جیسی بنیادی چیزیں غزہ میں داخل ہونے دی جا رہی ہیں۔بین الاقوامی قوانین کی کتابوں میں شاید یہ سب کچھ جرم ہو، مگر غزہ کے لیے یہ صرف ایک کاغذی جرم ہے جس پر نہ کوئی بازپرس ہے اور نہ کوئی انصاف۔ ڈاکٹرز ودآٹ بارڈرز کی یہ رپورٹ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ قابض صہیونی ریاست کی سفاکیت کے خلاف ایک زندہ گواہی اور اخلاقی فرد جرم ہے۔اب سوال یہ نہیں کہ رپورٹ میں کیا لکھا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ دنیا کب تک اس انسانیت سوز منظرنامے کو دیکھ کر آنکھیں چراستی رہے گی؟ کیا عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کے لیے مزید لاکھوں پیاسے حلقوں اور اجڑتے ہوئے خاندانوں کی ضرورت ہے؟ غزہ پکار رہا ہے، مگر کیا کوئی سننے والا ہے؟

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے