कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قربانی عالمگیر مشترکہ عبادت معاصر اعتراضات کا مدلل جواب

خامہ بکف مفتی محمد انصار الحق قاسمی

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے جب سے شعور کی آنکھ کھولی، اپنے خالق کے حضور محبت، عقیدت، شکرگزاری اور بندگی کے اظہار کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے۔ انہی مقدس طریقوں میں ایک عظیم عبادت قربانی بھی ہے، جس کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود انسان کی تاریخ۔ قربانی محض ایک مذہبی رسم نہیں، بلکہ وفاداری، ایثار، اطاعت، ہمدردی، معاشرتی تعاون اور روحانی پاکیزگی کا حسین پیغام ہے۔
کلامِ الٰہی سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی تقریباً تمام بڑی اقوام اور مذاہب میں کسی نہ کسی شکل میں قربانی کا تصور موجود رہا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے۔ (اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی۔) قرآنِ کریم سے واضح ہوتا ہے کہ قربانی کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام کے دور سے ہوا۔ آپؑ کے دو صاحبزادے ہابیل اور قابیل نے بارگاہِ یزدی میں اپنی اپنی قربانی پیش کی۔ ہابیل نے عمدہ دنبہ پیش کیا جبکہ قابیل نے معمولی غلہ۔ اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی قربانی کو شرفِ قبولیت بخشا۔
حضرت صالح علیہ السلام کے زمانے میں بھی اپنے معبود کے نام پر جانور چھوڑ کر قربان کرنے کا رواج موجود تھا، اور آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں اس کی مختلف صورتیں پائی جاتی ہیں۔
یہودی مذہب میں قربانی کی مختلف نوعیتیں بیان کی گئی ہیں۔ شاہی قربانی کے لیے بیل، عام قربانی کے لیے بھیڑ بکری، غریب کے لیے فاختہ یا جوان کبوتر، اور انتہائی مفلس کے لیے جو مقرر تھا۔ (قربانی اور ملحدین، ص: 15)
عیسائی مذہبی روایات میں بھی خدا کے لیے قربانی کا ذکر ملتا ہے، اور ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انسانیت کی نجات کے لیے اپنی جان پیش کر دی۔ ہندو مذہبی کتابوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں یجنیہ یعنی قربانی کو مذہبی عمل اور باعثِ ثواب سمجھا جاتا تھا۔ چٹاگانگ یونیورسٹی کے سنسکرتی پروفیسر ڈاکٹر کوشل برن چکروتی نے رامائن، مہابھارت اور دیگر مذہبی کتابوں میں جانوروں کی قربانی کے متعدد حوالے نقل کیے ہیں۔رِگوید میں مذکور ہے (وہ بیل پکاتے ہیں اور تم انہیں کھاتے ہو۔) (منڈل: 10، منتر: 13)
اتھروید میں گھی کے ساتھ پکا ہوا بکرا اعلیٰ غذا اور سورگ (جنت) دلانے والا قرار دیا گیا ہے۔(کھنڈ: 9، انوورک: 19، منتر: 6) سام وید میں بلی (قربانی) کا ذکر ملتا ہے۔ منوسمرتی میں شرادھ کے موقع پر مہمانوں اور قرابت داروں کو عمدہ گوشت کھلانے کی ترغیب دی گئی ہے۔
(منوسمرتی 368) اسی طرح مہابھارت میں بھی قربانی کا تذکرہ موجود ہے۔ بعض محققین نے ہندو مذہبی کتابوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ مخصوص مذہبی مواقع پر جانوروں کی قربانی کو جائز سمجھا جاتا تھا، اور اسے عام قتل و تشدد سے مختلف قرار دیا جاتا تھا۔ معروف اسلامی مفکر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب فرماتے ہیں کہ دنیا کے اکثر مذاہب میں کسی نہ کسی شکل میں قربانی کا تصور پایا جاتا ہے۔ آج بھی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں بعض مذہبی تہواروں مثلاً درگا پوجا وغیرہ کے موقع پر جانوروں کی نذر و نیاز اور قربانی کا رواج موجود ہے۔
دیگر مذاہب کی طرح شریعتِ محمدیہ میں بھی قربانی کو نہایت پاکیزہ، متوازن اور انسان دوست انداز میں ایک عظیم عبادت قرار دیا گیا ہے۔ اسلام میں قربانی کا مقصد محض گوشت خوری یا خون بہانا نہیں، بلکہ رضائے الٰہی، سنتِ ابراہیمی کی پیروی اور اتباع نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی مظاہرہ ہے۔ قربانی انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ وہ اپنا تن، من اور دھن اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کرنے کا جذبہ پیدا کرے۔ اس کے ذریعے معاشرے میں ہمدردی، غم خواری، ایثار اور مخلوق پروری کا جذبہ بھی فروغ پاتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے
(اللہ تعالیٰ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔) (سورۃ الحج 37)
احادیثِ مبارکہ میں قربانی کے بے شمار فضائل وارد ہوئے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (قربانی کے دن انسان کوئی ایسا عمل نہیں کرتا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی سے زیادہ محبوب ہو۔ قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول ہو جاتا ہے، لہٰذا خوش دلی کے ساتھ قربانی کرو۔(مشکوٰۃ)
یہی وجہ ہے کہ ایامِ اضحیہ میں قربانی کو عظیم ترین عبادات میں شمار کیا گیا ہے۔
لیکن افسوس کہ جو عبادت تقریباً ہر قوم کا حصہ ہو اور اس پر عقلی و نقلی دلائل موجود ہوں، وہ کیسے غلط اور خلافِ عقل ہو سکتی ہے؟ اس کے باوجود بعض اغیار، مستشرقین، ملحدین اور کچھ نام نہاد دانشورانِ قوم سادہ لوح مسلمانوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، چنانچہ بعض روشن خیال لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ قربانی پر خرچ ہونے اربوں کھربوں روپے اگر اسپتالوں، اسکولوں اور رفاہی اداروں پر خرچ کی جائے تو زیادہ فائدہ ہوگا۔ بلاشبہ رفاہی کام بڑی نیکی ہیں، لیکن ہر عبادت کا اپنا مستقل مقام اور وقت ہوتا ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور قربانی ایک دوسرے کا بدل نہیں بن سکتے۔ ایامِ قربانی میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی ہی مطلوب اور افضل عبادت ہے، جبکہ رفاہی کام اپنی جگہ باعثِ اجر ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قربانی خود بھی ایک عظیم رفاہی عمل ہے، کیونکہ اس کے ذریعے لاکھوں غریب خاندانوں تک غذا پہنچتی ہے۔ملحدین کا ایک ٹولہ قربانی کو ظلم قرار دیتا ہے، حالانکہ اسلامی تعلیمات میں جانوروں کے ساتھ رحم و شفقت، اچھا سلوک اور تکلیف کم سے کم کرنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔
اگر غذا کے لیے جانور استعمال کرنا ظلم قرار دیا جائے تو پھر نباتات کا استعمال بھی اسی سوال کو جنم دے گا، کیونکہ جدید سائنسی تحقیقات کے مطابق پودوں میں بھی زندگی پائی جاتی ہے۔ معروف سائنسدان ڈاکٹر جگدیش چندر بوس نے اپنے تجربات کے ذریعے پودوں میں حساسیت کے آثار کو واضح کیا تھا۔ انہوں نے پودوں کے درد، تکلیف اور اثرات کو برقی لہروں کے ذریعے اسکرین پر ظاہر کیا، لیکن ہم ان کی آواز اس لیے نہیں سن سکتے کہ انسانی قوتِ سماعت کی ایک حد ہے۔ بیس (20) ہرٹز ( Hertz)سے بیس ہزار (20000) ہرٹز تک کی آواز انسان سن سکتا ہے، جبکہ پودوں کی آواز بیس ہزار ہرٹز سے ایک لاکھ ہرٹز کے مابین ہوتی ہے، جو ہماری قوتِ سماعت سے کوسوں دور ہے۔
کچھ لوگ قربانی کو بے رحمی قرار دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا قدرتی نظام ہی باہمی غذائی سلسلے پر قائم ہے۔ بڑی مخلوق چھوٹی مخلوق سے غذا حاصل کرتی ہے، جیسا کہ شیر بھیڑیے اور ہرن کو، اور مگرمچھ و بڑی مچھلیاں دیگر چھوٹے آبی جانوروں کو غذا بناتے ہیں۔ اسی طرح انسان بھی قدرتی ضرورت کے تحت نباتات اور حیوانات دونوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
بعض لوگ قربانی کو خلافِ عقل کہتے ہیں، حالانکہ عقل میں کسی چیز کا پورا ادراک نہ ہونا، اس کے خلافِ عقل ہونے کی دلیل نہیں۔ جس طرح ایک سپاہی اپنے وطن کے لیے جان قربان کرے تو اسے وفاداری اور عظمت سمجھا جاتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے محبوب مال کو قربان کرنا بھی اعلیٰ انسانی اقدار میں شامل ہے۔
اسلام میں شریعت کی بنیاد محض انسانی عقل پر نہیں بلکہ وحیِ الٰہی پر ہے، کیونکہ انسانی عقل محدود ہے،جبکہ وحی خطا سے پاک ہے۔کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قربانی سے جانوروں کی تعداد کم ہو جائے گی، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوتا۔دنیا بھر میں ہر سال کروڑوں جانور قربان ہوتے ہیں ، لیکن جانور ختم نہیں ہوتے۔ اس لیے کہ جانوروں کی افزائش باقاعدہ نظام کے تحت جاری رہتی ہے، اور انسانی ضروریات کے مطابق ان کی پرورش بھی بڑھتی رہتی ہے۔
اگر جانوروں کی افزائش اور استعمال میں توازن نہ رہے تو اس سے زرعی، معاشی اور ماحولیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر میں جانوروں کی افزائش، خوراک اور استعمال کا ایک منظم نظام قائم ہے۔
بعض لوگ قربانی کو معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر لاکھوں افراد کو روزگار ملتا ہے۔ جانوروں کی خرید و فروخت، چارہ، ٹرانسپورٹ، قصاب، کھالوں کی صنعت اور دیگر متعلقہ شعبوں سے معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔ بعض دنیا پرست لوگ قربانی کو گوشت کا ضیاع قرار دیتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قربانی کا گوشت غرباء، مساکین، رشتہ داروں اور ضرورت مندوں تک پہنچتا ہے۔ عیدالاضحیٰ ایسے لاکھوں خاندانوں کے لیے خوشی اور غذائی سہولت کا ذریعہ بنتی ہے جو عام دنوں میں گوشت خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
ان تمام تاریخی شواہد، مذہبی روایات اور عقلی دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ قربانی نہ ظلم ہے، نہ فضول خرچی، نہ خلافِ عقل اور نہ ہی انسانیت کے خلاف کوئی عمل؛ بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رضا، سنتِ ابراہیمی، اتباعِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور ایثار و بندگی کا عظیم مظہر ہے۔
قربانی انسان کو یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات، محبتوں اور مفادات کو قربان کرنے کا حوصلہ پیدا کرے، اور ساتھ ہی معاشرے کے غریب و نادار افراد کا بھی خیال رکھے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی صحیح روح سمجھنے، اخلاص کے ساتھ اس عظیم عبادت کو ادا کرنے اور اس کے حقیقی پیغام کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے