कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مہذب معاشرے کی تشکیل میں اخلاق، مذہب اور نفسیاتی تربیت کا کردار

از قلم :محمود علی لیکچرر، ناندیڑ
8055402819

انسانی تہذیب کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی معاشرے کی اصل عظمت اس کی عمارتوں دولت یا ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ اس کے اخلاق برداشت علم اور اجتماعی شعور میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں اختلاف کے باوجود احترام باقی رہے جہاں زبان شائستہ ہو، جہاں مذہب انسانیت سے جوڑنے کا ذریعہ بنے نہ کہ نفرت پھیلانے کا، وہی حقیقی معنوں میں مہذب یا Civilised Society کہلاتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ مذہبی اور مسلکی اختلافات نے برداشت اور شائستگی کو کمزور کردیا ہے۔ بعض اوقات منبر و محراب سے بھی ایسی زبان سننے کو ملتی ہے جو دلوں کو جوڑنے کے بجائے نفرت اور تقسیم کو بڑھاتی ہے۔ ایک دوسرے کے عقائد پر طنز، تحقیر اور سخت جملے نہ صرف اخلاقی زوال کی علامت ہیں بلکہ نئی نسل کے ذہنوں پر بھی گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔
یہ سوال نہایت اہم ہے کہ آخر مہذب معاشرہ کن بنیادوں پر قائم ہوتا ہے؟ سماجیات (Sociology) اور نفسیات (Psychology) اس بارے میں کیا کہتی ہیں؟ اور والدین کی ذمہ داری کیا ہے
مہذب معاشرے کا حقیقی مفہوم
مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں صرف ظاہری ترقی ہو بلکہ وہ ہے جہاں
انسان کی عزت محفوظ ہو،
اختلاف دشمنی میں تبدیل نہ ہو
قانون سب کے لیے برابر ہو،
کمزور محفوظ ہو
اور گفتگو میں اخلاق باقی رہے
تہذیب کا تعلق انسان کے کردار سے ہے۔
اگر تعلیم یافتہ لوگ بھی نفرت، تضحیک اور گالم گلوچ میں مبتلا ہوں تو معاشرہ ترقی یافتہ ہونے کے باوجود مہذب نہیں کہلا سکتا
اختلاف: ایک فطری حقیقت
دنیا میں ہر دور میں فکری، مذہبی اور سیاسی اختلافات موجود رہے ہیں۔
اسلامی تاریخ میں بھی فقہی اور علمی اختلافات تھے مگر اکابر علماء نے احترام کا دامن نہیں چھوڑا۔
Imam Abu Hanifa، Imam Shafi‘i اور دیگر ائمہ کے درمیان اختلافات کے باوجود ادب اور احترام قائم رہا۔
اصل مسئلہ اختلاف نہیں بلکہ اختلاف کا غیر مہذب انداز
سماجیات کیا کہتی ہے؟
سماجیات کے مفکرین کے مطابق معاشرے کی بقا صرف قوانین سے نہیں بلکہ اخلاقی اقدار سے ہوتی ہے۔
ڈرخائم کے مطابÉmile Durkhei
“Society survives not by laws alone, but by shared
ق جب مشترکہ اخلاقی اقدار کمزور ہوجائیں تو معاشرہ انتشار کا شکار ہوجاتا
ویبر کے مطابق مہذب معاشرے کی بنیاد ذمہ داری اور شعور پر ہوتی ہے۔
کارل مارکس کہتا ہے کے انسان اپنے ماحول، خاندان اور معاشرے سے تشکیل پاتا ہے۔
ابن خلدون کے مطابق قوموں کا عروج و زوال ان کے اخلاق اور اجتماعی کردار سے وابستہ ہوتا ہے۔
جب تعصب، نفرت اور اخلاقی زوال بڑھ جائے تو تہذیب کمزور ہونے لگتی ہے۔
نفسیات (Psychology) کیا کہتی ہے
نفسیات اس حقیقت پر زور دیتی ہے کہ بچے صرف نصیحت سے نہیں بلکہ مشاہدے اور ماحول سے سیکھتے ہیں۔
Albert Bandura
بینڈیورا کی Social Learning Theory کے مطابق:
Children learn more from what you are than what you teach
بچے والدین کے کردار کی نقل کرتے ہیں۔
اگر گھر میں احترام، صبر اور نرم گفتگو ہوگی تو بچہ بھی یہی سیکھے گا۔
فرائیڈ کے مطابق بچپن کی تربیت پوری شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔
ابتدائی برسوں کا خوف، نفرت یا سختی انسان کی شخصیت میں عدمِ توازن پیدا کرسکتی ہے۔
پیاجے کے مطابق بچے سوالات، تجربات اور گفتگو سے اخلاقی شعور حاصل کرتے ہیں۔
انہیں سوچنے اور سمجھنے کا موقع دینا ضروری ہے۔
غیر مہذب زبان کیوں بڑھ رہی ہے
جذباتیت اور کم مطالعہ
جب تحقیق کم اور جذبات زیادہ ہوں تو گفتگو میں سختی پیدا ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا کا اثر
مختصر ویڈیوز اور اشتعال انگیز بیانات نوجوان ذہنوں کو متاثر کررہے ہیں۔
مسلکی تعصب
اپنے عقیدے کو حق سمجھنا فطری ہے، مگر دوسروں کی تحقیر کرنا غیر اخلاقی ہے۔
اخلاقی تربیت کی کمی
ہمارے تعلیمی اداروں میں معلومات تو دی جاتی ہیں مگر برداشت اور مکالمہ کم سکھایا جاتا ہے۔
والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری
ایک مہذب معاشرہ گھر سے شروع ہوتا ہے۔
والدین اگر صرف مذہبی معلومات دینے کے بجائے مذہب کا اخلاقی حسن بچوں میں پیدا کریں تو نئی نسل متوازن ہوسکتی ہے
بچوں کو صرف یہ نہ سکھایا جائے کہ
کون صحیح ہے
کون غلط
کون ہمارے مسلک کا ہے
بلکہ یہ بھی سکھایا جائے کہ
اختلاف میں احترام کیسے قائم رکھا جاتا ہے
نرم گفتگو کیا ہوتی ہے
اور انسانیت کیوں ضروری ہے
بچوں کی مذہبی تربیت کے اہم اصول
محبت اور شفقت
مذہب کو خوف کے بجائے محبت اور حکمت کے ساتھ سکھایا جائے۔
سوالات کی آزادی
بچے سوال کریں تو انہیں ڈانٹنے کے بجائے سمجھایا جائے
اخلاق کو دین کا حصہ بنانا
نماز اور عبادات کے ساتھ
سچائی
رحم
وعدہ نبھانا
اور احترامِ انسانیت
بھی دین کی تعلیمات ہیں۔
گھر کا ماحول
اگر گھر میں ہر وقت نفرت، چیخ و پکار اور تحقیر ہوگی تو بچہ بھی سخت مزاج بن جائے گا۔
مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری
علماء، مقررین اور خطباء معاشرے کے ذہن بناتے ہیں۔
اگر وہ
اتحاد
اخلاق
برداشت
اور احترامِ اختلاف
کو فروغ دیں تو معاشرہ بہتر ہوسکتا ہے۔
منبر کا مقصد دلوں کو جوڑنا ہونا چاہیے، توڑنا نہیں۔
نوجوان نسل کا کردار
نوجوان اگر مطالعہ کریں، مختلف نظریات کو سمجھیں، اور اشتعال انگیز مواد سے بچیں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔
علم انسان کو عاجزی سکھاتا ہے، تکبر نہیں۔
سوشیالوجی کہتی ہے کہ معاشرہ مشترکہ اخلاقی اقدار سے قائم رہتا ہے
اور نفسیات کہتی ہے کہ ان اقدار کی بنیاد بچپن میں رکھی جاتی ہے۔
لہٰذا اگر ہم واقعی ایک مہذب معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں
گھروں میں اخلاق پیدا کرنا ہوگا
بچوں کو برداشت سکھانی ہوگی
مذہب کو نفرت کے بجائے انسانیت سے جوڑنا ہوگا
اور اختلاف کو دشمنی بنانے کے بجائے مکالمے کا ذریعہ بنانا ہوگا۔
کیونکہ حقیقی تہذیب وہی ہے جہاں انسان اپنے عقیدے پر قائم رہتے ہوئے بھی دوسروں کی عزت کرنا جانتا ہو۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے