कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تحریکِ طالبِ علم ( اقوالِ زرین۔قسط:63)

(طلبہ و طالبات کی ہمت و حوصلہ افزائی ، غوروفکر ، احساس کی بیداری کے لئے مندرجہ ذیل اقوال زرین پیش کیے جارہے ہیں )

٭ چھوٹے منصوبے نہ بنائیں‘ کیوں کہ ان میں وہ جادو نہیں ہوتا جو انسان کو پُرجوش بنادے۔ اس لیے بڑے منصوبے بنائیں اور بلند ہمتی کے ساتھ انھیں پانے کے لیے محنت کریں۔

٭ یاد رکھیں! بلند خواب‘ واضح مقاصد‘ مضبوط حوصلہ اور مسلسل جدوجہد جیسے عوامل آپ کے اندر موجود ہیں تو آپ ایک بہتر سے بہترین انسان بننے سے زیادہ دوٗر نہیں ہیں۔

٭ سوچنے کی بات ہے فیصلے وقت نے کرنے تھے تو پھر جدوجہد اور کوشش کی کیا ضرورت تھی؟ انسان اگر ٹھہرا رہتا اور وقت کا انتظار کرتا رہتا تو انسان اکیسویں صدی میں تو پہنچ جاتا لیکن کیا چاند پر پہنچ سکتا تھا؟

٭ جب بھی پڑھائی کرنے بیٹھے یہ سوچ کر ’’ آخری بار پڑھ رہا ہوں کل میرا امتحان ہے‘‘ یقینا اس سوچ کے ساتھ کی گئی تیاری ایک الگ سطح کی ہوگی اور آپ بڑے سے بڑے امتحان کو آسانی سے پاس کر لوگے۔

٭ دُنیا میں بدقسمتی کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ بدقسمتی بالکل اسی طرح ہے جس طرح ندی کے بہاؤ میں کوئی رُکاوٹ آجاتی ہے اور ندی جب اس رُکاوٹ کو دوٗر کردیتی ہے تو وہ پہلے سے بڑھ کر زور و شور کے ساتھ بہنے لگتی ہے۔

٭ آپ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ آپ ہمیشہ سب سے آگے رہیں۔ آپ زیادہ محنت کریں‘ اپنی رائے دیں‘ اپنے نظریات کو ثابت کرنے کی کوشش کریں اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہیں۔

٭ جب ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو دوسرا کھل جاتا ہے۔ دوسرا بند ہوتا ہے تو تیسرا اور جب سارے دروازے بند ہوجاتے ہیں تو اللہ کے فضل کا دروازہ کھلتا ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا۔

٭ آپ وہاں کیسے پہنچیں گے جہاں آپ جانا چاہتے ہیں؟ میرا ماننا ہے کہ آپ کی زندگی میں اُمنگ ہونی چاہیے۔ آپ کو خواب دیکھنا چاہیے، ہدف بنانا چاہیے اور اُسی کی تکمیل کے لیے محنت کرنی چاہیے۔

٭ کسی بھی شعبہ میں ترقی اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک عزم محکم نہ ہوں اور صحیح سمت میں رہنمائی کے ساتھ محنت نہ کی جائے۔ مستقل لگن اور محنت کے بعد ہی قوموں نے ترقی کے راز کو پایا تھا۔

٭ اگر آپ یہ سوچ کر پڑھنے بیٹھو کہ تین گھنٹے پڑھنا ہے اور جب پڑھ کر اُٹھو تو اُس وقت آپ کو پتہ چلے کہ آپ نے چھ گھنٹے پڑھائی کی ہے تب آپ سمجھ جانا کہ اب آپ کو کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا!

٭ لڑکے اور لڑکیاں جو زمانہ طالب علمی گزار رہے ہیں انھیں اس بات پر خصوصی توجہ دینی چاہیے کہ جو مواقع انھیں اِس وقت حاصل ہیں ‘ ان سے وہ پورا پورا فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں اور زندگی کے قیمتی لمحات کو ضائع کرنے سے بچیں۔

٭ سُکھ‘ غم‘ تکلیفیں اور پریشانیاں زندگی کا حصہ ہیں انہیں حصہ ہی رہنے دیںپوری زندگی نہ سمجھیں‘ پوری زندگی اللہ کی رحمت اور کرم ہے فضل اور مہربانی ہے جب انسان مسکرا سکتا ہو تو اسے ہر وقت رونا نہیں چاہیے۔

٭ جب آپ کسی مقصد کو حاصل کرنے کا عزم کریں تو سب سے پہلے اس کے لیے ضروری تیاری کریں اور جب شروع کردیں تو منزل تک پہنچنے سے پہلے اس کو کسی بھی قیمت پر نہ چھوڑیں اور یہی کامیاب لوگوں کی صفت ہوتی ہے۔

٭ نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ چند بار کوشش کرنے کے بعد ہمت ہار جاتے ہیں اور پھر اپنی شکست اور ہار تسلیم کرلیتے ہیں‘ مگر دُنیا میں جن لوگوں نے تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں ان لوگوں نے اتنی ہی ناکامیوں کا منہ بھی دیکھا ہے۔

٭ مطالعہ ہی انسان کی شخصیت کو ارتقاء کی بلند منزلوں تک پہنچانے کا اہم ذریعہ‘ حصولِ علم و معلومات کا وسیلہ اور عملی تجرباتی سرمایہ کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے اور ذہن و فکر کو روشنی فراہم کرنے کا معروف ذریعہ ہے۔

٭ ’’ وقت‘‘ ہمیں کبھی بھی اجازت نہیں دیتا کہ ہم واپس اپنے ماضی میں جاکر ان چیزوں کو ٹھیک کردیں جو ہم نے ماضی میں غلط کی تھیں۔ لیکن ’’ وقت‘‘ ہمیں یہ مہلت ضرور دیتا ہے کہ ہم اپنا ہر آنے والا دن، اپنے گزرے ہوئے دن سے بہتر گزار سکیں!

٭ اگر آپ خود پر یقین رکھیں اور لگن سے کام کرتے رہیں اور جو کچھ کریں اس پر آپ کو احساسِ فخر بھی ہو اور آپ اس سے کبھی دستبردار بھی نہ ہوں‘ تو آپ فاتح رہیں گے، جیتنے کیلئے جتنی بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے‘ جیتنے کا اِنعام بھی اُتنا ہی بڑا ہوتا ہے۔

٭ اپنے دلوں کو مضبوط بناؤ اور اپنے دِماغوں کو سوچنے کی عادت ڈالو۔ عزیزو! تبدیلیوں کے ساتھ چلو یہ نہ کہو کہ ہم اس تبدیلی کے لیے تیار نہ تھے بلکہ اب تیار ہوجاؤ۔ ستارے ٹوٹ گئے لیکن سورج تو چمک رہا ہے۔ اس سے کرنیں مانگ لو اور اُن کو اندھیری راہوں میں بچھادو جہاں اُجالے کی سخت ضرورت ہے۔ ( مولانا ابوالکلام آزاد)

٭ قوتِ حافظہ کے لیے جہاں دوائیں استعمال اور وظائف کیے جاتے ہیں وہیں ایک دوا مطالعہ بھی ہے، امام محمد بن اسماعیل بخاری سے عرض کی گئی ’ حافظے کی دوا کیا ہے؟‘ آپ نے فرمایا ’ ’ادمان النظر فی الکتب‘ ‘یعنی کتب بینی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مطالعے کو اپنی عادت بنائیں۔

٭ ماہر نفسیات کہتے ہیں ! ناپ تول کر الفاظ ادا کیجئے، کبھی یہ نہ کہیں کہ ’’ میں کامیاب نہیں ہوں گا‘‘ ، ’’ میری زندگی فضول ہے‘‘، ’’ میں کچھ نہیں کرسکتا‘‘ یاد رکھیں آپ کا دِماغ ’’ مذاق‘‘ پسند نہیں کرتا۔ جو کچھ آپ کہتے یا سوچتے ہیں آپ کا دِماغ اُسی بیان پر اپنی کارروائی شروع کردیتا ہے۔

٭ ماضی چاہے جیسا بھی ہو اس کا اپنا ایک حُسن ہے لیکن ماضی‘ماضی میں رہنے کے لیے نہیں ہے۔ ماضی سیکھنے کے لیے ہے۔ ان غلطیوں سے جو ماضی میں ہوئیں۔ ماضی کو اس لیے یاد کرنا چاہیے تاکہ اس دَور میں کئے گئے تجربات کے دوران جو غلطیاں ہوئی تھیں‘ مستقبل میں ان سے بچا جائے۔

٭ آسان زندگی کی دُعا ہر گز نہ کریں بلکہ مضبوط تر انسان بننے کی دُعا کریں۔ ایسے کام سر انجام دینے کی دُعا ہر گز نہ کریں جو آپ کی قوت کے دائرے کے اندر ہوں بلکہ ایسی قوت حاصل کرنے کی دُعا کریں جو آپ کے کام سر انجام دینے کے اہل ہو۔ تب آپ کا کام کرنا ایک معجزہ نہیں ہوگا بلکہ آپ خود سراپا معجزہ ہوں گے۔

٭ شاہین ۱۵؍ ہزار فٹ کی بلندی پر آسانی سے اُڑان بھر سکتا ہے۔ اس پہلو سے سبق حاصل کرتے ہوئے نوجوانوں کو اپنی مثبت‘ بلند سوچ و افکار کے ساتھ اپنا مقصد زندگی متعین کرنا چاہیے۔ وہ بُری صحبت سے گریز کریں‘ ایسی صحبت سے تنہائی بہتر ہے‘ انہیں اپنا مقصد حیات حاصل کرنے کے لیے کامیابی کے راستے میں پیش آنے والی مشکلات کا ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ شاہین آندھی و طوفان میں دوسرے پرندوں کی طرح گھونسلوں میں چھپ کر بیٹھنے کی بجائے طوفان سے لطف اندوز ہوتا ہے اور طوفان کی مخالف سمت میں اُڑ کر مزید اونچائی پر اُڑتا ہے۔

٭ ہم جانتے ہیں کہ ہم کیا ہیں لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ ہم کیا ہوسکتے ہیں؟

٭ تم خود سوچو کہ کیا ہو تُم؟ اگر جواب سے مطمئن ہو تو سمجھ جانا کہ کامیاب ہو تم!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے