कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

گھاس اور چارہ کھا کر گذارہ کرلیں گے مگر غزہ نہیں چھوڑیں گے:غزہ کے عوام کا عزم صمیم

غزہ:20؍اگست:غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی جاری جنگ کے دوران سب سے دردناک اور کربناک منظر جبری انخلا کی لہر ہے۔ یہ انخلا فلسطینی عوام کے زخموں پر نمک بن گیا ہے۔ لاکھوں شہری کئی بار گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، بعض نے بیس سے بھی زیادہ مرتبہ جبری طور پر مسلط کی گئی نقل مکانی کی اذیت جھیلی۔انخلا کا مطلب ہے اپنے ہی گھر سے نکلنا اور خالی ہاتھ دربدر ہونا۔ اگر کوئی خوش نصیب ہوا تو اسے ایک خیمہ مل گیا، ورنہ بیشتر لوگ قابض فوج کے بمباری کے بیچ بھاگے اور اپنے ساتھ صرف اپنی جانیں بچا سکے۔ کپڑے، نہ بستر، نہ ضروری سامان، بالکل ایک ایسے مسافر کی طرح جسے بے آب و گیاہ صحرا میں چھوڑ دیا جائے۔غزہ کے بیشتر مکین بارہا اس کرب سے گزرے۔ کبھی ایک جگہ تو کبھی دوسری جگہ جا پہنچے۔ جنہیں خیمہ ملا وہ اسے کسی کونے میں گاڑ کر رہ گئے۔ یہ وہی غزہ ہے جس کے باسی دو ملین سے زائد ہیں اور جو دنیا کے سب سے گنجان علاقوں میں شمار ہوتا تھا، مگر سنہ2023 کی اس پاگل پن کی جنگ کے بعد اس کی زمین کا صرف 15 فیصد علاقہ رہائشیوں کے لیے باقی بچا ہے۔آج غزہ شہر یا اس کا ملبے میں دفن حصہ پھر سے ایک نئے خوابِ خوف میں جی رہا ہے۔ مشرقی محلوں کو اجاڑ کر مٹا دیا گیا، لاکھوں لوگ مغربی علاقے کی طرف دھکیلے گئے اور اب قابض فوج ایک نئی فوجی کارروائی کے منصوبے کے ساتھ شہر کو باقی ماندہ وجود سے بھی مٹا دینے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے۔ شہر کے کرب سہنے والے ہزاروں لوگ اعلان کر رہے ہیں کہ وہ ہرگز نہیں نکلیں گے۔ وہ موت کو برداشت کر لیں گے مگر دوبارہ انخلا قبول نہیں کریں گے۔اہل شہر کے عوامی حلقوں اور باشعور طبقات کی طرف سے بلند آوازیں سنائی دے رہی ہیں کہ ہمیں اپنے گھروں سے نہیں نکلنا، ہمیں یہ شہر چھوڑ کر جنوب کی طرف نہیں جانا۔ کیونکہ اس بار انخلا کا مطلب ہے کہ ہم اپنی زمین اور اپنی غزہ کو ہمیشہ کے لیے کھو دیں، جو موت سے کم کربناک نہیں۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ قابض اسرائیل جسے وہ انسانی علاقے کہتے ہیں وہاں بھی روزانہ خیموں پر بمباری کرتا ہے، شہید اور زخمیوں کی لاشیں گر رہی ہیں۔
"ہم دوبارہ وہ کرب نہیں سہہ سکتے
چالیس سالہ استاد ابو احمد پانچ بچوں اور اہلیہ کے کفیل ہیں دسمبر سنہ2023 میں جبری طور پر دیر البلح گئے اور ایک طویل انخلا کی اذیت بھگتی۔ جنوری میں عارضی جنگ بندی کے بعد واپس غزہ شہر لوٹے۔ابو احمد بتاتے ہیں کہ ان کے بچے اور بیوی انخلا کا لفظ بھی سننا نہیں چاہتے، چاہے اس کا مطلب موت ہی کیوں نہ ہو۔ وہ کہتا ہے کہ انخلا نے ان کی روحوں پر ایسے زخم چھوڑے ہیں جو کبھی نہیں مٹ سکتے۔ اب وہ کسی بھی حال میں شہر چھوڑنے کو تیار نہیں، ہاں ایک محلے سے دوسرے محلے جا سکتے ہیں لیکن غزہ سے باہر نہیں نکلیں گے۔ابو احمد کہتے ہیں کہ "ہم نے سبق سیکھ لیا ہے کہ نکلنا سب سے مہنگا سودا ہے۔ اپنی زمین پر ڈٹے رہنا، چاہے بموں کی بارش ہو، یہی سب سے بہتر ہے۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ قابض اسرائیل ہمارے شہر کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے جیسے اس نے شمالی غزہ، رفح اور خان یونس کو مٹی کے ڈھیر میں بدل دیا۔ابو احمد کے مطابق "اس بار اگر ہم نکل گئے تو یہ ہماری غزہ کا خاتمہ ہوگا، ہمیشہ کے لیے۔ ہم دوبارہ نہیں لوٹ سکیں گے۔ کوئی کسی کو مجبور نہیں کر سکتا مگر سچ یہ ہے کہ نکلنا ایک ایسی ہلاکت ہے جو موت سے بھی بدتر ہے۔
"ہم نے بھوک کا سامنا کیا، مگر شہر نہیں چھوڑا
ریٹائرڈ سرکاری ملازم ستر سالہ ابو بلال مشرقی غزہ کے علاقے النفق کے رہائشی ہیں۔ وہ اور ان کی اہلیہ اپنے گھر میں ہی ڈٹے رہے۔ قابض فوج کے ٹینک اور فوجی گھر کے قریب مہینوں تک رہے، گھروں کو ڈھایا، عمارتوں کو جلایا، مگر وہ باہر نہیں نکلے۔ابو بلال کہتے ہیں کہ "ہم پہلی بار بھی نہیں نکلے اور اب بھی نہیں نکلیں گے۔ کس چیز کا ڈر؟ موت کا؟ میری عمر میں اب کیا باقی ہے۔ مگر اگر میں نکلا تو اپنی غزہ کو دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکوں گا۔ یہی سب سے بڑی موت ہے۔ابو بلال نے اپنی بیوی کے ساتھ وہ قحط بھی دیکھا جو قابض فوج نے غزہ اور شمالی علاقوں پر مسلط کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ "ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا۔ ہم نے گھاس اور چارہ کھا کر گزارہ کیا۔ مگر آخرکار ہمارا غزہ بچا رہا۔ ہزاروں لوگ شہر میں موجود رہے اور یہی قابض اسرائیل کی منصوبہ بندی کو ناکام بنانے کا راز بنا۔ اب بھی یہی ہونا چاہیے، بلکہ زیادہ بڑے پیمانے پر ہونا چاہیے تاکہ ہم اپنی غزہ کو ہمیشہ کے لیے نہ کھو دیں۔ابو بلال بھی ابو احمد سے متفق ہیں کہ نکلنا یا رہنا ایک ذاتی فیصلہ ہے، لوگ اپنی طاقت اور حالات کے حساب سے فیصلہ کرتے ہیں۔ مگر وہ یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ بقا اور صبر ہی سب سے بہتر راستہ ہے۔ماہ ہا ماہ کی جنگ کے دوران قابض اسرائیل کی بیرحم قتل و غارت، اجتماعی سزا اور قحط کے باوجود انخلا کے منصوبے ناکام ہوئے کیونکہ شہر کے لوگ بڑی تعداد میں جم کر کھڑے رہے۔ مگر اب سب کی نظریں آنے والے دنوں پر ہیں۔ کیا وہ اس بار بھی اپنے شہر کو بچا سکیں گے؟ یہ سوال وقت ہی دے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے