कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غزہ میں قابض اسرائیل کی جانب سے بھوک کو نسل کشی کا ہتھیار بنانے کی لرزہ خیز داستان!

غزہ:24؍جولائی:قابض اسرائیل نے غزہ کے خلاف جو ہولناک جنگ مسلط کر رکھی ہے، اس میں نہ صرف بم، گولے اور فاسفورس بم استعمال کیے جا رہے ہیں بلکہ ایک اور مہلک ہتھیار بھی استعمال ہو رہا ہے۔ یہ ہتھیار ہے بھوک۔ جی ہاں فلسطینی عوام کو اجتماعی طور پر فاقہ کشی کے شکنجے میں کسا جا رہا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی یا جنگی ضمنی اثر نہیں، بلکہ پوری منصوبہ بندی کے تحت چلائی جانے والی نسل کشی کی منظم مہم ہے۔
ایک مجرمانہ اعلان
جب بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کے وزیر جنگ یوآف گالانت نے 9 اکتوبر سنہ2023 کو کہا تھا، ہم غزہ پر مکمل محاصرہ مسلط کر رہے ہیں۔ نہ بجلی، نہ پانی، نہ خوراک، نہ گیس۔ ہم انسانوں سے نہیں، جانوروں سے نمٹ رہے ہیں تو یہ بیان پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی تھا۔ اس میں اعتراف بھی تھا اور ارادہ بھی، اور یہ سب کچھ ایک قابض ریاست کے اعلی فوجی کمانڈر کی زبان سے نکلا۔
قتل، قحط اور قید سب کچھ ایک ساتھ
غزہ کے عوام سنہ2006 سے مختلف سطحوں پر محاصرے میں ہیں، مگر بنجمن نیتن یاھو کی حکومت نے 7 اکتوبر سنہ2023 سے اس محاصرے کو بھوک کی اجتماعی سزاں میں تبدیل کر دیا۔ اس دوران غزہ کے شمالی علاقوں کو مکمل طور پر خوراک، پانی، دواں اور ایندھن سے محروم رکھا گیا۔ ہسپتالوں پر بمباری کی گئی، اناج کے گودام تباہ کیے گئے، بازار، کھیت اور حتی کہ تکیے (مفت کھانے کے مراکز) بھی نشانے پر لے آئے گئے۔
مراحل در مراحل نسل کشی
یہ سب کچھ کسی وقتی غصے یا ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ واضح حکمت عملی تھی۔ محاصرہ مکمل کیا گیا، پھر زمینی پیش قدمی سے شمالی علاقوں کو جنوبی غزہ سے کاٹ دیا گیا۔ کچھ دنوں کی عارضی جنگ بندی میں معمولی امداد صرف جنوبی غزہ کو دی گئی، اور شمالی علاقوں کو دانستہ طور پر فاقہ زدہ چھوڑ دیا گیا۔ جب لوگوں نے آٹے کی تلاش میں جمع ہونا شروع کیا تو ان پر گولیاں چلائی گئیں، بم برسائے گئے۔ مجازر الطحین یعنی آٹے کی قتل گاہیں کئی مہینے جاری رہیں۔
اعداد و شمار: بھوک سے مرنے والے، آہوں سے بھری فضا
فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق صرف جولائی سنہ2025 تک 89 افراد بھوک اور غذائی قلت کے باعث شہید ہو چکے ہیں جن میں 78 بچے شامل ہیں۔ جبکہ بے شمار اموات ایسی ہیں جنہیں عام موت قرار دے کر ریکارڈ میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔
2.3 ملین افراد مکمل محاصرے میں، خوراک، پانی اور دوا سے محروم
650,000 بچے شدید غذائی قلت کا شکار
60,000 حاملہ خواتین خطرناک حالات سے دوچار
12,500 کینسر کے مریض علاج اور غذا کے منتظر
74 ہزار بچوں کے طبی معائنے میں 5,500 کو سنگین غذائی قلت کا شکار پایا گیا
121 مرتبہ قابض اسرائیل نے امدادی قافلوں پر حملے کیے
57 امدادی مراکز اور 42 تکیے قابض افواج کا ہدف بنے
قانونی اور اخلاقی دیوالیہ پن
قابض اسرائیل کا یہ عمل نہ صرف بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اسے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے مطابق "نسل کشی کی تعریف میں شمار کیا جانا چاہیے۔ جنیوا کنونشن کی دفعات 55، 56 اور 54 کے تحت کسی بھی قابض ریاست پر لازم ہوتا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے کے شہریوں کو خوراک، پانی اور طبی سہولیات فراہم کرے۔ قابض اسرائیل نہ صرف اس سے انکار کر رہا ہے بلکہ ان سہولیات کو نشانہ بھی بنا رہا ہے۔
اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی خاموشی قابل مذمت
اقوام متحدہ، عالمی خوراک پروگرام، انروا اور دیگر ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ "دنیا کی بدترین بھوک کے بحران کا شکار ہے۔ مگر دنیا کے طاقتور ممالک اور پالیسی ساز اب تک خاموشی یا منافقانہ بیانات سے آگے نہیں بڑھے۔ وہ ممالک جو انسانی حقوق کے علم بردار بنے پھرتے ہیں، اس نسل کشی کے براہ راست یا بالواسطہ شریک ہیں۔
ہماری اپیل انسانیت کا امتحان
غزہ کا محاصرہ فی الفور ختم کیا جائے
خوراک، پانی، دوا کی آمد و رفت پر کسی قسم کی پابندی نہ ہو
قابض اسرائیل کے تمام ذمہ داران کو عالمی عدالت میں پیش کیا جائے
امدادی قافلوں کی بین الاقوامی نگرانی کی جائے
نسل کشی کے اس خونی باب کو بند کرنے کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے