कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غزہ میں خاموش نسل کشی، نومولود بچوں کی زندگیاں ملبے تلے دم توڑنے لگیں

غزہ :15؍جولائی:غزہ کے محکوم اور محصور عوام کی داستانِ غم کا ایک اور دلخراش باب سامنے آ گیا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش نے انکشاف کیا ہیکہ جنگ زدہ غزہ میں صرف گھروں کو نہیں بلکہ انسانوں کی نسلوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بمباری صرف دیواروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب یہ ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچوں کو بھی نگلنے لگی ہے۔ ایک ایسی درندگی جو زندگی کو آغاز سے پہلے ہی مٹا دینے پر تلی ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس پر جاری کردہ بیان بتایا کہ سنہ2025 کے پہلے چھ ماہ کے دوران جاری کیے گئے طبی اعداد و شمار غزہ میں ماں اور نومولود بچوں کو درپیش المیے کی ہولناک تصویر پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معمولی اعداد و شمار نہیں، بلکہ یہ جنگی جنون کی عکاسی کرتے ہیں، جس نے تمام حدیں پار کر لی ہیں۔ اب تو رحمِ مادر بھی محفوظ نہیں رہا۔ نوزائیدہ بچے اور معصوم مائیں نسل کشی، جبری بے دخلی اور فلسطینیوں کے خاتمے کی پالیسی کے تحت چھپے ہوئے مگر براہ راست اہداف بن چکے ہیں۔ڈاکٹر البرش کے مطابق سنہ2025 کے پہلے نصف میں صرف 17,000 پیدائشوں کا اندراج ہوا، جبکہ سنہ2022 کی اسی مدت میں 29,000 تھیں۔
یعنی 41.4 فیصدکی خطرناک کمی ریکارڈ کی گئی۔
اس دوران 2,600 حمل ضائع ہوئے، جو کل حمل کا 15.3 فیصد ہیں۔
220 خواتین حمل کے دوران یا زچگی سے قبل جاں بحق ہوئیں۔
21 نوزائیدہ بچے پہلے ہی دن زندگی کی بازی ہار گئے۔
67 بچے پیدائشی نقائص کے ساتھ پیدا ہوئے۔
2,535 نوزائیدہ صحت کی پیچیدگیوں کی وجہ سے نرسری میں داخل کیے گئے۔
1,600 بچے کم وزن کے ساتھ پیدا ہوئے۔
1,460 بچے وقت سے پہلے پیدا ہوئے۔
ڈاکٹر البرش نے کہا کہ یہ صرف اعداد نہیں بلکہ زندہ لاشیں ہیں، امیدوں کے کچلے ہوئے چراغ ہیں، ایسی مائیں ہیں جو خوف، بھوک اور بمباری میں زندگی دیتی ہیں، اور وہ معصوم بچے ہیں جنہیں دنیا کی پہلی سانس بھی نصیب نہیں ہو پاتی۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ غزہ میں جاری اس خفیہ مگر ظالمانہ پالیسی کا مقصد واضح ہے: فلسطینی نسل کو جڑ سے اکھاڑنا، ماں کی کوکھ کو نشانہ بنا کر ایک خاموش مگر منظم نسل کشی کی تکمیل۔ڈاکٹر البرش نے عالمی ضمیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہر وہ ماں جو غزہ میں بچے کو جنم دیتی ہے، وہ کسی ہسپتال میں نہیں بلکہ ایک میدان جنگ میں، خوف، دھماکوں، بھوک، پیاس اور دوا کی عدم موجودگی میں زندگی کے خلاف اعلانِ مزاحمت کرتی ہے۔ اور ہر پیدا ہونے والا بچہ، درحقیقت، موت کو شکست دے کر پیدا ہونے والا ایک معجزہ ہوتا ہے۔انہوں نے یہ بات واضح کی کہ "یہ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ وہ زندگیاں ہیں جنہیں جینے کا موقع تک نہیں دیا گیا۔ یہ وہ مائیں ہیں جو قبرستان جیسی خاموشی میں بچوں کو جنم دیتی ہیں، اور وہ بچے ہیں جو رونے سے پہلے ہی ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے