कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تاریخی فلسطین کو اس کی اصل آبادی سے خالی کرنا عرب دنیا کو قبول نہیں : ابو الغیط

قاہرہ:13؍فروریـ:عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط کا کہنا ہے کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی ان کی اراضی سے جبری ہجرت کو عرب دنیا میں "قبول نہیں کیا جا سکتا”۔دبئی میں حکومتوں کے عالمی سربراہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ابو الغیط نے واضح کیا کہ "اس کا مقصد تاریخی فلسطین کو اس کی اصل آبادی سے خالی کرنا ہے جس کو عرب دنیا میں قبول نہیں کیا جا سکتا، انھوں نے سو برس تک مزاحمت کی ہے”۔عرب لیگ کے سکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطینیوں کو ہر چیز سے محروم کر دینا چاہتے ہیں۔ ابو الغیط نے باور کرایا کہ ٹرمپ یا کوئی بھی اور فریق غزہ کو خرید نہیں سکتا۔ابو الغیط نے زور دیا کہ فلسطینی اراضی کے حوالے سے عربی دنیا کی طرف سے کوئی دست برداری نہیں ہو گی، عرب ممالک دو ریاستی حل پر متفق ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز یہ ہے کہ اسرائیل "غزہ کا کنٹرول” واشنگٹن کو دے دے اور وہاں کے فلسطینیوں کی مصر اور اردن جیسے ممالک منتقلی کے بعد امریکا غزہ کی پٹی کو "مشرق وسطی کا ریویرا” میں تبدیل کر دے۔ اس تجویز کی عرب اور بین الاقوامی دنیا میں وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔کئی عرب اور مغربی ممالک نے کہا ہے کہ یہ نسلی تطہیر کا ایک الم ناک منصوبہ ہے، یہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے غیر قانونی ہے۔ابو الغیط کے مطابق اگر ٹرمپ نے "ڈیل آف دی سنچری” کو دوبارہ پیش کیا تو اس کو بھی مسترد کر دیا جائے گا۔ابو الغیط نے واضح کیا ہے کہ ہنگامی عرب سربراہ اجلاس میں ایک عرب تجویز زیر بحث لائے جائے گی جو ٹرمپ کی تجویز کے مقابل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ عرب تجویز فلسطینی جانب کی موافقت کے مطابق عرب اور بین الاقوامی حمایت سے سامنے لائی جائے گی، فلسطینی موافقت کے بغیر کوئی حل نہیں ہو گا۔ابو الغیط کے مطابق قضیہ فلسطین کے حوالے سے سعودی عرب کی قیادت کا موقف تاریخی اور ثابت قدم رہا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ حماس کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں اس لیے کہ رابطہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ محدود ہے۔ابو الغیط نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر فلسطینی مفاد کا تقاضا ہوا تو حماس کو سبک دوش ہو جانا چاہیے۔عرب لیگ کے سکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ "ہم عرب اسرائیلی تنازع کی تاریخ میں نہایت خطرناک مقابلے کے دور سے گزر رہے ہیں … غزہ معاہدے کے ٹوٹ جانے میں نیتن یاہو کا اپنا مفاد ہے”۔امریکی صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ اگر ہفتے کی دوپہر بارہ بجے تک غزہ سے تمام یرغمالیوں کو واپس نہ کیا گیا تو وہ فائر بندی معاہدے کی منسوخی کا مطالبہ کر دیں گے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے