कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کیا اسلام سائنسی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے؟

تحریر:محمد عادل ارریاوی

اسلام پر علم دشمنی کا الزام لگانے والوں کو تاریخ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے کیونکہ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ اسلام نے علم و تحقیق کی حوصلہ افزائی کی اور انسانیت کو غور و فکر کا نیا شعور عطا کیا۔ سوال یہ ہے کہ اسلام جدید علوم کا مخالف ہے یا ان کی ترقی کا محرک؟ آئیے حقائق کی روشنی میں اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
موجودہ زمانے میں مغربی دانشور اسلام کے خوبصورت چہرے کو بدنما ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں مصروف ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح اسلام کو بدنام کریں اسلام کا نام ونشان مٹادیں۔ وہ ہر اس مہم کا حصہ بن جاتے ہیں جو اسلام کی بدنامی کا باعث بنے۔ وہ اسلام کے خلاف یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ اسلام جدید علوم کے خلاف ہے۔ اسلام اور جدید علوم ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ آئیے ہم ذرا تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں کہ اسلام کی وجہ سے جدید علوم کی حوصلہ شکنی ہوئی یا اسلام کی بدولت سائنس اور ٹیکنالوجی اور نئے علوم کے دروازے گھل گئے ۔
اسلام سے پہلے یونانی حکماء نے جدید علوم کی جانب توجہ دی۔ اس زمانے میں سقراط افلاطون ٹالیس بطلیموس اور ارسطو وغیرہ نے زمین کی سطح گولائی اجرام فلکی اور دیگر مختلف امور پر مشاہدات اور تحقیقات کی مدد سے نظریات پیش کیے اور معلومات کا بیش بہا ذخیرہ چھوڑا لیکن یونانیوں کے بعد عیسائیت کے دور میں سائنسی علوم زوال کا شکار ہوئے ۔ اس دور میں عیسائیوں نے جدید نظریات اور علوم باطل قرار دیئے ان کی کتابیں جلا دی گئیں اور اس کی تعلیم ممنوع قرار دے دی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ اور وہ علاقے جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی جہالت کے اندھیروں میں ڈوب گئے ۔ ایک ایسے زمانے میں جہاں عیسائی پادریوں کے جبر و استبداد کی وجہ سے علم و حکمت کا نام ونشان مٹ چکا تھا اس زمانے میں اللہ ربّ العزت نے انسانیت کی ذلت و پستی کی حالت پر رحم کھا کر حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نبی و رسول بنا کر علم و حکمت کے بے شمار علوم عطا فرما کر بھیجا۔ وحی کی ابتدا ہی لفظ اقرا‘ ترجمہ ”پڑھیے سے ہوئی۔ پھر آقا نے فرمایا ابی بُعِثْتُ مُعَلماً بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
نیز فرمایا بے شک حکمت کے موتی مومن کا گم شدہ سامان ہیں۔ جہاں سے ملے وہ اس کے حاصل کرنے کا سب سے زیادہ حق دار ہے۔ اللہ ربّ العزت نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر قرآن مجید جیسی عظیم الشان کتاب نازل کی اس کتاب میں اللہ ربّ العزت نے تمام انسانیت کو کائنات میں غور و فکر کی ترغیب کی بہت تاکید کی ۔ متعدد آیات میں بنی آدم کو حکم دیا ہے کہ تم اللہ ربّ العزت کی مخلوقات میں غور وفکر کرو اس کی نشانیوں کو غور سے دیکھو۔
قرآن کریم کی اس ترغیب کی بدولت مسلمانوں نے علم کے حصول اور اس کو پھیلانے کا بیڑا اٹھایا۔ یہی وجہ ہے آٹھویں صدی عیسوی سے لیکر تیرھویں صدی تک کا یہ زمانہ علم وحکمت کا اسلامی دور تھا۔ اس دور میں فلسفہ طب اور سائنس کے فراموش شدہ علوم کو نہ صرف انسانوں نے زندہ کیا بلکہ اپنی جدید تحقیقات سے ان کو ایک نئی راہ دی۔ ابو ہاشم خالد بن یزید جس علم کیمیا کا بانی کہا جاتا ہے۔ علم کیمیا اور طب کے بہت بڑے عالم تھے۔ انہوں نے اس موضوع کے متعلق کئی کتابیں لکھیں۔ سائنس کی دنیا میں البیرونی کی خدمات کو مغرب کے لوگ نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ جابر بن حیان جو حضرت جعفر صادق کے شاگرد تھے انہوں نے گندھک وغیرہ کے تیزاب اور دھاتوں کے نرم اور پھر گیس بنانے کا طریقہ دریافت کیا۔ فائر پروف اور واٹر پروف کاغذ بھی انھوں نے ایجاد کیا۔ انھوں نے بھی اپنے فن کے متعلق سو کے قریب کتابیں لکھیں۔ اس مسلمان سائنس دان کی کتابوں کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کیا گیا۔ ایک اور بھی مسلمان گزرے ہیں جس کا نام ابو علی حسن بن الشیم ہے۔ جنہیں یورپ والے ملک البزان کہتے ہیں۔ اس طرح سے کئی ایسے مسلمان سائنسدان گزرے ہیں۔ اس زمانے میں کئی مسلمان سائنسدان حیران کن طور پر مختلف ایجادات کے موجد ہے ۔ ابن الہیشم جابر بن حیان ابن سینا المقدسی البیرونی اور ابنِ بطوطہ جیسے بڑے مسلمان سائنسدانوں نے جدید مشاہدات اور تحقیقات کی روشنی میں وہ علوم دریافت کیے کہ آج بھی ان کی برابری کوئی نہیں کر سکتا۔ یورپ کی موجودہ سائنسی ترقی ان مسلم سائنسدانوں کی مرہون منت ہے۔ مسلمان سائنسدانوں کا وجود آج بھی الشفاء اور القانون کے حصے ان کے نصاب میں شامل ہیں۔ سب مسلمان سائنسدانوں کی محنت تھی آج جدید دور میں اُن کی کتابوں سے استفادہ کر کے اپنے آپ کو سائنسدان کہلانے لگے۔
اسلام نے دنیا سے جہالت کی تاریکی دور کر دی۔ اسلام کے آتے ہی سوچ کے دھارے بدل گئے۔ جدید سائنسی ترقی نے ہمیں غور وفکر کے نئے وسائل مہیا کیے ہیں چنانچہ جوں جوں سائنس ترقی کرتی جارہی ہے قرآن اپنے معجزہ ہونے کے لیے دلائل مہیا کرتا جاتا ہے۔
ایک شخص نے ایک دفعہ اپنے گھر میں نجی گفتگو میں قرآن عظیم الشان کے متعلق فرمایا کہ ایک دفعہ میں واشنگٹن میں ایک ڈاکٹر سے ملنے کیلئے گیا یہ 1990 کا زمانہ تھا وہ مصر گیا ہوا تھا 3 دن کے بعد آیا ملاقات کرنے کے بعد انھوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا سے ۲۵۰ بڑے ڈاکٹر جمع ہو گئے تھے قرآن عظیم الشان پر ریسرچ (تحقیق) کر رہے تھے کہ قرآن کریم میں 19 آیات ایسی ہیں جنہوں موجودہ جدید دور میں انھوں نے سائنس کی دنیا میں فائدہ دیا ہے اگر ہم نے مزید قرآن پر تحقیق کی تو ہم سائنس کے علوم میں مزید قرآن سے فائدہ لے سکتے ہیں آج اگر مسلمان جدید علوم میں پیچھے ہیں یہ ان کی اپنی کوتاہی اور اسلامی تعلیمات سے لا پرواہی ہے ۔ ان کی کوتاہی کو اسلام کے کھاتے میں ہرگز نہیں ڈالا جاسکتا۔ مگر اس ساری صورت حال کے بعد یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام جدید علوم کے خلاف نہیں ہے۔
علم اور اسلام کا رشتہ روزِ اول ہی سے نہایت گہرا رہا ہے مگر افسوس کہ آج اسی دین پر جدید علوم کی مخالفت کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ حقیقت جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تاریخ کے ان روشن ابواب کا مطالعہ ضرور کریں جن میں مسلمانوں نے علم و تحقیق کے میدان میں نمایاں کارنامے انجام دیے اور دنیا کو ترقی کی نئی راہیں دکھائیں۔
اللہ ربّ العزت ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے آمین یا رب العالمین۔
15 اکتوبر 2026ء بروز جمعرات

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے