कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

علم، عمل اور حکمت: انسان کی اصل پہچان کیا ہے؟

از قلم: ڈاکٹر محمد عبد السمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر مولانا آزاد کالج اورنگ آباد
موبائل نمبر:9325217306

انسانی زندگی میں علم، عقل اور تجربہ تین ایسی نعمتیں ہیں جن کے بغیر فرد کی شخصیت اور معاشرے کی تعمیر ادھوری رہتی ہے۔ علم انسان کو حقیقت سے آشنا کرتا ہے، عقل اسے حقیقت کو سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت دیتی ہے، جبکہ تجربہ اسے زندگی کے نشیب و فراز سے سیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ لیکن ان تینوں نعمتوں کی اصل قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب علم عمل میں، عقل بصیرت میں اور تجربہ حکمت میں تبدیل ہوجائے۔

محض بہت کچھ جان لینا انسان کو صاحبِ علم نہیں بناتا، بہت زیادہ بول لینا اسے صاحبِ بصیرت نہیں بناتا اور عمر کا بڑھ جانا اسے حکیم و دانا نہیں بنا دیتا۔ حقیقی کمال یہ ہے کہ انسان جو کچھ جانتا ہے اسے اپنی زندگی میں نافذ کرے، جو کچھ بولتا ہے اسے اپنے عمل سے ثابت کرے اور جو کچھ زندگی سے سیکھتا ہے اسے اپنی عقل و بصیرت کا حصہ بنائے۔

یہی حقیقت چند نہایت جامع اور فکر انگیز حکمتوں میں بیان ہوئی ہے۔ ان حکمتوں پر غور کیا جائے تو انسانی زندگی، تعلیم، تربیت، معاشرت اور شخصیت سازی کے کئی بنیادی اصول سامنے آتے ہیں۔

علم کی اصل پہچان عمل ہے

ایک حکمت میں کہا گیا ہے:

«لَيْسَتِ العَصَا لِلْعِلْمِ، وَلَكِنَّ العَصَا لِمَنْ عَصَى، وَلَوْ كَانَتِ العَصَا لِلْعِلْمِ لَكَانَ الحِمَارُ مُهَنْدِسًا»

اس حکمت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ محض کسی چیز کا ساتھ ہونا، اسے اٹھانا یا اس کا دعویٰ کرنا اس چیز کی حقیقت کا ثبوت نہیں ہوتا۔ علم کا تعلق صرف کتاب، قلم، سند، عہدے یا الفاظ سے نہیں؛ علم کی حقیقی قدر اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ انسان کے کردار اور عمل کو بدل دے۔

آج کا زمانہ معلومات کی فراوانی کا زمانہ ہے۔ چند لمحوں میں انسان دنیا کے کسی بھی موضوع پر ہزاروں صفحات پڑھ سکتا ہے۔ ایک موبائل فون میں اتنی معلومات موجود ہیں جتنی شاید ماضی کے بڑے بڑے کتب خانوں میں بھی میسر نہ ہوتی ہوں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ معلومات کی اس فراوانی نے ہمارے کردار میں کتنا اضافہ کیا؟

یہی وہ مقام ہے جہاں علم اور معلومات کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔

معلومات ذہن کو بھر سکتی ہیں، مگر علم انسان کو بناتا ہے۔ معلومات ہمیں بتاتی ہیں کہ سچ کیا ہے، جبکہ حقیقی علم ہمیں سچ بولنے کی قوت دیتا ہے۔ معلومات ہمیں عدل کی تعریف بتاتی ہیں، لیکن علم ہمیں اپنے مفاد کے خلاف بھی انصاف کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ معلومات صبر کی فضیلت بیان کرتی ہیں، مگر علم ہمیں آزمائش کے وقت صبر کرنا سکھاتا ہے۔

اسی لیے اہلِ علم نے علم کو محض کثرتِ معلومات نہیں سمجھا۔ اسلامی علمی روایت میں علم کے ساتھ خشیت، اتباع اور عمل کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ علم محض کثرتِ روایت کا نام نہیں بلکہ اس کا اثر انسان کے دل اور عمل میں ظاہر ہونا چاہیے۔

قرآنِ مجید بھی علم کو محض ذہنی ذخیرے کے طور پر پیش نہیں کرتا، بلکہ حقیقی علم کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی خشیت اور ذمہ داری کا شعور پیدا ہوتا ہے:

﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ﴾

یعنی اللہ کے بندوں میں حقیقتاً وہی لوگ اس سے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔

اس لیے کسی انسان کی علمی عظمت کا اندازہ صرف اس کی ڈگریوں، کتابوں یا تقریروں سے نہیں، بلکہ اس کے کردار سے بھی ہونا چاہیے۔ اگر علم انسان کو متکبر بنا دے تو علم کی روح کہیں کھو گئی ہے؛ اگر علم اسے دوسروں کی تحقیر پر آمادہ کردے تو وہ علم کے مقصد سے دور ہوگیا؛ اور اگر علم اسے اپنے نفس کا محاسبہ سکھائے، تواضع عطا کرے اور عملِ صالح کی طرف لے جائے تو یہی علم حقیقی معنوں میں نور بن جاتا ہے۔

علم وہ نہیں جو صرف زبان پر ہو؛ علم وہ ہے جو زندگی میں دکھائی دے۔

کثرتِ کلام علم کی دلیل نہیں

دوسری حکمت نہایت جامع انداز میں کہتی ہے:

«لَيْسَ العِلْمُ بِكَثْرَةِ الكَلَامِ، وَلَكِنَّ العِلْمَ بِحُسْنِ العَمَلِ، وَلَوْ كَانَ الكَلَامُ عِلْمًا لَكَانَ كُلُّ ثَرْثَارٍ عَالِمًا»

یعنی علم زیادہ بولنے کا نام نہیں، بلکہ اچھے عمل کا نام ہے؛ اگر کثرتِ کلام ہی علم ہوتی تو ہر باتونی شخص عالم ہوتا۔

یہ حکمت ہمارے عہد کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ آج ہر شخص کو اپنی بات کہنے کا موقع حاصل ہے۔ سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو، چند سطروں کی تحریر یا ایک مختصر تبصرہ ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔

لیکن اظہار کی سہولت نے ایک خطرہ بھی پیدا کیا ہے: ہم نے بولنے کو جاننے اور اپنی رائے کو علم سمجھنا شروع کردیا ہے۔

کسی موضوع پر رائے رکھنا اور کسی موضوع کا علم رکھنا ایک چیز نہیں۔ گفتگو کی روانی تحقیق کی دلیل نہیں، الفاظ کی کثرت فہم کی ضمانت نہیں اور اعتماد کے ساتھ بات کرنا سچائی کا ثبوت نہیں۔

حقیقی علم انسان کو یہ شعور بھی دیتا ہے کہ کہاں بولنا ہے اور کہاں خاموش رہنا ہے۔

آج ہماری اجتماعی زندگی میں بے شمار تنازعات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم سننے سے زیادہ بولنے کے خواہش مند ہیں۔ ہر شخص جواب دینا چاہتا ہے، لیکن ہر شخص سمجھنا نہیں چاہتا۔ ہر شخص اپنی بات منوانا چاہتا ہے، لیکن اپنی غلطی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

علم انسان کے اندر عاجزی پیدا کرتا ہے۔ جتنا انسان حقیقت کو گہرائی سے سمجھتا ہے، اتنا ہی اسے اپنی کم علمی کا احساس ہوتا ہے۔ اسی لیے حقیقی عالم کی گفتگو میں وزن ہوتا ہے، کیونکہ وہ ہر سوال کا جواب دینے کی جلدی نہیں کرتا اور ہر معاملے میں اپنی رائے کو آخری فیصلہ نہیں سمجھتا۔

حسنِ عمل علم کو اعتبار بخشتا ہے۔

ایک استاد اگر اخلاق پڑھائے مگر خود بد اخلاق ہو، ایک تاجر دیانت کی بات کرے مگر معاملات میں دھوکا دے، ایک شخص صبر کی نصیحت کرے مگر معمولی اختلاف پر مشتعل ہوجائے، تو اس کی زبان اور اس کا عمل ایک دوسرے کی تردید کررہے ہوتے ہیں۔

اس کے برعکس ایک شخص کم بولے، مگر اس کی دیانت، شرافت، تحمل، انصاف اور حسنِ معاشرت دوسروں کے لیے عملی نمونہ بن جائے تو اس کی خاموش زندگی بھی ایک مؤثر درس بن جاتی ہے۔

اسی لیے علم کا بہترین ترجمان انسان کا کردار ہے۔

حکمت عمر کی محتاج نہیں

تیسری حکمت انسان کو ایک اور نہایت اہم حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے:

«لَيْسَتِ الحِكْمَةُ بِكِبَرِ السِّنِّ، وَلَكِنَّهَا بِرَجَاحَةِ العَقْلِ، وَلَوْ كَانَ كِبَرُ السِّنِّ لَكَانَ كُلُّ شَيْخٍ حَكِيمًا»

یعنی حکمت صرف بڑی عمر کا نام نہیں، بلکہ عقل کی پختگی کا نام ہے؛ اگر بڑی عمر ہی حکمت کی ضمانت ہوتی تو ہر عمر رسیدہ شخص حکیم ہوتا۔

یہ بات بزرگوں کے احترام کے منافی نہیں، بلکہ حکمت اور عمر کے درمیان بنیادی فرق کو واضح کرتی ہے۔ عمر کا بڑھنا ایک فطری عمل ہے، لیکن عقل کا پختہ ہونا ایک شعوری سفر ہے۔

انسان سالوں کے گزرنے سے بوڑھا ضرور ہوتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ وہ ان سالوں سے کچھ سیکھ بھی لے۔

ایک ہی غلطی کو بار بار دہرانا عمر بڑھنے کی علامت ہوسکتا ہے، حکمت کی نہیں۔ حالات سے گزرنا تجربہ ہے، مگر حالات سے سبق حاصل کرنا حکمت ہے۔ شکست سے گزرنا تجربہ ہے، مگر شکست کے اسباب کو سمجھ کر اپنی اصلاح کرنا حکمت ہے۔ اختلاف کا سامنا کرنا معمول کی بات ہے، لیکن اختلاف کے باوجود انصاف اور شائستگی برقرار رکھنا عقل کی پختگی ہے۔

حکیم انسان صرف یہ نہیں دیکھتا کہ کیا ہوا؟ بلکہ یہ بھی سوچتا ہے کہ کیوں ہوا، اس کا نتیجہ کیا ہوگا اور آئندہ اس سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟

اسی لیے کم عمر انسان بھی کبھی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس میں برسوں کی بصیرت محسوس ہوتی ہے، جبکہ عمر رسیدہ انسان بھی کبھی ایسی ضد پر قائم رہتا ہے جو اس کی طویل عمر کے باوجود فکری پختگی سے محرومی کو ظاہر کرتی ہے۔

اصل حکمت یہ ہے کہ انسان اپنے تجربات کو شعور میں تبدیل کرے۔

زندگی ہر انسان کو سبق دیتی ہے، لیکن ہر انسان سبق نہیں لیتا۔ وقت سب کو بدلتا ہے، مگر ہر شخص وقت سے سیکھتا نہیں۔ مشکلات سب کے راستے میں آتی ہیں، مگر ہر شخص مشکلات سے حکمت حاصل نہیں کرتا۔

علم، عمل اور حکمت کا باہمی رشتہ

ان تینوں حکمتوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو انسانی شخصیت کی تعمیر کا ایک مکمل نقشہ ہمارے سامنے آتا ہے۔

علم انسان کو حقیقت سے آشنا کرتا ہے۔
عمل علم کو حقیقت بناتا ہے۔
تجربہ عمل کے نتائج دکھاتا ہے۔
عقل تجربے کو سمجھتی ہے۔
اور بصیرت ان سب کو حکمت میں تبدیل کرتی ہے۔

اگر علم ہو مگر عمل نہ ہو تو علم محض معلومات کا ذخیرہ بن جاتا ہے۔

اگر عمل ہو مگر علم نہ ہو تو انسان نیک نیتی کے باوجود غلط راستہ اختیار کرسکتا ہے۔

اگر تجربہ ہو مگر غوروفکر نہ ہو تو عمر گزر جاتی ہے مگر حکمت پیدا نہیں ہوتی۔

اور اگر عقل ہو مگر اخلاق اور کردار نہ ہو تو ذہانت انسان کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

اس لیے ایک متوازن شخصیت کے لیے علم بھی ضروری ہے، عمل بھی؛ تجربہ بھی ضروری ہے، عقل بھی؛ اور ان سب کے ساتھ اخلاص اور اخلاق بھی ضروری ہیں۔

آج ہمیں کس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؟

ہمارا معاشرہ تعلیم یافتہ افراد سے خالی نہیں۔ ہمارے پاس ڈگریاں ہیں، ادارے ہیں، کتابیں ہیں، معلومات ہیں، ٹیکنالوجی ہے اور اظہار کے بے شمار ذرائع ہیں۔ لیکن آج سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنا علم ہے؛ سوال یہ ہے کہ ہمارے علم نے ہمیں کتنا انسان بنایا ہے۔

کیا ہماری تعلیم نے ہمارے اندر برداشت پیدا کی؟

کیا ہماری معلومات نے ہمیں جھوٹ سے بچایا؟

کیا ہماری مذہبی گفتگو نے ہمارے اندر تقویٰ اور خشیت پیدا کی؟

کیا ہماری پیشہ ورانہ مہارت نے ہمیں دیانت دار بنایا؟

کیا ہماری عمر نے ہمیں دوسروں کے تجربات کا احترام سکھایا؟

کیا ہماری ناکامیوں نے ہمیں عاجزی دی؟

اور کیا ہماری کامیابیوں نے ہمیں متکبر ہونے سے بچایا؟

اگر ان سوالات کے جوابات مثبت ہیں تو ہمارا علم واقعی ہمارے لیے نعمت ہے۔ لیکن اگر علم بڑھتا جائے اور کردار کمزور ہوتا جائے تو ہمیں اپنے علم کے مقصد پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

آج ہمیں ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو کم بولیں مگر سچ بولیں، کم دعویٰ کریں مگر زیادہ عمل کریں، اختلاف کریں مگر انصاف کے ساتھ، علم حاصل کریں مگر عاجزی کے ساتھ، کامیاب ہوں مگر انسانیت نہ چھوڑیں، اور عمر پائیں تو صرف سال نہ گنیں بلکہ تجربات سے حکمت بھی حاصل کریں۔

حقیقی علم انسان کو بڑا نہیں، بہتر بناتا ہے۔

حقیقی عقل انسان کو دوسروں پر غالب آنے کا ہنر نہیں، بلکہ اپنے نفس پر قابو پانے کی صلاحیت دیتی ہے۔

حقیقی حکمت انسان کو ہر بات کا جواب دینے کے بجائے یہ سکھاتی ہے کہ کب بولنا ہے، کیا بولنا ہے اور کب خاموش رہنا ہے۔
زندگی کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ لوگ ہمیں کتنا عالم، کتنا عقلمند یا کتنا تجربہ کار سمجھتے ہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہمارا علم ہمارے کردار میں، ہماری عقل ہمارے فیصلوں میں اور ہمارے تجربات ہماری بصیرت میں کتنے نمایاں ہیں۔

علم اگر عمل سے خالی ہے تو بوجھ ہے،
کلام اگر حکمت سے خالی ہے تو شور ہے،
اور عمر اگر تجربے سے خالی ہے تو صرف وقت کا گزرنا ہے۔

انسان کی حقیقی عظمت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب علم کردار بن جائے، عمل اخلاص بن جائے، تجربہ بصیرت بن جائے اور عقل حکمت بن جائے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انسان محض معلومات رکھنے والا فرد نہیں رہتا بلکہ معاشرے کے لیے روشنی، رہنمائی اور مثال بن جاتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے