कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سفید چادر( مختصر افسانہ)

از قلم: شیخ محمود علی
8055402819

کارل مارکس کے مطابق کچی بستیاں محض غربت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے سماجی و معاشی نظام کی پیداوار ہیں جہاں طبقاتی تقسیم، ذات پات، نسلی امتیاز، امیری و غریبی، اونچ نیچ، زمین اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم، سماجی تعصبات، مذہبی تعصب، جہالت، استحصال اور ناانصافی نے انسان کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں کمزور طبقات کے شعور، نفسیات اور سوچ پر بھی مختلف سماجی اور نظریاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
مارکس نے مذہب کو اپنے دور کے مخصوص سماجی تناظر میں عوام کی افیون (Religion is the opium of the people) کہا تھا۔ اس کا مقصد مذہب پر حملہ کرنا نہیں تھا بلکہ یہ تنقید کرنا تھا کہ جب مذہب یا اس کی تعبیر کو ظلم، استحصال یا حکمران طبقات کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ مظلوم طبقے کو اپنے حقیقی معاشی مسائل سے غافل رکھ سکتی ہے۔ مارکس کے نزدیک عقل پسندی، شعور، تعلیم اور معاشی انصاف ہی ایسے نظام کو بدلنے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
کچی بستیاں غربت، جہالت، استحصال اور سماجی ناانصافی کی ایسی المناک تصویریں ہیں جہاں محرومی صرف روزگار تک محدود نہیں تھی بلکہ انسان کی امیدوں، خوابوں اور عزتِ نفس کو بھی نگل چکی تھی۔ یہ بستیاں ایک ایسے معاشرے کی زبوں حالی کا نوحہ تھیں جہاں بنیادی انسانی ضروریات بھی بہت سے لوگوں کے لیے ایک خواب بن چکی تھیں۔
بارش تھم چکی تھی مگر کچی بستی کی گلیوں میں کیچڑ اور محرومی ابھی باقی تھی۔
کریم اپنی شکستہ چارپائی کے کنارے بیٹھا تھا۔ اس کے برابر اس کا نوجوان بیٹا یونس خاموشی سے زمین کرید رہا تھا۔ اندر کمرے میں یونس کی بیوی شبانہ کئی روز سے بیماری سے لڑ رہی تھی۔ دوا اور علاج کو پیسے نہیں تھے اور امید بھی دم توڑ رہی تھی۔
فجر سے کچھ پہلے شبانہ کی سانسیں رک گئیں۔
خبر پورے محلے میں پھیل گئی۔ لوگوں نے ہمدردی میں چندے کی صورت کچھ رقم جمع کر دی تاکہ کفن اور تدفین کا انتظام ہو سکے۔
کریم اور یونس بازار کی طرف نکلے لیکن راستے میں ایک نانبائی کی دکان سے تازہ روٹی کی خوشبو آئی۔ دونوں بے اختیار رک گئے۔
یونس نے دھیمی آواز میں کہا:
’’اب اسے نہ بھوک لگے گی، نہ سردی۔‘‘
کریم نے جواب دیا:
’’مگر ہم ابھی زندہ ہیں اور زندہ انسان کی بھوک ہر دلیل پر بھاری ہوتی ہے۔‘‘
وہ کفن کی دکان تک نہ جا سکے۔ انہوں نے اس رقم سے آٹا، دال، تیل اور کچھ دوائیں خرید لیں۔ واپسی پر ان کے ہاتھوں میں سفید کپڑا نہیں بلکہ زندگی کے چند اور دن تھے۔
جب لوگوں نے پوچھا: ’’کفن کہاں ہے؟‘‘
کریم نے اوپر آسمان، جس کو سائنسی زبان میں علمِ طبیعیات کے مطابق Outer Space کہا جاتا ہے، دیکھتے ہوئے کہا:
’’اسے مٹی ڈھانپ لے گی، مگر اگر ہم بھی بھوک سے مر گئے تو ہمارے لیے چندہ کون جمع کرے گا؟‘‘
مجمع خاموش ہو گیا۔ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہ تھا۔
اس شام قبر پر مٹی ڈالی گئی مگر اصل دفن ایک عورت نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کا ضمیر تھا جو زندوں کی بھوک سے زیادہ مُردوں کی رسموں کی فکر کرتا ہے۔
اختتام:
بعض اوقات انسان گناہ نہیں کرتا بلکہ حالات اس سے ایسے فیصلے کرواتے ہیں جنہیں تاریخ جرم اور سماج بے حسی کا نام دیتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کفن کیوں نہ خریدا گیا بلکہ یہ ہے کہ ایک کفن کی قیمت بھی کسی غریب کے لیے زندگی اور موت کے درمیان فیصلہ کیوں بن جاتی ہے؟

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے