कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’’ہم نے خوشبو کے بند کھول دیے‘‘:معروف شاعر ادیب و صحافی مہتاب قدر نہیں رہے

تحریر:مجیدعارف نظام آبادی
ریاض، سعودی عرب
majeedaarif@gmail.com

معروف شاعر، ادیب صحافی اور کالم نگار مہتاب قدر کے انتقالِ پُرملال کی خبر نے سعودی عرب کے ادبی حلقوں کے ساتھ ساتھ برصغیر کے اہلِ قلم کو بھی سوگوار کردیا۔ وہ ان اہلِ قلم میں شامل تھے جنہوں نے پردیس کی زندگی میں اردو زبان و ادب سے اپنا رشتہ محض برقرار ہی نہیں رکھا بلکہ اسے اپنی تخلیقی اور صحافتی سرگرمیوں کے ذریعے مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ ان کی وفات نہ صرف جدہ بلکہ برصغیر ہند و پاک کی اردو ادبی فضا کے لیے ایک اہم ادبی نقصان ہے۔
سید سرفراز علی نام اور قلمی نام مہتاب قدر اختیار کیا تھا۔آپ 15مئی1957 کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے تھے "چھاؤں صحرا کی” ان کا اولین شعری مجموعہ ہے ۔دوسرا شعری مجموعہ "سبز صحرا” زیر ترتیب ہے اس کے علاوہ مہتابیاں”(طنزیہ و مزاحیہ نظم ونثر)، "نظریات مہتاب قدر”(مضامین و مقالے)، ” شخصیات جن سے ہم ملے”(خاکے)،” شذرات”(قطعات)،” ہمارے نغمے”(نظمیں ) بھی جلد ہی شائع ہو نے والے ہیں۔انہوں نے عربی اور فارسی سے شعری ترجمے بھی کئے ہیں ان کی دو کتابیں ’’چھاؤں صحرا کی‘‘ اور ’’تھوڑی سی آوارگی‘‘ ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی حاصل کی ہیں ۔
مہتاب قدر کی شخصیت کو صرف ایک شاعر یا صحافی کے حوالے سے یاد کرنا شاید ان کی مجموعی ادبی خدمات کا احاطہ نہ کرسکے۔ وہ ایک ایسے ادبی کارکن بھی تھے جنہوں نے جدہ میں اردو کے لیے ماحول بنانے، اہلِ قلم کو ایک دوسرے سے قریب لانے اور ادبی سرگرمیوں کو تسلسل دینے میں عملی کردار ادا کیا۔ ان کی شخصیت میں شاعر کی حساسیت، صحافی کی مشاہداتی نظر اور ادبی کارکن کی تنظیمی صلاحیت ایک ساتھ دکھائی دیتی تھی۔
جدہ میں حلقۂ اربابِ ذوق کا قیام ان کی اہم ادبی کاوشوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس حلقے کے ذریعے شعراء اور ادباء کو اپنی تخلیقات پیش کرنے، ادبی گفتگو کرنے اور ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے کا موقع ملا۔ بیرونِ ملک کسی ادبی حلقے کو قائم کرنا اور اسے مسلسل سرگرم رکھنا آسان کام نہیں، کیونکہ یہاں اہلِ قلم اپنی پیشہ ورانہ اور معاشی مصروفیات کے ساتھ ادبی ذوق کو زندہ رکھتے ہیں۔ مہتاب قدر نے اسی ماحول میں اردو ادب کی محفلوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کی۔
ان کی صحافتی وابستگی کا ایک نمایاں حوالہ پندرہ روزہ ادبی جریدہ ’’اردو گلبن‘‘ جدہ ہے، جس کے وہ بانی ایڈیٹر تھے۔ "اردو گلبن”محض ایک رسالہ نہیں بلکہ بیرونِ ملک اردو کے ادبی تسلسل کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش تھی۔ کسی ادبی جریدے کا اجراء، اس کے لیے مواد کی فراہمی، اہلِ قلم سے رابطہ، ادبی معیار کی نگرانی اور اسے قارئین تک پہنچانا ایک مسلسل محنت کا تقاضا کرتا ہے۔ مہتاب قدر نے یہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے سعودی عرب میں اردو صحافت اور ادب کے درمیان ایک خوبصورت رشتہ قائم کیا۔ان کا قلم صرف صحافتی اظہار تک محدود نہیں تھا۔ شاعری ان کی تخلیقی شخصیت کا بنیادی حوالہ تھی۔ انہوں نے اپنے اشعار میں ہجرتوں کے دکھ کو کچھ اس انداز میں پیش کیا ہے:
ہجرتوں سے نظر ہٹاو میاں
گھر بلانے لگے ہیں آو میاں
پہلے گھر کی ذرا خبر لے لو پھر کہیں بھی دئیے جلاو میاں:
ان کے کلام میں ایک طرف صحرا کی سخت حقیقتوں میں چھاؤں کی تلاش ہے تو دوسری طرف زندگی، خیال اور تجربے کو اپنی مخصوص نظر سے دیکھنے کی آزادانہ کیفیت یے۔سعودی عرب میں قیام نے ان کی شاعری کو ایک ایسا تجربہ بھی دیا جس میں پردیس، وطن کی یاد، انسانی رشتے، بدلتے ہوئے حالات اور زندگی کے مختلف رنگ شامل تھے۔ انہوں نے اپنے گردوپیش کے تجربات کو صرف ذاتی احساس کے طور پر نہیں برتا بلکہ انہیں شعری اظہار میں ڈھالا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بیرونِ ملک اردو بولنے والے انسان کی ایک مخصوص ذہنی اور جذباتی دنیا کی جھلک ملتی ہے۔
مہتاب قدر کا ادبی تعلق صرف سعودی عرب تک محدود نہیں تھا۔ برصغیر ہند و پاک کے اردو حلقوں میں بھی ان کا نام اور کلام پہنچا۔ بیرونِ ملک رہتے ہوئے اپنے وطن کے ادبی مراکز، شعراء، ادباء اور قارئین سے رابطہ برقرار رکھنا ان کی ادبی وابستگی کی علامت تھا۔ انہوں نے یہ احساس زندہ رکھا کہ اردو کا ادبی جغرافیہ کسی ایک ملک یا شہر تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے اہلِ زبان اور اہلِ قلم سے مل کر تشکیل پاتا ہے۔
ان کی شخصیت کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی تھا کہ وہ ادب کو صرف کتابوں اور مشاعروں تک محدود رکھنے کے قائل نہیں تھے۔ ادبی تنظیم، رسالہ، ملاقات، مکالمہ اور نئی تخلیقات کی حوصلہ افزائی بھی ادب کی خدمت کا حصہ ہیں۔ اسی وسیع تصور نے انہیں جدہ کی ادبی سرگرمیوں میں فعال رکھا۔
پردیس میں اردو ادب کی خدمت کی اپنی مشکلات ہیں۔ ایک طرف روزگار اور زندگی کی مصروفیات، دوسری طرف زبان و ادب کے لیے وقت نکالنا، ایک طرف مختلف زبانوں اور ثقافتوں کا ماحول، دوسری طرف اپنی مادری زبان کے ادبی مزاج کو زندہ رکھنا۔ مہتاب قدر نے اسی ماحول میں اردو کے لیے اپنی ذمہ داری محسوس کی اور اپنی بساط کے مطابق اسے نبھایا۔ اسی لیے انہیں "صحرا میں اردو ادب کے پھول کھلانے والا شاعر‘”کہا جائے تو یہ ان کی ادبی سرگرمیوں کی ایک خوبصورت تعبیر ہوگی۔
ان کے انتقال کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ان کے ادبی کام کو کس طرح محفوظ کیا جائے۔ ان کی شائع شدہ کتابیں "اردو گلبن” کے شمارے، ان کی صحافتی تحریریں، شعری کلام اور حلقۂ اربابِ ذوق سے وابستہ ادبی یادیں ایک ایسے دور کی دستاویز ہیں جس میں سعودی عرب میں اردو ادب نے اپنی الگ شناخت بنانے کی کوشش کی۔ اگر ان کے منتشر ادبی و صحافتی کام کو یکجا کرکے محفوظ کیا جائے تو یہ نہ صرف مرحوم کے لیے خراجِ عقیدت ہوگا بلکہ سعودی عرب کی اردو ادبی تاریخ کے لیے بھی ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہوسکتا ہے۔
آج مہتاب قدر ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن ان کے الفاظ، ان کی کتابیں اور ان کی قائم کردہ ادبی روایت موجود ہے۔ کسی شاعر کی اصل زندگی اس کے جانے کے بعد اس کے کلام میں جاری رہتی ہے اور کسی ادبی کارکن کی محنت ان اداروں اور روایتوں میں زندہ رہتی ہے جنہیں اس نے اپنے وقت میں مضبوط کیا۔
ان کی یاد میں یہ مصرعہ ایک مناسب استعارہ محسوس ہوتا ہے، جو مرحوم اپنے مجلہ "اردو گلبن ” کے ہر شمارے کے سرورق پر جلی حرفوں میں لکھتے تھے
ہم نے خوشبو کے بند کھول دیے
اب ہوا تری ذمہ داری ہے
مہتاب قدر نے بھی اپنی زندگی میں اردو ادب کے لیے خوشبو کے کئی بند کھولے۔ جدہ کی ادبی محفلوں سے لے کر "اردو گلبن”کے صفحات تک اور اپنی شاعری کی کتابوں سے برصغیر کے ادبی حلقوں تک، ان کی کوششیں اردو کی اسی خوشبو کو پھیلانے کا ذریعہ بنیں۔
ان کی رحلت پر اہلِ ادب یقیناً ایک مخلص ساتھی، شاعر اور قلم کار کو یاد کررہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ذاتی یادیں مدھم ہوسکتی ہیں، مگر اچھی تحریر اور سچا ادبی کام اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ مہتاب قدر کا ادبی سرمایہ بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے، اہلِ خانہ، احباب اور تمام سوگواران کو صبرِ جمیل دے اور ان کی ادبی و صحافتی خدمات کو اردو زبان و ادب کے لیے ایک محفوظ اور قابلِ قدر ورثہ بنائے۔
مہتاب قدر رخصت ہوگئے، مگر ان کی شاعری اور ادبی خدمات کی خوشبو باقی ہے اور خوشبو کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے