कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

لفافہ

تحریر:عارف محمد خان، جلگاؤں

بچپن میں وہ دونوں گہرے دوست تھے۔ گلی کے آخری سرے پر خالی پلاٹ میں اینٹوں کی وکٹیں گاڑ کر کرکٹ کھیلتے اور بڑے بڑے خواب دیکھا کرتے تھے۔
ایک دن اہم میچ تھا۔ ہر کھلاڑی کو دو روپے دینے تھے۔
حامد خاموش کھڑا رہا۔
"پیسے؟” سلمان نے پوچھا۔
"نہیں ہیں… کل دے دوں گا۔”
سلمان ہنس پڑا۔
"دو روپے بھی نہیں ہیں؟ پھر ٹیم میں کیا کرو گے؟”
چند لڑکے ہنسے۔ سلمان نے بیٹ زمین پر مارا۔
"آج سے تم ٹیم میں نہیں ہو۔”
حامد نے کچھ نہیں کہا۔ بس اپنی گیند اٹھائی اور چلا گیا۔
وقت نے کروٹ بدلی۔
حامد نے محنت کی، کاروبار کیا اور خوش حال ہوگیا۔ سلمان کے حالات بگڑتے گئے۔ دکان گئی، قرض بڑھا، بیماری آئی، یہاں تک کہ گھر کا چولہا بھی دوسروں کی مدد کا محتاج ہوگیا۔
رمضان میں ایک شام مسجد سے اسے زکوٰۃ کا ایک لفافہ ملا۔
وہ لفافہ ہاتھ میں لیتے ہی ٹھٹھک گیا۔
اوپر لکھا تھا:
حامد احمد
لفافہ جیسے کاغذ کا نہ تھا؛ اس میں برسوں پہلے کے وہ دو روپے رکھے تھے، وہ طنزیہ ہنسی تھی، وہ میدان تھا، وہ اینٹیں تھیں، اور ایک ٹوٹتی ہوئی دوستی تھی۔
سلمان نے لفافہ واپس کرنا چاہا۔
"یہ میں نہیں لے سکتا۔”
مگر ہاتھ نے لفافہ نہیں چھوڑا۔
وہ دیر تک اسے دیکھتا رہا۔
اسے پہلی بار سمجھ آیا کہ غربت صرف جیب خالی نہیں کرتی؛ کبھی کبھی انسان کو اپنے ماضی کے سامنے بھی کھڑا کر دیتی ہے۔
وہ لفافہ لے کر گھر آیا اور رات بھر سرہانے رکھا رہا۔
صبح اس نے لفافہ کھولا۔
اندر نوٹ تھے۔
مگر سلمان کو یوں لگا جیسے حامد نے برسوں پہلے کہے ہوئے دو لفظ واپس بھیجے ہوں:
"یہ لو۔”
سلمان کی آنکھوں سے آنسو ٹپکے اور لفافے پر گرتے گئے۔
کاغذ بھیگتا رہا۔
اور اس بھیگے ہوئے لفافے پر اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ
"کبھی دو روپے آدمی کو ٹیم سے نکال دیتے ہیں، اور کبھی وہی دو روپے پوری عمر انسان کو اپنے اندر سے نکالتے رہتے ہیں۔”

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close