कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ربیع الاول رحمت عالمؐ کی آمد اور ہماری ذمہ داریاں

تحریر:پروفیسر عذرا بانو
9415766472

ربیع الاول اسلامی سال کا وہ بابرکت مہینہ ہے جس کا ذکر آتے ہی دلوں میں محبت رسولؐ کی شمع روشن ہوجاتی ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس نے تاریخ انسانی کو سب سے عظیم ہستی، محسنِ انسانیت، رحمتِ عالم حضرت محمد ؐکی آمد کی خوش خبری دی۔ آپؐ کی تشریف آوری صرف عرب کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت تھی۔ آپ ؐایسے وقت میں دنیا میں تشریف لائے جب جہالت، ظلم، تعصب، بت پرستی، طبقاتی تقسیم اور اخلاقی زوال نے انسانی معاشرے کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ آپ ؐ نے انسان کو انسان کی قدر سکھائی، دلوں کو ایمان کی روشنی عطا کی اور زندگی گزارنے کا ایسا جامع دستور دیا جس میں عبادت بھی ہے، اخلاق بھی، حقوق بھی ہیں، فرائض بھی، محبت بھی ہے اور عدل بھی۔ربیع الاول ہمیں صرف خوشی منانے کا موقع نہیں دیتا بلکہ اپنے تعلق بالرسولؐ کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ نبی کریم ؐ سے محبت ایمان کا لازمی حصہ ہے، مگر سچی محبت صرف زبان سے اظہار کا نام نہیں، اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو رسول اللہ ؐ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ ہماری گفتگو، ہمارے معاملات، ہمارے گھر، ہماری تجارت، ہماری تعلیم، ہماری معاشرت اور ہماری اجتماعی زندگی میں اگر سیرت مصطفیؐ کی جھلک نظر آنے لگے تو یہی ربیع الاول کا سب سے خوبصورت پیغام ہوگا۔
رسول اکرمؐ نے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں انسان کی عزت اس کے مال، خاندان، رنگ، زبان یا قبیلے سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور تقویٰ سے متعین ہوتی تھی۔ آپ ؐنے کمزوروں کے حقوق کی حفاظت فرمائی، یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی، پڑوسی کے حقوق بیان کیے، عورت کو عزت دی، غلاموں کے ساتھ انسانی سلوک کا حکم دیا اور دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کا معیار بلند رکھا۔ آج جب دنیا ترقی کے باوجود نفرت، تشدد، خود غرضی، معاشرتی انتشار اور ذہنی بے سکونی کا شکار ہے، سیرت نبویؐ پہلے سے کہیں زیادہ ہماری رہنمائی کرسکتی ہے۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ ربیع الاول کے اجتماعات، محافل اور نعتیہ پروگرام ہماری زندگی میں کیا تبدیلی پیدا کررہے ہیں؟ اگر ہم نبی کریمؐ کی محبت میں محفل سجاتے ہیں لیکن معاملات میں جھوٹ بولتے ہیں، وعدہ خلافی کرتے ہیں، کسی کا حق دباتے ہیں، والدین کو تکلیف پہنچاتے ہیں، پڑوسیوں سے بدسلوکی کرتے ہیں یا اپنے ماتحتوں کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں تو ہمیں اپنے دعوائے محبت کا احتساب ضرور کرنا چاہیے۔ محبت رسولؐ کا حقیقی ثبوت یہ ہے کہ ہماری ذات سے دوسروں کو امن، خیر، راحت اور بھلائی پہنچے۔
آج ہمیںسب سے زیادہ ضرورت سیرت رسولؐ کو زندگی کے عملی میدان میں اتارنے کی ہے۔ نوجوان نسل کو صرف واقعات سیرت سنانے کے بجائے یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ رسول اللہؐ نے علم کی قدر کیسے پیدا کی، وقت کی اہمیت کیسے بتائی، اختلاف کے باوجود اخلاق کیسے برقرار رکھا اور مشکلات کے باوجود امید کا دامن کیسے تھامے رکھا۔ اگر ہماری نئی نسل سیرت نبوی ؐ کو اپنی شخصیت سازی کا مرکز بنا لے تو وہ نہ صرف ایک اچھا مسلمان بلکہ ایک ذمہ دار شہری، باکردار انسان اور معاشرے کے لیے مفید فرد بھی بن سکتی ہے۔
ربیع الاول کا ایک اہم پیغام یہ بھی ہے کہ ہم اپنے گھروں کو محبت، احترام اور اخلاق کا مرکز بنائیں۔ رسول اللہ ؐ کی گھریلو زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ؐ اہل خانہ کے ساتھ شفقت فرماتے، بچوں سے محبت کرتے، بڑوں کا احترام کرتے اور کمزوروں کا خیال رکھتے تھے۔ آج ہمارے گھروں میں معمولی اختلافات بڑے تنازعات بن جاتے ہیں، رشتے انا کی نذر ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کو معاف کرنے کا حوصلہ کم ہوتا جارہا ہے۔ ایسے ماحول میں سیرتِ طیبہ ہمیں صبر، برداشت، عفو و درگزر اور حسنِ معاشرت کا راستہ دکھاتی ہے۔اسی طرح معاشرتی زندگی میں بھی ہمیں حضور اکرمؐ کے اخلاق کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں زبان اور قلم کی ذمہ داری پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کسی خبر کی تحقیق کیے بغیر اسے پھیلانا، کسی کی عزت مجروح کرنا، طنز و تضحیک کرنا یا اختلافِ رائے کو دشمنی میں تبدیل کردینا اسلامی اخلاق کے منافی ہے۔ نبی کریم ؐنے ہمیں زبان کی حفاظت، دوسروں کی عزت اور حسنِ کلام کی تعلیم دی۔ اگر ربیع الاول میں ہم صرف ایک عادت بھی بدلنے کا عزم کرلیں اور اپنی زبان کو جھوٹ، غیبت، الزام اور دل آزاری سے محفوظ رکھیں تو یہ بھی محبت رسول ؐکا ایک عملی اظہار ہوگا۔
ربیع الاول ہمیں اتحاد اور اخوت کا سبق بھی دیتا ہے۔ رسول اللہ ؐ نے منتشر قبائل کو ایک امت بنایا اور دلوں میں ایسی محبت پیدا کی جس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ملتی ہے۔ آج امت مختلف فکری، سیاسی اور سماجی اختلافات میں بٹی ہوئی ہے۔ اختلاف رائے اپنی جگہ فطری ہے، لیکن اختلاف کو نفرت اور دشمنی میں تبدیل کرنا کسی طرح درست نہیں۔ ہمیں سیرت مصطفیؐ سے یہ سبق لینا چاہیے کہ خیر کے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں، اختلاف میں شائستگی اختیار کریں اور امت کے وسیع تر مفاد کو ذاتی پسند و ناپسند پر ترجیح دیں۔
ربیع الاول کا اصل جشن یہ ہے کہ ہمارے کردار میں مصطفیؐ کی تعلیمات کا نور پیدا ہو۔ ہمارے ہاتھ کسی پر ظلم نہ کریں، ہماری زبان کسی کا دل نہ توڑے، ہماری آنکھ کسی کی عزت پر بری نظر نہ ڈالے، ہمارے معاملات کسی کے لیے پریشانی کا سبب نہ بنیں اور ہمارے گھروں سے محبت و سکون کا پیغام نکلے۔ اگر ایک مسلمان اپنی ذات سے اپنے خاندان، محلے اور معاشرے کو خیر پہنچانے لگے تو یہی سیرتِ رسول ؐ کا عملی انقلاب ہے۔اس بابرکت مہینے میں ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم نبی کریمؐ کی سیرت کا مطالعہ کریں گے، درود و سلام کی کثرت کریں گے، نماز کی پابندی کو مضبوط کریں گے، اپنے معاملات درست کریں گے، والدین کی خدمت کریں گے، رشتہ داروں کے حقوق ادا کریں گے، ضرورت مندوں کی مدد کریں گے اور اپنی زندگی میں اخلاق نبوی ؐ کو جگہ دیں گے۔ محبت کا یہ سفر کسی ایک مہینے تک محدود نہیں ہونا چاہیے؛ ربیع الاول ہمیں آغاز کا موقع دے اور پورا سال ہماری زندگی اس محبت کی گواہی دیتی رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ربیع الاول کیلنڈر کا محض ایک مہینہ نہیں، اپنے دل اور کردار کو سیرت مصطفی کے آئینے میں دیکھنے کا موسم ہے۔ اگر اس مہینے میں ہماری آنکھیں محبت سے نم ہوں مگر کردار میں کوئی تبدیلی نہ آئے، زبان پر درود ہو مگر معاملات میں ظلم باقی رہے، محفل میں سیرت کا ذکر ہو مگر گھر میں اخلاق نبوی ؐ کا فقدان ہو تو ہمیں اپنے جشن سے زیادہ اپنے احتساب کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر ربیع الاول ہمیں جھوٹ چھوڑنے، حق ادا کرنے، دل جوڑنے، مظلوم کا سہارا بننے، والدین کی خدمت کرنے، انسانوں سے محبت کرنے اور رسولؐ کے اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے پر آمادہ کردے تو یقینایہ مہینہ ہمارے لیے حقیقی معنوں میں مبارک ثابت ہوگا۔ محبت مصطفیؐ کا سب سے روشن چراغ وہ کردار ہے جس کی روشنی میں دوسروں کو بھی امن، عزت، محبت اور خیر نصیب ہو، یہی ربیع الاول کا سب سے بڑا پیغام اور ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے