कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جمعیۃ علماء شہر میرٹھ کی یک روزہ تربیتی ورکشاپ و مقامی مشاورت

تنظیمی شعور، فکری تربیت اور خدمتِ خلق کے جامع منصوبوں پر اہم گفتگو

رپورٹ: مفتی حفظ الرحمن رشیدی، میرٹھ

میرٹھ: جمعیۃ علماء شہر میرٹھ کے زیر اہتمام شہری و مقامی ذمہ داران کی فکری، تنظیمی اور عملی تربیت کے لیے مدرسہ حسینیہ ولایت الاسلام، لہساڑی روڈ، میرٹھ شہر میں ایک روزہ تربیتی ورکشاپ و مقامی مشاورت کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ دو نشستوں پر مشتمل تھی، جس میں جمعیۃ علماء ہند کے مختلف شعبہ جات کے تعارف، ان کے طریقۂ کار، ذمہ داران کی عملی ذمہ داریوں، عصر حاضر کے تقاضوں اور ملت و معاشرے کی منظم خدمت کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو اور پریزنٹیشنز پیش کی گئیں۔
ورکشاپ کی پہلی نشست صبح 8 بجے سے 12 بجے تک منعقد ہوئی، جس کی صدارت حضرت مفتی محمد جنید صاحب قاسمی، صدر جمعیۃ علماء شہر میرٹھ نے فرمائی، جبکہ دوسری نشست بعد نمازِ ظہر تقریباً 3 بجے سے شام 6 بجے تک جاری رہی، جس کی صدارت مفتی محمد یامین صاحب، نائب صدر جمعیۃ علماء شہر میرٹھ نے کی۔ دونوں نشستوں کی نظامت کے فرائض مفتی محمد ارشد صاحب قاسمی، جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء شہر میرٹھ نے انجام دیے۔
پرچم کشائی، ترانہ، تلاوت اور نعت سے پروگرام کا آغاز:
پروگرام کا آغاز حسبِ روایت پرچم کشائی اور جمعیۃ علماء ہند کے ترانے سے ہوا، جسے قاری ہاشم صغیر صاحب نے پیش کیا۔ اس کے بعد مدرسہ کے طالب علم مولوی مطیع اللہ نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی، جبکہ مولانا محمد ثوبان صاحب نے نعتِ رسولِ اکرم ﷺ پیش کی۔
تربیت کا مقصد: باشعور، ذمہ دار اور فعال کارکن تیار کرنا:
ابتدائی تمہیدی گفتگو میں مفتی محمد ارشد صاحب قاسمی نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ تربیت کا مقصد ایسے باشعور، ذمہ دار اور فعال افراد تیار کرنا ہے جو جمعیۃ کے مقصد و مزاج سے واقف ہوں، اپنے عہد کے حالات و چیلنجز کو سمجھیں اور ملت و معاشرے کی خدمت کے لیے اپنی صلاحیتوں کو منظم اور مؤثر انداز میں استعمال کرسکیں۔
انہوں نے ذہن سازی، مقصد کا شعور، فکرِ امت، احساسِ ذمہ داری، منصوبہ بندی، تنظیمی مزاج، عصرِ حاضر کی سمجھ، باہمی تعاون اور اخلاص کے ساتھ مؤثر کارکردگی کو تربیت کے اہم پہلو قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض سرگرمی اور وقتی جوش کافی نہیں، بلکہ صحیح فکر، واضح مقصد اور مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔
ورکشاپ کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ ہر ذمہ دار اپنے آپ سے سوال کرے: میں کیا کر رہا ہوں؟ کیوں کر رہا ہوں؟ کس مقصد کے لیے کر رہا ہوں؟ اور میرے کام کا مطلوبہ نتیجہ کیا ہونا چاہیے؟ یہی شعور سرگرمی کو ذمہ داری، ذمہ داری کو خدمت اور خدمت کو منظم و دور رس جدوجہد میں تبدیل کرتا ہے۔
اصلاحِ معاشرہ: منظم کمیٹیوں اور ماہانہ منصوبہ بندی پر زور:
بعد ازاں جمعیۃ علماء ہند کے مختلف شعبہ جات کے تعارف اور طریقۂ کار پر مفصل پریزنٹیشنز کا سلسلہ شروع ہوا۔
سب سے پہلے مفتی محمد شعیب صاحب، ناظم دینی تعلیمی بورڈ نے شعبۂ اصلاحِ معاشرہ کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے اصلاحِ معاشرہ کے مؤثر نظام کے لیے کمیٹیوں کے قیام، اراکین کو ماہانہ منصوبہ فراہم کرنے، تربیتِ زوجین کے پروگرام منعقد کرنے اور ماہانہ سرگرمیوں کی رپورٹ ضلعی ناظم تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس کے بعد مفتی محمد بلال صاحب قاسمی، ناظم اصلاحِ معاشرہ جمعیۃ علماء شہر میرٹھ نے شعبۂ اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے ضروری ہدایات پیش کیں۔
جن وکاس سیوا اور ماڈل ولیج: گھر گھر سروے سے منظم خدمت تک:
مولانا اظہر الدین صاحب نے جن وکاس سیوا (Jan Vikas Sewa) اور ماڈل ولیج کے منصوبے کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کا مقصد عوام کی دینی، تعلیمی اور سماجی ضروریات کو سمجھ کر منظم اور مستقل خدمت کا نظام قائم کرنا ہے۔
اس منصوبے میں کارکنان کی تربیت، ماڈل مسجد و ماڈل ولیج کا قیام، گھر گھر سروے، ضروریات کی نشاندہی، اجتماعی مشاورت اور رپورٹنگ کے نظام کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ مسجد کو مرکز بنا کر مکتب، درسِ قرآن و حدیث، نکاح کاؤنسلنگ، لائبریری، طبی و فلاحی خدمات، نوجوانوں اور خواتین کی سرگرمیوں کو مرحلہ وار فعال کرنے کا تصور بھی پیش کیا گیا۔
JEM: اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور قانونی و سماجی معاونت کا نظام:
JEM — جسٹس اینڈ ایمپاورمنٹ آف مائنارٹیز (Justice and Empowerment of Minorities) کا تعارف مولانا عبدالواجد صاحب، معاون کنوینر سدبھاؤنا منچ نے پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ جمعیۃ علماء ہند کا ایک اہم شعبہ ہے، جو اقلیتوں کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ، نفرت انگیز جرائم اور اسلاموفوبیا کے خلاف تحقیق، رپورٹنگ، دستاویز بندی اور قانونی و سماجی معاونت کے لیے کام کرتا ہے۔
مقامی و ضلعی ذمہ داران کو ایسے واقعات کی بروقت نشاندہی، رپورٹنگ، دستاویز بندی اور قانونی کارروائی میں تعاون کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کی ترغیب دی گئی۔
سدبھاؤنا منچ: مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام کا فروغ:
مولانا مہدی حسن عینی صاحب، قومی کنوینر سدبھاؤنا منچ جمعیۃ علماء ہند نے سدبھاؤنا منچ کے تعارف کے دوران ہندوستان کے مذہبی، لسانی اور ثقافتی تنوع کو ملک کی قوت قرار دیتے ہوئے سماجی رابطے، باہمی احترام اور مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے قرآن و حدیث اور سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں عدل، حسنِ سلوک، رواداری اور غیر مسلم شہریوں کے حقوق کی پاسداری کو اسلامی تعلیمات کا حصہ قرار دیا اور میثاقِ مدینہ کو کثیر مذہبی معاشرے میں باہمی احترام اور مشترکہ شہری ذمہ داریوں کی عملی مثال کے طور پر پیش کیا۔
انہوں نے بین المذاہب ملاقاتوں، مشترکہ سماجی خدمات، تعلیمی و فلاحی تعاون، ماحولیاتی سرگرمیوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کی ضرورت بیان کی۔
شعبۂ رفیق: نوجوانوں کی دینی و اخلاقی اور قائدانہ تربیت:
مولانا محمد شکیل صاحب، سکریٹری جمعیۃ علماء مغربی اتر پردیش نے شعبۂ رفیق کا تعارف پیش کرتے ہوئے نوجوانوں کی دینی و اخلاقی تربیت کے ساتھ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے نوجوانوں کے اندر خوش اخلاقی، وقت کی پابندی، نئے روابط قائم کرنے، قیادت اور مثبت سوشل میڈیا استعمال جیسی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی اہمیت بیان کی۔
جمعیۃ کی خدمات کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین:
سرکردہ سیاسی رہنما حاجی عادل چودھری صاحب نے اپنے تاثرات میں جمعیۃ علماء ہند کی ملک گیر خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ورکشاپ میں شرکت کرکے انہیں خوشی محسوس ہوئی۔ انہوں نے جمعیۃ کے کاموں کے لیے اپنی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
پہلی نشست کے صدر حضرت مفتی محمد جنید صاحب قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اجتماعی کام محض انجام دینے کے بجائے اس کے مقصد اور طریقۂ کار کو سمجھ کر کیا جائے۔ انہوں نے جمعیۃ کے مختلف شعبہ جات سے واقفیت اور موجودہ حالات و چیلنجز کو سمجھنے کی ضرورت اجاگر کی۔
انہوں نے فرمایا کہ ذمہ داری امانت ہے، عہدہ نہیں؛ اس لیے ہر ذمہ دار کو اپنی صلاحیت اور تجربے کو ملت و معاشرے کی خدمت کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔
آخر میں صدرِ محترم کی دعا کے ساتھ پہلی نشست اختتام پذیر ہوئی، جس کے بعد تمام مہمانان و شرکاء کے لیے طعام کا انتظام کیا گیا۔
دوسری نشست: قیادت، تعلیم، تنظیم اور خدمت کے عملی نظام پر گفتگو:
دوسری نشست کا آغاز بعد نمازِ ظہر تقریباً 3 بجے مفتی ذکاء الرحمن صاحب کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد مدرسہ کے طالب علم محمد سالم نے نعتِ رسولِ اکرم ﷺ پیش کی۔
قیادت کے اوصاف:
سب سے پہلے مولانا مہدی حسن عینی صاحب نے ’’قیادت کے اوصاف‘‘ کے عنوان سے پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی قیادت کا بنیادی تصور یہ ہے کہ قائد خادم ہوتا ہے اور مسائل کا حل تلاش کرنے والا ہوتا ہے۔ اس کے اندر خود اعتمادی کے ساتھ عاجزی، امت کی اصلاح اور انسانیت کی بھلائی کا جذبہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے قیادت کے پانچ بنیادی ستون بیان کیے: استقامت، نظم و ضبط، تعلقات، فکری ارتقا اور روحانی و اخلاقی بنیاد۔
جمعیۃ اسٹڈی سینٹر: دینی و عصری تعلیم کا مؤثر ذریعہ:
مولانا اظہر الدین صاحب نے جمعیۃ اسٹڈی سینٹر کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مدارس کے طلبہ، فضلاء، اسکول ڈراپ آؤٹ اور تعلیم سے محروم افراد کو دینی تعلیم کے ساتھ بنیادی و عصری تعلیم فراہم کرنے کا اہم منصوبہ ہے۔
اوپن اسکولنگ اور آن لائن تدریس کے ذریعے طلبہ کو دسویں اور بارہویں جماعت کی تعلیم مکمل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، جس سے ان کے لیے اعلیٰ تعلیم اور مختلف پیشہ ورانہ مواقع کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔
دینی تعلیمی بورڈ: مکتب کے مضبوط اور منظم نظام پر زور:
مفتی محمد شعیب صاحب نے دینی تعلیمی بورڈ کے عنوان سے پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے مکتب کے منظم اور بامقصد نظام کے لیے چار بنیادی اصول: نظام، نصاب، طریقۂ تعلیم اور نگرانی بیان کیے۔
انہوں نے نیت کی درستگی، نصاب کا واضح خاکہ، مؤثر طریقۂ تعلیم، مناسب جگہ و ماحول، باصلاحیت معلم، ترغیب و ذہن سازی، داخلہ و فیس کا نظام، امتحان، نگرانی اور نئے مکاتب کے قیام کو مکتب کے استحکام کے لیے ضروری قرار دیا اور سروے کے طریقۂ کار پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔
ناظمِ تنظیم کی ذمہ داریاں:
مولانا محمد شکیل صاحب نے ’’ناظمِ تنظیم کی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے دفتری نظم، وقت کی پابندی، ریکارڈ و معلومات کے تحفظ، ذمہ داران سے مستقل رابطے، شعبہ جاتی نظم، ماہانہ رپورٹنگ اور باقاعدہ مشاورت کی اہمیت بیان کی۔
انہوں نے مرکزی اہداف کو مقامی سطح پر قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے، مکاتب کو منظم کرنے، نوجوانوں کو تربیت و ذمہ داری سے جوڑنے اور مرکز کے ساتھ مستقل رابطہ رکھنے کو مؤثر تنظیمی نظام کے بنیادی تقاضے قرار دیا۔
شعبۂ خیر: شفاف اور منظم فلاحی نظام:
مولانا اظہر الدین صاحب نے شعبۂ خیر کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا مقصد خدمت، یقین اور رفاہ کے اصولوں پر ایک منظم اور شفاف فلاحی نظام قائم کرنا ہے۔
تعلیم، روزگار، طبی امداد، یتیموں و بیواؤں کی کفالت، دستاویزی خدمات اور قدرتی آفات و ہنگامی حالات میں امداد کو اس منصوبے کے اہم شعبوں میں شامل کیا گیا۔ شفافیت، جواب دہی، جانچ پڑتال اور منظوری کے باقاعدہ نظام پر خصوصی توجہ دی گئی۔
مثالی مسجد: عبادت گاہ سے خدمت گاہ تک:
مفتی محمد ارشد صاحب قاسمی، جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء شہر میرٹھ نے ’’مثالی مسجد‘‘ کے عنوان سے پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے مسجد کو محض عبادت گاہ کے بجائے دینی دعوت، تعلیم و تربیت، نوجوانوں کی رہنمائی اور سماجی خدمت کا فعال مرکز بنانے کا تصور پیش کیا۔
مثالی مسجد کے بنیادی شعبوں میں منظم مکتب، مستورات مکتب، آن لائن مکتب، درسِ قرآن و حدیث، جمعیۃ اسٹڈی سینٹر، سرکاری دستاویزات میں معاونت، نکاح کاؤنسلنگ، سوشل میڈیا کے ذریعے دینی رہنمائی اور بیت المال شامل ہیں۔
معیاری مرحلے میں اسکول ٹیوشن، یوتھ کلب، فرسٹ ایڈ، اسکل ڈیولپمنٹ، اسپورٹس اکیڈمی اور سیرت کورس، جبکہ اختیاری مرحلے میں حفظ، JEM، بزنس ڈیولپمنٹ فورم اور لائبریری جیسے منصوبوں کا تعارف پیش کیا گیا۔
مہمانانِ کرام کے حوصلہ افزا تاثرات:
اس کے بعد مہمانانِ کرام کے تاثرات کا سلسلہ شروع ہوا۔
حضرت مفتی محمد رضوان صاحب، صدر مدرس دارالعلوم شاہی جامع مسجد میرٹھ نے اخلاصِ نیت اور محنت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے قرآن کریم کی آیت:
﴿لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِّن نَّجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ﴾
کی روشنی میں اصلاح، بھلائی اور لوگوں کے فائدے کے کاموں کی فضیلت بیان کی۔
جمعیۃ علماء شہر میرٹھ کے سرپرست حضرت اقدس حافظ شبیر احمد صاحب نے گزشتہ تقریباً دس ماہ کے دوران جمعیۃ کی سرگرمیوں اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ میرٹھ میں جمعیۃ کی خدمات کا مثبت اثر نمایاں ہے اور عوام میں جمعیۃ کے لیے اعتماد پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے تمام ذمہ داران کو محنت، لگن اور شوق کے ساتھ خدمات انجام دینے کی تلقین کی۔
حاجی عادل انصاری صاحب نے جمعیۃ کی خدمات کو سراہتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ ضرورت کے وقت وہ جمعیۃ کے ذمہ داران کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
ڈاکٹر محمد شعیب صاحب، ایڈووکیٹ نے بھی ہمہ وقت جماعت کے ساتھ معاونت اور تعاون کا بھروسہ دلایا۔
حضرت مولانا محمد عاقل صاحب، صدر جمعیۃ علماء مغربی اتر پردیش و رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند نے ورکشاپ کے انعقاد اور مختلف شعبہ جات کے تعارف کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جمعیۃ کے ذمہ داران آئندہ بھی اسی محنت، اخلاص اور لگن کے ساتھ کام کو آگے بڑھائیں گے۔
دوسری نشست کے صدر مفتی محمد یامین صاحب، نائب صدر جمعیۃ علماء شہر میرٹھ نے تمام مہمانانِ کرام اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جماعت کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اکابرینِ جمعیۃ نے جو بھروسہ کیا ہے، اس پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے ان تمام معزز حضرات کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر ورکشاپ میں شرکت فرمائی اور ذمہ داران کی حوصلہ افزائی کی۔
آخر میں دعا کے ساتھ دوسری نشست اختتام پذیر ہوئی اور اسی کے ساتھ جمعیۃ علماء شہر میرٹھ کے زیر اہتمام منعقدہ یک روزہ تربیتی ورکشاپ و مقامی مشاورت بھی بخیر و خوبی اختتام کو پہنچی۔
نمایاں شخصیات اور ذمہ داران کی شرکت:
ورکشاپ میں جمعیۃ علماء مغربی اتر پردیش کے صدر حضرت مولانا محمد عاقل صاحب، جنرل سکریٹری حضرت قاری محمد یامین صاحب، سکریٹری حضرت مولانا محمد شکیل صاحب، ناظم دینی تعلیمی بورڈ مفتی محمد شعیب صاحب، قومی کنوینر سدبھاؤنا منچ مولانا مہدی حسن عینی صاحب، آرگنائزر جمعیۃ علماء ہند مولانا اظہر الدین صاحب، مولانا عبد الواجد صاحب معاون سدبھاؤنا منچ جمعیۃ علماء ہند، صدر مدرس دارالعلوم شاہی جامع مسجد میرٹھ حضرت مفتی محمد رضوان صاحب، حافظ شبیر احمد صاحب، حافظ عبدالشکور صاحب، حاجی عادل چودھری صاحب، حاجی عادل انصاری صاحب، الحاج حنیف میٹرو صاحب، وکیل ریاست علی صاحب اور ڈاکٹر محمد شعیب صاحب سمیت تمام یونٹوں کے صدور، نظماء اور متعدد معزز شخصیات نے شرکت فرمائی۔
یہ ورکشاپ جمعیۃ علماء شہر میرٹھ کے ذمہ داران کے لیے فکری تربیت، تنظیمی شعور، شعبہ جاتی واقفیت اور خدمتِ خلق کے عملی منصوبوں کو سمجھنے کا ایک اہم اور مفید موقع ثابت ہوئی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے