कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جوانی: زندگی بنانے کا وقت، برباد کرنے کا نہیں

تحریر: محمد اظہر خان(ناندیڑ)

جوانی انسان کی زندگی کا وہ خوبصورت دور ہے جس میں انسان کے اندر بے پناہ توانائی، خواب، صلاحیت اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ خاص طور پر 20، 22 یا 25 سال کی عمر ایسی ہوتی ہے جب انسان اپنی زندگی کی بنیاد مضبوط کر سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج ہمارے بہت سے نوجوان اسی عمر میں ایسی غلطیوں کا شکار ہو جاتے ہیں جن کا خمیازہ انہیں پوری زندگی بھگتنا پڑتا ہے۔
سب سے پہلی خرابی یہ ہے کہ آج کا نوجوان کسی کی نصیحت سننا پسند نہیں کرتا۔ والدین سمجھائیں تو انہیں پرانے خیالات کا انسان سمجھتا ہے، استاد کچھ کہیں تو اسے اپنی آزادی میں مداخلت محسوس ہوتی ہے، اور کوئی بڑا تجربے کی بنیاد پر مشورہ دے تو جواب ملتا ہے: "ہمیں سب پتا ہے۔”
حالانکہ زندگی کا ایک بڑا اصول یہ ہے کہ جس عمر میں تجربہ کم ہو، اس عمر میں مشورے کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔
دوسری بڑی وجہ اخلاقی گراوٹ ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور غلط صحبت نے نوجوانوں کے سامنے ایسی دنیا کھول دی ہے جس میں برائی تک پہنچنا پہلے سے کہیں آسان ہو گیا ہے۔ فحش مواد، غیر اخلاقی تعلقات، جھوٹ، بدتمیزی، گالی گلوچ اور دوسروں کی عزت کا خیال نہ رکھنا آہستہ آہستہ معمول بنتا جا رہا ہے۔ انسان پہلے برائی کو صرف دیکھتا ہے، پھر اسے پسند کرنے لگتا ہے اور آخرکار وہی برائی اس کی عادت بن جاتی ہے۔
تیسری بڑی آزمائش شوق کے نام پر تباہی ہے۔ کسی کو مہنگی بائیک کا شوق ہے، کسی کو تیز رفتاری کا، کسی کو خطرناک اسٹنٹ کا، کسی کو نشے کا، اور کسی کو دوستوں میں اپنی طاقت اور دولت دکھانے کا۔ نوجوانی میں انسان کو متاثر کرنا آسان ہوتا ہے۔ چند دوست، چند غلط جملے اور چند لمحوں کی جذباتی کیفیت ایک نوجوان کو ایسے راستے پر لے جا سکتی ہے جہاں سے واپس آنا مشکل ہو جاتا ہے۔
خاص طور پر نشہ ایک ایسی دلدل ہے جس میں انسان کو ابتدا میں مزہ نظر آتا ہے، لیکن انجام تباہی ہوتا ہے۔ پہلے دوست کہتے ہیں، "صرف ایک بار آزما لو۔” پھر وہ ایک بار عادت بن جاتی ہے، عادت ضرورت بن جاتی ہے اور ضرورت انسان کی زندگی پر قبضہ کر لیتی ہے۔ نشہ صرف نوجوان کو نہیں کھاتا، بلکہ اس کے پورے گھر کے سکون، عزت اور مستقبل کو بھی کھا جاتا ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ والدین کی بے حد محبت اور کم توجہی ہے۔ بعض والدین اللہ تعالیٰ کے فضل سے مالدار ہوتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں، مہنگا موبائل، موٹر سائیکل، جیب خرچ اور ہر سہولت فراہم کرتے ہیں، لیکن ایک چیز نہیں دیتے: وقت اور تربیت۔
بچے کو پیسہ دینا آسان ہے، لیکن اس کے ساتھ بیٹھ کر یہ پوچھنا کہ "بیٹا! تمہارے دوست کون ہیں؟ تم کہاں جاتے ہو؟ تمہاری زندگی میں کیا چل رہا ہے؟ تم مستقبل میں کیا بننا چاہتے ہو؟” — یہ ذمہ داری زیادہ اہم ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ پیسہ تربیت کا متبادل نہیں ہے۔
اگر بچے کے ہاتھ میں پیسہ ہو لیکن دل میں مقصد نہ ہو، آزادی ہو لیکن ذمہ داری نہ ہو، دوست بہت ہوں لیکن صحیح رہنمائی نہ ہو، تو یہی دولت اسے کامیابی کے بجائے تباہی کی طرف بھی لے جا سکتی ہے۔
آج بعض نوجوان سمجھتے ہیں کہ پیسہ ہو تو سب کچھ خریدا جا سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پیسے سے موبائل خریدا جا سکتا ہے، عزت نہیں؛ بائیک خریدی جا سکتی ہے، عقل نہیں؛ دوست خریدے جا سکتے ہیں، مخلصی نہیں؛ علاج خریدا جا سکتا ہے، صحت نہیں؛ اور بہت کچھ خریدا جا سکتا ہے، لیکن گزرا ہوا وقت واپس نہیں خریدا جا سکتا۔
جوانی میں ایک اور خطرناک بیماری "مجھے کون روک سکتا ہے؟” والا غرور ہے۔ یہی سوچ نوجوان کو خطرناک ڈرائیونگ، لڑائی جھگڑے، جرائم، غلط تعلقات، نشے اور دیگر برائیوں کی طرف لے جا سکتی ہے۔ انسان جب اپنے آپ کو قانون، خاندان اور معاشرے سے بالاتر سمجھنے لگے تو اس کی تباہی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آزادی کا مطلب من مانی نہیں، بلکہ ذمہ داری کے ساتھ فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔
اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنا کمزوری نہیں، اصل طاقت ہے۔ غصے کو روکنا طاقت ہے۔ غلط دوست کو چھوڑ دینا طاقت ہے۔ نشے کو "نہیں” کہنا طاقت ہے۔ والدین کی بات سن لینا عزت کی علامت ہے۔ اور غلطی کے بعد واپس صحیح راستے پر آ جانا انسان کی اصل کامیابی ہے۔
والدین کے لیے بھی یہ پیغام ہے کہ بچوں کو صرف سہولتیں نہ دیں، صحبت دیں، وقت دیں، تربیت دیں، محبت دیں اور نگرانی دیں۔ ان کے ساتھ دوستوں کی طرح بات کریں تاکہ وہ اپنی پریشانی باہر کے لوگوں سے نہیں بلکہ اپنے گھر والوں سے بیان کریں۔
اور نوجوانوں سے صرف اتنا کہنا ہے:
آپ کی عمر 20، 22 یا 25 سال ہے تو آپ کے سامنے زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ موجود ہے—آپ کی جوانی۔ اسے چند لمحوں کے شوق، غلط دوستوں، نشے، تیز رفتاری، دکھاوے اور غیر اخلاقی زندگی کے بدلے مت بیچیں۔
آج آپ جو فیصلہ کریں گے، کل وہی آپ کی پہچان بنے گا۔
اپنی جوانی کو برباد کرنے کے لیے نہیں، اپنا مستقبل بنانے کے لیے استعمال کریں۔
کیونکہ جوانی دوبارہ نہیں آتی، وقت واپس نہیں آتا، اور بعض غلطیوں کی قیمت صرف انسان نہیں بلکہ پورا خاندان ادا کرتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے