कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آئینہ خانہ:انسانوں کے لئے کڑوی چائے اور گاڑیوں کا میٹھا ایندھن

از : سید رشید اللہ حسینی ، اطہر کلیم احمد

آج کل سڑک پر نکلیں تو ٹریفک جام میں دھوئیں سے سوہن حلوے کی خوشبو آتی ہے۔ کل پٹرول پمپ والے سے کہا، ’’یار! سو روپئے کا پٹرول ڈال دو۔‘‘ اس نے پائپ پکڑ کر بڑی سنجیدگی سے پوچھا، ’’سر! سادا پٹرول ڈالوں، یا الائچی اور کیوڑا مار کے؟‘‘ ہم نے حیرت سے گھورا تو بولا، ’’سر جی! اب گاڑیوں میں پٹرول کم اور گنے کا رس زیادہ ڈل رہا ہے۔ مٹھاس چیک کر لیں، کل ایک صاحب کی کار میں چیونٹیاں لگ گئی تھیں!‘‘ اب تو حالت یہ ہے کہ لوگ گاڑی کا مائلیج (Mileage) کلومیٹر میں نہیں، کیلوریز (Calories) میں ناپ رہے ہیں۔ رات کو چور پٹرول چرانے کے بجائے گاڑیوں کے ٹینک سے پائپ لگا کر گنے کا رس نکالتے ہیں اور صبح چوراہے پر ٹھیلا لگا کر بیچ دیتے ہیں۔ خبر آئی ہے کہ اب تک ۲۵؍ لاکھ ٹن چینی بنانے والاگنا سیدھا گاڑیوں کے پیٹ میں جا چکا ہے۔ نتیجہ؟ غریب کی چینی دو ماہ میں۴۰؍ روپئے سے ۷۰؍ روپے کلو کے قریب ہونے والی ہے۔ دو ماہ میں اتنا اضافہ؟ یہ مہنگائی نہیں، بلکہ کرکٹ کا وہ آخری اوور چل رہا ہے جس کی ہر گیند پر چھکا پڑ رہا ہے۔ لیکن آپ ہماری حکومت کی معاشی قلابازیوں کی داد دیجیے۔ ہم نے عربوں کا مہنگا پٹرول چھوڑ کر گاڑیوں کو دیسی گنے کا رس پلایا تاکہ ہمارا قیمتی زرمبادلہ (Foreign Exchange) بچ سکے۔ اب کمال دیکھیے کہ اسی بچائے ہوئے زرمبادلہ سے ہم برازیل سے ۱۰؍ لاکھ ٹن ڈیوٹی فری چینی امپورٹ کر رہے ہیں! یعنی ہم نے خام تیل کے بدلے عربوں کی منتیں کرنا چھوڑیں، تو اب چینی کے لیے برازیلینز کی خوشامدیں کر رہے ہیں۔ کیجریوال صاحب خواہ مخواہ رو رہے ہیں کہ پٹرول کا پیسہ چینی میں چلا گیا۔ ارے بھئی! ہماری دیسی کڑک چائے میں اب غیر ملکی (Imported) چینی گھلے گی، کیا یہ کوئی چھوٹی ترقی ہے؟
ہماری موٹر سائیکل بھی آج کل عجیب حرکتیں کر رہی ہے۔ کل سڑک پر جھٹکے لینے لگی تو ہم نے مکینک کو دکھایا۔ اس نے پلگ کھولا، سونگھا اور بولا، ’’سر! بائیک کا شوگر لیول ڈاؤن ہے، فوراً آدھا کلو جلیبی کھلا دیں!‘‘ اب ٹریفک پولیس چالان کاٹتے وقت لائسنس نہیں مانگے گی۔ سیدھا پوچھے گی، ’’گاڑی کی تھری منتھ شوگر رپورٹ (HbA1c) دکھاؤ، پچھلے سگنل پر تمہاری گاڑی میٹھی ڈکاریں لے رہی تھی!‘‘ عنقریب سروس اسٹیشنوں پر مکینک نہیں، بلکہ حکیم بیٹھا کریں گے جو انجن میں معجون ڈال کر اس کی کمزوری دور کریں گے اور ڈینٹسٹ گاڑیوں کے سائلنسر چیک کریں گے کہ کہیں زیادہ میٹھا پینے سے انجن میں کیڑا تو نہیں لگ گیا۔ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں پر بھی کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے اور تھوک خریداروں کو پابند کیا ہے کہ وہ ۱۵؍ دن سے زیادہ کی چینی اسٹاک نہیں کر سکتے۔ اب وہ دن دور نہیں جب سی آئی ڈی (CID) اور اینٹی نارکوٹکس والے رات کی تاریکی میں مٹھائی کی دکانوں پر چھاپے مارا کریں گے۔ حلوائی کے گودام سے اگر سولہویں دن کی چینی برآمد ہو گئی، تو اسے یوں ہتھکڑیاں لگائی جائیں گی جیسے وہ بین الاقوامی اسمگلر ہو۔ پولیس پریس کانفرنس میں فخر سے بتائے گی: ’’ہم نے ایک خطرناک گینگ کو پکڑا ہے جس کے قبضے سے دو کلو خالص چینی اور ایک کڑاہی چاشنی برآمد ہوئی ہے!‘‘
چینی کی اس بین الاقوامی اڑان نے انسانوں سے زیادہ چیونٹیوں کو ٹینشن میں ڈال دیا ہے۔ کل ہمارے کچن میں دو چیونٹیاں دھاڑیں مار کر رو رہی تھیں، ’’جب سے چینی مہنگی ہوئی ہے، بیگم صاحبہ نے ڈبے پر بائیو میٹرک لاک لگا دیا ہے! اب تو میٹھے کی شکل دیکھے بھی کئی دن ہو گئے ہیں۔‘‘ چینی کا بھاؤ اس قدر شاہانہ ہو چکا ہے کہ اب شادیوں میں حق مہر تولے میں نہیں، بلکہ بوریوں میں طے ہوگا۔ دلہن والے فخر سے بتائیں گے کہ لڑکے والوں نے سلامی میں دو کلو خالص امپورٹڈ چینی دی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب لوگ پرچون والے سے کہیں گے، ’’لالہ جی! دو کلو آٹا دے دو، اور ہاں، ایک چینی کا ساشے (Sachet) بھی دینا، گھر میں مہمان آ رہے ہیں۔‘‘ اور اگر کسی نادان مہمان نے غلطی سے چائے میں دوسری چمچ چینی مانگ لی، تو اسے مہمان نوازی نہیں، بلکہ سیدھی سیدھی ’بھتہ خوری‘ سمجھا جائے گا۔
مہمان بھی اتنے بااخلاق ہو جائیں گے کہ آدھا کپ پھیکی چائے پی کر میزبان سے کہیں گے، ’’ماشاءاللہ! آپ کی باتوں میں جو مٹھاس ہے، وہ برازیل کی چینی میں کہاں!‘‘ ہم نے تو مہنگائی کا سستا حل نکال لیا ہے۔ چائے میں مٹھاس کم لگے، تو ہم سیدھا سڑک پر نکل جاتے ہیں۔ کسی بھی سرکاری بس کے سائلنسر کے پیچھے کھڑے ہو کر دو لمبے سانس کھینچتے ہیں اور چائے کا گھونٹ بھر لیتے ہیں۔ یقین مانیں، ایتھنول والے دھوئیں سے گنے کے رس کی جو مٹھاس سیدھی دماغ کو چڑھتی ہے، وہ دنیا کی کسی چینی میں نہیں! بس حکومت سے ایک ہی گزارش ہے، اگر پٹرول میں گنے کا رس ملا ہی دیا ہے، تو گرمیوں میں اس میں تھوڑی برف اور پودینہ بھی ڈال دیا کریں، تاکہ سڑک پر چلتے ہوئے گنے کا ٹھنڈا رس پینے کا احساس تو مکمل ہو!

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے