कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

دعوتِ دین کا درخشندہ ستارہ غروب !

تقریباً پچاس سال سےدعوتِ دین سے وابستگی اور سرکاری ملازمت کی ذمہ داریوں کو پوری امانت داری سے نبھاتے،نبھاتے ایک عظیم شخصیت کا انتقال! نماز جنازہ میں عقیدت مندوں کا جم غفیر ۔

از قلم یوسف اقبال مانورہ ضلع واشم

دعوتِ دین کا ایک عظیم داعی و مبلغ ، دل میں خشیت الٰہی کا نور رکھنے والی شخصیت کے مالک اور پورے تحصیل میں دعوت کے کام کے نگران اعلیٰ محترم المقام جناب الحاج حامدیار خان پٹیل صاحب، طویل علالت کے بعد 23 اکتوبر بروز جمعہ اس دارفانی سے کوچ کرگئے ۔ ان کے انتقال کی خبر سے دعوتی حلقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ۔
مرحوم پچھلے پچاس سالوں سے دعوتِ دین کے کام سے مخلصانہ طور پر منسلک تھے ۔ موصوف کی ذندگی کا ایک نمایاں اور قابل تقلید پہلو یہ تھا کہ وہ اپنی سرکاری ذمہ داریوں کوامانت داری سے پورا کرنے کے بعد اپنا بچا ہوا وقت دعوتِ دین کے لیے وقف کر دیتے تھے ۔ موصوف پر دین کے کام کا ایک جنون سا طاری رہتا تھا ، تھکن اور آرام کی پرواہ کیے بغیر عاجزی، انکساری اور پوری جانفشانی و دلجمعی کے ساتھ تحصیل بھر میں متحرک رہے ۔
اللہ ربّ العزت مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے، کروٹ کروٹ چین و سکون عطا فرمائے اوران کے سءیات کو حسنات سے مبدل کریں،جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی دینی و ملی خدمات کا انھیں بہترین اجر عطا کریں۔ آمین یارب العالمین ۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
مرحوم کی نماز جنازہ مؤرخہ 24 اکتوبر بروز ہفتہ صبح 11.30بجے ادا کی گئی،نماز جنازہ ان کے فرزند ارجمندالحاج ڈاکٹر مصعب خان پٹیل (عابد) نے اشکبار آنکھوں سے پڑھای ۔اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے ۔جلوس جنازہ میں تحصیل بھر سے دعوت کے کام سے منسلک عملہ، بستی کے سبھی لوگوں نے، علمائے کرام، حفاظ کرام اور اطراف کے جملہ علمائے کرام، حفاظ کرام،اور دیگر مقامات کے لوگوں نے، علمی، سیاسی، سماجی شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور مرحوم کو اشکبار آنکھوں سے سپردخاک کیا گیا ۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
جب کسی کی ذندگی کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے تو بندہ اس دارفانی سے کوچ کر جاتا ہے اور یہ قانون قدرت ہے ، ہمارا اس میں کوئی دخل نہیں مگر اس سے ہزاروں آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں ۔ آدم علیہ السلا م سے لے کر اس زمینی دنیا میں کروڑوں انسان آے اور چلے گئے، تاقیامت یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور ہر ایک کو اپنی طے شدہ ذندگی گزار نے کے بعد اپنے خالقِ حقیقی کے پاس جانا ہوگا ۔
کتنی مشکل زندگی ہے،کس قدر آسان ہےموت
گلشن ہستی میں مانند ، نسیم ارزاں ہے موت
جب کسی کے موت کی مقررہ معیاد آپہنچتی ہے تو نہ وہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتی ہیں نہ ایک گھڑی آ گے بڑھ سکتی ہیں۔کیونکہ موت ہماری ذندگی کی سب سے اٹل حقیقت ہے ،اس لیے کہا جاتا ہے کہ لذتوں کو فنا کردینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو ۔۔ آنے والے آتے رہیں گے، جانے والے جاتے رہیں گے مگر کچھ اللہ کے مخلص بندے ایسے بھی جاتے ہیں جو اپنا نام و نشان چھوڑ جاتے ہیں جن کے جانے سے ہزاروں آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔انہیں میں سے ایک ایسا داعی جو اپنی سرکاری ملازمت کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بعد اپنی مصروف ترین زندگی میں رہتے ہوئے بھی دعوت کے کام سے غافل نہیں رہا۔ان کی انہی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے آس پاس کی ممتاز شخصیات نے کہا کہ حامد یار خان صاحب نے ملازمت اور دعوتِ دین میں جو توازن قائم رکھا ، وہ آج کے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے ۔
واقعی مرحوم بہت ہی مخلص، سادگی پسند، منکسر المزاج، دین و ملت کے علمبردار، مفکر دین و ملت کی موت ،ہم سب کے لئے بہت بڑا سانحہ ارتحال ہے ۔۔ ایک داعی کے جانے سے دعوتی میدان میں جو خلا پیدا ہوتا ہے وہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کا نقصان ہوتا ہے ۔جب ایک تجربہ کار، فکر مند، امت کا درد رکھنے والا مخلص داعی کے اٹھ جانے سے، وہ علمی اور روحانی رہنمائی ناپید ہو جاتی ہے جو وہ عوام الناس کو فراہم کر رہا تھا اور اس سے معاشرے میں اصلاحی سر گرمیوں کو دھچکا لگتا ہے ۔ویسے ایک با اثر و با کردار داعی صرف لوگوں تک پیغام ہی نہیں پہچاتا، بلکہ اپنی تر بیت اور حسن اخلاق سے سینکڑوں داعی تیار کرجاتا ہے جو اس کے جانے کے بعد بھی اس کے مشن کو جاری رکھتے ہیں۔
موصوف کی دینی جدوجہد۔ ، مخلصانہ خدمات اور اصلاح معاشرہ کے لئے کوششیں ان سے وابستہ لوگوں کے لئے مشعلِ راہ ہے کہ وہ اس مشن کو آگے بڑھانے کے لئے حتی الامکان کوشش اور خلوصِ دل سے محنت کریں ۔
رکھتے ہے جو امت کے لیے ہمدردی کا جذبہ
وہ لوگ زمانے میں کبھی رسوا نہیں ہوتے
ایسی باوقار، مخلص اور دینی و سماجی خدمات سے آراستہ شخصیت، حامد یار خان صاحب پوری تحصیل کے امیرِ جماعت ہونے کے ساتھ جامع مسجد کے امانت دار متولی بھی تھے۔ ان کا انتقال محض ایک فرد کی جدائی نہیں، بلکہ دعوتِ دین سے وابستہ افراد، جماعتی رفقا، اہلِ مسجد، متعلقین اور پوری ملت کے لیے ایک گہرے صدمے اور ناقابلِ تلافی نقصان کی حیثیت رکھتا ہے۔
جانے والے تو چلے جاتے ہیں، لیکن ان کی یادیں، ان کے نقوشِ قدم، ان کی خدمات اور ان کے اخلاص و کردار کی خوشبو دیر تک فضاؤں میں باقی رہتی ہے۔ بعض شخصیات اپنی زندگی میں جو خدمات انجام دیتی ہیں، وہ ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی ان کے لیے صدقۂ جاریہ اور ان کی یاد کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ موصوف بھی ایسی ہی شخصیات میں سے ایک تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کو محض ذاتی مصروفیات اور معاشی ذمہ داریوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اپنی صلاحیتوں، وقت اور توانائی کا ایک بڑا حصہ دین کی دعوت، اصلاحِ معاشرہ اور امت کی خیر خواہی کے لیے وقف کردیا تھا۔
موصوف اپنی ذات کے لیے شخصیت پرستی کے کبھی بھی خواہاں نہیں رہے اور نہ ہی خصوصیت پرستی کے۔وہ خاکساری کو پسند کرتے تھے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ایک مسلمان کو ،،حق گو و حق پسند ،، ہونا چاہئے نہ کہ
،،شخصیت پسند،،
موصوف علمائے کرام، حفاظ کرام کی بڑی قدر کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ علماء انبیا ء علیہم السلام کے وارث ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی قدر کریں، مختصر لیکن جامع باتیں بتایا کرتے تھے کہ ہر ایک کے ذہین نشین ہوجایا کرتی تھیں ۔
مرحوم کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ بہت سی مصروفیات دامن گیر ہونے کے باوجود بھی دعوتِ دین کے کام سے کبھی غافل نہیں رہتے تھے۔ آج کے اس پُرمشغول دور میں، جب اکثر لوگ اپنی ذاتی اور معاشی مصروفیات کے باعث سماجی و دینی ذمہ داریوں کے لیے وقت نکالنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، مرحوم کا کردار ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے۔ وہ اپنے قیمتی وقت کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور بندگان
خدا کی اصلاح کے لیے استعمال کرنے کی فکر میں رہتے تھے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر، یعنی نیکی کی ترغیب دینا اور برائی سے روکنا، ان کی زندگی کا اہم مقصد اور ان کے معمولات کا نمایاں حصہ تھااوردعوت کے کام میں موصوف کی ہمت و حوصلہ قابل تقلید تھا کہ۔ بقول شاعر
کس میں ہمت ہے ہماری پرواز میں لاے کمی
ہم،پروں سے نہیں حوصلوں سے اڑا کر تے ہیں
ان کی دعوت کا انداز محض تقریروں اور نصیحتوں تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے لیے موصوف نے ہر اعتبار سے قربانیاں دیں اور کام کرتے رہے، ایسے مخلص انسان مرکر بھی ذندہ رہتے ہیں لبوں پہ آہ بن کر، آنکھوں میں آنسو بن کر، اور دلوں میں دھڑکن بن کر۔
اس طرح سے ایک مفکر دین و ملت کا روشن ستارہ ہم سب کے بیچ رہتا ہوا ہنستا ہنساتا ہم سب سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگیا ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا ۔
وما علينا الا البلاغ

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے