कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سر اٹھاؤ، میرے بچو! دنیا اسکرین سے بڑی ہے

تحریر:ڈاکٹر اسد اللہ خان

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اردو میں "سر اٹھانا” کے دو معنی ہیں؟ ایک سیدھا سادہ: جھکی ہوئی گردن کو بلند کرنا، نظر کو زمین سے آسمان کی طرف لے جانا۔ دوسرا تاریخی اور سیاسی: کسی جبر کے خلاف کھڑے ہو جانا، بغاوت کرنا۔ ہماری زبان نے صدیوں پہلے یہ دونوں معنی ایک ہی لفظ میں جمع کر دیے تھے، گویا وہ جانتی تھی کہ جو آنکھ اوپر اٹھتی ہے، وہی غلامی کو پہچانتی ہے۔
اب ذرا اپنے اردگرد نظر ڈالیے۔ ہمارے گھروں، بسوں، اسپتالوں کی انتظار گاہوں اور شادی کی محفلوں میں ایک ہی منظر ہے: جھکی ہوئی گردنیں، روشن چہرے، اور ان روشن چہروں کے نیچے ایک چھوٹا سا چمکتا ہوا مستطیل۔ شاید اس لمحے بھی آپ کے گھر میں کوئی بچہ اسی طرح گردن جھکائے بیٹھا ہو۔ میں آج آپ سے اسی بچے کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں، اور اگر وہ بچہ یہ سطریں پڑھ رہا ہے تو اس سے بھی؛ کیونکہ میرے پاس اسے کہنے کے لیے ایک ہی جملہ ہے: "سر اٹھاؤ”۔ اور اس ایک جملے میں دونوں معنی شامل ہیں۔
ایک بات کا اعتراف پہلے کر لوں۔ ہم بڑے، یعنی والدین اور اساتذہ، اسکرین کے مسئلے پر برسوں سے آپس میں بات کر رہے ہیں۔ ہم ایک دوسرے پر الزام دھرتے ہیں، کبھی اسکولوں کو کوستے ہیں، کبھی حکومتوں کو، کبھی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو۔ اس ساری گفتگو میں بچہ ایک مریض کی طرح پڑا رہتا ہے جس کا علاج دوسروں کو کرنا ہے۔ ہم اس کے بارے میں بہت بولتے ہیں، اس سے کم ہی بات کرتے ہیں۔
یہ فرق معمولی نہیں۔ جب آپ کسی سے بات کرتے ہیں تو آپ اسے سمجھنے کے قابل مان لیتے ہیں۔ جب آپ صرف اس کے بارے میں بات کرتے ہیں تو وہ ایک موضوع بن کر رہ جاتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم بچے کو موضوع سے فاعل بنائیں؛ اسے تشخیص بھی سنائیں، اور پھر نسخہ لکھنے کا قلم بھی اسی کے ہاتھ میں دے دیں۔
ہماری تعلیمی روایت میں یہ رویہ اجنبی نہیں ہونا چاہیے، مگر عملاً اجنبی ہو چکا ہے۔ ہم بچوں کو ہدایات دیتے ہیں، وجوہ نہیں بتاتے۔ "فون رکھ دو” ایک حکم ہے؛ "یہ فون تم سے کیا لے رہا ہے؟” ایک سوال ہے۔ حکم بچے کو دیوار کے سامنے کھڑا کرتا ہے، سوال اسے کھڑکی کے سامنے۔ دیوار کے سامنے کھڑا بچہ صرف یہ سوچتا ہے کہ اس سے کیسے بچا جائے؛ کھڑکی کے سامنے کھڑا بچہ یہ دیکھنے لگتا ہے کہ باہر کیا ہے۔ کیا ایک دس برس کا بچہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ اربوں ڈالر کی ایک صنعت اس کی جیب میں رکھے فون کے ذریعے کیسے کماتی ہے؟ میرا جواب ہے: ہاں۔ تجربے نے ہمیں یہی سکھایا ہے کہ بچے اکثر اس اعتماد پر پورے اترتے ہیں جو ان پر کیا جائے، اور اسی اعتماد سے محروم ہو کر بگڑتے ہیں جو ان سے چھین لیا جائے۔
اپنی بات کہنے کے لیے میں آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں۔ کسی زمانے میں کچھ جادوگر تھے جنہوں نے جواہر جڑے ہوئے چمکتے پتھر تیار کیے۔ ان پتھروں نے لوگوں سے دوستی، آزادی اور مسرت کا وعدہ کیا۔ کچھ جادوگروں نے اپنا وعدہ نبھایا، مگر کچھ لالچی جادوگروں نے لوگوں کو ایسا فریب دیا کہ وہ ان پتھروں کو ہر جگہ ساتھ لیے پھرنے لگے اور ہر وقت انہیں تکتے رہنے لگے۔ لوگ جتنا انہیں تکتے، ان کی توانائی اتنی ہی جادوگروں کے خزانے میں سونا بن کر جمع ہوتی جاتی۔ رفتہ رفتہ لوگ تنہا، مضطرب اور بے اختیار ہوتے گئے۔ پھر ایک دن کچھ نوجوانوں نے نظر اٹھائی۔ انہوں نے طلسم کو پہچانا، اسے توڑا، اور اصل دنیا کی مہمات اور رفاقتوں کی طرف لوٹ آئے۔ اس کہانی کا انجام ابھی لکھا نہیں گیا۔ وہ آپ کو لکھنا ہے۔
آپ پوچھ سکتے ہیں کہ ایک سنجیدہ مسئلے کو کہانی میں کیوں لپیٹا جائے؟ اس لیے کہ یہ تعلیم کی سب سے قدیم روایت ہے۔ پنچ تنتر کی کہانیوں کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کند ذہن شہزادوں کو حکمرانی کے گُر سکھانے کے لیے جانوروں کی زبان میں کہی گئیں۔ یہی کہانیاں سفر کرتی ہوئی عربی میں "کلیلہ و دمنہ” بنیں اور ہماری زبان و ادب تک پہنچیں۔ ہماری نانیوں دادیوں کی کہانیاں، جن میں دیو، پریاں اور طلسمی محل ہوتے تھے، اسی روایت کی گھریلو صورت تھیں۔ ان کہانیوں میں کبھی کوئی سبق الگ سے لکھا ہوا نہیں ہوتا تھا، مگر بچہ سو جانے کے بعد بھی جانتا تھا کہ لالچ کا انجام کیا ہوتا ہے اور سچائی کس طرح آخرکار جیتتی ہے۔
تمثیل کا جادو یہ ہے کہ وہ سننے والے کو ملزم نہیں بناتی۔ جو بچہ "تم فون کے عادی ہو” سن کر دفاعی دیوار کھڑی کر لیتا ہے، وہی بچہ جادوگروں کی کہانی سن کر خود یہ نتیجہ نکال لیتا ہے کہ ایک پتھر اس کی اپنی جیب میں بھی رکھا ہے۔ تمثیل نصیحت نہیں کرتی، پہچان کرواتی ہے؛ اور جو بات انسان خود پہچان لے، وہ کسی وعظ کی محتاج نہیں رہتی۔ ہماری درس گاہوں نے کہانی کو نصاب سے نکال کر محض "ادب” کے خانے میں بند کر دیا ہے، حالانکہ کہانی انسان کا سب سے پرانا اور سب سے کارگر تدریسی آلہ ہے۔ ایک اچھی کہانی بعض اوقات سو لیکچروں سے زیادہ دور تک پہنچتی ہے۔
قرونِ وسطیٰ کے کیمیاگر صدیوں تک اس خواب میں جیتے رہے کہ کسی دن سیسے کو سونے میں بدل دیں گے۔ وہ ناکام رہے۔ ہمارے عہد کے جادوگروں نے یہ کیمیا ایجاد کر لی ہے، مگر ایک ہولناک ترمیم کے ساتھ: وہ دھات کو نہیں، انسانی توجہ کو سونا بناتے ہیں۔ اگر آپ میری کہانی کے جادوگروں کے راز جاننا چاہتے ہیں تو پہلا راز یہ ہے: یہ کمپنیاں آپ کو ایپ نہیں بیچ رہیں، وہ آپ کو بیچ رہی ہیں۔ دوسرا راز یہ کہ جس ایپ کو آپ "مفت” سمجھتے ہیں، اس کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔
اس بات کو بڑے "توجہ کی معیشت” (attention economy) کہتے ہیں، مگر بچے کے لیے یہ اصطلاح بے جان ہے۔ اس لیے میں اسے ایک سوال میں بدل دیتا ہوں جسے کوئی بھی بچہ سمجھ سکتا ہے: اگر کوئی چیز تمہیں مفت دی جا رہی ہے، تو دینے والا کما کیا رہا ہے؟ یہ سوال اپنی سادگی میں ایک پورا معاشی نصاب ہے۔ جو بچہ ایک بار یہ سوال پوچھنا سیکھ لے، وہ زندگی بھر ہر "مفت” پیشکش کو ایک نئی نگاہ سے دیکھے گا، خواہ وہ کسی اشتہار میں ہو، کسی سیاسی نعرے میں یا کسی مالیاتی اسکیم میں۔ میری نظر میں یہ سوال اسکرین سے آزادی سے بھی بڑی دولت ہے، کیونکہ یہ فریب کو پہچاننے کی عادت ڈالتا ہے۔
اس کیمیا کا ایک اور پہلو بھی غور طلب ہے۔ پرانے بازار میں سودا وقت پر ختم ہو جاتا تھا: آپ نے چیز خریدی، قیمت ادا کی، اور گھر لوٹ آئے۔ توجہ کے بازار میں سودا کبھی ختم نہیں ہوتا، کیونکہ یہاں مال آپ کا وقت ہے، اور وقت جتنا زیادہ خرچ ہو، بیچنے والے کا منافع اتنا ہی بڑھتا ہے۔ اسی لیے ان پتھروں کی ساخت ہی ایسی رکھی گئی ہے کہ ان کا کوئی آخری صفحہ نہیں ہوتا۔ کتاب ختم ہوتی ہے، فلم ختم ہوتی ہے، کھیل کا میدان شام کو خالی ہو جاتا ہے؛ مگر اسکرین کی دیوار پر ہمیشہ ایک اور چیز ابھر آتی ہے۔ جس سفر کی کوئی منزل نہ ہو، اس میں تھکن تو ہوتی ہے، پہنچنے کی تسکین کبھی نہیں ہوتی۔
جادوگروں کے اگلے راز آپ کے دماغ سے متعلق ہیں: وہ آپ کے دماغ کو "ہیک” کر رہے ہیں، اور اسے نئے سرے سے "تاربند” بھی کر رہے ہیں۔ عصبی سائنس کا یہ مسلمہ مشاہدہ ہے کہ دماغ کا اگلا حصہ، جسے پری فرنٹل کورٹیکس (prefrontal cortex) کہا جاتا ہے اور جو منصوبہ بندی، ضبطِ نفس اور دور اندیشی سے وابستہ ہے، عمر کی تیسری دہائی کے وسط تک پختہ ہوتا رہتا ہے۔ گویا بچپن اور لڑکپن میں دماغ کا بریک سب سے آخر میں نصب ہوتا ہے، جبکہ لذت اور انعام کی طلب کا انجن پہلے ہی پوری رفتار سے چل رہا ہوتا ہے۔
اب ذرا اس مقابلے کی ساخت دیکھیے۔ ایک طرف دس برس کا بچہ ہے جس کا بریک ابھی زیرِ تعمیر ہے؛ دوسری طرف ایسی کمپنیاں ہیں جن کے پاس ماہرینِ نفسیات، ڈیٹا سائنس دانوں اور ڈیزائنروں کی فوجیں ہیں، اور جن کا واحد ہدف یہ ہے کہ وہ بچہ اسکرین سے نظر نہ ہٹائے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی نوآموز کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر شطرنج کے عالمی چیمپئن کے سامنے بٹھا دیا جائے، اور ہار جانے پر اسے کم ہمتی کا طعنہ دیا جائے۔ اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ بچوں سے محض قوتِ ارادی کا مطالبہ ایک طرح کی ناانصافی ہے۔ اور جادوگروں کا آخری راز اس ناانصافی کو اور نمایاں کر دیتا ہے: وہ جانتے ہیں کہ ان کی مصنوعات بچوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ جو فریق جان بوجھ کر کھیل کے اصول اپنے حق میں موڑ لے، اس کے مقابل کمزور فریق کو صرف نصیحت نہیں، تحفظ بھی چاہیے۔
اس کا ایک اثر میں روز اپنے کلاس رومز میں دیکھتا ہوں، اور شاید آپ بھی اپنے بچے کے ہوم ورک کے وقت دیکھتے ہوں۔ جو ذہن ہر چند ثانیے بعد منظر بدلنے کا عادی ہو جائے، اس کے لیے ریاضی کا ایک سوال، جو بیس منٹ کی خاموش ریاضت مانگتا ہے، سزا معلوم ہوتا ہے۔ استاد کی آواز وہی ہے، سبق وہی ہے، مگر سننے والے کا اعصابی مزاج بدل چکا ہے۔ ہم اکثر اسے بچے کی سستی یا استاد کی کمزوری سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ دو مختلف رفتاروں کا تصادم ہے: علم کی رفتار جو صدیوں سے دھیمی ہے، اور اسکرین کی رفتار جو ہر لمحہ تیز تر ہو رہی ہے۔
علم کی یہ دھیمی رفتار کوئی کمزوری نہیں، اس کی فطرت ہے۔ کوئی خیال اسی وقت ذہن میں جڑ پکڑتا ہے جب اسے کچھ دیر الٹ پلٹ کر دیکھا جائے، اس سے الجھا جائے، اور اس الجھن کی بے چینی کو برداشت کیا جائے۔ اسکرین اسی بے چینی کو سب سے پہلے ختم کرتی ہے؛ ذرا سی الجھن ہوئی اور انگلی اگلے منظر کی طرف بڑھ گئی۔ جو نسل الجھن کو برداشت کرنا نہ سیکھے، وہ کبھی دریافت کی خوشی بھی نہیں چکھ سکتی، کیونکہ ہر دریافت کسی نہ کسی الجھن کے دوسرے کنارے پر ملتی ہے۔
میری کہانی کے جادوگروں کا وعدہ دوستی کا تھا، اور ان کی سب سے بڑی بددیانتی بھی اسی وعدے میں ہے۔ دوستی کوئی پیغام نہیں، ایک موجودگی ہے۔ ذرا اپنے بچپن کو یاد کیجیے۔ کسی دوست کو روتا دیکھ کر اپنا ٹفن اس کی طرف سرکا دینا، کھیل میں ہار جانے والے ساتھی کے کندھے پر ہاتھ رکھ دینا، کسی جھگڑے کے بعد اگلی صبح بغیر کچھ کہے اس کے ساتھ اسکول کی بس میں بیٹھ جانا؛ یہ وہ لمحے ہیں جن میں دوستی کی اصل زبان بولی جاتی ہے، اور یہ زبان کسی کی بورڈ پر نہیں لکھی جا سکتی۔
ڈیجیٹل دنیا نے دوستی کو گنتی میں بدل دیا ہے: کتنے فالوورز، کتنے لائک، کتنے لوگوں نے اسٹوری دیکھی۔ گنتی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ موازنہ مانگتی ہے، اور موازنہ ہمیشہ کسی کو کم ثابت کرتا ہے۔ جو بچہ اپنی دوستیوں کو اعداد میں تولنا سیکھ لے، وہ انجانے میں یہ بھی سیکھ لیتا ہے کہ وہ خود ایک عدد ہے۔ میں اپنے بچوں کو جس زندگی کی دعوت دینا چاہتا ہوں، وہ تین لفظوں میں سمٹ آتی ہے: حقیقی دوستی، آزادی اور مسرت۔ یہی تین چیزیں تو جادوگروں نے بیچنے کا وعدہ کیا تھا۔ میرے عزیز بچے! جو چیز تم خریدنے چلے تھے، وہ دکان میں کبھی تھی ہی نہیں؛ وہ گلی میں، میدان میں اور دوسروں کے ساتھ گزارے ہوئے وقت میں تھی۔
ہماری تہذیب نے دوستی کے لیے جو الفاظ وضع کیے، وہ بھی اسی حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔ "ہم جولی” وہ ہے جو ساتھ کھیلے، "ہم سفر” وہ جو ساتھ چلے، "ہم نوالہ” وہ جو ایک دسترخوان پر بیٹھے۔ ان سب لفظوں میں ایک ہی بات مشترک ہے: ساتھ ہونا۔ کسی لفظ میں "ہم اسکرین” کا تصور نہیں، کیونکہ ہماری زبان جانتی تھی کہ رفاقت جسم اور وقت کی شراکت سے بنتی ہے، تصویروں کے تبادلے سے نہیں۔
اب میں ایک ایسا لفظ استعمال کرنے جا رہا ہوں جو شاید آپ کے کانوں کو کھٹکے: باغی۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے بچے باغی بنیں، اور اپنے لیے ایک "باغی کا ضابطہ” خود وضع کریں۔ ہماری مشرقی تربیت میں بغاوت ایک عیب ہے؛ اچھا بچہ وہ ہے جو بات مانے، سوال کم کرے اور بڑوں کی رائے کے آگے سر جھکائے۔ مگر میں اس لفظ کا رخ موڑنا چاہتا ہوں۔ آج کا باغی وہ نہیں جو بڑوں کی نافرمانی کرے، بلکہ وہ ہے جو اس بھیڑ کا حصہ بننے سے انکار کرے جسے چند کمپنیاں اپنے مفاد میں ہانک رہی ہیں۔ جب ہر بچہ فون میں گم ہو، تو فون رکھ کر کتاب اٹھانا یا سائیکل لے کر نکل جانا ہی سب سے بڑی سرکشی ہے۔
مگر یہاں ایک ایسا نکتہ ہے جس پر میں چاہتا ہوں کہ آپ خاص طور پر غور کریں۔ جو بچہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سامنے "نہیں” کہنا سیکھے گا، وہ لازماً سوال کرنا بھی سیکھے گا، اور یہ سوال صرف کمپنیوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ وہ اپنے اسکول سے پوچھے گا کہ فلاں ہوم ورک کیوں ضروری ہے، اور آپ سے پوچھے گا کہ آپ خود دسترخوان پر فون کیوں دیکھتے ہیں۔ کیا آپ اس سوال کے لیے تیار ہیں؟ ایسی نسل کی تربیت کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں خود بھی سوال سننے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ ہم یہ نہیں کر سکتے کہ بچے کو ایک جگہ تنقیدی شعور دیں اور دوسری جگہ اندھی اطاعت کا مطالبہ کریں۔ باشعور باغی پالنے کی قیمت یہ ہے کہ ہمیں جواب دہ بننا پڑے گا؛ اور سچ پوچھیے تو یہی اس تربیت کا اصل حاصل ہے۔
گھبرائیے نہیں؛ اطاعت اور شعور میں کوئی ازلی دشمنی نہیں۔ جو بچہ کسی بات کی وجہ سمجھ کر اسے مانتا ہے، اس کی اطاعت زیادہ پائیدار ہوتی ہے، کیونکہ وہ ڈر پر نہیں، یقین پر کھڑی ہوتی ہے۔ ڈر سے ماننے والا بچہ نگرانی ختم ہوتے ہی راستہ بدل لیتا ہے؛ سمجھ کر ماننے والا بچہ اکیلے میں بھی اسی راستے پر چلتا ہے۔ اسکرین کے معاملے میں یہ فرق فیصلہ کن ہے، کیونکہ فون رات کے اندھیرے میں، رضائی کے نیچے اور آپ کی نظر سے دور استعمال ہوتا ہے۔ وہاں کوئی پہرہ کام نہیں آتا؛ صرف وہ سمجھ کام آتی ہے جو بچے کے اندر بس چکی ہو۔
اسکرین پر ہونے والی بیشتر بحث مغربی ملکوں سے آتی ہے، اور وہاں کے حالات ذہن میں رکھ کر کی جاتی ہے۔ ہمیں بار بار اپنی زمین کی طرف دیکھنا ہوگا۔ ہمارے ہاں جادوگر صرف سلیکان ویلی میں نہیں بیٹھے۔ ان کے کچھ مقامی رشتہ دار ہمارے گھروں میں تعلیم کے لباس میں داخل ہوئے ہیں۔ بہت سی تعلیمی ایپس نے وہی ترکیبیں اپنا لی ہیں جو تفریحی ایپس کی پہچان ہیں: لگاتار حاضری کا سلسلہ ٹوٹنے کا خوف، تمغے، درجہ بندی کی فہرستیں، ہر چند منٹ بعد ایک نئی اطلاع۔ آپ مطمئن ہیں کہ بچہ "پڑھ رہا ہے”، حالانکہ بسا اوقات وہ صرف ایک اور پتھر کو تک رہا ہوتا ہے جس پر کتاب کا نقش کندہ ہے۔ کسوٹی یہ نہیں کہ اسکرین پر کیا دکھایا جا رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اسکرین بچے کو کس طرح تھامے ہوئے ہے۔
ٹیکنالوجی کو اوزار کی طرح برتنا چاہیے، یہ بات سب کہتے ہیں؛ مگر اوزار کی پہچان کیا ہے؟ میں اس کے لیے ایک سادہ کسوٹی تجویز کرتا ہوں جو ہر بچہ اپنے اوپر خود لگا سکتا ہے: اوزار وہ ہے جسے کام ختم ہونے پر رکھ دیا جائے۔ ہتھوڑا کیل ٹھونک کر ہاتھ سے نہیں چپکا رہتا۔ اگر کوئی ایپ کام ختم ہونے کے بعد بھی تمہیں روکے رکھے، اگلا ویڈیو خود بخود چلا دے، یا تمہیں یہ احساس دلائے کہ کچھ چھوٹ جائے گا، تو وہ اوزار نہیں، پتھر ہے۔
ہمارے ماحول کا دوسرا فرق آزادی کے تصور میں ہے۔ مغربی دنیا میں بچوں کو زیادہ آزادی دینے کا مطلب ہے انہیں اکیلے پارک جانے، سائیکل چلانے یا دکان تک جانے دینا۔ ممبئی، تھانے، ممبرا اور کوسہ جیسی گنجان بستیوں میں یہ مشورہ دیتے ہی سوال اٹھتا ہے کہ پارک کہاں ہے؟ عمارتوں کے درمیان کی جگہیں پارکنگ میں، اور گلیاں ٹریفک میں بدل چکی ہیں۔ پھر بچیوں کا معاملہ ہے، جن کی نقل و حرکت پر ہمارے سماج میں پہلے ہی کئی طرح کی پابندیاں ہیں۔ ان کے لیے اسکرین اکثر وہ واحد کھڑکی ہے جس سے وہ باہر کی دنیا دیکھتی ہیں۔ اگر ہم یہ کھڑکی بند کرنے کا مطالبہ کریں اور بدلے میں دروازہ نہ کھولیں، تو یہ اصلاح نہیں، ایک اور قید ہوگی۔
اور پھر ہمارا امتحانی نظام، جو بچپن کو نمبروں کی دوڑ میں بدل چکا ہے۔ صبح اسکول، شام کوچنگ اور رات کو ہوم ورک کے بیچ بچے کے پاس جو چند لمحے بچتے ہیں، وہ فرصت نہیں، تھکن ہوتے ہیں۔ تھکا ہوا ذہن مہم جوئی نہیں مانگتا، صرف بے سدھ ہو جانا چاہتا ہے، اور اسکرین اسے یہی دیتی ہے۔ ایسے بچے سے یہ کہنا کہ "فون چھوڑ کر کچھ تخلیقی کرو” اسی طرح ہے جیسے کسی مزدور سے، جو بارہ گھنٹے کی مشقت کے بعد لوٹا ہو، کہا جائے کہ آرام کے بجائے ورزش کرے۔ جب تک ہم بچے کے دن میں حقیقی فرصت واپس نہیں لاتے، "باغی کا ضابطہ” اس کے لیے ایک اور نصاب بن کر رہ جائے گا۔
یہاں ایک تلخ سوال ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا، اور میں یہ سوال سب سے پہلے اپنے آپ سے پوچھتا ہوں۔ کیا ہم والدین اور اساتذہ بھی کسی حد تک جادوگروں کے شریکِ کار نہیں بن گئے؟ جب ہم بچے کی خاموشی خریدنے کے لیے اس کے ہاتھ میں فون تھما دیتے ہیں، جب اسکول کا ہوم ورک واٹس ایپ گروپ کے بغیر مکمل نہیں ہو پاتا، اور جب ہر تقریب کی کامیابی تصویروں کی تعداد سے ناپی جاتی ہے، تو ہم خود وہ ماحول بنا رہے ہوتے ہیں جس میں پتھر کے بغیر رہنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اصلاح کا آغاز الزام سے نہیں، اعتراف سے ہوتا ہے۔
ایک محقق کی حیثیت سے مجھ پر لازم ہے کہ اپنی ہی بات کی حدود کا اعتراف کروں۔ اسکرین اور بچوں کی ذہنی صحت کے تعلق پر علمی حلقوں میں بحث جاری ہے، اور کئی ماہرینِ نفسیات کا موقف یہ ہے کہ اسکرین کے استعمال اور ذہنی صحت کے بگاڑ میں تعلق تو دکھائی دیتا ہے، مگر اسے یقینی طور پر علت قرار دینے کے لیے شواہد ابھی ناکافی ہیں۔ جادوگروں کی کہانی میں یہ احتیاط آسانی سے گم ہو جاتی ہے، کیونکہ کہانی کو ہیرو اور ولن چاہیے، باریکیاں نہیں۔ ایک استاد کا فرض ہے کہ وہ بچوں کے سامنے کہانی بھی رکھے اور یہ بھی بتائے کہ زندگی کہانی سے زیادہ پیچیدہ ہے۔
دوسرا اعتراض زیادہ گہرا ہے، اور میں اسے آپ کے سامنے پوری دیانت سے رکھنا چاہتا ہوں۔ جب ذمہ داری بچے کے ہاتھ میں دی جاتی ہے تو یہ خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ بڑے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائیں: کمپنیاں کہیں کہ ہم نے تو انتخاب کی آزادی دی تھی، حکومتیں کہیں کہ یہ گھریلو معاملہ ہے، اور والدین کہیں کہ بچے کو خود سمجھنا چاہیے۔ بچے کو بااختیار بنانا اسی وقت معنی رکھتا ہے جب اس کے ساتھ ساتھ اس کے گرد کا ڈھانچہ بھی بدلے؛ ورنہ یہ اس کے کمزور کندھوں پر ایک اور بوجھ ہے۔
تیسرا پہلو ٹیکنالوجی کے مثبت کردار کا ہے، جسے کسی بھی متوازن بحث میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وبا کے دنوں میں جب اسکول بند ہوئے تو بہت سے بچوں کی تعلیم اسی اسکرین کے سہارے جاری رہی، اور اسی دور نے یہ بھی دکھایا کہ جن گھروں میں فون یا انٹرنیٹ نہ تھا، وہاں کے بچے کتنے پیچھے رہ گئے۔ دور دراز کے قصبوں میں ایک بچی کے لیے انٹرنیٹ وہ کتب خانہ بھی ہو سکتا ہے جو اس کے شہر میں کبھی تعمیر نہیں ہوا۔ اردو جیسی زبان کے لیے، جس کی کتابیں بڑے شہروں کی دکانوں سے بھی غائب ہوتی جا رہی ہیں، ڈیجیٹل دنیا ایک نئی پناہ گاہ بھی بن سکتی ہے۔ اس لیے سوال ٹیکنالوجی کے ہونے یا نہ ہونے کا نہیں، اس کے مالک اور غلام کے تعین کا ہے۔
اب میں خاص طور پر آپ سے مخاطب ہوں، محترم والدین۔ بچے حکم نہیں مانتے، نمونہ اپناتے ہیں۔ تعلیمی نفسیات کا یہ پرانا اور مسلمہ سبق ہے کہ بچہ اپنے ماحول کے رویوں کو دیکھ کر سیکھتا ہے، محض ہدایات سن کر نہیں۔ جو باپ دسترخوان پر بیٹھ کر دفتر کے پیغامات دیکھ رہا ہو، اور جو ماں کسی محفل میں بھی اسکرین سے نظر نہ ہٹا رہی ہو، ان کی زبان سے فون کی ممانعت کا جملہ بچے تک پہنچتے پہنچتے بے معنی ہو جاتا ہے۔ بچہ آپ کے الفاظ نہیں، آپ کی آنکھیں پڑھتا ہے، اور آنکھیں اسکرین پر ہوں تو پیغام واضح ہے۔
اس لیے آج شام اپنے بچے کے پاس بیٹھیے اور یہ گفتگو اس کے ساتھ کیجیے، اور اپنے بارے میں بھی ایمان داری سے بات کیجیے۔ "میں بھی ان پتھروں میں الجھا ہوا ہوں، آؤ مل کر نکلتے ہیں”؛ یہ جملہ کسی بھی پابندی سے زیادہ کارگر ہوگا، کیونکہ یہ بچے کو مجرم نہیں، شریکِ سفر بناتا ہے۔ گھر میں ایسے اوقات مقرر کیجیے جب سب کے فون ایک ٹوکری میں ہوں: کھانے کے وقت، سونے سے پہلے کا ایک گھنٹہ، اور ہفتے کی ایک شام۔ ان اوقات میں جو خلا پیدا ہوگا، اسے گفتگو، کہانی، کھیل یا محض ساتھ بیٹھے رہنے سے بھرنا ہوگا؛ کیونکہ خالی ہاتھ تبھی کام کے ہیں جب دل بھرے ہوئے ہوں۔
آپ کو یاد ہوگا کہ ہمارے بزرگوں کے گھروں میں عشا کے بعد کا وقت گفتگو کا وقت ہوتا تھا۔ دادا دن بھر کی خبریں سناتے، دادی کوئی قصہ چھیڑ دیتیں، اور بچے انہی باتوں میں سے زبان، تہذیب اور خاندان کی تاریخ چن لیتے تھے۔ وہ وقت کسی منصوبہ بندی سے نہیں، زندگی کی رفتار سے پیدا ہوتا تھا۔ آج یہ وقت خود بخود نہیں آئے گا؛ اسے شعوری طور پر واپس لانا ہوگا، جیسے کسی اجڑے ہوئے باغ میں دوبارہ بیج بوئے جاتے ہیں۔
اپنے ساتھی اساتذہ اور اسکول چلانے والے احباب سے میری گزارش ہے کہ وہ اس گفتگو کو ایک اجتماعی تجربے میں بدلیں۔ چوتھی سے ساتویں جماعت کے بچوں کے لیے مطالعے کے حلقے بنائے جا سکتے ہیں جن میں جادوگروں کی یہ کہانی سنائی جائے اور بچے خود اس کا انجام لکھیں۔ بچے فون کے اندر موجود اسکرین ٹائم کے اعداد خود دیکھیں، اپنے ایک ہفتے کا حساب لگائیں، اور پھر خود فیصلہ کریں کہ اگلے ہفتے کون سے گھنٹے واپس لینے ہیں۔ جو فیصلہ بچہ خود کرے، وہ اس کا ہوتا ہے؛ جو اس پر مسلط کیا جائے، وہ اس کے خلاف ہوتا ہے۔
ہماری اپنی تہذیب میں اس کا ایک خوب صورت متبادل موجود ہے جسے ہم تقریباً بھول چکے تھے۔ داستان گوئی کی روایت، جسے پچھلی دو دہائیوں میں دہلی اور ممبئی سمیت کئی شہروں میں نئی زندگی ملی ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک انسانی آواز، بغیر کسی تصویر، بغیر کسی موسیقی اور بغیر کسی اسکرین کے، سامعین کو گھنٹہ بھر باندھے رکھ سکتی ہے۔ اگر اسکول ہفتے میں ایک دن کہانی سنانے اور کہانی کہنے کے لیے مخصوص کر دیں، تو وہ بچوں کو یہ تجربہ دیں گے کہ توجہ کوئی بوجھ نہیں، ایک لذت بھی ہو سکتی ہے۔ جادوگروں کے طلسم کا بہترین جواب ہماری اپنی داستانیں ہیں۔
اسکولوں کو اپنی ترجیحات کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ نئے اسمارٹ بورڈ پر خرچ ہونے والی رقم اگر ایک بھرپور کتب خانے، کھیل کے ایک قطعے یا کسی مشاورت کار کی تقرری پر لگے، تو شاید بچوں کو زیادہ فائدہ ہو۔ استاد کا کردار بھی یہاں نئے سرے سے متعین ہوتا ہے: وہ اب صرف معلومات کا ذریعہ نہیں رہا، کیونکہ معلومات ہر جیب میں موجود ہیں۔ اس کا اصل کام توجہ کی حفاظت، سوال کی تربیت اور انسانی رشتے کا نمونہ پیش کرنا ہے؛ یعنی وہ سب کچھ جو کوئی مشین نہیں کر سکتی۔ تعلیم کا مقصد ٹیکنالوجی کی نمائش نہیں، ایسے انسان کی تشکیل ہے جو ٹیکنالوجی کو استعمال کرے، اس کے ہاتھوں استعمال نہ ہو۔
مگر آپ اور میں اکیلے یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔ جو مسئلہ اربوں ڈالر کی صنعت نے پیدا کیا ہو، اسے صرف گھروں اور اسکولوں کی نیک نیتی حل نہیں کر سکتی۔ دنیا کے کئی ممالک اس سمت میں قدم اٹھا رہے ہیں۔ آسٹریلیا نے سولہ برس سے کم عمر بچوں کے لیے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ رکھنے پر پابندی عائد کی ہے جو دسمبر 2025ء سے نافذ ہے، اور اس کی تعمیل کی ذمہ داری کمپنیوں پر ڈالی گئی ہے۔ ہمارے ملک کا ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کا قانون (2023ء) اٹھارہ برس سے کم عمر بچوں کے ڈیٹا کے لیے والدین کی قابلِ تصدیق رضامندی کو لازم قرار دیتا ہے۔ یہ اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اصل سوال ڈیزائن کا ہے: کم سن صارفین کے لیے لامتناہی اسکرول، خودکار اگلی ویڈیو اور رات گئے آنے والی اطلاعات کی کیا گنجائش ہے؟ جب تک قانون پتھروں کی ساخت پر سوال نہیں اٹھاتا، وہ صرف دروازے پر تالا لگاتا ہے، کھڑکیاں کھلی رہتی ہیں۔
شہری منصوبہ سازوں کا فرض بھی کچھ کم نہیں۔ بچوں کو باہر بلانا ہے تو باہر کچھ ہونا چاہیے: کھیل کا میدان، محفوظ گلی، محلے کا کتب خانہ۔ ہاؤسنگ سوسائٹیاں شام کو اپنے احاطے بچوں کے لیے کھول سکتی ہیں، اور برادری کے ہال اور تعلیمی ادارے چھٹی کے دنوں میں کھیل اور مطالعے کے مراکز بن سکتے ہیں۔ یاد رکھیے، کوئی بچہ اسکرین سے اس وقت تک نہیں اٹھے گا جب تک اسے یقین نہ ہو کہ اٹھ کر جانے کی کوئی جگہ ہے۔
میں اپنے بچوں کو ایک باکمال نسل کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہوں، اور اس امید کی تعریف کرنا ضروری ہے۔ باکمال نسل وہ نہیں ہوگی جس کے ہاتھ میں جدید ترین آلہ ہو، نہ وہ جو ٹیکنالوجی سے مکمل کنارہ کش ہو کر کسی خیالی ماضی میں جا بسے۔ وہ نسل ہوگی جو مصنوعی ذہانت کے عہد میں اپنی فطری ذہانت، اخلاقی حس اور انسانی ہمدردی کو زندہ رکھ سکے؛ جو دنیا سے جڑنے کا ہنر بھی جانتی ہو اور تنہائی میں اپنے رب اور اپنے باطن سے ہم کلام ہونے کا ذوق بھی رکھتی ہو؛ جو کسی چمکتی چیز کو دیکھ کر سب سے پہلے یہ پوچھے کہ اس کی قیمت کون ادا کر رہا ہے۔
یہ تعریف مستقبل کے بارے میں ایک اہم سوال بھی اٹھاتی ہے۔ ٹیکنالوجی کے نئے جادوگر ابھی سے اپنے اگلے پتھر تراش رہے ہیں: ایسے مصنوعی رفیق جو کبھی ناراض نہیں ہوتے، ہر بات پر حامی بھرتے ہیں اور ہر وقت حاضر رہتے ہیں۔ جو بچہ ایسے رفیق کا عادی ہو جائے، اسے انسانی دوستی کی کھردری، بے ترتیب اور کبھی کبھی تکلیف دہ حقیقت بوجھ لگنے لگے گی۔ جو نسل آج پتھروں کو پہچاننا سیکھ لے گی، وہی کل ان نئے طلسموں کے سامنے بھی سر اٹھا سکے گی۔ اس لیے میری فکر کسی ایک آلے تک محدود نہیں؛ میں ایک ایسا ذہن تیار ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں جو ہر آنے والے طلسم کو پہچان سکے۔
محترم قاری! اس گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ بچپن کی حفاظت اب صرف بڑوں کا کام نہیں رہی؛ بچوں کو اس میں شریک کرنا ہوگا، انہیں جادوگروں کی ترکیبیں بتانی ہوں گی، اور ساتھ ہی ان کے لیے وہ دنیا آباد کرنی ہوگی جس کی طرف وہ لوٹ سکیں۔ ہم بچے کو قلم دے سکتے ہیں؛ مگر ہمارا فرض یہ بھی ہے کہ اس کے سامنے کاغذ ہو، یعنی کھیل کا میدان، فرصت کا وقت، سننے والا کوئی بڑا اور ساتھ کھیلنے والا کوئی دوست۔
میری کہانی اس منظر پر رکی تھی کہ کچھ نوجوانوں نے نظریں اٹھائیں اور طلسم ٹوٹنے لگا، اور اس کے بعد کہانی کا انجام میں نے آپ کے سپرد کر دیا تھا۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں نے یہ گفتگو "سر اٹھانا” سے کیوں شروع کی تھی۔ جس عمل کو دوسری زبانیں دو الگ مرحلوں میں بیان کرتی ہیں، یعنی نظر اٹھانا اور بغاوت کرنا، اسے اردو ایک ہی لفظ میں کہہ دیتی ہے۔ جادو کا توڑ کوئی بڑا منتر نہیں۔ بس ایک بچہ، جو کسی شام اپنی ہتھیلی کی روشنی سے نظر ہٹا کر آسمان کی طرف دیکھ لے۔ اسی لمحے وہ سر اٹھاتا ہے، دونوں معنوں میں؛ اور جس نسل کے بچے سر اٹھانا سیکھ لیں، اسے کوئی جادوگر زیادہ دیر جھکا کر نہیں رکھ سکتا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے