कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اپنے آپ سے بے وفائی ایک نفسیاتی مطالعہ آج کل کے نوجوانوں کے مسائل

تحریر:شیخ محمود علی لیکچرر
8055402819

نفسیاتی تناظر میں اپنے آپ سے بے وفائی (Self-Betrayal) اُس کیفیت کو کہا جا سکتا ہے جس میں انسان اپنے حقیقی احساسات جذبات ضروریات، اقدار اور خواہشات کو جانتے بوجھتے دبا دیتا ہے تاکہ کسی دوسرے شخص کی محبت، قبولیت یا قربت برقرار رکھ سکے
یہ کوئی باقاعدہ نفسیاتی تشخیص نہیں بلکہ انسانی رویّوں کو سمجھنے کا ایک مفید تصور ہے۔
1۔ نفسیاتی اسباب:
1. مسترد کیے جانے کا خوف (Fear of Rejection):
انسان اس خوف سے اپنی بات نہیں کہتا کہ کہیں محبوب ناراض نہ ہوجائے یہ یا تعلق ختم نہ کردے۔ وہ اپنی خواہشات قربان کرکے دوسرے کی مرضی کو ترجیح دینے لگتا ہے۔
2 ضرورت سے زیادہ جذباتی انحصار (Emotional Dependency):
جب انسان اپنی خوشی سکون اور اپنی قدر کا تعین دوسرے شخص کے رویّے سے کرنے لگے تو اس کی جذباتی خودمختاری کمزور ہونے لگتی ہے۔
3 اپنی ذات کو نظرانداز کرنا (Self-Neglect):
دوسروں کی ضروریات پوری کرتے کرتے انسان اپنی ذہنی صحت، وقت عزتِ نفس اور جذباتی ضروریات کو مسلسل نظرانداز کرتا رہتا ہے۔
4. اندرونی تضاد (Cognitive Dissonance):
جب انسان کے اصول اور اس کے اعمال ایک دوسرے سے مطابقت نہ رکھتے ہوں تو ذہنی بے چینی پیدا ہوسکتی ہے۔ مثلاً وہ جانتا ہے کہ کوئی تعلق اسے تکلیف دے رہا ہے، لیکن تنہائی کے خوف سے اسی تعلق میں رہتا ہے۔
2۔ محبت میں خود سے بے وفائی کیسے ہوتی ہے؟:
محبت میں قربانی فطری ہے، لیکن ہر قربانی صحت مند نہیں ہوتی۔
محبوب کی خوشی کے لیے اپنی ہر خواہش کو دبانا۔
ناراضی کے خوف سے اپنی رائے کا اظہار نہ کرنا۔
بار بار تکلیف پہنچنے کے باوجود اپنی حدود قائم نہ کرنا۔
اپنی شخصیت اور خودداری کو دوسرے کی منظوری سے وابستہ کرلینا۔
ایسے رویّے بعض اوقات اضطراب، ناراضی، جذباتی تھکن اور اپنی ذات سے دوری کا سبب بن سکتے ہیں۔ تاہم ہر سمجھوتا خود سے بے وفائی نہیں باہمی رضامندی اور احترام پر مبنی سمجھوتا صحت مند تعلق کا حصہ بھی ہے۔
3۔ اس کیفیت سے نکلنے کا راستہ:
اپنے احساسات کو پہچانیے اور ان کا احترام کیجیے۔
محبت اور خوف میں فرق سمجھیے۔
ضرورت پڑنے پر مؤدبانہ انداز میں انکار کرنا سیکھیے۔
اپنی خوشی اور خودداری کو صرف کسی دوسرے شخص کے رویّے سے وابستہ نہ کیجیے۔
تعلق میں اپنی ضروریات کے ساتھ دوسرے شخص کی ضروریات کا بھی احترام کیجیے۔
جھک کر سلام کرنے میں کیا حرج ہے مگر
سر اتنا مت جھکاؤ کہ دستار گر پڑے
ایک نفسیاتی حقیقت:
Psychological reality
انسان کبھی کبھی دوسروں کو کھونے کے خوف میں خود کو کھو دیتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ تعلق بچا رہا ہے، لیکن درحقیقت وہ اپنی شخصیت کے بعض اہم حصوں کو مسلسل دبا رہا ہوتا ہے۔
ادبی اور نفسیاتی تجزیہ:
’’اپنے آپ سے بے وفائی کی ابتدا اُس لمحے ہوتی ہے جب انسان کسی دوسرے کی محبت برقرار رکھنے کے لیے اپنے احساسات کی نفی کرنے لگتا ہے۔ وہ دوسرے شخص کو کھونے سے تو ڈرتا ہے، مگر آہستہ آہستہ خود سے اپنا تعلق کھونے لگتا ہے۔‘‘
زہر اگلتے ہیں جب مل کر دنیا والے
میٹھے بولوں کی وادی میں کھو جاتا ہوں

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے