कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مطالعہ کی اہمیت

یومِ ترغیبِ مطالعہ کے موقع پر خصوصی مضمون

تحریر:عارف محمد خان، جلگاؤں

کتاب انسان کی بہترین دوست، مطالعہ ذہن کی غذا اور علم کامیابی کی کنجی ہے۔ مطالعہ انسانی زندگی کا ایک ایسا قیمتی عمل ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم و شعور کی روشنی میں لے آتا ہے۔ یہ نہ صرف علم میں اضافے کا ذریعہ ہے بلکہ شخصیت سازی، فکری بالیدگی، اخلاقی تربیت اور تہذیبی ارتقا میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہذب اور ترقی یافتہ معاشروں میں مطالعے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یومِ ترغیبِ مطالعہ ہمیں اسی اہمیت کا احساس دلانے اور معاشرے میں کتاب دوستی کے فروغ کا عہد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
مطالعہ: علم و آگہی کا سرچشمہ:
مطالعہ انسان کے ذہن و فکر کو وسعت عطا کرتا ہے۔ کتابوں کے ذریعے انسان نہ صرف اپنے عہد کے حالات و واقعات سے واقف ہوتا ہے بلکہ ماضی کی تاریخ، مختلف تہذیبوں، عظیم شخصیات کے افکار اور سائنسی و سماجی ترقی کے مراحل سے بھی آگاہی حاصل کرتا ہے۔ مطالعہ انسان کو محدود دائرۂ فکر سے نکال کر ایک وسیع علمی دنیا سے روشناس کراتا ہے۔ یہ انسان میں غور و فکر، سوال کرنے، حقائق کو پرکھنے اور درست نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔اسلام نے بھی علم و تعلیم کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ قرآنِ مجید کی پہلی وحی کا آغاز لفظ ’’اقرأ‘‘ یعنی ’’پڑھیے‘‘ سے ہوتا ہے۔ یہ حقیقت علم، قرأت اور حصولِ معرفت کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پڑھنا محض ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ انسانی شعور کی بیداری اور فکری ترقی کا اہم ذریعہ بھی ہے۔
شخصیت سازی میں مطالعے کا کردار:
مطالعہ انسان کی شخصیت کو سنوارتا اور اس کے کردار کو نکھارتا ہے۔ اچھی کتابیں انسان کو سچائی، دیانت داری، صبر، برداشت، رواداری اور خدمتِ خلق جیسے اعلیٰ اوصاف سے آراستہ کرتی ہیں۔ سیرتِ نبویؐ، سوانحِ حیات، تاریخی واقعات اور اخلاقی ادب کا مطالعہ انسان کو عظیم شخصیات کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس طرح مطالعہ انسان کو صرف معلومات فراہم نہیں کرتا بلکہ اس کی سوچ، رویّے اور طرزِ عمل پر بھی مثبت اثر ڈالتا ہے۔ایک اچھا قاری بہتر انداز میں سوچتا، متوازن رائے قائم کرتا اور دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ مطالعے کی بدولت انسان میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی اوصاف ایک مہذب، باشعور اور پُرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں۔
طلبہ کی زندگی میں مطالعے کی اہمیت:
طلبہ کے لیے مطالعہ کامیابی کی بنیاد ہے۔ نصابی کتابوں کا مطالعہ علمی استعداد میں اضافہ کرتا ہے، جب کہ غیر نصابی کتابیں ان کے ذہنی افق کو وسیع کرتی ہیں۔ ادب، سائنس، تاریخ، جغرافیہ، سوانح اور عمومی معلومات سے متعلق کتابیں طلبہ میں تجسس، تخلیقی صلاحیت اور خود اعتمادی پیدا کرتی ہیں۔ مطالعے کی باقاعدہ عادت ان کے ذخیرۂ الفاظ کو بڑھاتی، زبان و بیان کو بہتر بناتی اور تحریری و تقریری صلاحیتوں کو مضبوط کرتی ہے۔افسوس کی بات ہے کہ موجودہ دور میں بہت سے طلبہ کتابوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ امتحان میں کامیابی کو ہی تعلیم کا آخری مقصد سمجھ لیا گیا ہے، جب کہ حقیقی تعلیم انسان کو زندگی کے مسائل سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ طلبہ کو نصابی تعلیم کے ساتھ معیاری غیر نصابی مطالعے کی طرف بھی راغب کیا جائے۔
ڈیجیٹل دور اور مطالعے کے بدلتے رجحانات:
آج ہم ٹیکنالوجی کے ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں معلومات تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو گئی ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، ای کتابیں اور آن لائن کتب خانے مطالعے کے نئے امکانات فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم، سوشل میڈیا کی غیر ضروری مصروفیات، مختصر ویڈیوز اور مسلسل اطلاعات نے یکسوئی کے ساتھ مطالعہ کرنے کی عادت کو متاثر کیا ہے۔یہاں ضرورت ٹیکنالوجی سے دور بھاگنے کی نہیں بلکہ اسے دانش مندی سے استعمال کرنے کی ہے۔ اگر ہم روزانہ کچھ وقت کتاب پڑھنے کے لیے مخصوص کریں، غیر ضروری موبائل استعمال میں کمی لائیں اور معیاری ڈیجیٹل و مطبوعہ مواد کا انتخاب کریں تو مطالعے کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنا سکتے ہیں۔ اصل اہمیت کتاب کی شکل سے زیادہ اس کے مفید مواد اور اس سے حاصل ہونے والی آگہی کی ہے۔
یومِ ترغیبِ مطالعہ: ایک اہم پیغام:
یومِ ترغیبِ مطالعہ محض ایک رسمی دن نہیں، بلکہ معاشرے میں علم دوستی، کتاب خوانی اور فکری بیداری کو فروغ دینے کی ایک اہم یاد دہانی ہے۔ اس دن ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ہماری زندگی میں کتابوں کی کیا اہمیت ہے اور نئی نسل کو مطالعے کی طرف راغب کرنے کے لیے ہم کیا اقدامات کر سکتے ہیں۔اس مقصد کے لیے اسکولوں، کالجوں، مدارس، کتب خانوں اور تعلیمی اداروں میں کتابوں کی نمائش، مطالعے کے مقابلے، تقریری نشستیں، تبصرۂ کتب اور مطالعہ کلب قائم کیے جا سکتے ہیں۔ طلبہ کو اچھی کتابوں کے انتخاب اور ان سے بھرپور استفادے کی تربیت دی جانی چاہیے۔ والدین اپنے گھروں میں مطالعے کا ماحول پیدا کریں اور بچوں کو تحفے میں کتابیں دینے کی روایت کو فروغ دیں۔ اساتذہ بھی اپنے عملی نمونے سے طلبہ میں کتابوں سے محبت پیدا کر سکتے ہیں۔ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ عوامی کتب خانوں کو فعال بنایا جائے، دیہی اور پسماندہ علاقوں تک کتابوں کی رسائی آسان کی جائے اور کم قیمت پر معیاری کتابوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ جب مطالعے کے مواقع عام ہوں گے تو علم و شعور کی روشنی بھی زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے گی۔
کتاب دوستی سے قومی ترقی تک:
کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار صرف اس کے وسائل اور جدید ٹیکنالوجی پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے افراد کی علمی قابلیت، فکری پختگی اور اخلاقی شعور بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ جو قومیں کتاب سے رشتہ مضبوط رکھتی ہیں، وہ تحقیق، تخلیق، سائنسی ترقی اور تہذیبی ارتقا کے میدانوں میں آگے بڑھنے کے بہتر امکانات رکھتی ہیں۔مطالعے کا فروغ نوجوان نسل کو سطحی معلومات کے بجائے گہری سمجھ بوجھ عطا کرتا ہے۔ یہ انہیں افواہوں، تعصب اور غیر منطقی خیالات سے بچنے اور حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس لیے کتاب خوانی کا فروغ دراصل ایک باخبر، ذمہ دار اور ترقی پسند معاشرے کی تعمیر میں سرمایہ کاری ہے۔یومِ ترغیبِ مطالعہ کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہم کتابوں کی اہمیت کو محض الفاظ میں بیان کرنے کے بجائے اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ روزانہ چند صفحات پڑھنے سے آغاز کیا جا سکتا ہے۔ اپنی دلچسپی کے مطابق کتابوں کا انتخاب، پڑھی ہوئی کتابوں پر غور و فکر اور حاصل شدہ علم کو دوسروں تک پہنچانا مطالعے کی عادت کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔آئیے! اس موقع پر عہد کریں کہ ہم خود بھی مطالعے کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں گے اور اپنے بچوں، طلبہ اور معاشرے کے دیگر افراد میں بھی کتاب دوستی کا شوق پیدا کریں گے۔ یاد رکھیے، کتابوں سے محبت دراصل علم سے محبت، اور علم سے محبت ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ جس معاشرے میں کتابیں پڑھی جاتی ہیں، وہاں سوچ کے نئے دریچے کھلتے ہیں، شعور پروان چڑھتا ہے اور ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ یہی یومِ ترغیبِ مطالعہ کا پیغام اور ایک روشن، باشعور معاشرے کی تعمیر کا راستہ ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے