कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مجلس اتحاد المسلمین کی امیدواریاں، ووٹوں کی تقسیم اور مہاراشٹر کی سیکولر سیاست کو درپیش چیلنجز!

مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کے نام پر مذہبی پولرائزیشن کا سوال؛ کیا کثیرالجہتی انتخابی مقابلوں میں ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی کو بالواسطہ فائدہ پہنچتا ہے؟ تعلیم، روزگار اور ترقی کے وعدوں کا حساب کون دے گا؟

تحریر: مقصود پٹیل لوہگاؤںکر
ساکن: لیبر کالونی، ناندیڑ
موبائل: 9422797473

مہاراشٹر کے سیاسی منظرنامے پر گزشتہ چند برسوں سے ایک اہم سوال مسلسل موضوعِ بحث ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہوئے مختلف انتخابی حلقوں میں اپنے امیدوار میدان میں اتارتی ہے۔ لیکن جن حلقوں میں کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، شیوسینا (ادھو ٹھاکرے) اور دیگر سیکولر جماعتیں انتخابی مقابلے میں موجود ہوتی ہیں، وہاں مجلس کی امیدواریاں حزبِ اختلاف کے ووٹوں کی تقسیم کا سبب بنتی ہیں یا نہیں؟ اور کیا اس تقسیم سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بالواسطہ سیاسی فائدہ پہنچتا ہے؟ یہ سوال سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔
مجلس کے قائدین مسلمانوں کی آزاد سیاسی قیادت اور نمائندگی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ روایتی سیاسی جماعتوں نے برسوں تک مسلمانوں کے ووٹ حاصل کیے، مگر ان کی تعلیمی، معاشی اور سماجی ترقی کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ دوسری جانب ناقدین کا الزام ہے کہ مذہبی شناخت پر مبنی انتخابی سیاست بعض حلقوں میں ووٹوں کی تقسیم اور مذہبی پولرائزیشن کو تقویت دے سکتی ہے، جس کا فائدہ بی جے پی جیسی حریف جماعتوں کو پہنچنے کا امکان رہتا ہے۔
2024ء کے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں ناندیڑ جنوبی حلقے کا نتیجہ اس بحث کے حوالے سے قابلِ توجہ ہے۔ یہاں شیوسینا شندے گروپ کے آنند تڈکے کو 60,445 ووٹ ملے، جبکہ کانگریس کے موہن راؤ ہمبرڈے نے 58,313 ووٹ حاصل کیے۔ کامیابی کا فرق صرف 2,132 ووٹوں کا تھا۔ اسی حلقے میں ونچت بہوجن آگھاڑی کے فاروق احمد کو 33,841 اور مجلس کے سید معین کو 15,396 ووٹ ملے۔ یہ اعداد و شمار سوال اٹھاتے ہیں کہ اتنے کم فرق سے ہونے والی کامیابی میں متعدد امیدواروں کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کا کیا کردار رہا؟ تاہم یہ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ ان امیدواروں کی عدم موجودگی میں تمام ووٹ کانگریس کو منتقل ہو جاتے۔
اسی طرح چھترپتی سمبھاجی نگر مشرقی حلقے میں بی جے پی کے اتل ساوے کو 93,274 ووٹ ملے، جبکہ مجلس کے امتیاز جلیل نے 91,113 ووٹ حاصل کیے۔ کامیابی کا فرق صرف 2,161 ووٹوں کا تھا۔ یہاں کانگریس کے امیدوار کو 12,568 ووٹ ملے۔ اس حلقے میں مجلس خود بی جے پی کی سب سے بڑی حریف تھی، اس لیے ہر جگہ مجلس کو محض ووٹ تقسیم کرنے والی جماعت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ البتہ یہ نتائج کثیرالجہتی مقابلوں میں ووٹوں کی تقسیم کے اثرات کا جائزہ لینے کی ضرورت ضرور ظاہر کرتے ہیں۔
مجلس اتحاد المسلمین پر یہ سیاسی الزام اکثر عائد کیا جاتا ہے کہ اس کی انتخابی موجودگی بعض حلقوں میں بی جے پی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ تاہم اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے صرف ووٹوں کی تعداد کافی نہیں، بلکہ رائے دہندگان کی متبادل ترجیحات اور مقامی سیاسی حالات کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ اسی طرح مجلس اور بی جے پی کے درمیان کسی خفیہ سیاسی مفاہمت کا دعویٰ ٹھوس شواہد کے بغیر حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ ہر سیاسی جماعت کو آزادانہ انتخابات لڑنے کا آئینی و جمہوری حق حاصل ہے، لیکن اپنی سیاسی حکمتِ عملی اور اس کے نتائج پر عوامی سوالات کا جواب دینا بھی ضروری ہے۔
2024ء کے اسمبلی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین کو مہاراشٹر میں صرف ایک نشست حاصل ہوئی، جبکہ 2026ء کے بلدیاتی انتخابات میں چھترپتی سمبھاجی نگر، مالیگاؤں، ناندیڑ، امراوتی اور دیگر شہروں میں پارٹی نے نمایاں انتخابی موجودگی درج کرائی۔ تاہم محض نشستوں کی تعداد کو عوامی ترقی کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ منتخب نمائندوں نے کتنے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے، کتنا سرکاری فنڈ استعمال کیا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے؟ اس کا شفاف حساب سامنے آنا چاہیے۔
مسلمانوں کی حقیقی سیاسی نمائندگی کا تعلق صرف انتخابی کامیابی یا جذباتی تقاریر سے نہیں، بلکہ تعلیم، روزگار، معاشی استحکام اور سماجی ترقی سے بھی ہے۔ مہاراشٹر کے اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی دستیابی، غیر تدریسی ملازمین کے مسائل، تعلیمی سہولتوں کی بہتری، نوجوانوں کی بے روزگاری، اعلیٰ تعلیم اور فنی تربیت جیسے مسائل مسلسل توجہ کے مستحق ہیں۔ مجلس سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو بتانا چاہیے کہ ان بنیادی مسائل کے حل کے لیے انہوں نے کیا عملی اقدامات کیے۔
سیاسی جلسوں کی بھیڑ، جذباتی نعروں اور سوشل میڈیا کی مقبولیت سے عوامی ترقی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں، روزگار، پانی، صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں میں کتنی بہتری آئی۔ اسی طرح مجلس پر ووٹوں کی تقسیم کا الزام عائد کرنے والی سیکولر جماعتوں کو بھی اپنا محاسبہ کرنا ہوگا کہ انہوں نے مسلمانوں کے اعتماد کے بدلے تعلیم، معاشی ترقی اور سماجی انصاف کے لیے کیا خدمات انجام دیں۔
یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ مسلمان کسی ایک سیاسی جماعت کا مستقل ووٹ بینک نہیں ہیں۔ ہر شہری کو اپنی سیاسی ترجیحات کے مطابق امیدوار منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس لیے مذہبی پولرائزیشن، ووٹوں کی تقسیم اور انتخابی حکمتِ عملی پر بحث کرتے ہوئے عوام کے آزادانہ سیاسی فیصلوں کا احترام ضروری ہے۔
مہاراشٹر کی تمام سیاسی جماعتوں کے سامنے بنیادی سوال یکساں ہیں۔ مسلمانوں کی تعلیم کے لیے کتنا فنڈ منظور ہوا؟ نوجوانوں کے لیے کتنے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے؟ اقلیتی آبادی والے علاقوں میں کتنے ترقیاتی کام مکمل ہوئے؟ منتخب نمائندوں نے قانون ساز ایوانوں میں عوامی مسائل کس مؤثر انداز میں اٹھائے؟ اور انتخابی منشور کے کتنے وعدے پورے کیے گئے؟
ان سوالات کے جواب سیاسی نعروں کے بجائے سرکاری ریکارڈ، بجٹ اور عملی کارکردگی کی بنیاد پر دیے جانے چاہییں۔
مجلس اتحاد المسلمین کی انتخابی حکمتِ عملی، ووٹوں کی تقسیم اور مذہبی پولرائزیشن پر اٹھنے والے سوالات کا غیر جانب دارانہ جائزہ ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ خود کو سیکولر کہنے والی جماعتوں کی کارکردگی کا احتساب بھی اتنا ہی اہم ہے۔
جمہوریت میں اصل اہمیت کسی جماعت کی کامیابی یا شکست کی نہیں، بلکہ اس بات کی ہے کہ عوام کو تعلیم، روزگار، ترقی، سماجی تحفظ اور آئینی مساوات کے حوالے سے کتنا انصاف ملا۔ سیاسی جماعتوں کی اصل پہچان ان کی تقاریر نہیں، بلکہ عوام کی زندگیوں میں آنے والی حقیقی تبدیلی ہونی چاہیے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے