कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اپنے پیچھے کانٹے نہیں، پھول چھوڑو!

Leave Flowers Behind, Not Thorns!

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

زندگی محض دنوں، مہینوں اور برسوں کے گزرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ہمارے اعمال، رویّوں، تعلقات اور فیصلوں سے تشکیل پانے والا ایک مسلسل سفر ہے۔ اس سفر میں ہم نہ جانے کتنے لوگوں سے ملتے ہیں، کتنے دلوں سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے اور کتنے رشتے وجود میں آتے اور وقت کی گرد میں گم ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایک حقیقت ہمیشہ باقی رہتی ہے کہ انسان جہاں سے گزرتا ہے، وہاں اپنے کردار کا کوئی نہ کوئی نشان ضرور چھوڑ جاتا ہے۔ یہ نشان کسی کے لبوں پر مسکراہٹ بھی بن سکتا ہے اور کسی کے دل میں ایک دیرپا زخم بھی۔ اسی حقیقت کو ایک مختصر مگر بامعنی نصیحت میں یوں سمویا گیا ہے: اپنے پیچھے کانٹے مت چھوڑو، کیا معلوم کل تمہیں اسی راستے سے دوبارہ گزرنا پڑ جائے! یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ زندگی کے تجربات، انسانی نفسیات اور اخلاقی بصیرت کا نچوڑ ہے۔ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، حالات بدلتے رہتے ہیں اور جو شخص آج دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے، ممکن ہے کل خود کسی کی مدد کا محتاج ہو جائے۔
انسانی زندگی میں کبھی ہم کسی کا سہارا بنتے ہیں اور کبھی خود سہارے کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ کبھی ہمارا ایک نرم جملہ کسی شکستہ دل کو امید دے دیتا ہے اور کبھی ہماری زبان سے نکلا ہوا تلخ لفظ کسی کے دل میں ایسا زخم چھوڑ جاتا ہے جو برسوں بعد بھی تازہ رہتا ہے۔ اسی طرح، کسی کی مجبوری کا مذاق اڑانا، کسی کی بے بسی سے فائدہ اٹھانا یا کسی کے اعتماد کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا محض بد اخلاقی نہیں، بلکہ انسانی وقار سے بے اعتنائی بھی ہے۔ انسان کی اصل عظمت اس کی دولت، طاقت، شہرت یا منصب میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ اپنے اختیار کو دوسروں کے لیے کس قدر مفید بناتا ہے۔ طاقت کا حسن کمزور کو تحفظ دینے میں، علم کی معنویت دوسروں کی رہنمائی میں اور کردار کی بلندی بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود معاف کرنے اور کسی کو رسوا کرنے کا موقع ملنے کے باوجود اس کی عزت محفوظ رکھنے میں ہے۔
رسول اللہﷺ کی تعلیمات بھی اسی اخلاقی شعور کی آبیاری کرتی ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: "يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا۔ آسانی پیدا کرو، دشواری پیدا نہ کرو؛ خوش خبری دو، نفرت نہ دلاؤ” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔ یہ نبوی ہدایت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہماری گفتگو، ہمارے معاملات اور ہمارے فیصلے دوسروں کے لیے آسانی کا ذریعہ بننے چاہییں، نہ کہ مشکلات میں اضافے کا سبب۔ ہر شخص اپنی زندگی میں کسی نہ کسی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ کوئی مالی پریشانی میں مبتلا ہے، کوئی گھریلو مسائل سے نبرد آزما ہے اور کوئی بظاہر مسکراتے ہوئے بھی اندرونی دکھوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ ایسے میں ہماری ذمّہ داری دوسروں کے زخم گننا نہیں، بلکہ جہاں ممکن ہو، ان کے دکھ میں کمی لانا ہے۔
یاد رکھیے، کانٹے صرف زمین پر نہیں بکھیرے جاتے؛ بعض کانٹے زبان سے نکلتے ہیں، بعض رویّوں میں چھپے ہوتے ہیں اور بعض ناانصاف فیصلوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ ایک بے جا الزام کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے، ایک طنز کسی کی خود اعتمادی کو مجروح کر سکتا ہے اور ایک وعدہ خلافی برسوں کے اعتماد کو ختم کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس، ایک مخلصانہ معذرت، بروقت تعاون اور نرم لہجہ بکھرتے ہوئے تعلقات کو سنبھال سکتا ہے۔ اسی لیے بولنے سے پہلے سوچنا، فیصلہ کرنے سے پہلے حالات کو سمجھنا اور کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے اس کے حالات پر غور کرنا ضروری ہے۔ ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، ہر مسکراہٹ خوشی کی علامت نہیں ہوتی اور ہر شخص کی ظاہری کیفیت اس کی پوری کہانی بیان نہیں کرتی۔ جس شخص کو ہم مغرور سمجھ رہے ہوتے ہیں، ممکن ہے وہ کسی گہرے دکھ سے گزر رہا ہو؛ جسے ہم ناکام قرار دیتے ہیں، ممکن ہے وہ زندگی کی کسی ایسی آزمائش میں مبتلا ہو جس کا ہمیں علم ہی نہ ہو۔
البتہ، دوسروں کے لیے کانٹے نہ چھوڑنے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان ظلم برداشت کرتا رہے یا اپنے حقوق سے دست بردار ہو جائے۔ حسنِ اخلاق اور بے بسی میں فرق ہے۔ جہاں ناانصافی ہو، وہاں اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا ضروری ہے؛ جہاں کسی کا رویّہ مسلسل اذیت کا باعث ہو، وہاں مناسب حدود قائم کرنا بھی دانش مندی ہے۔ اصل کمال یہ ہے کہ انسان اپنے حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے خود ناانصافی کا مرتکب نہ ہو، ظلم کے خلاف کھڑا ہو مگر خود ظالم نہ بنے، اور اختلاف کے باوجود تہذیب و احترام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ زندگی کے بدلتے حالات ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ کسی کی موجودہ حیثیت کو اس کی مستقل حقیقت نہ سمجھا جائے۔ آج جو شخص اختیار رکھتا ہے، کل اسے دوسروں کے تعاون کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ تاہم، دوسروں سے اچھا سلوک محض اس امید پر نہیں کرنا چاہیے کہ کل ہمیں ان سے کوئی فائدہ حاصل ہوگا۔ حقیقی نیکی وہ ہے جو مفاد کے حساب سے نہیں، انسانی شرافت اور اخلاقی ذمّہ داری کے احساس سے کی جائے۔ اچھا کردار کسی سودے کا نام نہیں، بلکہ انسان کے باطن کی خوب صورتی ہے۔
یہ اصول ہماری اجتماعی زندگی کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ والدین بچوں کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں، اساتذہ طلبہ کی کمزوریوں کو تضحیک کے بجائے اصلاح کا ذریعہ بنائیں، کاروباری افراد دیانت کو ترجیح دیں اور صاحبانِ اختیار اپنی قوت کو خدمت کا وسیلہ سمجھیں تو معاشرے میں اعتماد، انصاف اور خیر خواہی کی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔ معاشرے کی اصلاح محض بڑے نعروں سے نہیں ہوتی، بلکہ روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے اعمال سے ہوتی ہے: کسی ضرورت مند کی خاموشی سے مدد کرنا، کسی کی بات توجہ سے سننا، کسی کا حق ادا کرنا اور اختلاف کے باوجود انصاف کرنا۔ اور اگر کبھی ہماری کسی بات یا عمل سے کسی کو تکلیف پہنچ جائے تو اپنی غلطی تسلیم کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ معذرت کرنا کمزوری نہیں، اخلاقی بلوغت کی علامت ہے۔ جہاں کسی کا حق دبایا ہو، اسے واپس کیا جائے؛ جہاں کسی کی عزت مجروح کی ہو، وہاں ممکن حد تک اس کی تلافی کی جائے۔ بعض کانٹے محض افسوس کرنے سے نہیں نکلتے، انہیں نکالنے کے لیے عملی کوشش بھی ضروری ہوتی ہے۔
ہم اکثر دوسروں کی کوتاہیوں اور معاشرے کی خرابیوں کا شکوہ کرتے ہیں، لیکن حقیقی اصلاح کا آغاز اپنی ذات کے محاسبے سے ہوتا ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے: کیا ہماری موجودگی دوسروں کے لیے سکون کا باعث ہے یا اضطراب کا؟ کیا ہمارے الفاظ دلوں کو جوڑتے ہیں یا توڑتے ہیں؟ کیا ہم کمزوروں کے ساتھ وہی احترام روا رکھتے ہیں جس کی توقع اپنے لیے کرتے ہیں؟ اور کیا ہمارے گزرنے سے دوسروں کے راستے آسان ہوتے ہیں؟ آخرکار، دولت، عہدے اور شہرت وقت کے ساتھ ماند پڑ سکتے ہیں، لیکن اچھے کردار کی یاد دلوں میں دیر تک زندہ رہتی ہے۔ لوگ شاید یہ بھول جائیں کہ ہمارے پاس کتنی دولت تھی یا ہم کس منصب پر فائز تھے، لیکن انہیں یہ یاد رہ سکتا ہے کہ ضرورت کے وقت ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا، ان کی غیر موجودگی میں ان کی عزت کا خیال رکھا یا نہیں، اور ان کی مجبوری کے لمحے میں انہیں سہارا دیا یا رسوا کیا۔
لہٰذا، جہاں سے گزریں، وہاں اپنے پیچھے نفرت نہیں، محبت؛ تلخی نہیں، خوش اخلاقی؛ مایوسی نہیں، امید؛ اور زخم نہیں، ایسی یادیں چھوڑیں جو انسانیت پر اعتماد کو زندہ رکھیں۔ زندگی کی کامیابی صرف اس میں نہیں کہ ہم نے کتنے راستے طے کیے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ ہمارے گزرنے سے کتنے راستے آسان ہوئے اور کتنے لوگوں کو اپنی منزل تک پہنچنے میں مدد ملی۔ اپنے پیچھے کانٹے مت چھوڑو، کیا معلوم کل تمہیں اسی راستے سے دوبارہ گزرنا پڑ جائے! اور اگر دوبارہ گزرنا نہ بھی پڑے، تب بھی کانٹے چھوڑنے کی ضرورت نہیں؛ کیونکہ اچھا انسان وہ نہیں جو صرف اپنے لیے راستے ہموار کرے، بلکہ وہ ہے جس کے گزرنے سے دوسروں کے راستے بھی آسان ہو جائیں۔
🗓 (09.10.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے