कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جے این یو میں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا شاندار آغاز

پروفیسر محمد حسن کی علمی شخصیت اردو ادب کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے: پروفیسر انور پاشا
محمد حسن کی تصنیفات ادبی شعور کی بیداری کا مؤثر ذریعہ: پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

نئی دہلی:31؍اگست(پریس ریلیز) ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی کی جانب سے پیر کے روز کمیٹی روم، ایس ایل (۱) میں ’’ہندوستانی زبانوں کا مرکز اور پروفیسر محمد حسن‘‘ کے عنوان سے پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا شاندار آغاز کیا گیا۔اس موقع پر ہندوستانی زبانوں کا مرکز کے سابق چیئرپرسن اور پروفیسر محمد حسن کے شاگرد پروفیسر انور پاشا نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔ انہوں نے اپنے استاد پروفیسر محمد حسن کے ساتھ اپنے گہرے علمی و قلبی مراسم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محمد حسن صرف ایک عظیم استاد اور صاحبِ علم شخصیت ہی نہیں تھے بلکہ ان کی شفقت، وسعتِ نظر اور فکری رہنمائی نے ان کے شاگردوں کی علمی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ انہوں نے پروفیسر محمد حسن سے وابستہ اپنی یادوں اور علمی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ استاد سے ان کا تعلق محض درس و تدریس تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں فکری رہنمائی، علمی رفاقت اور گہری انسانی وابستگی کے عناصر بھی شامل تھے۔پروفیسر انور پاشا نے کہا کہ پروفیسر محمد حسن ایک عالمی شخصیت کے مالک تھے اور بیسویں صدی کی تنقیدی دنیا میں ان کا نام نہایت اہم اور نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔محمد حسن، گوپی چند نارنگ اور شمس الرحمٰن فاروقی بیسویں صدی کے اہم ناقدین میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے اردو تنقید کو نئے فکری، نظری اور جمالیاتی مباحث سے روشناس کرایا۔انہوں نے کہا کہ پروفیسر محمد حسن کی تحریریں ذہن کے دریچوں کو کھولنے اور قاری کو نئے زاویۂ نظر سے سوچنے پر آمادہ کرنے کی قوت رکھتی ہیں۔ وہ نابغۂ روزگار استاد، بلند پایہ ناقد، ڈراما نگار، سوانح نگار اور صحافی تھے۔ ان کی شخصیت میں تدریس، تحقیق، تنقید اور تخلیق کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پروفیسر محمد حسن کی علمی و ادبی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع تھا۔ انہوں نے اردو ادب کی مختلف اصناف اور تنقیدی مباحث کو نئے فکری تناظر سے مالا مال کیا اور اپنی تحریروں اور تدریسی خدمات کے ذریعے کئی نسلوں کے طلبہ، محققین اور اہلِ ادب کی فکری رہنمائی کی۔پروفیسر محمد حسن کی علمی شخصیت ہندوستانی زبانوں کے مرکز اور اردو ادب کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جس کا مطالعہ نئی نسل کے لیے نہایت مفید اور بامعنی ہے۔ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے موجودہ چیئرپرسن پروفیسر سدھیر پرتاپ سنگھ نے اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر محمد حسن کی تدریسی و تصنیفی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کتاب ’’ڈراما ضحاک‘‘ ان کی غیر معمولی تخلیقی صلاحیت کی بین دلیل ہے۔انہوں نے کہا کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی محض تدریس کا مرکز نہیں بلکہ تربیت سازی اور شخصیت سازی کا بھی ایک اہم ادارہ ہے، اور اس سمت میں پروفیسر محمد حسن کی خدمات نہایت قابلِ قدر اور لائقِ تحسین ہیں۔ ان کی علمی و تدریسی روایت نے طلبہ کی فکری تربیت اور ادبی شعور کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے پروفیسر محمد حسن کی تصنیفات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادبی فہم اور شعور کو بیدار کرنے کے لیے براہِ راست کتابوں کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے محمد حسن کی دور اندیش علمی بصیرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ماس میڈیا شعبے کے قیام میں ان کی فکر اور وژن کا اہم کردار رہا۔
پروفیسر اکرام الدین نے کہا کہ امیر خسرو سے لے کر محمد حسن تک کی تصنیفات کا جے این یو کے شعبۂ اردو کے مطالعاتی و تدریسی دائرے میں شامل ہونا محمد حسن کی وسیع تر فکری جہت کا ثمر ہے۔ انہوں نے اسے جے این یو کی علمی روایت اور امتیازی خصوصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں اردو ادب کے کلاسیکی ورثے سے جدید ادبی فکر تک ایک مربوط سلسلہ نظر آتا ہے۔ہندوستانی زبانوں کا مرکز جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نصیب علی چودھری نے کہا کہ پروفیسر محمد حسن ایک ہمہ جہت علمی و ادبی شخصیت کے مالک تھے۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ان کی آمد اردو ادب کے لیے نیک فال ثابت ہوئی۔ ان کی پیدائش کے سو سال مکمل ہونے کے موقع پر صدسالہ تقریبات کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت آئندہ بھی ان کی علمی و ادبی خدمات کے مختلف پہلوؤں پر متعدد سیمینار اور علمی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ اس صدسالہ تقریبات کی صدارت ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے چیئرپرسن پروفیسر سدھیر پرتاپ سنگھ نے کی، جبکہ نظامت مرکز کے طالب علم اسلم رحمانی نے انجام دی۔ پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر نصیب علی چودھری اور ڈاکٹر شیو پرکاش تھے۔تقریب میں ڈاکٹر رشی کمار شرما، ڈاکٹر ملکھان سنگھ، ڈاکٹر گنگا سہائے مینا سمیت مرکز کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ اسلم رحمانی کے اظہار تشکر پر تقریب کا اختتام ہوا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے