कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جڑیں زمین میں، نگاہ آسمان پر

تحریر:مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

صنوبر کا درخت اپنی بلند قامتی، شادابی اور وقار کے باعث فطرت کے حسین مظاہر میں شمار ہوتا ہے۔ وہ بسا اوقات سو فٹ سے بھی زیادہ بلندی تک جا پہنچتا ہے۔ اس کی نگاہ آسمان کی وسعتوں کو چھوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، مگر اس بلند قامت درخت کا راز اس کی شاخوں، پتوں یا ظاہری بلندی میں نہیں، بلکہ ان جڑوں میں پوشیدہ ہوتا ہے جو خاموشی کے ساتھ زمین کی گہرائیوں میں پیوست رہتی ہیں۔ درخت جتنا اوپر اٹھتا ہے، اتنا ہی اسے نیچے سے مضبوط سہارا درکار ہوتا ہے۔ اگر جڑیں کمزور ہوں تو بلندی کا یہ سفر زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔
یہی قانونِ فطرت انسانی فکر، تہذیب اور اجتماعی زندگی پر بھی صادق آتا ہے۔ بلندی ہمیشہ مضبوط بنیاد کی محتاج ہوتی ہے، اور وسعت ہمیشہ گہرائی سے جنم لیتی ہے۔ جس فکر کی جڑیں اپنی بنیادی اقدار اور اصولوں میں مضبوط نہ ہوں، اس کی ظاہری ترقی اگرچہ کچھ عرصے کے لیے متاثر کن دکھائی دے سکتی ہے، لیکن وہ پائیدار نہیں ہوتی۔
مسلمان کے لیے قرآن و سنّت وہی بنیادی سر زمین ہیں جہاں اس کی فکر، کردار اور اجتماعی شعور کی جڑیں پیوست ہونی چاہییں۔ قرآن محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ فکر و نظر کی تشکیل کرنے والی کتاب ہے؛ اور سنّت محض تاریخی روایات کا مجموعہ نہیں بلکہ قرآن کی عملی تعبیر اور زندگی گزارنے کا نبوی اسوہ ہے۔ چنانچہ مسلمان جب علم، تحقیق، تہذیب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس اور جدید دنیا کے مسائل پر غور کرے تو اس کی فکری بنیاد وحی سے مربوط ہونی چاہیے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان ماضی کی حدود میں مقید ہو جائے یا جدید دنیا کے علمی و فکری تجربات سے خود کو الگ کر لے۔ جڑوں کا مضبوط ہونا شاخوں کے پھیلاؤ کی نفی نہیں کرتا، بلکہ اسے ممکن بناتا ہے۔ صنوبر کی جڑیں اسے زمین میں قید نہیں کرتیں؛ وہی جڑیں اسے آسمان کی طرف بلند ہونے کی قوت فراہم کرتی ہیں۔ اسی طرح قرآن و سنّت سے مضبوط تعلق مسلمان کی فکر کو محدود نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک مستحکم مرکز فراہم کرتا ہے جس سے وہ دنیا کے نئے سوالات کا سامنا اعتماد اور بصیرت کے ساتھ کر سکتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان اپنی فکری تعمیر میں دو انتہاؤں سے محفوظ رہے۔ ایک طرف ایسی جامد ذہنیت ہے جو ہر نئے سوال سے گھبرا جاتی ہے اور ہر عصری مسئلے کا جواب صرف ماضی کی ظاہری صورتوں میں تلاش کرتی ہے؛ دوسری طرف ایسی مرعوب ذہنیت ہے جو جدید افکار کو معیارِ حق سمجھ کر اپنی دینی بنیادوں سے بے نیاز ہونے لگتی ہے۔ درست راستہ یہ ہے کہ اصولوں میں استقامت اور فروع و وسائل میں اجتہادی وسعت پیدا کی جائے۔
قرآن و سنّت سے وابستگی کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ مسلمان اپنی فکر کو وحی کی روشنی میں منظم کرے، پھر عقل، تجربے، مشاہدے، تحقیق اور زمانے کے بدلتے ہوئے حالات سے استفادہ کرے۔ وہ جدید علوم سے فائدہ اٹھائے، مگر اپنی فکری سمت دوسروں سے مستعار نہ لے؛ وہ دنیا کے علمی مکالمے میں شریک ہو، مگر اپنی شناخت سے دست بردار نہ ہو؛ وہ مستقبل کی طرف دیکھے، مگر اپنی بنیادوں کو فراموش نہ کرے۔
درخت کی جڑیں دکھائی نہیں دیتیں، مگر درخت کی پوری زندگی انہی کے سہارے قائم رہتی ہے۔ اسی طرح کسی فرد یا قوم کی اصل فکری طاقت ہمیشہ ان بنیادوں میں پوشیدہ ہوتی ہے جو بظاہر نظر نہیں آتیں۔ علم کی وسعت، زبان کی فصاحت، جدید ٹیکنالوجی پر دسترس، معاشی ترقی اور سیاسی قوت اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اگر ان سب کے پیچھے ایک مضبوط اخلاقی و فکری بنیاد موجود نہ ہو تو یہ ترقی انسان کو بلندی دینے کے بجائے انتشار کا شکار بھی کر سکتی ہے۔
اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی فکر کا پودا قرآن و سنّت کی زمین میں گہری جڑوں کے ساتھ پیوست کرے۔ پھر وہ تحقیق کے میدان میں آگے بڑھے، علم کے نئے افق دریافت کرے، عصری مسائل پر اجتہاد کرے، تہذیب و تمدّن کی تعمیر میں کردار ادا کرے اور انسانی علم کے وسیع سمندر میں اپنا حصّہ شامل کرے۔ اسے بلندی سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں؛ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ بلندی کے ساتھ بنیاد بھی مضبوط ہو۔
صنوبر ہمیں خاموشی سے ایک عظیم سبق دیتا ہے، آسمان کی طرف اٹھنے کے لیے زمین میں اترنا پڑتا ہے۔ اور مسلمانوں کے لیے اس سبق کا مفہوم یہ ہے کہ فکر جتنی بلند ہو، اس کی جڑیں اتنی ہی گہری ہونی چاہییں؛ سوال جتنے جدید ہوں، ان کے جواب کی فکری بنیاد اتنی ہی مضبوط ہونی چاہیے؛ اور مستقبل کی تعمیر جتنی وسیع ہو، اس کا رشتہ قرآن و سنّت سے اتنا ہی زندہ اور بامعنی ہونا چاہیے۔ کیونکہ جو قوم اپنی جڑوں سے جڑی رہتی ہے، وہ زمانے کی ہواؤں کا مقابلہ کرتے ہوئے بلندیوں کی طرف بڑھ سکتی ہے؛ اور جو اپنی جڑیں کاٹ دیتی ہے، اس کی بلند ترین شاخیں بھی پہلی تیز آندھی کے سامنے بے سہارا ہو جاتی ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ ہم کتنی بلندی حاصل کرنا چاہتے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہماری جڑیں کتنی گہری ہیں۔ ہم دنیا کے علمی افق پر کتنا دور تک دیکھنا چاہتے ہیں، یہ اپنی جگہ اہم ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ اہم یہ ہے کہ ہماری نگاہ کا مرکز کیا ہے، ہماری فکر کا منبع کیا ہے اور ہماری زندگی کی بنیاد کن اصولوں پر قائم ہے۔ صنوبر کی بلند قامت شاخیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ بلندی کا سفر زمین سے کٹ کر نہیں، بلکہ زمین میں مضبوطی سے پیوست ہو کر طے ہوتا ہے۔ اسی طرح مسلمان بھی اگر علم کی بلندیوں، فکر کی وسعتوں، تہذیب کی تعمیر اور انسانی خدمت کے میدانوں میں آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اسے اپنے قلب و فکر کی جڑیں قرآن و سنّت کی زمین میں زیادہ گہری اتارنی ہوں گی۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جڑیں صرف درخت کو سہارا نہیں دیتیں، اسے غذا بھی فراہم کرتی ہیں۔ اسی طرح قرآن و سنّت سے تعلق محض ایک شناخت نہیں، بلکہ روحِ زندگی کا سر چشمہ ہے۔ یہی تعلق فکر کو سمت، علم کو مقصد، قوت کو اخلاق، آزادی کو ذمّہ داری اور ترقی کو انسانیت کی خدمت سے جوڑتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے: ہماری فکری جڑیں کہاں پیوست ہیں؟ کیا ہمارے فیصلے خواہشات کے تابع ہیں یا اصولوں کے؟ کیا ہمارا علم ہمیں اللّٰہ کے قریب کر رہا ہے یا صرف غرورِ علم میں مبتلا کر رہا ہے؟ کیا ہماری ترقی ہمارے کردار کو بھی بلند کر رہی ہے یا صرف ہماری ظاہری زندگی کو؟ کیا ہم زمانے کے بدلتے ہوئے سوالات کا جواب اپنی دینی بصیرت کے ساتھ دے رہے ہیں، یا ہر نئے فکری رجحان کے سامنے اپنی بنیادیں متزلزل کر رہے ہیں؟
یہ سوالات محض اجتماعی سطح پر نہیں، ہر فرد کے لیے ہیں۔ قوموں کی تعمیر افراد کے اندر سے شروع ہوتی ہے، اور فکری انقلاب کتابوں سے پہلے دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔ اگر دل میں قرآن کی روشنی، فکر میں سنّت کی رہنمائی، کردار میں تقویٰ اور عمل میں اخلاص نہ ہو تو محض الفاظ کی کثرت، معلومات کی فراوانی اور علمی اصطلاحات کی چمک انسان کو حقیقی بلندی نہیں دے سکتی۔ لہٰذا ہمیں اپنے فکری سفر کا آغاز اپنی بنیادوں کی طرف واپسی سے کرنا ہوگا۔ قرآن کو صرف تلاوت کی کتاب نہیں، ہدایت کی کتاب بنانا ہوگا؛ سنّت کو صرف محفوظ روایات کا ذخیرہ نہیں، زندگی کے عملی اسوہ کے طور پر سمجھنا ہوگا۔ ہمیں ماضی سے روشنی لینی ہے، مگر ماضی میں رکنا نہیں؛ حال کو سمجھنا ہے، مگر حال کا اسیر نہیں بننا؛ اور مستقبل کی تعمیر کرنی ہے، مگر اپنی بنیادوں سے بے وفائی کیے بغیر۔ یہی وہ توازن ہے جو ایک زندہ امت کی علامت ہے: جڑیں وحی میں، نگاہ مستقبل پر؛ بنیادیں مضبوط، فکر وسیع؛ اصولوں میں استقامت، حالات کے فہم میں بصیرت؛ اور علم میں وسعت، کردار میں عاجزی۔
صنوبر کی طرح ہمیں بھی آسمان کی طرف بڑھنا ہے، مگر اپنی جڑوں کو زمین کی گہرائیوں میں اور مضبوط کرنا ہے۔ ہمیں دنیا کے سامنے اپنی فکری قوت کا اظہار کرنا ہے، مگر اس قوت کا سر چشمہ اپنی ذات نہیں بلکہ اللّٰہ کی عطا کردہ ہدایت کو بنانا ہے۔ ہمیں زمانے سے آگے بڑھنے کی خواہش ضرور رکھنی ہے، مگر زمانے کے ہر رجحان کے پیچھے چلنے کی ضرورت نہیں۔ اور شاید اس پوری گفتگو کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ درخت کی اصل طاقت اس بلندی میں نہیں جو آنکھ کو دکھائی دیتی ہے، بلکہ اس جڑ میں ہے جو آنکھ سے اوجھل رہتی ہے۔ انسان کی اصل عظمت بھی اس کے ظاہری مقام، شہرت، علم یا قوت میں نہیں، بلکہ اس تعلق میں ہے جو اسے اپنے رب، اپنی ہدایت اور اپنے مقصدِ زندگی سے جوڑتا ہے۔
پس آئیے! اپنی فکر کی زمین کو دوبارہ دیکھیں، اپنی جڑوں کو پہچانیں، انہیں قرآن و سنّت کی روشنی سے سیراب کریں، علم و تحقیق کے میدانوں میں آگے بڑھیں، مگر اپنی بنیادوں کو کبھی فراموش نہ کریں۔ کیونکہ جس شجر کی جڑیں زندہ ہوں، اس کی شاخیں موسموں کے بدلنے کے باوجود نئی کونپلیں نکالتی رہتی ہیں؛ اور جس قوم کی فکری جڑیں زندہ ہوں، اس کے لیے مستقبل کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ بلندی ہمارا خواب ہو، مگر بندگی ہماری بنیاد؛ فکر ہماری وسیع ہو، مگر ہدایت ہماری رہنما؛ قدم مستقبل کی طرف ہوں، مگر دل اپنے ربّ سے وابستہ ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم صرف بلند نہیں ہوں گے، بلکہ بلندی کو مقصد، علم کو امانت، فکر کو عبادت اور زندگی کو اللّٰہ کی رضا کا وسیلہ بنا سکیں گے۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے