कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

طریقت اور اسلامی روحانیت:نفسیاتی، عمرانیاتی اور فکری جائزہ

بقلم: شیخ محمود علی لیکچرر
8055402819

اسلامی تہذیب میں روحانیت محض عبادات یا رسمی مذہبی اعمال کا نام نہیں، بلکہ انسان کے باطن، اخلاق، کردار، تعلقات اور اجتماعی زندگی کی اصلاح سے وابستہ ایک وسیع تصور ہے۔ اسی روحانی روایت میں طریقت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ لفظ طریقت عربی لفظ "طریق” سے نکلا ہے، جس کے معنی راستے کے ہیں۔ تصوف کی اصطلاح میں طریقت اس عملی روحانی راستے کو کہا جاتا ہے جس پر چل کر انسان اپنے نفس کی اصلاح، دل کی پاکیزگی، اخلاق کی درستگی اور اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
عام طور پر اسلامی تصوف میں چار اصطلاحات بیان کی جاتی ہیں: شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت۔ شریعت انسان کے ظاہری اعمال کی رہنمائی کرتی ہے، طریقت اس کے باطن اور نفس کی تربیت کرتی ہے، حقیقت روحانی حقائق کے ادراک کی طرف اشارہ کرتی ہے، جبکہ معرفت سے مراد اللہ تعالیٰ کی گہری پہچان اور شعوری تعلق ہے۔
طریقت کو صرف مذہبی نقطۂ نظر سے سمجھنا کافی نہیں۔ نفسیات اور عمرانیات کے زاویے سے اس کا مطالعہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ روحانی تربیت کس طرح انسان کے ذہن، جذبات، شخصیت، تعلقات اور سماجی اداروں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
طریقت اور انسانی نفس:
تصوف میں نفس انسان کے روحانی سفر کا بنیادی موضوع ہے۔ انسان کے اندر خواہش، غصہ، حسد، لالچ، تکبر، خود پسندی، شہرت کی طلب اور انتقام جیسے رجحانات موجود ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ رجحانات بے قابو ہو جائیں تو انسانی شخصیت اور سماجی تعلقات دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
طریقت کا مقصد ان انسانی جذبات کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں بلکہ ان کی تربیت اور اعتدال ہے۔ غصہ بذاتِ خود ہمیشہ منفی نہیں، لیکن بے قابو غصہ ظلم پیدا کر سکتا ہے۔ خواہش بھی انسانی فطرت کا حصہ ہے، لیکن بے لگام خواہش استحصال کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی طرح خود اعتمادی مثبت ہے لیکن تکبر انسان کو دوسروں سے دور کر دیتا ہے۔
یہیں طریقت اور جدید نفسیات کے بعض تصورات کے درمیان ایک دلچسپ مماثلت نظر آتی ہے۔
محاسبۂ نفس اور Self-Awareness:
تصوف میں محاسبۂ نفس کا مفہوم بہت اہم ہے۔ انسان دن کے اختتام پر اپنے اعمال اور نیتوں کا جائزہ لیتا ہے:
میں نے آج کس کے ساتھ ناانصافی کی؟
میرے اندر حسد کیوں پیدا ہوا؟
میں نے کسی کی تحقیر کیوں کی؟
میری گفتگو میں تکبر کیوں آیا؟
میں نے کوئی اچھا کام اللہ کی رضا کے لیے کیا یا لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کے لیے؟
جدید نفسیات میں اس طرح کی صلاحیت کو Self-Awareness یعنی خود آگہی کے قریب سمجھا جا سکتا ہے۔
جو شخص اپنے جذبات، کمزوریوں اور ردِعمل کو پہچانتا ہے وہ اپنی شخصیت میں تبدیلی لانے کی بہتر پوزیشن میں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو فرد ہمیشہ اپنی غلطیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتا ہے، اس کے لیے اپنی شخصیت میں اصلاح مشکل ہو جاتی ہے۔
امام غزالی ؒاور انسانی باطن:
اسلامی فکر میں امام ابو حامد الغزالی نے انسانی باطن، نفس اور اخلاق کی اصلاح پر غیر معمولی توجہ دی۔ ان کی مشہور تصنیف احیاء علوم الدین میں عبادات کے ساتھ ساتھ نیت، حسد، تکبر، ریا، حرص، غصہ، صبر، شکر، محبت اور توکل جیسے باطنی موضوعات پر تفصیلی بحث ملتی ہے۔
غزالی ؒکے نزدیک اخلاقی خرابی کا اصل مرکز صرف ظاہری عمل نہیں بلکہ بعض اوقات دل کے اندر موجود کیفیت ہوتی ہے۔ مثلاً انسان بظاہر اچھا کام کر رہا ہو لیکن اس کا مقصد صرف شہرت ہو تو روحانی اعتبار سے اس عمل کی قدر متاثر ہوتی ہے۔
یہ نقطۂ نظر نفسیاتی لحاظ سے بھی اہم ہے، کیونکہ جدید نفسیات صرف انسانی عمل ہی نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود motivation یعنی محرکات کا بھی مطالعہ کرتی ہے۔
غزالی ؒکا محاسبۂ نفس ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ انسان کو صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ "میں نے کیا کیا؟” بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ "میں نے یہ کیوں کیا؟”
مولانا روم ؒاور اندرونی تبدیلی:
مولانا جلال الدین رومی کی شاعری میں انسانی روح، محبت، انا اور تبدیلی کے موضوعات بار بار سامنے آتے ہیں۔ رومی کے نزدیک انسان کا سب سے بڑا سفر خارجی دنیا کی فتح نہیں بلکہ اپنے اندر موجود انا، خوف اور خواہشات کو سمجھنے کا سفر ہے۔
رومی کی روحانیت میں محبت محض جذباتی کیفیت نہیں بلکہ شخصیت کو تبدیل کرنے والی قوت بن جاتی ہے۔ انسان جب اپنی ذات کے محدود دائرے سے نکلتا ہے تو دوسروں کے دکھ، کمزوری اور انسانی وقار کو زیادہ گہرائی سے محسوس کرتا ہے۔
اس زاویے سے رومی کا تصورِ عشق انسان کو Self-Centeredness یعنی خود مرکزیت سے نکال کر ایک وسیع تر انسانی شعور کی طرف لے جاتا ہے۔
سگمنڈ فرائڈ اور نفس:
سگمنڈ فرائڈ نے انسانی شخصیت کو سمجھنے کے لیے Id، Ego اور Superego کے تصورات پیش کیے۔
Id انسان کی بنیادی خواہشات اور جبلتوں سے متعلق ہے۔
Ego حقیقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ان خواہشات کو منظم کرتا ہے۔
Superego اخلاقی اصولوں اور سماجی ضمیر سے تعلق رکھتا ہے۔
تصوف کے تصورِ نفس اور فرائڈ کے Id کو ایک ہی چیز قرار دینا علمی طور پر درست نہیں، کیونکہ دونوں مختلف فکری اور مذہبی نظاموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم تقابلی مطالعے میں ایک مماثلت ضرور دیکھی جا سکتی ہے: دونوں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ انسان کے اندر ایسی خواہشات اور محرکات موجود ہیں جنہیں نظم اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
فرق یہ ہے کہ فرائڈ انسانی رویّے کو بنیادی طور پر نفسیاتی اور حیاتیاتی بنیادوں پر سمجھتے ہیں، جبکہ تصوف نفس کی تربیت کو اخلاقی اور روحانی مقصد کے ساتھ جوڑتا ہے۔
کارل یونگ اور روحانی شخصیت:
کارل گستاو یونگ نے انسانی نفسیات میں روحانیت، علامتوں اور اجتماعی لاشعور کو اہمیت دی۔ یونگ کے نزدیک انسان صرف جسمانی اور مادی خواہشات سے تشکیل نہیں پاتا بلکہ اس کے اندر معنی، شناخت اور تکمیل کی جستجو بھی موجود ہوتی ہے۔
انہوں نے Individuation کا تصور پیش کیا، جس میں انسان اپنی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو پہچان کر ایک زیادہ مربوط شخصیت تشکیل دیتا ہے۔
تصوف کے سفرِ باطن اور یونگ کے Individuation کو مکمل طور پر مساوی نہیں کہا جا سکتا، لیکن دونوں میں ایک مشترک بات ضرور ہے: انسان کو اپنی اندرونی دنیا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تصوف انسان سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے تکبر، حسد، خوف، لالچ اور خود فریبی کو پہچانے۔ یونگ بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان اپنی شخصیت کے ان حصوں کو پہچانے جنہیں وہ عام طور پر نظر انداز کرتا ہے۔
ذکر اور ذہنی یکسوئی:
ذکر اسلامی روحانیت کا بنیادی جز ہے۔ ذکر میں انسان اپنی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف مرکوز کرتا ہے۔ نفسیاتی زاویے سے دیکھا جائے تو باقاعدہ ذکر انسان میں توجہ، ذہنی یکسوئی اور جذباتی ضبط پیدا کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
بار بار دنیاوی مسائل، مستقبل کے خوف، ماضی کی پشیمانی اور دوسروں کے رویّوں پر غور کرتے رہنا ذہنی دباؤ میں اضافہ کر سکتا ہے۔ ذکر انسان کی توجہ کو ایک روحانی مرکز فراہم کرتا ہے۔
تاہم ذکر، دعا یا مراقبہ کو ہر نفسیاتی بیماری کا متبادل علاج سمجھنا مناسب نہیں۔ شدید ڈپریشن، اضطراب یا دوسری ذہنی بیماری میں روحانی مدد کے ساتھ پیشہ ورانہ طبی یا نفسیاتی علاج بھی ضروری ہو سکتا ہے۔
صبر، توکل اور Emotional Regulation:
طریقت میں صبر کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ صبر کا مطلب ظلم کو قبول کرنا یا عملی کوشش چھوڑ دینا نہیں بلکہ مشکل حالات میں اپنے جذبات اور ردِعمل کو متوازن رکھنا ہے۔
جدید نفسیات میں Emotional Regulation کا تصور یہی بتاتا ہے کہ انسان اپنے جذبات کو سمجھے اور ان کے زیرِ اثر فوری اور نقصان دہ فیصلے نہ کرے۔
اسی طرح توکل انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ کوشش کرنا انسان کی ذمہ داری ہے لیکن زندگی کے ہر نتیجے کو مکمل طور پر کنٹرول کرنا ممکن نہیں۔
یہ سوچ بعض حالات میں انسان کو بے جا اضطراب، مستقبل کے خوف اور مسلسل ذہنی دباؤ سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے۔
طریقت اور عمرانیات:
طریقت صرف فرد کی داخلی کیفیت کا نام نہیں۔ تاریخ میں صوفی سلسلے، خانقاہیں، درگاہیں اور روحانی جماعتیں اہم سماجی اداروں کی شکل اختیار کرتی رہی ہیں۔
عمرانیات یہ سوال پوچھتی ہے کہ ایسے ادارے افراد کو کس طرح جوڑتے ہیں، ان میں قیادت کس طرح بنتی ہے، سماجی اقدار کیسے منتقل ہوتی ہیں اور طاقت کے تعلقات کیسے تشکیل پاتے ہیں۔
ایمیل دورکائم اور اجتماعی روحانیت:
معروف فرانسیسی ماہرِ عمرانیات ایمیل دورکائم نے مذہب کو سماجی یکجہتی کے اہم ذرائع میں شمار کیا۔ ان کے مطابق اجتماعی مذہبی رسومات افراد کو ایک مشترکہ اخلاقی برادری سے جوڑتی ہیں۔
جب لوگ اجتماعی عبادت، ذکر یا مذہبی مجلس میں شریک ہوتے ہیں تو وہ صرف انفرادی عبادت نہیں کر رہے ہوتے بلکہ ایک اجتماعی شناخت کا حصہ بھی بنتے ہیں۔
دورکائم نے Collective Effervescence یعنی ایسی اجتماعی جذباتی کیفیت کا تصور دیا جس میں مشترکہ رسومات لوگوں کے جذبات اور تعلق کو شدید کر دیتی ہیں۔
اس تصور کو بعض اجتماعی صوفیانہ مجالس اور ذکر کے سماجی اثرات سمجھنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے، اگرچہ اسلامی عقیدے کی دینی تشریح اس عمرانیاتی تشریح سے الگ رہتی ہے۔
میکس ویبر اور کرشماتی قیادت:
میکس ویبر نے اختیار کی تین اہم اقسام بیان کیں: روایتی، قانونی-عقلی اور کرشماتی اقتدار۔
Charismatic Authority اس اختیار کو کہا جاتا ہے جو کسی رہنما کی غیر معمولی شخصیت، روحانی کشش یا پیروکاروں کے اعتماد پر قائم ہو۔
تصوف کے بعض تاریخی سلسلوں میں شیخ یا مرشد کے اثر کو اس عمرانیاتی نظریے سے سمجھا جا سکتا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم مسئلہ سامنے آتا ہے۔
روحانی رہنمائی کب اخلاقی تربیت رہتی ہے اور کب شخصیت پرستی میں تبدیل ہو جاتی ہے؟
صحت مند روحانی نظام میں مرشد کی حیثیت رہنما اور مربی کی ہونی چاہیے، نہ کہ ایسی شخصیت کی جس کے ہر عمل اور قول کو سوال سے بالاتر سمجھا جائے۔
پیر و مرید کا نفسیاتی تعلق:
پیر اور مرید کا تعلق نفسیاتی اعتبار سے اعتماد، رہنمائی اور جذباتی وابستگی پر قائم ہو سکتا ہے۔
ایک اچھا مربی انسان کو خود احتسابی، اخلاق، صبر اور ذمہ داری کی طرف لے جاتا ہے۔
لیکن اگر مرید اپنی ذاتی سوچ، اخلاقی فیصلہ اور ذمہ داری مکمل طور پر کسی شخصیت کے حوالے کر دے تو Dependency یعنی غیر صحت مند انحصار پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی لیے روحانیت میں عقیدت کے ساتھ علم اور شعور بھی ضروری ہیں۔
روحانی استاد انسان کو مضبوط بنائے، اس کی شخصیت کو ختم نہ کرے۔
خانقاہ اور سماجی یکجہتی:
اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں خانقاہیں بعض علاقوں میں عبادت کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت، مہمان نوازی، تعلیم اور غرباء کی مدد کے مراکز بھی رہی ہیں۔
یہاں مختلف سماجی طبقات کے لوگ جمع ہوتے تھے۔ بعض جگہوں پر امیر اور غریب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھتے تھے۔
یہ عمل سماجی فاصلے کم کرنے اور Social Solidarity یعنی اجتماعی یکجہتی پیدا کرنے میں کردار ادا کر سکتا تھا۔
تاہم ہر تاریخی خانقاہ یا صوفی سلسلے کے بارے میں ایک جیسا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ مختلف علاقوں اور مختلف ادوار میں ان کے کردار میں نمایاں فرق رہا ہے۔
روحانیت اور سماجی خدمت:
اسلامی روحانیت کی اہم آزمائش اس کے سماجی نتائج ہیں۔
اگر کوئی شخص بہت زیادہ ذکر کرتا ہو لیکن اپنے پڑوسی کے حقوق کا خیال نہ رکھے، محتاج کو حقیر سمجھے، ملازم پر ظلم کرے یا خاندان میں ناانصافی کرے تو اس کی روحانیت ادھوری رہ جاتی ہے۔
اس لیے روحانیت کی سماجی شکل خدمتِ خلق ہے۔
یتیم کی مدد، بھوکے کو کھانا، بیمار کی عیادت، کمزور کی حمایت، تعلیم میں تعاون اور انسانی عزت کا احترام طریقت کے اخلاقی نتائج ہونے چاہئیں۔
طریقت اور جدید انسان:
عصرِ حاضر کا انسان جدید ٹیکنالوجی کے باوجود کئی نفسیاتی مسائل سے دوچار ہے۔
تنہائی، Anxiety، کام کا دباؤ، معاشی مقابلہ، خاندانی تناؤ، سوشل میڈیا کا موازنہ اور شناخت کا بحران جدید زندگی کے نمایاں مسائل ہیں۔
سوشل میڈیا نے انسان کو دوسروں کی زندگی سے مسلسل موازنہ کرنے کا عادی بنا دیا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ دوسروں کے پاس زیادہ دولت، شہرت، کامیابی اور خوشی ہے۔
اس کے نتیجے میں حسد، احساسِ کمتری اور بے اطمینانی بڑھ سکتی ہے۔
طریقت اس کے مقابلے میں قناعت، شکر، توکل، اخلاص اور محاسبۂ نفس جیسے تصورات سامنے رکھتی ہے۔
یہ انسان کو یہ سوال پوچھنے پر مجبور کرتی ہے:
میں دوسروں سے بہتر دکھائی دینا چاہتا ہوں یا حقیقتاً بہتر انسان بننا چاہتا ہوں؟
روحانیت کی ممکنہ خرابیاں:
روحانیت کے مثبت پہلوؤں کے ساتھ اس کے غلط استعمال کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
بعض صورتوں میں روحانی نظام میں:
شخصیت پرستی،
اندھی تقلید،
مالی استحصال،
جعلی کرامات،
خوف کے ذریعے کنٹرول،
طبقاتی مفادات،
اور غیر مشروط اطاعت
جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہر روحانی دعوے کو اخلاق، علم، دینی اصول اور عقل کے معیار پر پرکھنا ضروری ہے۔
حقیقی طریقت انسان کو آزادئ نفس دیتی ہے، کسی دوسرے انسان کی نفسیاتی غلامی میں نہیں ڈالتی۔
روحانیت کی اصل پہچان:
کسی شخص کی روحانیت کا سب سے اہم معیار اس کے دعوے یا لباس نہیں بلکہ اس کا کردار ہے۔
کیا وہ غصے میں انصاف کرتا ہے؟
کیا وہ اختلاف کرنے والے کی عزت کرتا ہے؟
کیا وہ کمزور انسان کے ساتھ رحم کا معاملہ کرتا ہے؟
کیا وہ اپنی غلطی تسلیم کر سکتا ہے؟
کیا وہ حسد، تکبر اور ریا سے لڑنے کی کوشش کرتا ہے؟
کیا اس کے گھر والے بھی اس کے اخلاق سے مطمئن ہیں؟
یہ سوالات روحانیت کو عملی زندگی سے جوڑتے ہیں۔
نتیجہ:
طریقت کو اگر نفسیاتی اور عمرانیاتی دونوں زاویوں سے دیکھا جائے تو یہ محض مذہبی رسومات کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ انسانی شخصیت اور سماجی زندگی کی اصلاح کا ایک وسیع منصوبہ بن جاتی ہے۔
نفسیاتی سطح پر طریقت:
Self-Awareness، Self-Control، Emotional Regulation، صبر، شکر، توکل اور اخلاقی شخصیت کی تعمیر سے وابستہ ہے۔
عمرانیاتی سطح پر یہ:
اجتماعی شناخت، سماجی یکجہتی، قیادت، اخلاقی اقدار، سماجی خدمت اور انسانی تعلقات سے وابستہ ہے۔
امام غزالی ہمیں نفس اور نیت کی اصلاح سکھاتے ہیں، مولانا روم انسان کو انا سے محبت کی طرف لے جاتے ہیں، فرائڈ انسانی خواہشات کی پیچیدگی دکھاتے ہیں، یونگ انسان کے باطنی سفر اور شخصیت کی تکمیل کی طرف متوجہ کرتے ہیں، دورکائم مذہب کے اجتماعی کردار کو واضح کرتے ہیں، جبکہ ویبر ہمیں روحانی قیادت اور اختیار کی سماجی ساخت کو سمجھنے کا ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔
تاہم اسلامی طریقت کو مغربی نفسیاتی یا عمرانیاتی نظریات میں مکمل طور پر ضم نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں کے بنیادی مقاصد اور علمی بنیادیں مختلف ہیں۔ تقابلی مطالعہ کا مقصد انہیں ایک دوسرے کا متبادل ثابت کرنا نہیں بلکہ انسانی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو بہتر انداز میں سمجھنا ہے۔
آخرکار طریقت کی اصل منزل محض روحانی لذت، کشف یا غیر معمولی کیفیت نہیں بلکہ انسان کا اخلاقی انقلاب ہے۔
اگر ذکر بڑھتا جائے مگر عاجزی نہ بڑھے، عبادت بڑھے مگر رحم نہ بڑھے، روحانی دعوے بڑھیں مگر انسانیت سے محبت نہ بڑھے تو روحانی سفر کے مقصد پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
سچی روحانیت وہ ہے جو انسان کو اللہ کے قریب اور اللہ کی مخلوق کے لیے زیادہ مفید، عادل، نرم دل اور بااخلاق بنائے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے