कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مغربی بنگال کے سیاسی ڈرامہ میں ممتا بنرجی کی تنہائی اور رسہ کشی

تحریر:ڈاکٹرشیخ حاجی حسین

مغربی بنگال کی سیاست آج کل ایک عجیب و غریب تلخ اور سبق آموز ڈرامے کا منظر پیش کر رہی ہے۔ جہاں کبھی ممتا بنرجی کی آواز صوبے کی سب سے طاقتور فیصلہ کن اور عوامی آواز سمجھی جاتی تھی وہاں آج ان کے ارد گرد تنہائی کا حلقہ تیزی سے تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ ضمنی انتخابات کے تناظر میں یہ رسہ کشی صرف دو نشستوں تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی حقیقت کی عکاسی کر رہی ہے ممتا بنرجی کو سیاسی طور پر الگ تھلگ بے بس اور لاچار کرنے کی منظم کوشش۔ یہ صرف ایک رہنما کی شخصی شکست نہیں بلکہ ایک پورے عہد کے اختتام کی کہانی ہے۔ مگر کیا واقعی یہ اختتام ہے یا صرف ایک نئے باب کی شروعات؟
ممتا بنرجی کا سیاسی سفر خود ایک طویل ہنگامہ خیز اور جدوجہد بھری داستان ہے۔ 1955 میں کلکتہ کے ایک متوسط طبقے کے بنگالی گھرانے میں پیدا ہونے والی ممتا نے سیاست کی شروعات کانگریس کی طلبہ تنظیم سے کی۔ والد کی وفات کے بعد خاندان کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے انہوں نے کالج کے دنوں میں ہی کانگریس کی چھاترہ پریشد یونٹ قائم کی۔ 1970 کی دہائی میں وہ یوتھ کانگریس کی سرگرم کارکن بنیں اور جلد ہی اپنی جرات سڑکوں پر احتجاج کی صلاحیت اور سادہ طرزِ زندگی کی وجہ سے پہچان بنانے لگیں۔ 1975 میں ایمرجنسی کے دوران جے پرکاش نارائن کے خلاف احتجاج میں ان کی شرکت نے انہیں میڈیا کی توجہ کا مرکز بنایا۔
1984 میں انہوں نے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی جب جادؤ پور لوک سبھا نشست سے کمیونسٹ رہنما سومناتھ چٹرجی کو شکست دے کر پارلیمنٹ پہنچیں۔ یہ فتح صرف ایک انتخابی کامیابی نہیں تھی بلکہ مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نئے جرات مند اور عوامی چہرے کے ابھرنے کا اعلان تھی۔ وہ آل انڈیا یوتھ کانگریس کی جنرل سیکرٹری بھی بنیں۔ 1991 میں وہ دوبارہ پارلیمنٹ پہنچیں اور مرکزی حکومت میں وزیرِ مملکت کے طور پر خدمات انجام دیں۔ مگر 1990 کی دہائی میں ریاستی کانگریس قیادت سے اختلافات بڑھتے گئے۔ پارٹی کے اندرونی کھینچا تانی اور بائیں محاذ کے خلاف نرم رویے پر عدم اطمینان نے انہیں الگ راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔
بالآخر یکم جنوری 1998 کو انہوں نے آل انڈیا ترنمول کانگریس کی بنیاد رکھی۔ ترنمول کا مطلب گھاس کی جڑ ہے یعنی عوام کی جڑوں سے جڑی سیاست۔ پارٹی کا نشان دو پھول اور گھاس تھا جو ہندو مسلم اتحاد کی علامت بنا۔ ممتا نے اگلے 13سال کمیونسٹ حکومت کے خلاف مسلسل جدوجہد کی۔ سنگور اور نندی گرام کی تحریکوں نے انہیں مغربی بنگال کی سب سے بڑی عوامی رہنما بنا دیا۔ کسانوں کی زمین بچانے کی ان تحریکوں نے نہ صرف بائیں محاذ کی صنعتی پالیسیوں کو چیلنج کیا بلکہ انہیں ماں مٹی مانوش کا نعرہ دے کر ایک مضبوط عوامی چہرہ عطا کیا۔ 2011 میں انہوں نے 34 سالہ بائیں محاذ کی حکومت کا خاتمہ کیا اور صوبے کی پہلی خاتون وزیرِ اعلیٰ بنیں۔ اس کے بعد مسلسل تین بار حکومت سنبھال کر 15 سال تک اقتدار میں رہیں۔
ان 15 سالوں میں ممتا بنرجی نے کئی فلاحی اسکیموں کے ذریعے اپنی شناخت قائم کی۔ کنیا شری لکشمی بھنڈار سواستھیا ساتھی اور دیگر اسکیمیں خواتین اور غریب طبقات تک پہنچیں۔ مگر ان کامیابیوں کے ساتھ ساتھ الزامات بھی بڑھتے گئے مقامی سطح پر تشدد بھرتی اسکینڈلز سیاسی رنجشیں اور طویل اقتدار کی تھکاوٹ۔ 15 سال کسی بھی حکومت کے لیے کافی عرصہ ہوتا ہے اور اینٹی انکمبنسی بدعنوانی کے الزامات اور تنظیمی کمزوریوں نے آخرکار انہیں کمزور کر دیا۔ 2026 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی تاریخی فتح اور سوویندو ادھیکاری کی وزارت اعلیٰ نے ترنمول کانگریس کو نہ صرف اقتدار سے محروم کیا بلکہ پارٹی کے اندر شدید دراڑ پیدا کر دی۔
شکست کے بعد پارٹی کے کارکنوں پر حملوں کی وارداتیں سامنے آنے لگیں۔ کئی مقامات پر ترنمول کے دفاتر پر قبضے کارکنوں کے گھروں پر حملے اور تشدد کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کارکن ان حملوں کے پیچھے ہیں جبکہ بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کیا۔ حالیہ دنوں میں بھی کلکتہ اور دیگر علاقوں میں پارٹی دفاتر اور رہنماؤں کے گھروں پر حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں جس کے خلاف ترنمول نے احتجاجی جلوس نکالے۔ یہ تشدد پارٹی کے اندرونی بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
اس تقسیم کے نتیجے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایک اہم اور واضح فیصلہ دیا۔ کمیشن نے ترنمول کانگریس کے روایتی نام اور اس کے مشہور نشان پھول اور گھاس کو عبوری طور پر منجمد کر دیا۔ یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ پارٹی کے اندر دو متضاد دھڑے موجود ہیں۔ کمیشن نے دونوں دھڑوں کو الگ الگ نام اور نشان الاٹ کیے ممتا بنرجی کی قیادت والے دھڑے کو ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس کا نام اور فٹبال پلیئر کا نشان دیا گیا جبکہ مخالف دھڑے کو ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس کا نام اور لفافہ کا نشان دیا گیا۔ ماہرین اس فیصلے کو ممتا بنرجی کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف انتظامی کارروائی نہیں بلکہ پارٹی کی اصل شناخت چھین لینے کے مترادف ہے جو بنگال کی سیاست میں مخالفین کے لیے موقع اور ممتا کی تنہائی کو گہرا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
نندی گرام اور ریجی نگر دونوں نشستوں پر ضمنی انتخابات 6 اکتوبر کو ہو رہے ہیں۔ نندی گرام سوویندو ادھیکاری کے خالی کرنے سے مخلوعہ ہوئی جو بھوانی پور برقرار رکھنے کے لیے نندی گرام چھوڑ گئے تھے جبکہ ریجی نگر ہمایوں کبیر کے استعفے کی وجہ سے خالی ہوئی۔ نندی گرام میں بی جے پی نے حسیرانی راتھ کو امیدوار بنایا ۔ کانگریس نے ملن پردھان کو میدان میں اتارا۔ ریجی نگر میں بھی دونوں دھڑے اور دیگر پارٹیاں امیدوار کھڑے کر رہی ہیں۔ بی جے پی دونوں نشستوں پر جارحانہ مہم چلا رہی ہے اور ریکارڈ مارجن سے جیت کی پیش گوئی کر رہی ہے۔
نندی گرام کی ضمنی نشست اس پورے ڈرامے کا مرکز بن گئی۔ ممتا کے امیدوار نے نام واپس لے لیا اور اس کے فوراً بعد ممتا بنرجی نے کانگریس امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کانگریس کو بہن پارٹی قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ انڈیا اتحاد کو مضبوط کرنے اور قومی مفاد میں کیا گیا ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ ماضی میں ممتا بنرجی انڈیا اتحاد میں کانگریس کے ساتھ مکمل سیٹ شیئرنگ کی شدید مخالف رہی تھیں۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے کانگریس کو محدود نشستیں دینے پر اصرار کیا اور بالآخر بنگال میں تنہا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا جبکہ قومی سطح پر اتحاد کا حصہ رہنے کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے بارہا کہا تھا کہ علاقائی جماعتوں کو اپنی ریاستوں میں آزادی ہونی چاہیے اور کانگریس کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ آج کمزوری کے عالم میں وہی ممتا کانگریس کی حمایت کر رہی ہیں۔
کانگریس کا موقف اس حمایت کے تئیں محتاط رہا ہے۔ سینئر کانگریس رہنما ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ ممتا آزاد ہیں اپنی حمایت کا اعلان کرنے کے لیے مگر کانگریس نے ان سے کوئی حمایت نہیں مانگی۔ کچھ دیگر رہنماؤں نے اسے بی جے پی کے خلاف اتحاد کی علامت قرار دیا مگر مجموعی طور پر کانگریس نے پرجوش استقبال نہیں کیا۔ یہ ردعمل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کانگریس بھی اس وقت ممتا بنرجی کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہچکچا رہی ہے۔
آج ممتا بنرجی کی بے بسی اور لاچاری کا منظر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ وہ پارٹی جو کبھی ان کی شخصی شناخت تھی اب دو ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے۔ وہ نشان جو ان کے ہاتھوں بنایا گیا تھا اب ان کے پاس نہیں۔ وہ حلقہ جہاں کبھی ان کی سیاست نے تاریخ لکھی تھی وہاں آج وہ خود اپنا امیدوار کھڑا کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں۔ کبھی جو رہنما سڑکوں پر لاکھوں لوگوں کو جمع کر سکتی تھیں آج وہ ضمنی انتخاب میں بھی دوسرے کی حمایت کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کی موجودہ حالت کی وجوہات میں 15 سالہ اینٹی انکمبنسی بدعنوانی کے الزامات تنظیمی کمزوریاں شکست کے بعد پارٹی کی تقسیم کارکنوں پر حملے اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ شامل ہیں۔
ماہرین بنگال کی سیاست پر اس صورتحال کے اثرات کو دور رس قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صرف ممتا بنرجی کی ذاتی تنہائی نہیں بلکہ مخالف سیاست کے خلا کو بھرنے کا موقع بھی ہے۔ بی جے پی اس خلا سے فائدہ اٹھا رہی ہے جبکہ کانگریس اور دیگر جماعتیں اب بھی واضح موقف اختیار کرنے میں محتاط ہیں۔ کیا بنگال میں حالات بدل سکتے ہیں؟ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ممتا بنرجی پارٹی کو دوبارہ منظم کر سکیں اور کارکنوں کا اعتماد بحال کر سکیں تو کچھ حد تک واپسی ممکن ہے مگر موجودہ تقسیم اور تشدد کے ماحول میں یہ مشکل نظر آتا ہے۔ قومی سطح پر اس کا اثر انڈیا اتحاد پر پڑ سکتا ہے کیونکہ ترنمول کانگریس اتحاد کا ایک اہم ستون تھی۔ پارلیمنٹ میں اس کی کمزوری بی جے پی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے اور دیگر ریاستوں میں بھی علاقائی جماعتوں کے اندر اسی قسم کی بغاوتوں کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے۔
جمہوریت کی رو سے دیکھا جائے تو کسی بڑی علاقائی جماعت کا اس طرح کمزور پڑنا یا ٹوٹ جانا صرف ایک ریاست تک محدود نہیں رہتا۔ مضبوط علاقائی پارٹیاں وفاقی ڈھانچے میں توازن قائم رکھتی ہیں مرکز کی طاقت کو چیک کرتی ہیں اور مقامی مسائل کی آواز بنتی ہیں۔ اگر ترنمول جیسی جماعت مکمل طور پر منتشر ہو جائے تو بنگال میں مخالف آواز کمزور پڑ جائے گی جو طویل عرصے میں جمہوری توازن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دیگر ریاستوں میں بھی جہاں علاقائی جماعتیں مضبوط ہیں ایسی مثالیں دیکھ کر اندرونی اختلافات بڑھ سکتے ہیں اور مخالف قوتوں کی طاقت کم ہو سکتی ہے۔ جمہوریت صرف اکثریت کی حکومت نہیں بلکہ مضبوط اپوزیشن اور متبادل آوازوں کی موجودگی کا نام بھی ہے۔ جب کوئی بڑی جماعت اندرونی طور پر اس قدر کمزور ہو جائے کہ اس کا اصل نام اور نشان بھی چھن جائے تو یہ پورے نظام کے لیے ایک تشویشناک پیغام ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ممتا بنرجی اس تنہائی سے نکل سکیں گی یا یہ ان کے سیاسی سفر کا آخری موڑ ثابت ہوگا؟ کیا بنگال کی سیاست میں کوئی نیا کھلاڑی ابھرے گا یا پرانی قوتیں دوبارہ سر اٹھائیں گی؟ اور سب سے اہم یہ کہ اکتوبر کے ضمنی انتخابات اس پورے ڈرامے کا اختتام ہوں گے یا صرف ایک نئی کہانی کی شروعات؟ ان سوالات کے جوابات ابھی مستقبل کے رحم و کرم پر ہیں۔
تنہائی کا یہ سفر کتنا طویل ہوگا یہ اکتوبر کے ضمنی انتخابات کے نتائج ہی بتائیں گے۔ فی الحال مغربی بنگال کی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں پرانے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں نئے ڈرامے بن رہے ہیں اور ایک مضبوط رہنما کی تنہائی اور بے بسی کا قصہ لکھنے کی کوشش جاری ہے۔ ممتا بنرجی کا سفر کانگریس کی طلبہ سیاست سے شروع ہو کر ترنمول کی بنیاد بائیں محاذ کے خاتمے اور 15 سالہ حکومت تک پہنچا۔ آج وہی سفر تنہائی لاچاری اور سیاسی بے بسی کے ایک نئے باب میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ کہانی صرف ایک رہنما کی نہیں بلکہ اس بات کی ہے کہ سیاست میں کوئی بھی عروج مستقل نہیں ہوتا اور کبھی کبھی تاریخ خود اپنے بانی کے خلاف لوٹ آتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے