कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سنگین حالات میں مسلمان غفلت کا شکار

تحریر: عارف عزیز (بھوپال)

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ جو اپنے قیام سے ہی بھارت میں ہندو مت کی بالادستی اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو مساوی حقوق کے حاصل نہ ہونے کی وکالت کرتی آرہی ہے، رام راجیہ کی دہائی دیتے ہوئے اکھنڈ بھارت کے تصور کے ساتھ ہندو راشٹر کے خواب دکھا کر بھارتی ہندوؤں کے لاشعور میں یہ بات جاگزیں کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے کہ ان کے خواب سچ ہونے کے دن قریب آچکے ہیں اور وہ فخریہ طور پر کہہ سکیں گے کہ وہ جس ملک کے باشندے ہیں وہ ایک ہندو مملکت ہے جو بہت سے شعبوں میں دنیا کی قیادت کرنے کے موقف میں ہے۔ ہندوؤں کو ہمیشہ ایک بات کھٹکتی رہتی تھی کہ ہندومت کا قدیم ترین مذہب میں شمار ہونے کے باوجود دنیا میں ایک ملک بھی ایسا نہیں ہے جس کا سرکاری مذہب ہندومت ہو۔ کچھ عرصہ قبل تک ہمارا پڑوسی ملک نیپال ایک ہندو دیش کہلاتا تھا، مگر وہ بھی اب ایک سیکولر مملکت بن گیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کا خلجان بڑھتا ہی جارہا ہے کہ بے شمار طاقتور دیوی دیوتائیں رکھنے کی باوجود دنیا کے کسی بھی حصہ میں اس مذہب کے آثار کیوں دکھائی نہیں دیتے۔ اس خفت کو مٹانے کے لئے ایک بے ضرر ہندو کو بھی یہی لگتا ہے کہ اگر بھارت کو ایک سیکولر مملکت کی بجائے ہندو مملکت میں تبدیل کر دیا جائے تو اس میں کیا قباحت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب آر ایس ایس کی پروردہ دائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے یکساں سیول کوڈ لاگو کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں تو اس کے اثرات کا ادراک کئے بغیر ہندوؤں کی اکثریت کا وہ بڑا طبقہ بھی ہاں میں ہاں ملاتا نظر آتا ہے جو نسلی بنیادوں پر ایک ہی مذہب کے ماننے والوں میں تفریق اور امتیاز کے دکھ صدیوں سے جھیلتا آیا ہے۔ آج بھی ملک کے بہت سے حصوں میں نسلی بنیادوں پر امتیازات روا رکھے جاتے ہیں۔ اگر اقتدار کے زعم میں ملک کو ہندو راشٹر قرار دے دیا جاتا ہے تو اس ملک میں مسلمانوں سے زیادہ مشکلات ان طبقات کو پیش آئیں گی جو مذہبی اعتبار سے ادنیٰ ذاتیں کہلاتی ہیں۔ اگرچہ آر ایس ایس اپنے نظریات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ابتداء ہی سے کوشش کرتی آرہی تھی مگر اس کا برملا اظہار نہیں کیا جاتا تھا اور اس کی یہ کوششیں محدود پیمانہ پر ہوا کرتی تھیں۔ جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو مرکز میں اقتدار حاصل ہوا، آر ایس ایس کے نظریات کو کھلے طور پر بیان کیا جانے لگا ہے، بلکہ بھارت کو ہندو راشٹر قرار دینے کے لئے ایک ماحول تیار کیا جارہا ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں وقفہ وقفہ سے اس خصوص میں پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد فرقہ پرست ہندو طاقتوں کو جولانی حاصل ہوئی ہے اور وہ کھل کر اپنے کٹر ہندوتوا نظریات کے مطابق اقدامات کرنے لگے ہیں۔ ملک کی عاملہ میں بھی ایسے افراد کی بھرمار ہوگئی ہے اور عدلیہ کے بعض فیصلوں کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ اب عدلیہ میں بھی ایسے افراد نہ صرف موجود ہیں بلکہ وہ اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا بھی ہیں۔ ملک کے تیزی سے بدلتے حالات کے باوجود ملت اسلامیہ ہند غفلت سے بیدار ہونے پر آمادہ نظر نہیں آتی۔ عوام کو ایک چھوٹا سا طبقہ فکرمند تو ضرور ہے مگر وہ بے بس ہے، چوں کہ ان کے ہاں فکر تو ہے مگر وسائل نہیں۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو اپنی دانست میں یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں آئندہ پیش آنے والے حالات کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرنے سے غفلت برت رہے ہیں، دوسری طرف دستور کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے اور مسلمانوں کا سماجی بائیکاٹ کرنے کا اعلان کئے جانے کے خلاف آواز اٹھانے کی کسی میں ہمت نہیں رہی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے