कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سپریم کورٹ میں کرپٹ ججوں کی بھرمار!

تحریر:سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186

عدالت اور عدالتی فیصلے کودیکھتے ہوئے اب ملک میں یہ بحث تیز ہوگئی ہے کہ عوام کے جمہوری حقوق کا تحفظ نہ عدالت میں ہورہا ہے اور نہ ہی دوسرے ادارے کررہے ہیں،اس طرح کی بحث ایک سیکولر اورجمہوری نظام کےلئے یقینا تشویشناک ہے، گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ دشنیت دوبے نے الزام عائد کیا کہ سپریم کورٹ میں کئی ایسے کرپٹ ججس گزرے ہیں جنہوں نے انصاف کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے،انہوں نے کہا کہ ملک میں عدالتی نظام کا طاقتور اور دولت مند کی طرف جھکاؤ بڑھ چکا ہے اور عدلیہ کے فیصلے عاملہ کے حق میں دکھائی دے رہے ہیں،دشنیت دوبے پچھلے دنوں تھروا ننتا پورمیں 17 ویں کے ایم بشیرمیموریل لکچرسے خطاب کررہے تھے جس کا عنوان” کیا ہم دستور کو ناکام بنارہے ہیں یا دستور نے ہمیں ناکام بنایا ہے”تھا
انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں بعض غیر معمولی ججس گزرے ہیں جبکہ دیگر کئی ججس کے رویے سے انصاف رسانی کے نظام کوسخت نقصان پہنچاہے۔عدلیہ سے اپنی 48 سالہ وابستگی کا حوالہ دیتے ہوئے دوبے نے کہا کہ عدلیہ میں بعض غیر معمولی ججس ہیں،جبکہ کئی کرپٹ ججس بھی موجود ہیں جس کے نتیجے میں انصاف رسانی کا عمل انتہائی حد تک متاثر ہوا ہے،ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ میں ایسے ججس کی تعداد سے صحیح طورپر واقف نہیں ہوں لیکن ان کی سرگرمیوں سے انصاف اوربنیادی انسانی ضرورتوں کو نقصان پہنچا ہے،کورٹ میں ایسے ججوں کی تعداد اچھی خاصی ہے،انہوں نے کہا کہ بڑے صنعتی گھرانے عام طور پرعدلیہ سے اپنے حق میں فیصلے حاصل کررہے ہیں،سینئر ایڈوکیٹ نے عدلیہ اورعاملہ کے درمیان روابط پربھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک میں نظام عدل،زیادہ ترعاملہ کی تائید کررہا ہے،جس کے نتیجے میں وہ زیادہ طاقتور بن چکا ہے،انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے دستور کی دفعہ 32 کے تحت مداخلت سے گریز کررہاہے،انہوں نے یہ بھی کہا کہ عاملہ کی زیادتیاں صرف ایمرجنسی میں اندرا گاندھی حکومت تک محدود نہیں رہیں،انہوں نے فہرست رائے دہندگان پرخصوصی نظر ثانی مہم ایس آئی آر کے معاملے میں سپریم کورٹ کے رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے نتیجے میں نوجوان رائے دہندوں کے لئے اپنے ہی ملک میں خطرہ پیدا ہوچکا ہے۔سپریم کورٹ میں ججس کی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے دشنیت دوبے نے سابق چیف جسٹس آف انڈیا بی وائی چندر چوڑ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا،جن کے دور میں خاتون ججس کے تقررات نہیں کئے گئے،جسٹس چندرچوڑ،بلند بانگ دعوے کرتے ہیں،انہوں نے 17 ججس کے تقررات کیے جن میں ایک بھی خاتون شامل نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ ججس کے تقررات میں تمام طبقات کو نمائندگی دی جانی چاہیے تاکہ وہ سماجی تنازعات کوبہتر طور پرسمجھ سکیں،ملک میں زیادہ تر ججس کا تعلق اعلی طبقات سے ہے اور ان میں سے اکثر قانون کے بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتے ہیں،جب تک ججس کا تعلق سماج کے مختلف طبقات سے نہیں ہوگا وہ سماجی مسائل کی حساسیت کو بالکل سمجھ نہیں پائیں گے،انہوں نے میڈیا کوبھی شدیدتنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ میڈیا اور نہ ہی عدلیہ شہریوں کا تحفظ کررہے ہیں،عوام کی آواز کی اہمیت اب ملک میں باقی نہیں رہی کیونکہ دو اہم ستون میڈیا اورعدلیہ عوام کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں،انہوں نے کہا کہ زیادہ تر الیکٹرانک میڈیا کا کوریج ملک کے بارے میں مثبت رہتا ہے اورعوام کے سامنے یہ تصویر پیش کی جاتی ہے کہ یہاں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے،وزیراعظم نریندرمودی کی جانب سے 2014 سے آج تک مختلف اہم پراجکٹس کے اعلان اور افتتاح کا حوالہ دیتے ہوئے دوبے نے کہا کہ وزیراعظم نے کئی ٹریلین روپے مالیت کے پراجکٹس کا افتتاح ضروری کیا لیکن ان میں 20 فیصد پراجکٹس بھی مکمل نہیں ہوئے،لیکن میڈیا کی جانب سے اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ حقائق عوام کے روبرو پیش کیے جاتے ہیں،انہوں نے کہا کہ میڈیا کی جانب سے وزیراعظم سے سوالات بھی نہیں کئے جاتے۔2014 سے اب تک وزیراعظم نے ایک مرتبہ بھی میڈیا کا سامنا نہیں کیا،ملک میں دولت مند اور طاقتور افراد،میڈیا پر کنٹرول کررہے ہیں جس کے نتیجے میں،مین اسٹیریم میڈیا بے وقعت ہوچکاہے۔
سپریم کورٹ کے ایک اور وکیل نے سی جی آئی سوریاکانت پرسنگین الزام عائد کئے ہیں،چیف جسٹس پر الزام عائد کرتے ہوئے انھیں وزیراعظم کا ایجنٹ قرار دیاگیاہے،وکیل نے دعوی کیا کہ وہ یعنی چیف جسٹس صرف ٹائم پاس کررہے ہیں،اس الزام کے بعدعدالت عظمی کی غیرجانب داری اور اسکے کردار کو لیکر سوشل میڈیا پر بحث چھڑی ہوئی ہے۔
کانگریس لیڈر اورسینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے بھی پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے کام کرنے کے طریقے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بار بار عدالت کا رخ کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔اب انہیں یہ امید نہیں رہی کہ وہاں جانے سے کوئی راحت ملے گی۔کپل سبل کے مطابق،موجودہ حالات میں آئین کو بچانے کی صلاحیت اگر کسی ادارے میں موجودہے تو وہ سپریم کورٹ آف انڈیا ہے۔لیکن ان کا کہنا ہے کہ بار بارعدالت سے رجوع کرنے کے باوجود لوگوں کو راحت ملنے کی امید کم ہوتی جارہی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔کپل سبل نے ووٹرلسٹوں میں غلط طریقے سے نام شامل کرنے اورحذف کرنے کے معاملے پر بھی سوال اٹھائے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں کئی بار یہ مسئلہ اٹھایا، لیکن مہینوں بحث ہونے کے باوجود کوئی مؤثر راحت نہیں ملی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپیلیٹ ٹریبونلز کے مطابق 93 فیصد ووٹروں کے نام غلط طریقے سے حذف کیے گئے تھے۔اتنے اہم معاملے پرعدالت کو صورت حال کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔کپل سبل کے بیان نے عدلیہ کے کردار،آئین کے تحفظ اور ووٹر لسٹوں کی درستگی کے معاملے پر ایک نئی بحث چھیڑدی ہے۔
ایک سابق جج نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے یہ سنسنی پھیلادی کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری مودی کررہے ہیں،کالجیم نظام میں شفافیت کی کمی پر انھوں نےسوال کھڑے کئے،سابق چیف جسٹس ایس مرلی دھرنے سپریم کورٹ میں خواتین ججوں کی کمی پربھی آواز اٹھائی،مدراس ہائی کورٹ کے سابق جج کے چندرو نے الزام لگایا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کالجیم کے بجائے وزیر اعظم نریندرمودی براہِ راست کررہے ہیں۔انہوں نے ججوں کی تقرری کے موجودہ نظام میں شفافیت کی کمی پربھی سوال اٹھائے۔چندرو نے چنئی میں ایشین کالج آف جرنلزم کے زیرِ اہتمام ایک مذاکرے میں کہا کہ 2014 میں مرکز میں حکومت بننے کے بعدمودی حکومت نے قومی عدالتی تقرری کمیشن (NJAC) بنانے کی کوشش کی تھی،لیکن سپریم کورٹ نے اس قانون کو منسوخ کردیا۔ان کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعدبھی حکومت نے موجودہ نظام کے ذریعے تقرریوں پر اپنا اثر بڑھایا ہے،انہوں نے کالجیم نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کی تقرری کا عمل اتنا خفیہ ہے کہ عام لوگوں کو اس بارے میں بہت کم معلومات ملتی ہیں،اڑیسہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ایس مرلی دھر نے سپریم کورٹ میں خواتین ججوں کی کمی پرتشویش ظاہر کی۔انہوں نے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دو سالہ دور میں سپریم کورٹ میں تقرری کے لیے کسی خاتون جج کو اہل نہیں سمجھا گیا۔انہوں نے عدلیہ میں تنوع کی کمی پربھی سوال اٹھائے۔
پچھلے دنوں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے استعفے پر وکلا آمنے سامنے ہوگئے،بلراج سنگھ ملک نے صدر پردیپ رائے کو کہا: ’’آپ چیف جسٹس کی چمچہ گیری کررہے ہیں‘‘ سپریم کورٹ کے احاطے میں چیف جسٹس سوریہ کانت کے استعفے کے مطالبے پر وکلا کے درمیان تیکھی بحث ہوئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق،سینئر وکیل بلراج سنگھ ملک نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (SCBA) کے صدر پردیپ رائے کےموقف پرسوال اٹھاتے ہوئے ان پر چیف جسٹس کی حمایت میں حد سے آگے بڑھنے کا الزام لگایا۔یہ تنازع اس وقت بڑھا جب چیف جسٹس کے استعفے کا مطالبہ کرنے والی کیرالہ کانگریس کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ سامنے آئی،جسے بعدمیں ہٹادیا گیا۔اس کے بعدسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اورسپریم کورٹ ایڈوکیٹس آن ریکارڈ ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس کے استعفے کے مطالبے پر اعتراض کیا اور کہا کہ ایسے بیانات عدلیہ کے وقار اورعوام کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔13 اکتوبر کو سپریم کورٹ کے احاطے میں اسی معاملے پر وکلا کے درمیان گرما گرم بحث کی خبرسامنے آئی۔ اس تنازع میں بار ایسوسی ایشن کے فیصلے اورصدر کے اختیار پربھی سوال اٹھائے گئے۔
جمہوریت محض انتخابات کےانعقاد،حکومتوں کی تشکیل اور اقتدار کی منتقلی کا نام نہیں،بلکہ یہ ایک ایسے نظامِ حکمرانی کا تقاضا کرتی ہے جس میں اقتدار کے ہرمرکزپرآئین کی بالادستی قائم ہو،حکمرانوں کو جواب دہ بنایا جاسکے اور عام شہری کوانصاف کے حصول کےلئے کسی طاقت ورشخصیت،سیاسی جماعت یا سرکاری ادارے کی خوشنودی کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ جمہوری نظام کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب مقننہ قانون سازی کرے،عاملہ قوانین پرعمل درآمد کی ذمہ داری نبھائے اورعدلیہ آئین و قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ہندوستانی جمہوریت کا بنیادی تصوربھی یہی ہے کہ ریاست کے تمام ادارے اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے کام کریں۔لیکن جب عدلیہ اور عاملہ کے تعلقات،ان کی باہمی قربت،عدالتی فیصلوں کے معیار،مقدمات کےانتخاب، گرفتاریوں،ضمانتوں اورشہری آزادیوں کے معاملات پرسوالات اٹھنے لگیں تو یہ محض قانونی بحث نہیں رہتی،بلکہ جمہوریت کے مستقبل سے متعلق ایک اہم قومی مسئلہ بن جاتی ہے،یہ سوال شدت کے ساتھ اٹھانے ضرورت ہے کہ کیا عدالتی نظام ہرشہری کو بلاامتیاز انصاف فراہم کررہا ہے؟ کیا حکومت کے اقدامات کی عدالتی جانچ میں یکساں معیار اختیار کیاجاتا ہے؟ اور کیا ایک عام شہری کو یہ اعتمادحاصل ہے کہ اس کی سماعت،اس کی شناخت،مذہب،سیاسی نظریے،معاشی حیثیت یا حکومت سے اختلاف کے بجائے صرف حقائق اور قانون کی بنیاد پرہوگی؟یہ سوالات کسی ادارے کی تضحیک یا کسی فرد پر بلا ثبوت الزام عائد کرنے کے لیے نہیں،بلکہ جمہوری اداروں کی مضبوطی،شفافیت اور عوامی اعتماد کےتحفظ کے لیے اہم ہیں۔جمہوریت کی بنیادی شرط ہندوستانی آئین نے عدلیہ کو ایک اہم آئینی مقام عطا کیا ہے۔سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کو بنیادی حقوق کے تحفظ،قانونی تنازعات کے تصفیے اورحکومت کے اقدامات کی آئینی جانچ کا اختیارحاصل ہے۔عدلیہ کی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ جج اپنے فیصلے حکومت،سیاسی جماعتوں،انتظامیہ،ذرائع ابلاغ یا کسی دوسرے طاقت ورحلقے کے دباؤ سے آزاد ہو کرآئین اور قانون کےمطابق کریں۔عدالتوں کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ گرفتاری قانونی بنیادوں پرہوئی یا نہیں،ملزم کے بنیادی حقوق کا احترام کیا گیا یا نہیں،تفتیش میں قانونی تقاضے پورے ہوئے یا نہیں،اورمقدمے کی سماعت کے دوران انصاف کے تمام ضروری اصولوں کی پابندی کی جارہی ہے یا نہیں۔عاملہ کے اختیارات پرمؤثرعدالتی نگرانی موجود ہوتواختیارات کے غلط استعمال کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔لیکن اگر قانونی نگرانی کمزور پڑجائے یا عدالتی کارروائی میں غیرضروری تاخیر انصاف کی افادیت کومتاثر کرنے لگے تو شہریوں کے ذہنوں میں سوالات جنم لیتے ہیں۔ان سوالات کا جواب ادارہ جاتی شفافیت،بروقت فیصلوں اورقانون کے یکساں نفاذ سے ہی دیاجاسکتا ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عدلیہ اورعاملہ کےدرمیان غیرضروری قربت،ادارہ جاتی مفادات کا ٹکراؤ،ججوں کی تقرری اور تبادلے کے طریقۂ کار پر شکوک،عدالتی کارروائی میں عدم شفافیت یا بعض اہم مقدمات میں غیرمعمولی تاخیر عوامی اعتماد کو متاثر کرسکتی ہے۔ان امور کا جائزہ جذباتی نعروں کے بجائے ٹھوس شواہد،عدالتی ریکارڈ،آئینی اصولوں اور قابلِ تصدیق معلومات کی بنیاد پرلیا جانا چاہیے۔جمہوری معاشرے میں حکومت پرتنقید،اختلافِ رائے،پُرامن احتجاج اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا شہری زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ان حقوق کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب قانونی کارروائیوں میں غیرجانب داری برقرار رہے اور کسی شخص کے خلاف کارروائی محض اس کے سیاسی نظریے یا حکومت سے اختلاف کی بنیاد پر نہ ہو۔اگر کسی مقدمے میں سیاسی انتقام یا اختیارات کے غلط استعمال کا الزام لگایا جاتا ہے تو عدالتوں کو اس کی جانچ قانون اور شواہد کی روشنی میں کرنی چاہیے۔دوسری طرف، اگر کسی شخص کے خلاف قابلِ اعتمادشواہدموجود ہوں تو محض اس کے سیاسی یا سماجی مقام کی بنیاد پر اسے قانونی کارروائی سے استثنا بھی نہیں ملنا چاہیے۔عدلیہ کی اصل آزمائش ایسے ہی حساس معاملات میں ہوتی ہے،جہاں عوامی جذبات،سیاسی دباؤ اور ریاستی مفادات کے درمیان آئینی اصولوں کوبرقرار رکھنا ضروری ہو۔شہری تنظیموں کوبھی چاہیے کہ وہ زیرِ سماعت قیدیوں،قانونی امداد سے محروم افراد اور کمزورطبقات کےمسائل پرتوجہ دیں۔جہاں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کےشواہدموجود ہوں،وہاں منظم،پُرامن اور آئینی جدوجہد کے ذریعے متعلقہ اداروں کو جواب دہ بنایا جائے۔عدلیہ اور عاملہ کے درمیان غیرقانونی ساز باز کا الزام سنگین ہے اور اسے ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہوتے ہیں۔ لیکن اس امکان کے بارے میں سوال اٹھانا،ادارہ جاتی شفافیت کا مطالبہ کرنا اور اختیارات کے غلط استعمال کی غیرجانب دارانہ جانچ پر اصرار کرنا ہرباشعورشہری کا جمہوری حق ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان میں عدلیہ کی آزادی،عاملہ کی جواب دہی اورشہریوں کے بنیادی حقوق کومحض تقریروں اور آئینی کتابوں تک محدود نہ رکھا جائے،بلکہ انہیں عملی زندگی میں بھی یقینی بنایا جائے۔ کیونکہ جب انصاف طاقت ور اور کمزور،اکثریت اور اقلیت،حکومت کے حامی اورمخالف،سب کے لیے یکساں طورپردستیاب ہوگا،تب ہی عوام کا اعتماد مضبوط ہوگا،اس وقت یہ سوال بہت اہم ہے کہ جب عدالتوں میں بدعنوان اور کرپٹ ججوں کی بڑی تعداد موجود ہے تو پھر انصاف کی فراہمی کیسے ممکن ہوگی؟ اورجب انصاف نہیں ملے گا توعدالتوں پرشہریوں کا اعتماد کیسے برقرار رہے گا؟
*(مضمون نگارمعروف صحافی اورکل ہندمعاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے