कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عرب کلچر، ہندوستانی تہذیب اور دوستی کی ایک عجیب کہانی

دعوتِ دین کے سفر سے ازدواجی رشتوں کی نفسیات تک

تحریر:محمود علی لیکچرر
8055402819

چند بھارتی مسلمان خواتین اپنے شوہروں کے ساتھ اسلامی دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں سعودی عرب گئیں۔ وہاں داعوتی جماعت کے مرد حضرات عرب مردوں کے ساتھ دینی گفتگو کرتے جب کہ بھارتی خواتین عرب خواتین کے درمیان دعوتِ دین کا کام انجام دیتیں۔ اسی دوران ایک بھارتی خاتون کی دوستی ایک عرب خاتون سے ہوگئی۔ رفتہ رفتہ دونوں میں بے تکلفی پیدا ہوگئی اور گھریلو زندگی، خاندان اور ازدواجی رشتوں پر بھی گفتگو ہونے لگی۔
دونوں خواتین کا تعلق دو مختلف معاشرتی اور تہذیبی پس منظر سے تھا۔ عرب معاشرے کے بعض حلقوں میں تعددِ ازدواج کو مذہبی اور معاشرتی طور پر نسبتاً زیادہ قبولیت حاصل ہے، اگرچہ اس معاملے میں بھی خاندانوں، افراد اور ملکوں کے لحاظ سے نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ دوسری طرف ہندوستانی تہذیب میں، خصوصاً متوسط اور روایتی خاندانوں میں شوہر اور بیوی کے تعلق کو جذباتی وابستگی خاندانی وفاداری اور سماجی وقار کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ اگرچہ ہندوستانی مسلم معاشرے میں بھی تعددِ ازدواج کی گنجائش موجود ہے، لیکن اس کے بارے میں ہر خاندان کا نقطۂ نظر یکساں نہیں ہوتا۔
اسی تہذیبی فرق کے پس منظر میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔
ایک دن اتفاق سے عرب خاتون کی نظر اپنی بھارتی سہیلی کے شوہر پر پڑی۔ اس نے اسے دیکھا تو اس کے ذہن میں ایک خیال پیدا ہوا۔ شاید اس کے لیے ایک سے زیادہ شادیوں کا تصور اتنا غیر معمولی نہیں تھا، جتنا اس بھارتی خاتون کے لیے ہوسکتا تھا۔
وقت گزرا۔ بھارتی خواتین اپنے شوہروں کے ساتھ ہندوستان واپس آگئیں۔ کچھ عرصے بعد وہی عرب خاتون دعوت و تبلیغ کے لیے ہندوستان آئی اور اپنی بھارتی سہیلی کے گھر پہنچ گئی۔
گلے ملنے خیریت دریافت کرنے اور پرانی یادیں تازہ کرنے کے بعد جب دونوں تنہائی میں بیٹھیں تو عرب خاتون نے بڑی بے تکلفی سے کہا:
’’میری عزیز سہیلی! اب تو ہم دونوں بہت اچھی دوست بن چکی ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ ہماری دوستی مزید مضبوط ہو۔ تم اپنے شوہر کو مجھ سے شادی کرنے کی اجازت دے دو۔ ہم دونوں ایک ہی شوہر کے ساتھ اپنی اپنی زندگی گزاریں گی اور ہماری دوستی بھی برقرار رہے گی۔‘‘
بھارتی خاتون کے لیے یہ بات کسی غیر متوقع دھماکے سے کم نہ تھی۔ جس سہیلی کو اس نے بہن سمجھا، جس کے ساتھ دین کی دعوت میں وقت گزارا، وہی آج اس کے ازدواجی رشتے میں شریک ہونے کی خواہش ظاہر کر رہی تھی۔
اس نے حیرت سے پوچھا
’’تم یہ بات اتنے اطمینان سے کیسے کہہ سکتی ہو؟ کیا تمہیں اندازہ ہے کہ میرے لیے اس تجویز کے کیا معنی ہیں؟‘‘
عرب خاتون نے جواب دیا:
’’میری سہیلی! ہمارے معاشرے میں ایک مرد کی ایک سے زیادہ شادیوں کا تصور موجود ہے۔ میں نے تم سے یہ بات کسی دشمنی یا بد نیتی سے نہیں کہی۔ میں سمجھتی ہوں کہ اگر تم راضی ہو جاؤ تو ہم دونوں ایک دوسرے کے قریب رہ سکتی ہیں۔‘‘
بھارتی خاتون نے قدرے سنجیدگی سے کہا:
’’میں تمہارے معاشرے اور اس کی روایات کا احترام کرتی ہوں، لیکن ہر روایت ہر انسان کے جذبات کی ترجمانی نہیں کرتی۔ میرے لیے شادی محض ایک سماجی معاہدہ نہیں، بلکہ محبت، اعتماد، رفاقت اور جذباتی وابستگی کا نام بھی ہے۔ جس رشتے کو میں نے اپنی زندگی کی بنیاد سمجھا ہے، اس میں کسی اور کی شمولیت میرے لیے محض ایک رسمی فیصلہ نہیں ہوسکتی۔‘‘
عرب خاتون خاموش ہوگئی۔
بھارتی خاتون نے مزید کہا:
’’ہم دونوں نے سعودی عرب میں دین کی تبلیغ کی تھی۔ ہم لوگوں کو اچھے اخلاق، محبت اور احترام کا درس دیتے رہے۔ لیکن آج مجھے محسوس ہورہا ہے کہ دین کی تعلیمات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک دوسرے کے جذبات اور تہذیبی حساسیت کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ تمہارے لیے جو بات معمول کی ہوسکتی ہے، ضروری نہیں کہ میرے لیے بھی اتنی ہی آسان ہو۔‘‘
اس گفتگو نے دونوں خواتین کو سوچنے پر مجبور کردیا۔ ایک طرف عرب معاشرے کا وہ سماجی پس منظر تھا جہاں بعض خاندانوں میں تعددِ ازدواج کو قبول کیا جاتا ہے؛ دوسری طرف ہندوستانی مسلم خاندان کی وہ جذباتی اور تہذیبی فضا تھی جہاں ازدواجی رفاقت کو اکثر ایک خصوصی اور گہری ذاتی وابستگی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
تاہم اس واقعے کو محض عرب اور ہندوستانی تہذیب کا تصادم سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ عرب معاشروں میں بھی بہت سی خواتین تعددِ ازدواج کو پسند نہیں کرتیں، اور ہندوستانی مسلم معاشرے میں بھی اس کی مختلف مثالیں موجود ہیں۔ اصل فرق صرف جغرافیے کا نہیں، بلکہ انفرادی سوچ، خاندانی تربیت، سماجی ماحول اور ازدواجی زندگی کے بارے میں تصورات کا بھی ہے۔
سماجی نقطۂ نظر:
اس واقعے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دونوں خواتین ایک ہی مذہبی مقصد کے تحت ایک دوسرے کے قریب آئیں، لیکن ازدواجی رشتے کے معاملے میں ان کی سوچ مختلف نکلی۔
یہاں ایک اہم سماجی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا مذہبی وابستگی انسان کے تمام سماجی اور جذباتی تصورات کو یکساں بنا دیتی ہے، یا تہذیب، ثقافت اور معاشرتی تربیت انسان کی سوچ پر اپنا الگ اثر قائم رکھتی ہیں؟
دعوتِ دین کا مقصد انسانوں کے درمیان اخلاقی رشتے مضبوط کرنا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مذہبی اصول، ثقافتی روایات اور انفرادی جذبات تین الگ سطحیں ہیں۔ ان میں کبھی ہم آہنگی ہوتی ہے اور کبھی اختلاف۔
کیونکہ تہذیب صرف لباس، زبان اور رہن سہن کا نام نہیں؛ تہذیب اس بات میں بھی ظاہر ہوتی ہے کہ انسان دوسرے کے جذبات، اس کی رضامندی اور اس کے رشتوں کا احترام کس طرح کرتا ہے

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے